004 - ضرورت ہے تحریر حرا قریشی

"ارے یہ سنو یہ محترمہ بریانی پکانا سکھا رہی ہیں۔ ذرا ملاحظہ کیجیے ایک تیر سے دو شکار۔ بریانی بنانے کا درست طریقہ۔ ۔ ۔" اریبہ نے ڈائجسٹ سے کوئی ترکیب پڑھنا شروع کی تھی اور اس کی آواز اور مسکراہٹ سے صاف پتا چل رہا تھا کہ یقیناً محترمہ کوئی کارنامہ کرنے لگی ہیں۔

"سب سے پہلے اجزاء نکال کر باہر رکھیں۔ پھر بریانی کا مصالہ بھون لیں۔ اب ایک دیگچی میں یہ مصالحہ بچھائیں اور اس پر چاول پھیلادیں۔ ڈھکن بند کریں اور اس کے بعد اس پر کوئی وزنی چیز رکھ دیں۔ یہاں تھوڑی عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی ساس کو کسی بہانے سے بلائیں اور دیگچی پر بٹھادیں کیونکہ گھر میں سب سے زیادہ وزنی اس وقت وہی ہوں گی۔ خیال رہے کہ دیگچی سے بھاپ نہ نکلنے پائے۔ تیس منٹ بعد دیگچی کو ساس سمیت باہر نکالیں۔ اب تک بریانی اور ساس دونوں کا دم نکل چکا ہوگا۔ ساس کو الٹ پلٹ کر دیکھیں۔ اگر ان میں مزید دم باقی ہو تو دوبارہ رکھ دیں۔ اتنی جلدی نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیجیے آپ کا کام ہوگیا۔ اسے کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار۔ بریانی بھی بن گئی اور۔ ۔ ۔"

اریبہ کی پٹر پٹر بند ہونے سے پہلے ہی ہم دونوں کے قہقہے چھوٹ گئے تھے۔ اب آپ سوچیں گے کہ کیسی بدتمیز لڑکیاں ہیں۔ بڑوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتی ہیں۔ لیکن ہم بھی کیا کریں ہمارا پچھلا تجربہ ہی کچھ ایسا ہے کہ متوقع "ساسز" کے نام پر ہماری سانس اٹکنے لگتی ہے اور ہمارے ذہن میں ایسے ہی تخریب کارانہ خیال آتے ہیں۔

"بچاری تمہاری ساس" رمشہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اریبہ کو شرم دلانے کی کوشش کی۔

"اللہ ترکیب تو بہت اچھی ہے۔ اور میں آج ہی سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں پریکٹیکل ایپیلیکشن سسرال جاکر ہوگی۔" کنزٰی نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

"کنزٰی کو ساس کا دم نکالنے کی بہت جلدی ہے۔" اریبہ پر ایک دفعہ پھر ہنسی کا دورہ پڑگیا تھا۔

"جب ساس ایسی ہوں تو بیچاری بہو کیا کرے؟" کنزٰی بی بی پھر دکھیاری بی بی بن چکی تھیں۔ جنہیں ہنسانے کی کوشش میں، میں یعنی اریبہ نے ڈائجسٹ کی ریسیپی بگاڑنا شروع کی تھی۔ اور ہم کنزٰی کو اچھے موڈ میں دیکھنا چاہتے تھے اس لیے میں ایک دفعہ پھر شروع ہوچکی تھی۔

"بس ایک پریشانی لاحق ہے۔ میرے دل کو کسی صورت یقین نہیں آتا کہ اس طرح ساس گل سکتی ہیں۔ مگر جب ترکیب میں لکھا ہے تو ہوتا ہوگا۔" میں نے مسکراہٹ روکتے ہوئے گہری سوچ میں غرق ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔

"آہاہ۔ ترکیب کام کرے یا نہیں ہم سہانے خواب تو دیکھ سکتے ہیں۔" رمشہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔

بات دراصل یہ ہے کہ آجکل ہم تینوں اپنی متوقع ساسز سے ڈری ہوئی ہیں۔ اپنی معصوم بہنوں کی سڑیل ساسز دیکھ کر ہماری صرف ایک خواہش ہے، بلکہ خواہش کیا اب مشن بن چکا ہے کہ اللہ کسی کو ساس نہ دے۔

"توبہ کرو تمہاری ساس ہوئیں پھر؟ سب ایک جیسی نہیں ہوتیں۔" رمشہ صاحبہ کو ہماری بزرگ بننے کا کچھ زیادہ ہی شوق رہتا ہے۔

"ہائے اللہ نہ کرے۔ ایسے بد فال منہ سے نکالتے ذرا دل نہ کانپا اور کیسے منہ پھاڑ کر بد دعا دے رہی ہو۔ ویسے بھی اگر میری ساس ہوئیں تو میں یہی والی بریانی پکاؤں گی۔" اریبہ کو ساسز پر کچھ زیادہ ہی غصہ آیا ہوا تھا۔ ابھی پچھلے دنوں ہی بہن کی ساس صاحبہ نے فرمائشی لسٹ جو بھیجی تھی۔

"اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ ورنہ ہماری امیاں ہمیں بھی ساسوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بے فکر ہوجائیں گی۔" رمشہ بی بی کو بھی فکر لاحق ہوئی۔

"اچھا میں سوچ رہی ہوں کہ کوئی ایسا بندہ ڈھونڈیں جس کی ماں اور بہنیں دور۔ ۔ ۔بہت دور ہوں۔" رمشہ کی کہانی شروع ہوچکی تھی اور ہم دونوں بہت غور سے سن رہے تھے۔

"کہو تو افریقہ کے جنگلات سے کوئی بندہ پکڑ لائیں؟ ماں اور بہنیں وہیں دور چھوڑ آئیں گے۔" اریبہ اور کنزٰی نے ایک دوسرے کو تالی مارتے ہوئے ہنسنا شروع کردیا۔

"تم دونوں کبھی سنجیدہ مت ہونا۔ سنا نہیں تھا۔ کل تائی امی چچی سے کہہ رہی تھیں کہ اب ان تینوں کے لیے بھی جلد ہی کچھ فائنل کرلینا ہے۔ ابھی ہنستی رہو بعد میں سسرال کے ٹبر میں ساس کا دم نکالنے کے بجائے جب خود کا دم نکلے گا تو پھر پتا چلے گا۔" رمشہ نے افریقہ کے جنگلات کی تپن نکالتے ہوئے ہمیں ہمارے خوفناک مستقبل دکھانے کی ایک کوشش کی۔ جو کہ کافی حد تک کامیاب رہی تھی۔ ہم دونوں فوراً سنجیدہ ہوگئی تھیں۔

"ہم مشرقی لڑکیاں کیا کرسکتی ہیں۔ سوائے دعا کرنے کے۔" کنزٰی بی بی تو فوراً ہی ہمت ہار دیتی تھیں۔

"کیوں نہیں کرسکتے۔ ہم ضرورت رشتہ کا اشتہار بنائیں گے۔ اب اخبار میں تو دینے سے رہے لیکن ای میل کریں گے۔ اور ساتھ لکھ دیں گے کہ اگر آپ نے یہ کم سے کم دس لوگوں کو فاورڈ نہیں کیا تو آپ کو دنیا کی ظالم ترین ساس نصیب ہوں گی۔" اریبہ نے ایک حل نکالا تھا۔

"اچھا۔ اور اس میں لکھیں گے کہ تین ضرورت مند لڑکیوں کو اکلوتے، خوب رو، جوان، دولت مند، ماں بہنوں سے محروم لڑکوں کی ضرورت ہے۔" اب کنزٰی کا دماغ چلنا شروع ہوچکا تھا۔

"بہت مشکل ہے بھئی۔ کوئی اور حل سوچو۔ ایسے بندے اس دنیا میں ناپید ہیں۔ یا جو کچھ گنے چنے ہوں گے بھی وہ چالاک خواتین پہلے ہی ہتھیا چکی ہیں۔" رمشہ نے پر سوچ انداز میں کہا۔ ساتھ ہی لہجے میں ان چالاک خواتین کے لیے صاف جلن محسوس ہورہی تھی۔

"اس دنیا میں کچھ مشکل نہیں۔ بس انسان کو ہمت اور لگن سے کام لینا چاہیے۔" اریبہ کافی پر امید لگ رہی تھی۔

"اور اگر نہیں ملیں گے تو بندہ پسند کرتے ہیں۔ پھر کرائے کے قاتل ڈھونڈیں گے اور ساس نندوں کا کام تمام۔" کنزٰی نے گلے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خیالی کام تمام تو کر ہی دیا تھا۔ اور ایسا کرتے وقت اس کے چہرے پر اتنی آسودگی پھیلی تھی کہ ہم دونوں بھی اس کے خیالی کام تمام میں گم ہوگئی تھیں۔

"یا ایسا کرتے ہیں کوئی ایسا بندہ ڈھونڈتے ہیں جس کی دو تین امیاں ہوں۔ زیادہ سے زیادہ چار ہوسکتی ہیں جتنی زیادہ ہوں اتنا مفید رہے گا۔" کنزٰی نے سوچتے ہوئے کہا۔

"دماغ تو نہیں چل گیا؟ یہاں ہم ایک سے جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں محترمہ کو دو تین چار کی خواہش ہے۔ ایسا کرنا ہماری بھی تم رکھ لینا ہم بھی خوش تم بھی خوش۔" اریبہ نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

"ارے سنو تو۔ بھئی زیادہ ساسز ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ کبھی ایک کی چمچی بن کر دوسری کے بارے میں بہکائیں گے پھر دوسری کو جاکر پہلی کی طرف سے بھڑکائیں گے۔ اس طرح وہ آپس میں لڑپڑیں گی اور ہم چین کی بانسری بجائیں گے۔" کنزٰی نے اپنا پورا پلان بتایا۔

"نہیں بھئی اس کام میں بڑا رسک ہے۔ اگر سسر صاحب نے چاروں کو الگ الگ کردیا پھر؟ پھر ان کی ساری توجہ ہم پر مرکوز ہوجائے گی۔" رمشہ کو یہ آئیڈیا بہت ہی برا لگا تھا اس لیے اس نے تو صاف انکار کردیا۔

"یہ کمرے میں بیٹھ کر بریانی پک رہی ہے؟" دادی جان کی کڑک آواز پر ہم تینوں جو سر جوڑے بیٹھی تھیں اچھل ہی پڑیں۔ اور کیا بہانہ گھڑیں یہی سوچ رہی تھیں کہ اریبہ بول پڑی۔

"وہ دادی میں ڈائجسٹ سے ریسیپی ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ اصل میں ابو کہہ رہے تھے اس دفعہ کچھ مختلف ذائقہ ہونا چاہیے۔ تو ہم نے سوچا کسی اور کی ریسیپی ٹرائے کرلی جائے۔" اسے بروقت بہانہ سوجا تھا۔ رمشہ اور کنزٰی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں داد دی تھی۔

"تو یہ سر جوڑے کونسی ریسیپی دیکھی جارہی ہے کہ باہر تک قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ کوئی لحاظ ہے تم تینوں کو؟" دادی جان اس وقت کافی غصے میں لگ رہی تھیں۔ اس لیے ہم تینوں نے خاموشی سے رونی صورتیں بنالیں تھیں جس پر ان کا غصہ فوراً ہی ٹھنڈا ہوجاتا تھا۔

*-----*-----*-----*-----*-----*

آج گھر میں صبح سے ہی گہما گہمی تھی۔ سنا ہے برا وقت بتا کر نہیں آتا۔ ہمارے لیے بھی بغیر بتائے ہی نازل ہوگیا تھا۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ ابھی ہمیں اپنے پلان پر عمل کرنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ تین رشتے آسمان سے ٹپک پڑے اور افسوس ناک طور پر ہمارے گارڈن میں کھجور کا درخت بھی ہے۔ فوراً وہیں اٹک گئے۔ اور ہماری خواہشات! اف ان کا کیا بتائیں۔ کیا بتائیں اور کیا نہ بتائیں۔ ارے کیا آپ کو میری روتی صورت سے پتا نہیں چل رہا؟

ضرورت رشتہ کی امید وار نمبر ایک۔ رمشہ صاحبہ کے وہ افریقہ کے جنگلات سے تو نہیں لیکن ایک دور دیس سے ہی تشریف لائے ہیں۔ ان کا بائیو ڈیٹا کچھ یوں ہے۔ نام، نام سے کیا لینا ہے، بس کام ہونا چاہیے۔ تعلیم ماسٹرز، یعنی موصوف تعلیم یافتہ ہیں۔ ساس بچاری پچھلے سال ہی اس دنیا سے منہ موڑ چکی ہیں۔ بہنیں دو عدد جو کہ لاہور میں رہائش پزیر ہیں اور وہ خود انگلینڈ میں یعنی ہماری رمشہ بی بی تو پوری کی پوری بچ گئیں۔ سیدھی انگلینڈ سدھاریں گی۔ نندوں سے دور، بہت دور جیسا کہ ان کی خواہش تھی۔

امیدوار نمبر دو۔ کنزٰٰی بی بی۔ ان پر بھی اللہ نے رحم فرمایا اور شکر ہی ہے ورنہ یہ خود کرائے کے قاتل سے کام کروانے سے بھی دریغ نہ کرتیں۔ ان کے صاحب کا ڈیٹا کچھ یوں ہے۔ نام کچھ عجیب و غریب سا ہے یاد ہی نہیں رہتا۔ تعلیم ایم بی بی ایس، یعنی ڈاکٹر ہیں۔ چلیں کنزٰی بی بی کی دماغی حالت درست کرنے کے لیے کافی اچھا اوپشن ہیں۔ ساس بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہوچکی تھیں۔ ارے ارے، اپنے بچپن میں نہیں ڈاکٹر صاحب کے بچپن میں۔ بہنیں کوئی ہیں نہیں یعنی اکلوتا ہونے والی ریکوائرمنٹ بھی پوری ہوگئی۔ صرف ایک سسر ہیں جو کہ اتنے اچھے ہیں کے کنزٰی صاحبہ کو کوئی فکر ہی نہیں۔

اور اب باری ہے امید وار نمبر تین یعنی میری، اریبہ کی۔ تو ہوا کچھ یوں کہ ان دونوں کی اتنی ریکوائرمنٹس تھیں کہ میری باری تک کچھ بچا ہی نہ تھا۔ نام۔ ۔ ۔ لیتے مجھے شرم آتی ہے۔ تعلیم انجینیئر ہیں، یعنی پڑھے لکھے۔ بہن ایک ہی ہے جو بھابھی بھابھی کی رٹ لگائے رکھتی ہے۔ ساس، اف کیا بتاؤں مجھ پر کسی کو رحم کیوں نہ آیا۔ جو میں نے فخریہ کہا تھا کہ اگر ہوئیں تو روز بریانی پکایا کروں گی ایسی بھاری بھرکم ہیں کہ بریانی کو دم دینے کے لیے انہیں دیگچی پر بٹھانے کی کوشش میں میرا اپنا ہی دم نکل جائے گا۔ باقی سب کو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن میری تو ساسز کے نام پر ہی جان جاتی ہے۔ اور وہ دونوں چڑیلیں، رمشہ اور کنزٰی مجھے دلاسے دیتی ہیں کہ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اور میں خاموشی سے ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتی ہوں۔ ایک مشرقی لڑکی اور کر بھی کیا سکتی ہے۔

اور آج ہمارے گھر گہما گہمی اس لیے ہے کہ آج ہم تینوں کی ایک ساتھ انگیجمنٹ کی جارہی ہے۔ ان دونوں کے تو دانت ہی اندر نہیں ہورہے اور میرے آنسو وجہ آپ جانتے ہی ہیں۔

آپ سب سے دعا کی اپیل ہے۔

ختم شد