010 - اس ماہ کے شاعر غزل نمبر 2

اِس طرح اُس نے رابطہ رکھا
پاس رہ کر بھی فاصلہ رکھا

زندگی اک مکان ہے جس میں
سانحے پر ہے سانحہ رکھا

حالِ دل اِس لئے سُنا نہ سکے
پاس اُس نے تھا قافلہ رکھا

اُس کے آنے کا آج امکاں تھا
ہم نے آنکھوں کو فرشِ راہ رکھا

خود بھی غمگیں تھے عید کی شب ہم
محفلوں کو بھی غم زدہ رکھا

مضمحل ہے وہ عشق سے جس نے
دُور کا بھی ہے واسطہ رکھا

گر مسافر تھے ایک منزل کے
کیوں الگ اُس نے راستہ رکھا

شاہِ خوباں نے ہم فقیروں سے
کچھ تعلق نہ واسطہ رکھا