002 - مومی انگلیاں تحریر ساحرہ

"یار کتنی بار کہا ھے سونے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھویا کرو۔ ساری رات مجھے بستر میں کھبی آئیوڈین اور کھبی لہسن پیاز کی بو آتی رھتی ھے۔ ویسے تو پہلے سے تمھارے ہاتھ اتنے کھردرے اور بوڑھے سے لگتے ہیں کہ دیکھ کر دل خراب ہو جائے اس پر اتنے بدبودار بھی رکھتی ہو"

ضمیر بستر پر لیٹے لیٹے اپنی بیوی کو جلی کٹی سناتا جا رہا تھا۔

"میری تو زندگی عذاب کر کے رکھ دی اس جاہل عورت نے۔ نہ پہننے اوڑھنے کا کوئی سلیقہ نہ جینے کے ڈھنگ سکھائے تمھاری ماں نے اورتو اور تمھارے دو ٹکے کے بھائی آج ذرا پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کیا کرنے لگے ہیں انکے مزاج ہی نہیں ملتے۔ وہ تو اپنی اوقات بھول گئے ہیں مگر میں نہیں بھول سکتا۔مجھے اچھی طرح یاد ھے جب ایک ایک پینی کے لئے ترستے تھے تم سب لوگ اور تم سمیت پورا خاندان ریلوے اسٹیشن پر مونگ پھلی بیچا کرتے تھے۔ نا معلوم میری عقل پر کون سے پتھر پڑے تھے جو تمھارے لئے ہمدردی کا جزبہ جاگ اٹھا اور جانے کس منحوس گھڑی میں تم سے شادی کر بیٹھا۔ اب تو جائے رفتن نا پائے ماندن والا معاملہ ھے۔ اسی لئے مجھے امریکی اصولوں سے سخت نفرت ھے کہ ساری محنت تو بچارہ مرد کرے، اپنا خون پسینہ بہائے کما کر لائے اور بیگم صاحبہ گھر میں عیش و عشرت کریں اور طلاق کے وقت ہر چیز آدھی آدھی دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے برابری کے اصولوں پر اور انکے بنانے والوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
ضمیر نے بڑبڑاتے ہوئے اپنا کمبل گھسیٹ کر اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا اور دو منٹ میں خراٹے لینے لگا۔
--------------------------
سیمی اپنی ڈبڈبائی آنکھوں سے ضمیر کو پرسکون سوتا ہوا دیکھنے لگی ۔ ہمیشہ کی طرح آنسو قطرہ قطرہ بے آواز بہنے لگے ۔ وہ خود کو کوسنے لگی کہ آخر کیوں وہ کھبی بھی کچھ بول نہیں پاتی تھی جواب میں؟ وہ کیوں ضمیر کو نہیں بتا پاتی تھی کہ سارا دن اور رات کےملا کر 20 گھنٹے تک وہ کولہو کے بیل کی طرح پستی ھے ۔ اسکے علاوہ 3 بچوں کی بےبی سٹینگ بھی کرتی ھے جو صبح 6 سے رات 9 بجے تک اس کے پاس رہتے تھے۔۔
وہ ان کی بےبی سٹینگ سے چار ہزار ڈالر مہینہ کماتی تھی جوکہ خود سیمی کو استعمال تو کیا چھونے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ جبکہ خود ضمیر کی ایک مہینے کی تنخواہ صرف 2،000. ڈالر تھی تقریبا اپنی بیوی سے آدھی ، چونکہ وہ پیسوں کے معاملے میں سیمی سے دبتا تھا اسی لئے طعنے دے کر اور اسکو ذلیل کر کے اپنی برتری ثابت کرتے رہنے پر مجبور رہتا تھا اور اپنی مردانگی کی حفاظت کا اس سے بہتر طریقہ اسے شاید ابھی تک نہیں آتا تھا۔
سیمی ضمیر کی بوڑھی ماں اور دو بھائیوں کے لئے ایک کنیز سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی سارا دن بھاگ دوڑ کر ان کے کام کرتی ۔۔ سونے سے پہلے روزانہ اپنی ساس کے پیر کا آئیوڈین سے مساج کرنا اس کا فرض تھا جیسے۔ اگر کھبی بیمار ہوتی یا بہت تھکی اور مساج کرنا نا چاہتی تو ساس آواز دے کر بلا لیتی کہ میں تو ایک گھنٹے سے تمھارا انتظار کر رھی ہوں۔

سیمی یہ سب باتیں ضمیر کو بتانا چاہتی تھی مگر کب' کیسےاور کہاں؟ یہ سمجھ نہ آتا تھا۔ ویسے بھی وہ اس کو دیکھتے ہی ایک ساتھ اتنی طرف سے حملہ کرتا کہ وہ دفاع کرنے سے پہلے ہی پسپا ہو جایا کرتی کہ آخر اکیلی کس کس محاذ پر لڑتی۔۔ معلوم نہیں اس میں پہاڑوں کا سا صبر کہاں سے آ گیا تھا وہ دن رات اپنے گھر کو سجانے سنوارنے کے علاوہ' ضمیر کی ماں اور دو بھائیوں کی دیکھ بھال اپنے دونوں بیٹوں سے بھی بڑھ کر کرتی تھی پھر بھی شکریہ کا ایک لفظ تو بہت دور کی بات ' ڈانٹ و پھٹکار اور طعنے تشنے ہی اس کا مقدر تھے۔
اس نے کئی بار رات کو اپنی نیند کے ملنے والے 4 گھنٹے بھی قربان کئے جاگ جاگ کر صرف یہی سوچ کر کہ میں اب ضمیر کو اس بات کا یہ جواب دوں گی۔ وہ ضمیر کو بتانا چاہتی تھی کہ رات کو بستر میں سوتے وقت ضمیر کے پاس سے پسینے کی کتنی گندی بو آتی ھے۔ اس نے کھبی ڈیوڈرینٹ بھی استعمال نہیں کیا تھا اور اسکے دانتوں سے بھی بہت گندی بو آتی تھی ۔ جبکہ وہ ہر وقت اسکو لہسن پیاز کی بدبو کے طعنے دیتا رھتا تھا۔
میں فلاں بات کا فلاں جواب دوں گی وہ رات بھر سوچتی رھتی مگر صبح ہوتے ہی اسکی بے ضرور معصوم سی بغاوت کا خیال دھواں بن کر چمنی کے راستے ہوا میں تحلیل ہو جاتا اور وہ ہر روز کی طرح نئے زخم کھانے کو تیاررہتی۔ ۔۔

-------------------------------------------------
ضمیر نے ایک بار پھر خود کو ملامت کرتے ہوئے نظر بچانے ک کوشش کی مگر پہلے کب وہ خود کو روک پاتا تھا جو آج یہ انہونی ہو جاتی۔ پھر سے اس کی نظر پھسلتی ہوئی شیشے کی دیوار کے پار بیٹھی سوزن کی انتہائی خوبصورت انگلیوں میں الجھ گئیں۔ سوزن کی شکل کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی بہت خوبصورت تھے اور اسکی خوبصورت مومی انگلیوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ ضمیر کا دل بھی دھڑکا کرتا تھا۔ تصور میں وہ جب بھی اپنی بیوی سیمی کی کٹی پھٹی سخت انگلیوں کا موازنہ سوزن کی نرم و نازک انگلیوں سے کرتا تو اس کا دل اپنی بیوی کے خیال سے کراہیت سے بھر سا جاتا۔ پہلے سے بھی ذیادہ اپنی بیوی سے نفرت محسوس کرنے لگتا۔
ابھی بھی وہ دنیا سے بےخبر سوزن کی مومی انگلیوں میں الجھا تھا جو تیزی سے کمپیوٹر پر چل رھی تھیں اور ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیلتی جا رھی تھی ۔
ضمیر کو معلوم تھا وہ اس وقت چیٹینگ پر ایک ساتھ کئی مختلف بوائے فرینڈز کے ساتھ مصروف گفتگو ھے۔ ان میں سے کچھ تو ماضی کا قصہ پارینہ بن چکے تھے مگر جب بھی ان کی جیب بھاری ہوتی تو تجدید وفا کرنے کو سوزن کے پاس آ دھمکتے،کچھ نئے عشاق حال تو بڑی خوشی سے سوزن کے ساتھ جی رھے تھے اور کچھ مستقبل میں اس کی خوبصورتی کو کیش کرنے والے تھے ۔ وہ سب کو خوش رکھنے کا فن جانتی تھی۔ اپنی بے انتہا خوبصورتی سے کسی کو بھی پاگل بنا دینا اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔ خود سوزن کی محبت کوئی انسان نہیں بلکہ صرف اس کے سامنے والے مرد کے ہاتھ میں پکڑا ہوا چیک ہوا کرتی تھی جو اس کو مہنگی سے مہنگی شاپنگ کرا سکے یا اسکے بل پے کر دے۔ وہ خوشی خوشی کسی کے بھی ساتھ اسکے گھر رھنے چلی جاتی تھی یا کسی پیسے والے کو اپنے گھر رکھنے لے آتی تھی ۔ بہت سے لوگوں کو ایک ہی وقت میں اپنی پکی محبت کا یقین دلا کر الو بناتی اور ان لوگوں سے پیسے بٹور کر اپنی رنگ رلیوں کے ساتھ ساتھ گھر گاڑی اور لون کی قسطیں چکایا کرتی تھی اور عیاشی کی زندگی جیتی تھی۔ جیسے ہی ان کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تو انکو اپنی زندگی میں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیتی تھی۔
-----------------------
ضمیر یہ سب اچھی طرح جانتا تھا مگر پھر بھی نا جانے کیوں شیطان اس پر غالب آتا جا رہا تھا۔ سارا دن اسکو آفس میں دیکھ دیکھ کراسکی نظروں کی پیاس تو کیا بجھتی اب تو وہ ہر حال میں اس سے آگے کا سفر کرنا چاہتا تھا۔ اس کو سوزن کی قیمت اور پسند سب معلوم ہو چکا تھا وہ بھی اس بہتی مگر مہنگی گنگا میں ایک بار ہی سہی مگر ہاتھ دھونا ضرور چاہتا تھا۔
اپنی بیوی کے سارے چیک ضمیر خود ان بچوں کے والدین سے وصول کرتا تھا اور اپنے اور سوزن کے لئے مہنگے کپڑوں، مہنگے پرفیومز پر لٹا دیتا۔ اگر کھبی بھولے سے بھی سیمی کسی بہت معمولی ضرورت کی چیز کی فرمائش بھی کرتی تو وہ اسکو ڈانٹ دیتا اور کہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جاہل عورت مجھے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ھے۔میری وائٹ کالر جاب ھے تو مجھے اسکے لئے اچھے کپڑے چاھئیں اور تم کیا ہو؟ تمھاری کیا اوقات ھے سارا دن لہسن پیاز اور آئیوڈیکس میں ڈوبی رہنے والی اور گھر میں آرام فرمانے والی نوکرانی کو بھلا ان سب مہنگی چیزوں کی کیا ضرورت ھے"
------------------------------------------
وہ بہت دنوں سے سوزن کو منانے کے چکروں میں جب اس پر ہزاروں ڈالر لٹا چکا تو سوزن اسے اپنے گھر لا جا کر کچھ دن رکھنے پر راضی ہو گئی اور محبت کے جھوٹے دعوے بھی کرنے لگی۔
آخر ایک دن جب ضمیر کا ضمیر بےغیرتی کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کے لئے سو گیا اور وہ اپنا سامان اٹھا کر سوزن کےاپارٹمنٹ میں موو ہو ہی گیا۔ دن رات سوزن کی مومی انگلیوں کو چھو چھو کر اپنے تشنہ آرزؤں کو بہلایا کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سوزن کی انگلیوں کا ہی شیدا ئی تھا۔ وہ اس کی انگلیوں کو چھو کر خود کو جنت میں محسوس کرتا تھا۔ جب جب اس کو اپنی بیوی سیمی کی سخت اور کھردری سی انگلیاں یاد ٰآتیں تو اس کا دل نفرت سے بھر جاتا، ہوں! وہ برا سا منہ بنا کر اس خیال کو جھٹکنے کی کوشش کرتا۔
ضمیر کے لئے ہر دن عید بن کر گزرنے لگا اور وہ سوزن کو اپنا سب کچھ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا۔اسکو اندازہ نہیں تھا یہی انگلیاں دراصل اسکی موت کا جال بن رھی ہیں اس کی انا کی تنزلی کا باعث بننے والی ہیں جسکا سہارا لے لے کر وہ زندگی بھر سیمی کو رگیدتا آیا تھا۔ جب ساری جمع پونجی ختم ہو گئی تو سوزن کی نظریں بدلنے لگی۔ وہ بار بار اسکو ذلیل کرنے لگی مگر ضمیر کو سمجھ میں نہیں آتا تھا ہو اب کیا کرے کہاں جائے واپس اپنے گھر جا نہیں سکتا تھا۔ کس سے مانگے پیسے؟ ادھر سوزن کی بے رحمی بڑھتی ہی جا رھی تھی۔
ایک دن تو حد ہو گئی جب باہر اتنی برفباری ہو رھی تھی کہ کوئی جانور بھی ڈھونڈے سے دکھائی نہ دیتا تھا تو سوزن نے اسے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا اور کسی اور نئے شکار کو گھر لے آئی۔ ضمیر بہت رویا پیٹا ۔ منتیں کیں مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ ضمیر نے بہت کہا
"صبح ہوتے چلا جاؤں گا اتنے طوفان اور رات میں کہاں جاؤں؟
مگر سوزن نے ایک نا سنی اور 911 کو کال کرنے کی دھمکی دے کر اپنا دروازہ بند کر لیا۔
-----------------------------------------
سب دکانیں اور مال وغیرہ بند تھے۔ ضمیر اپنے گھر بھی واپس نہیں جا سکتا تھا، کس منہ سے جاتا؟ وہ تو پہلے ہی ساری کشتیاں جلا کر آیا تھا۔ اس کو اپنا گھر،۔ اپنی بیوی، ماں اور بچے بہت یاد آنے لگے۔ اسکا دل تڑپ رھا تھا ۔ اگر وہ چلا جاتا تو اسے یقین تھا سیمی اسکو معاف بھی کر دیتی مگر لاکھ چاھنے پر بھی اسکا دل راضی نا ہوا ۔ ہر بار جب قدم اٹھانے لگتا تو سیمی سے کی گئی کوئی ذیادتی یا اس کی اپنی انا راستے کی دیوار بن کر سامنے کھڑی ہو جاتی۔ ہر سانس کے ساتھ پچھتاوا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔کسی صورت دماغ گھر جانے پر راضی نہ ہوا۔
وہیں سڑک پر ایک لیمپ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ سردی اور برف کی وجہ سے اس کی سوچیں تک جمنے لگی تھیں۔ کچھ ٹوٹے ٹوٹے منظر خیال میں ابھرتے اور پھر برف کی سفیدی میں ڈوب جاتے۔ ساری رات برف پڑتی رھی۔ سردی کی وجہ سے اس کی ہڈیاں چٹختی رہیں اور وہ لیمپ سے ٹیک لگائے درد دبائے ویسے ہی بیٹھا رہا اور آخرکار ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا حتٰی کہ آہستہ آہستہ برف نے اس کو۔ پوری طرح اپنے اندر چھپا لیا۔ دور سے دیکھنے والوں کو ایسا لگتا جیسے بچوں نے اسنومین بنایا ہوا ھے۔
اگلے دن بھی پورا دن برف پڑتے رھنے کی وجہ سے پورا شہر سنسان رہا۔ کوئی دکان تک نہیں کھلی ۔نہ کوئی گھر سے باہر نکلا۔
-------------------------------------------
تیسرے دن جب برفباری بند ہوئی اور لوگوں کو اس کی اکڑی ہوئی لاش ملی تو پہچان کا عمل شروع ہوا۔ سوزن نے بتا دیا یہ میرے سے لڑ کر اور مجھے چھوڑ کر اپنے گھر جانے کو نکلا تھا اس کے بعد اس کا یہ انجام کیسے ہوا مجھے کچھ علم نہیں۔
لاش کو وارثوں تک پہنچا دیا گیا تھا۔ سیمی کو سمجھ میں نہیں آتا تھا اس بے جان وجود سے نفرت کرے یا اس کی اتنی بے بس عبرت نگاہ موت کا ماتم کرے۔ اب ان حالات میں اس سے ناراضگی سہی مگر کھبی اسی بے وفا سے بہت محبت بھی تو تھی۔
ضمیر کو اس حال میں دیکھ کر وہ بھی اپنے حواس میں نہیں رھی تھی۔ ضمیر کی اکڑی ہوئی لاش کو سیدھا کر کے غسل دینا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ اس کی ایسی حالت دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کر رھے تھے۔ اسکو لعنت ملامت کر رھے تھے۔ کتنا بد نصیب تھا وہ کہ ایسے کڑے وقت میں کوئی ایک آنکھ بھی اسکے لئے دکھ سے اشکبار نا تھی۔ کوئی بھی اس کے لئے مغفرت کی دعا تک مانگنے کا روادار نا تھا۔
کاش کہ فرعون وقت جو اس حقیقت کو جان لیا کریں اور تو کھبی غرور کر نے کا سوچیں بھی مت اور اس بات کا ادراک کرلیں تو کھبی اپنا سر اٹھانے کی ھمت نا کریں۔ ہر آنکھ اور دل میں ضمیر کےلئے غیض و غضب کے سوا کچھ نہیں تھا۔ کچھ بھی تو نہیں۔ نا دکھ نا ھمدردی نا مغفرت کی دعا۔ زمانے سے کس قدر تہی داماں گیا تھا ۔ خدا نہ کرے کوئی ایسے خالی ہاتھ جایا کرے۔
جنازے میں بھی دو چار لوگ ہی شامل تھے ۔وہ بھی کب کے دفنا کر وآپس آ چکے تھے۔
شام کے سائے تاریکی میں بدل رھے تھے۔ سیمی چپ چاپ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ وہ ضمیر کے مرنے سے نہ تو ناراض تھی نہ اداس تھی ' وہ تو اس کے لئے دو مہینے پہلے ہی مر گیا تھا۔ اس نے ضمیر کے بغیر جینا سیکھ لیا تھا پھر بھی دل ہی دل میں بے چینی سے لگی ہوئی تھی۔
سیمی کو موت سے بہت خوف آتا تھا۔ وہ اکثر اپنی امی سے مرنے کے بعد کے واقعات سنا کرتی کہ کیسے حساب کتاب ہو گا اور کیسے فرشتے سوال پوچھیں گے۔
"کیا فرشتے ضمیر سے بھی سوال پوچھیں گے؟ سیمی نے اپنے آپ سے سوال کیا۔۔؟۔۔
ہاں ! مگر اس نے تو کھبی نماز نہیں پڑھی اور کس طرح ہمیں مصیبت میں اکیلا چھوڑ گیا اور کتنی تکلیفیں دی ہیں مجھے۔ اچھا ھے جو اسکا سخت حساب کتاب ہو گا۔ میں کھبی اس کو معاف نہیں کروں گی کھبی نہیں ۔۔۔۔۔وہ دکھ اور تکلیف کی شدت سے رو دی۔
اسکو عذاب ملنا ہی چاھیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیمی اپنے آپ میں بڑبڑا رھی تھی۔ اچھا ہوا میری جان دکھوں سے چھوٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ضمیر کو تو اندھیرے سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اسے یاد آیا وہ کیسے ضمیر کا مذاق اڑایا کرتی تھی جب وہ ایک سیکنڈ بھی اندھیرے میں نہیں رہ سکتا تھا۔
اسکو قبر میں بہت ڈر لگ رہا ھو گا۔ اور عزاب کے فرشتے ہوں گے وہاں پر اس کا حساب لینے کےلیے ۔۔
نہیں نہیں سیمی کو خوف سے جھرجری سی آنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کچھ کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
چلو معاف کر دیتی ہوں۔ شاید میرے معاف کرنے سے اس کی سزاؤں میں کچھ کمی ہو جائے۔
"مگر اس سے ذیادہ کچھ نہیں کروں گی اس کے لئے" سیمی اپنے آپ سے الجھ رھی تھی۔
قبر، اندھیرا، عذاب، سزا وہ بار بار خوف سے کانپنے لگتی اور پھر سوچتی میں کیا کر سکتی ہوں بھلا ۔اس نے جو بویا تھا وہی کاٹے گا اب۔
"میں اس کے لئے کھبی مغفرت کی دعا نہیں مانگوں گی" سیمی نے اپنے دل کو مضبوط کیا ۔
انجانے میں ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ میں پکڑی تسبیح حرکت میں آنے لگی۔ بغیر سوچے سمجھےاستغفار کا ورد کرنے لگی۔
ضمیر کو اپنے گناہوں کی سزا مل کر رھے گی۔۔۔ دماغ نے پھر سدا دی۔

استغفر اللہ استغفر اللہ استغفراللہ اسکے ہاتھ تیزی سے تسبیح پر چلنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دماغ اس سے بھی ذیادہ تیزی سے اسکو قبر اور جہنم کے اندر ضمیر کی سزا کے تصوراتی منظر دیکھانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسکی وہ تاب نہ لا سکتی تھی وہ خود پر قابو نا رکھ سکی اور چیخ کر بولی۔۔۔۔۔
"اوہ خدایا میں نے ضمیر کو معاف کیا"
تو بھی اسکو معاف کر دینا میرے مالک۔۔۔۔اسکو اتنی سخت سزا مت دینا۔ پلیز اسکو معاف کر دینا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اسکے کھردرے اور سخت ہاتھ تیزی سے تسبیح کے دانے گرانے لگے۔ وہ اپنے شوہر کی مغفرت کے لئے سر تا پا التجا بن گئی۔ وہی سخت اور کھردری انگلیاں جن سے اسکا شوہر زندگی بھر نفرت کرتا رہا تھا ، اب مرنے کے بعد اسی کی نجات کے لئے پور پور فریاد بن گئیں تھیں۔
-----------