003 - بارش اور تم تحریر وش

کبھی کبھی کچھ کمزور لمحے، کچھ کمزور سوچیں مضبوط سے مضبوط انسان کے پختہ اردوں کو مات دے دیتے ہیں۔ انسان کی حیثیت بالکل بے معنی سی ہو کر رہ جاتی ہے جب بڑے بڑے دعوے کرنے والا ،اس لمحے کے شکنجے میں پھنس جاتا ہے۔اور پھر لمحوں کی مرضی ہوتی ہے وہ اپنے ہمسفر کو کس سمت میں لےجائیں۔
آج ایسا ہی ایک لمحہ میری زندگی میں آیا ،جب میں شام کے وقت اپنے کمرے میں کچھ فائلوں میں سر گھسیڑے بیٹھا بڑے انہماک سے اپنا کام کر رہا تھا۔کہ یکایک بادلوں کے گرجنے کی آواز آئی۔ میں موسم کی طرف متوجہ ہوا ۔ کچھ ہی دیر میں زور و شور سے بارش برسنا شروع ہو گئی۔
بارش کی ان بوندوں نے میری توجہ بانٹ دی۔ میں نے بار ہا سر جھٹک کر واپس مصروف ہونا چاہا مگر وہ ایک کمزور لمحہ میرے انتظار میں تھا کہ میں کب اس کا ہمسفر بن جاؤں۔میں نے بارش کی آواز کو غور سے سنا تو یوں لگا کہ جیسے کوئی خوبصورت ساز بج رہا ہو۔ اور اس ایک احساس سے کتنے ہی اور احساسات جڑتے چلے گئے۔
وہ میرے ذہن کے پردے پر دل کی من پسند تصویر بن کر جھلملانے لگی۔
دل نے بے اختیار کہا" اُس خاص سی لڑکی کو یہ عام سی بارش کتنی پسند تھی نا“۔میرے ہونٹوں نے مُسکرا کر دل کی اس بات کا اعتراف کیا۔وہی ایک کمزور لمحہ تھا جس نے مجھ سے کیےمیرے تمام عہد بُھلا دئیے اور مجھے اس کی یادوں کے جزیروں میں لے گیا۔
میں دھیرے دھیرے چلتا کھڑکی کے پاس آ کر رک گیا دونوں بازو سینے پر باندھے اور اس خوبصورت احساس کو اپنے اندر اتارنے لگا۔پھر میں نے قصداً اس کو یاد کیا۔
ایسی ہی ایک جنوری کی سرد رات تھی۔خوب زوروں سے بارش برس رہی تھی۔ اور میں نے اسے تنگ کرنے کی غرض سے کہا تھا ۔"جانے بارش میں پسند کرنے والی ایسی کیا بات ہے کہ تم اس کے لیے دیوانی ہوئی جاتی ہو “۔
گویا میں نے اس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ دھر دیا تھا۔ وہ بولی " بارش کا تعلق خوبصورتی سے ہے اور خوبصورتی ہر دل، ہر آنکھ کو بھاتی ہے، بارش بھی خوبصورت ہے اور مجھے اس لیے بارش سے بے حد محبت ہے دیوانگی کی حد تک“۔
وہ کھڑکی کھولے بارش میں اپنا ہاتھ بھگو رہی تھی۔ اور برستی بوندیں اس کی ہتھیلی پر گرتیں اور چھلک جاتیں۔ کچھ پانی اس کی ہتھیلی پر اکٹھا ہوا ۔وہ ہر گرتی بوند کے ساتھ چہک اٹھتی تھی۔ اور بچوں کے جیسے خوش ہو جاتی۔
میں نے اسے مزید بولنے پر اکسایا " اس میں ایسا کیا خوبصورت ہے؟ محض برستا پانی۔ “ میں نے کہا اور اس کی جانب دیکھا ۔
وہ کسی خیال میں کھوئے کھوئے بولی۔" بارش سورج کی جلتی دھوپ کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔پھر یوں برستی ہے جیسے کبھی تھمے گی ہی نہیں۔ہر شے کی گرد کو دھو دیتی ہے۔ ہر شے کو نکھار دیتی ہے۔دھرتی کی تشنگی کو مٹا دیتی ہے۔ پیڑوں کے چہرے دُھلا دیتی ہے۔“
میں اسے ٹوکتے ہوئے یکدم ایک اور سوال کر بیٹھا " اور رات کے اندھیرے میں برسے تو ؟ جب گہری رات سارے اجالے نگل چُکی ہوتی ہے“
میری جانب رخ پھیرا اور بولی " تو اس کی آواز سماعتوں کو بھلی لگتی ہے۔اور جب رات میں اس بارش کے ساتھ ہوا چلتی ہے۔ تو احساس دیتی ہے کہ ایسے وقت میں اور زندگی میں اپنے ساتھی کے سنگ یوں ہونا چاہیے جیسے وہ بارش کے سنگ ہے۔“
میں نے اس کے انوکھے خیال پر مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا " بہت منفرد سا خیال ہے“۔
پھر اس نے میرا ہاتھ تھاما ۔ میں جو کھڑکی سے قدرے فاصلے پر کھڑا اس کی بارش سنگ محبت دیکھ رہا تھا۔اس کے پُکارنے پر کھڑکی کے قریب چلا آیا۔ اس ٹھنڈی ہوا نے میرے چہرے کو چھوا ،جس میں بارش کی ہلکی ہلکی پھوار بھی تھی۔ میرے چہرہ ایک دم جیسے ترو تازہ ہو گیا۔
اس نے میرا ہاتھ اپنے گیلے ہاتھ میں تھاما۔اور میرے قریب ہو کر میرے کندھے پر سر ٹکا لیا۔ اور بولی " رات کی خاموشی ،تاریکی ، بارش ، اور تمہارا ساتھ دل کو بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اس ہوا کی آواز سُنو ۔محسوس کرو فضا میں ایک خوشبو سی ہے۔یہ احساس اس وقت میں کتنا اپنا اپنا سا ہے۔جس میں کوئی مخل نہ ہو گا۔“
میں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا " تم کتنی دیوانی ہو اس بارش کے لیے، جو کچھ دیر ٹوٹ کر برسے گی ،پھر ختم ہو جائے گی۔ یہ کوئی دائمی نہیں ،بس کچھ پلوں کا احساس ہے۔ابھی ہے ابھی نہیں۔“
وہ بڑی بے قرار ہو کر بولی " دائمی ، ہمیشہ رہنے والا کیا ہے اس دنیا میں؟ نہ میں ،نہ تم ،نہ کوئی رشتہ ،نہ خود یہ کائنات۔ ہمیشہ رہنے والا اگر کچھ ہے تو بس *خدا کی ذات *۔“
میں نے اس کی بات سے اختلاف بدستور جاری رکھا۔ " مگر پھر ایسی چیز کو چاہنے کا کیا فائدہ؟ جو درد دے۔ کبھی اس قدر ملے اور کبھی اس کا نام و نشان ہی نہ ہو۔آخر اس سب کا حاصل کیا؟“
اس نے میرے کندھے سے سر اٹھایا اور میرے روبرو آ کر کہنے لگی " اس میں ایک نصیحت ،ایک پیغام ہے،جو اگر تم جان لو تو بہت کچھ پاؤ۔ “
میں نے اس سے استفسار کیا ،"کیسی نصیحت ؟“
اس نے ایک بارپھر اپنا رخ کھڑکی کی جانب کیا اور فضا میں گھورتے ہوئے کہنے لگی " یہ کہ جب تک ،جو چیز ہے ،اس کی قدر کرو۔اسے چاہو۔اس کے ہونے پر شکر گزار رہو۔ آنے والے وقت کے لیے اس خیال کے تحت کہ یہ نہیں رہے گا موجودہ وقت مت کھوؤ۔اور جب وہ نہ رہے تو صبر کرو۔اور اس کی یادوں کے سہارے جی لو۔ اس مختصر سے وقت میں اسے چاہو گے تو اس کے نہ ہونے کے بعد بہت اچھی اور خوشگوار یادیں ہوں گی تمہارے پاس۔انہی یادوں میں خوش رہو۔وقت بدلتا ہے تو سوچ از خود بدل جاتی ہے“
میں نے بحث جاری رکھی " مگر فی الوقت مل کیا رہا ہے؟“
اس نے مُسکرا کر میری طرف بڑی گہری نگاہ سے دیکھا اور بولی " بھیگ تو رہے ہو نا ابھی اس بارش میں۔ سیراب ہو رہے ہو نا۔اس وقت بس یہی ایک احساس ہے۔“
میرا دل تو اب بھی مطمئن نہ تھا " مگر اس کا فائدہ کیا؟ ناحق اپنے لیے تکلیف کا چناؤ کرنا “
وہ ہلکے سے مسکرائی " اس کا ایک فائدہ تو ہے تمہیں۔“
میں نے پوچھا " وہ کیا؟“
اس کی مسکراہٹ تھوڑی اور گہری ہوئی اور وہ بولی " جب دل غم سے بھرا ہوا ہو۔اور کوئی راہ فرار نہ حاصل ہو۔ جب تم کسی سے کچھ کہہ نہ سکو۔اور مجھے بھی نہ پاؤ ۔جب دل میں درد سمیٹنا مشکل لگنے لگے تو بارش میں بھیگ جانا اور اپنا غم اس کے قطروں کے حوالے کر دینا۔ تم کسی کے سامنے رو نہیں پاتے نا۔ اس برسات میں بہہ نکلنا۔کوئی جان نہیں پائے گا کہ یہ آسمان سے برستا پانی ہے یا تمہاری آنکھوں کے نمکین سمندر سے ٹپکتی بوندیں۔یوں ایک احمقانہ حرکت سے تمہارا غم کم ہو جائے گا۔،اور سنو اس بارش میں میرے ہاتھ تمہارے آنسو چپکے سے پونچھ جائیں گے تم محسوس کرنا میرے ہاتھوں کا لمس“
میں نے قہقہہ لگایا اور اس کی بات کی نفی کر دی " لو بھلا ،ایسا بھی ہوتا ہے۔اور تم کیوں نہیں ہو گی ؟ ہمارا ساتھ تو زندگی بھر تک کا ہے۔روحوں کے رشتے بھی کبھی ٹوٹا کرتے ہیں؟ مجھے تم میسّر رہو گی تو مجھے کیا ضرورت ہے اس بارش میں بھیگنے اوراس سنگ برسنے کی ؟“
وہ بھی مسکرا دی " ہاں ،اللہ کرے یہ ساتھ ہمیشہ یونہی بنا رہے۔مگر جہاں انسان کے ارادے ٹوٹتے ہیں وہاں خدا کے ہونے کا یقین اپنا آپ دہراتا ہے۔“ پھر اس نے سنجیدگی سے بڑی گہری نگاہوں سے میری جانب دیکھا اور بولی "اگر کوئی لمحہ ایسا آیا جب تم مجھے اپنے سنگ نہ پاؤ تو ۔۔۔۔ “
میں نے آگے بڑھ کر اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔میں ایسا کچھ سُننا نہیں چاہتا تھا۔
ساتھ ہی بڑی زور دار گونج سے بادل گرجے تو میں حقیقت کی دنیا میں واپس پلٹا۔ اس کے منہ پر ہاتھ رکھنے سے جو خاموشی یکدم پیدا ہوئی تھی وہ میرے چار سو بکھری پڑی تھی۔
میرے دل نے اس کے الفاظ دہرائے " اگر کوئی لمحہ ایسا آیا جب تم مجھے اپنے سنگ نہ پاؤ تو ۔۔۔ “
میرا دل غم کی شدت سے بھر آیا۔میں ایسا ٹوٹا شخص تھا جو بکھر نہیں سکتا تھا۔ بارش اب بھی جاری تھی۔ میرے قدم خود بخود ٹیرس کے دروازے کی طرف اٹھ گئے۔میں نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا اور باہر قدم رکھا۔ بارش کی بوندوں نے میرے وجود کو ایسے گلے لگایا جیسے کہہ رہی ہوں " وہ نہیں ہے تو کیا ہوا ، ہم اس کی چاہت ،ہیں نا تمہارا ساتھ دینے کو “ ۔
اور پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھایا ۔ میرے ہاتھ پر بارش کی بوندیں گرتیں اور چھلک جاتیں ۔میرے خیالوں میں اس کی وہ کھنکھناتی ہنسی گونج اٹھی جو ان بوندوں کے چھلک جانے پر اس کے لبوں پر دُر آتی تھی۔میں نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو بند کیا ،میں پانی کو پکڑنا چاہ رہا تھا۔ مگر پانی تو بہہ نکلا۔
میں نے چہرہ آسمان کی جانب کیا۔آنکھیں بند کیں۔اور اس کو تصور میں لایا۔جسے ان بارشوں کا لمس بہت بھاتا تھا۔
آج مجھے بھی بارش کا یہ لمس اچھا لگنے لگا ۔مجھے اس کی ہر بات یاد آ رہی تھی۔اسے پانا اور پا کر کھو دینا۔یہ احساس میرے دل کو بہت بے چین کیے دے رہا تھا۔ پھر دل نے کہا " اس بارش میں اپنا غم ہلکا کر لے،اس نے کہا تھا وہ ایسے وقت میں میرے پاس ہو گی“ میں نے خود پر باندھے ضبط آنکھوں پر باندھے بند سب ڈھیلے کر دئیے۔اور میری آنکھوں سے میرے دردکا سمندر بہہ نکلا۔میں نے آنکھیں بند کر لیں۔اور تب ہی مجھے محسوس ہوا کہ میرے ارد گرد کوئی خوشبو سی ہے۔جس نے میری گالوں کو ہلکے سے چھوا ہے۔میں نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔مگر وہاں کوئی نہیں دکھا۔دل کو یقین تھا کہ وہ میرے آس پاس ہے۔یادوں کا بھی تو وجود ہوا کرتا ہے۔وہ اس کی یادوں کا وجود ہی تھا جس نے میرے بہتے آنسو پونچھے تھے۔
رات کی اس برستی بارش نے میرے اندر کی گرد کو واقعی دھو ڈالا۔ میں نے سوچا " وہ کتنا سچ کہتی تھی،بارش ہر شے دھو ڈالتی ہے۔اور ہر طرف اجالا ہو جاتا ہے ۔“ اس برستی بارش میں جب ہوا نے مجھے چھوا تو اُس کے چھو جانے کا احساس ہوا۔
میں نے اس سنگ گزارے ہر لمحے کو ،ہر یاد کو ،دہرایا۔کتنے ہی پل ایسے تھے جو میرے لبوں پر مسکراہٹ سجانے کا باعث بنے۔اور کتنے پل ایسے تھے جن میں چھپے درد کو میں نے ان برستی بوندوں کے حوالے کر دیا ۔
وہ کتنا سچ کہتی تھی " جو جب تک ہے اس کی قدر کرو، اسے چاہو“
کچھ دیر بعد بارش بند ہو گئی۔اور میرے اندر کا موسم بھی شفاف ہو گیا۔نہ بادل اب آسمان پر موجود تھے نہ میرے دل میں۔
ہر شے نکھری نکھری دھلی دھلی تھی۔اور ایسے ہی میرا دل بھی۔
مجھے بھی بارش سے محبت سی ہو گئی۔یہ بارش مجھے اس سے ملانے کا ایک ذریعہ بن گئی ۔آج مجھے بھی بارش اچھی لگی۔
وہ کتنا سچ کہتی تھی " بارش بہت خوبصورت ہوتی ہے“۔واقعی بارش بہت خوبصورت ہے۔