009 - اس ماہ کے شاعر آصف شہزاد غزل نمبر 1

یوں بچھڑیں ہم کہ پھر ملنے کا کچھ امکان رہ جائے
کہیں ایسا نہ ہو پھر عمر بھر ارمان رہ جائے

نہ ہو نغمہ سرا بلبل، یہی مالی کی خواہش ہے
نہ کوئی گل کھلے اس میں ، چمن ویران رہ جائے

خدا سے کچھ نہیں مانگا بجز اس کے مرے ساتھی
تری صورت نگاہوں میں مری ہر آن رہ جائے

تری چاہت کا ، تیرے پیا کا، تیری محبت کا
ہے خواہش موجزن دل میں مرے طوفان رہ جائے

چلو میں خود کو خنجر کے حوالے آج کرتا ہوں
مری جاں جائے تو جائے، تمہارا مان رہ جائے

یوں کب تک دہر سے چھپ کر ملیں گے ہم اندھیرے میں
کسی شب وہ مرے گھر میں علی الاعلان رہ جائے

طلب میرے سخن کی آئے دن بڑھتی رہے شہزاد
جہاں باقی رہے جب تک مرا دیوان رہ جائے