007 - مزاحیہ کلام از مصباح 94

یوں تن تنہا شعر لکھنا لکھانا ، اچھا نہیں لگتا
خود ہی پڑھنا اور خود ہی سراہنا، اچھا نہیں لگتا

گھر میں صاحب اور بچے ہوں تب ہی رونق لگتی ہے
اب کلے بیٹھے کوؤں کو اڑانا اچھا نہیں لگتا

لو ہوگئی میں مصروف بہت، اپنے پی کے گھر جا کر
سکھیو، دیکھو اب مجھ کو جلانا ،اچھا نہیں لگتا

مانا کہ حضور کی فطرت نے پائی ہے بہت ہی شائستگی
پر دیکھ کے ہر سہیلی کو یوں پَر پھیلانا، اچھا نہیں لگتا

میری توبہ، جو خلافِ شریعت بات کروں سرکار کوئی
جو چیز حرام، اسے ایویں حلال کرانا ، اچھا نہیں لگتا

شاعری کا ڈھنگ تو آجاتا پر، افسوس صد افسوس
ان کو یہ میرا اندازِ شاعرانہ، اچھا نہیں لگتا

اب جو روٹھ گئے ہیں وہ تو روٹھے رہیں بلا سے
مصباح کو یوں ہر بار منانا ، اچھا نہیں لگتا