005 - مسکراہٹیں آپ کے نام از سید جرار علی

ہر طرف ایک شور ہنگامہ مچا تھا۔گھر کیا تھا مچھلی بازار لگ رہا تھا۔ آج صبح سے ہی مہمانوں کی دھڑا دھڑ آمد نے سب کے دل ،گردے ہلا کر رکھ دیے۔ اتنا بڑا گھر ہونے کے باوجود یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے مرغی کا ڈربہ ہو اورڈربے سے چوزے نکل کر یہاں وہاں بکھرے ہوں۔
کیسی عجیب بے ترتیبی تھی ۔ شادیوں کے موقع ہی شاید ایسے ہوتے ہیں جو گھروں میں، دن بھر کی روٹین میں اور سب سے بڑھ کر زندگیوں میں وقتی طور پر بے ترتیبیاں پیدا کرتے ہیں۔ مگر یہ بے ترتیبیاں من کو بہت بھاتی ہیں۔
آذر بھائی کی شادی کے سلسلے میں سارا خاندان اکٹھا تھا۔ آج آذر بھائی کی مایوں کی رسم تھی۔ دور دراز شہروں سے سبھی دوست ،عزیز اور رشتہ دار اس پُر مسرت موقع پر اکٹھے ہوئے تھے۔بڑے، بزرگوں کے علاوہ لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ہجوم تھا اور بچوں کا ایک سیلاب ۔ان دنوں گہما گہمی کا یہ عالم تھا کہ سب اپنے اپنے بچے گن کر سُلایا کرتے تھے۔کہ بادنخواستہ کسی کا بچہ مس نہ ہو ۔جتنے نفوس وہاں موجود تھے ان میں سے اگر پانچ یا دس لاپتہ بھی ہو جاتے تو یقیناً کسی کو کان و کان خبر نہ ہوتی۔
اصل ہنگامہ تو رسم شروع ہونے سے پہلے شروع ہو چکا تھا ۔جب نفیسہ چاچی پارلر جانے کے لیے اپنے شوہر نامدار سے الجھ رہی تھیں۔
نفیسہ چاچی ۔۔۔ ( دونوں ہاتھ کمر پر رکھے چچا میاں کو گھورتے ہوئے) آپ نے باہر سب کے سامنے یہ کیوں کہا "بوڑھی گھوڑی لال لگام“۔
چچا میاں ۔۔۔ ارے تو اور کیا کہتا ،یہ تمہاری عمر ہے بھلا کوئی بیوٹی پارلر جانے کی ؟ اب تم اپنی بوڑھی گالوں پر پڑی جھریاں چھُپوانے جاؤ گی؟
نفیسہ چاچی ۔۔۔ حد ہے آپ کی بھی ،ابھی میری عمر ہی کیا ہوئی ہے۔ابھی تو میری بیٹی بھی چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے ۔
چچا میاں ۔۔۔ ارے واہ ! اور وہ جو سب سے بڑی کی شادی کر چکی ہو ،ایسے حوالے دیتے ہوئے اس کی کبھی یاد نہیں آتی؟
اتنے میں ایک شرارتی آواز ارد گرد سنائی دی۔ *ابھی تو میں جوان ہوں۔*
نفیسہ چاچی ۔۔۔ ارے کون کمبخت ہے یہ ؟ ( دور کھڑے سلمان کو گنگناتے دیکھ کر بولیں ) سارا خاندان ہی ایک سا ہے نیم پاگل۔
چچا میاں ۔۔۔ چلیں ہمارا خاندان تو نیم پاگل ہے۔آپ کا تو ماشاءاللہ مکمل ہی کھسکا ہوا ہے۔ تب ہی آپ کے ابا میاں پینٹ کوٹ کے نیچے وہ قینچی چپل پہنے محفلوں میں آ جاتے ہیں۔
صجیحہ خاتون ۔۔۔۔ ( مسکراتے ہوئے) ارے آپ دونوں پھر الجھ رہے ہیں۔ بحث ختم کریں۔ اور نفیسہ تم ذرا میرے ساتھ آؤ کچھ کپڑے دکھانے ہیں۔
سلمان ۔۔۔ او ہو ممی ! آپ نے تو اتنے مسکرا کر ڈراپ سین کرا دیا۔ میں تو انتظار میں تھا کہ ابھی سرحدی جھڑپ شروع ہو اور میں کسٹرڈ کا یہ ڈونگا چچا میاں کو اس وقت تھماؤں جب ان کے پاس کوئی دفاعی ہتھیار نہ ہو۔
دادی اماں ۔۔۔۔ ( پان چباتیں عینک کے اوپر سے دیکھ کر بولیں) اری او نفیسہ ، یہ کس کا بال ہے؟
ارم ۔۔۔ او ہو دادی اماں ،آپ بھی کمال کرتی ہیں ظاہر ہے میرے سر سے جڑا ہے تو میرا ہی بال ہو گا نا ۔آپ کیا چاچی سے پوچھ رہی ہیں۔ میں بھی کہوں میرے بال کھچ کیوں رہے ہیں۔چھوڑیں میرے بال۔
دادی اماں ۔۔۔ نگوڑی ،تیرے بالوں کی بات کون کر رہا ہے میں تو اس ادھ ننگے بال کی بات کر رہی ہوں جو صبح سے چڈی پہنے زمین کے سارے کیڑے پکڑ پکڑ کے کھا رہا ہے۔یہ بچہ ۔( دادی اماں نے ارم کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا)۔
ثوبیہ ۔۔۔ او ہو دادی جی یہ تو وہ جو صبح حکیمہ آنٹی نہیں آئیں ان کا پوتا ہے۔
دادی اماں ۔۔۔ ( ہاتھ تھوڑی کے نیچے ٹکاتے ہوئے)ارے وہ ڈھلتے بڑھاپے میں چڑھتی جوانی کی تصویر ؟ خود تو چار سوٹ کیس لائی ہے ایک چڈی بنیان اس غریب کی بھر دھر لاتی ۔ کیسے صبح سے ایک ہی لنگوٹ میں لُور لُور پھر رہا ہے۔
عشرت بھابی ۔۔۔ ہائےےےے میرا دوپٹہ۔
سعدیہ ۔۔۔۔ کیا ہوا بھابی ،جل گیا کیا؟
عشرت بھابی ۔۔۔ اللہ نہ کرے ( سینے پر ہاتھ دھرتے ہوئے) کیسی بُری بات کہی تم نے میں تو کہنے چلی تھی کہ آج جو سوٹ میں نے پہننا ہے اس کا دوپٹہ میں نے کچھ زیادہ ہی سنبھال کر رکھ دیا ہے اب مل کر ہی نہیں دے رہا۔
 
حکیمہ آنٹی ۔۔۔ ( دادی کو ٹیڑھی نگاہ سے دیکھتےہوئے) ارے یہاں تو زبانیں نہیں سنبھل رہیں ۔اور تم نے دوپٹہ اس قدر سنبھال کر رکھ دیا بہو۔
سجاد صاحب ۔۔۔ اجتماعی طور پر سب سے مخاطب ہوئے۔ رسم کا وقت رات آٹھ بجے کا ہے ۔خواتین سے گذارش ہے کہ وہ ابھی یعنی ایک بجے سے ہی تیاری پکڑ لیں۔ شاید اس وقت تک تیار ہو جائیں۔
عشرت بھابی ۔۔۔۔ ارے تایا جی ! خواتین کن کو کہا ۔
سہیب بھائی ۔۔۔ جی جی یہ تو نو عمر ہیں ۔انتہائی نا مناسب لفظ منتخب کیا گیا ہے۔
عشرت بھابی شرما گئیں اتنے میں کامران نے کہا۔
کامران ۔۔۔۔ بھابی آپ سمجھیں نہیں نو عمر یعنی ، آپ کی موجودہ عمر کو نو سے ضرب دیں۔اور اس کے بعد جو جواب آئے وہ والی عمر ، نو عمر کہلاتی ہے۔
عشرت بھابی کی گھوریوں اور سہیب بھائی کے قہقہوں نے کامران کا بہت دور تک پیچھا کیا مگر وہ بھاگ کر برآمدے کی طرف نکل گیا۔
سعدیہ ۔۔۔ ( اپنے گروپ ٹولے کے پاس جا کر) ارے ہم لوگوں نے لڑکی والوں کو تنگ کرنے کی جو جو اسکیم بنائی ہے وہ سب یاد ہے نا۔ یہ نہ ہو کہ ہم کہیں سے کمزور پڑ جائیں۔
صوفیہ ۔۔۔ فکر ناٹ ، میں نے پورا انتظام کر لیا ہے ۔لیکن جو کام ان لڑکوں کے ذمے ہیں ان کی ذمہ داری ہماری نہیں کہ وہ ہوئے ہیں یا نہیں۔
علی ۔۔۔ ہمارے کاموں کی آپ فکر نہ کریں آپ صرف ان مالٹوں کی فکر کریں جو ابھی تک آپ 2 درجن سے زیادہ اکیلی ہی ہڑپ چکی ہیں۔
صوفیہ ۔۔۔۔ تمہاری نظرمیرے مالٹوں پر ہی تھی۔
حسن ۔۔۔۔ نہیں ، صرف مالٹوں پر ہی نہیں اس سے پہلے جو تم نے چار روٹیاں کھائیں اس سے لے کر سیب ، کیلا ، اور آڑو کی جو جو شامت تم نے بلائی ان سب پر بھی ہماری نظر تھی۔
علی ۔۔۔ ہاہاہا ، اب بھی اگر تمہیں ہضم ہو جائے اور ہم کہیں کہ تمہارا معدہ بھی تمہاری طرح ڈھیٹ ہے تو مائنڈ نہ کرجانا۔
سعدیہ ۔۔۔ ( دونوں کو ایک ایک لگاتے ہوئے) چلو بھاگو یہاں سے ہمیں تیار ہونے دو۔
تیاری کا مرحلہ بھی عجیب درد ناک تھا۔
عشرت بھابی کی بچی بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھی زار و قطار روئے جا رہی تھی۔
سہیب بھائی ۔۔۔ او ہو ، تم سے کہا بھی تھا اتنا خوفناک مت تیار ہونا کہ بچی ہی ڈر جائے۔ دیکھو تو سہی تمہیں پہچان ہی نہیں پا رہی میں نے کہا کہ جاو ماما کے پاس تو تمہیں دیکھ کر اس نے ایک اور زور دار چیخ ماری ہے۔اور مجھ سے لپٹ گئی ہے۔
عشرت بھابی ۔۔۔ سہیب ! اگر تعریف نہیں کرنی تو کم از کم اس طرح سے برائی تو نہ کریں۔
دوسرے کمرے کا حال کچھ اس صورت میں تھا ۔
میاں ۔۔۔۔ اور کتنا وقت درکار ہے آپ کو ؟ آئینے کی جان چھوڑ دیں کہ جان لے کر جان چھوڑیں گی۔ اس کی حالت تو ملاحظہ فرمائیں ماہی بے آب کی طرح بیچارا زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ بخدا اب بھی آپ آئینے کے سامنے سے نہ ہٹیں تو وہ جانبر نہ ہو سکے گا۔ خود کشی کر لے گا۔
بیگم ۔۔۔۔ ارے آپ کو تو بس فضول بولنے کی عادت ہے۔ اتنا بولتے ہیں مگر مجال ہے کہ ایک پھر من پسند جملہ ادا کیا ہو ابھی تک۔
میاں ۔۔۔ چار مرتبہ یہ شیشہ بدلوا چکا ہوں۔ اور چاروں ہی مرتبہ آپ کے حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ اب کیا اس کا نام بھی شہیدوں میں لکھوانا چاہتی ہیں؟
بیگم ناک بھوں چڑھا کر رہ گئیں۔
لڑکیوں کے کمرے کا حال کچھ ایسا تھا۔
فردوس ۔۔۔۔ ارے یہ کیا ثوبیہ ، تم نے بھی میرے جیسا ہیر اسٹائل بنا لیا۔کبھی تو چیٹنگ سے باز رہا کرو۔
ثوبیہ ۔۔۔ ہائے فردوس باجی قسم لے لیں مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ کو بھی سب کچھ سوچنے کے بعد کچھ نہ سوجھے گی تو یہی اوٹ پٹانگ سا ہیئر اسٹائل بنائیں گی۔
علی ۔۔۔ (کمرے میں اپنی ٹیم سمیت داخل ہوتے ہوئے) ارے آپ لوگ ابھی تک تیار نہیں ہیں ۔نیچے تو سب اکٹھے بھی ہو چکے ہیں۔اور آپ سب کی سب انہیں مطلوب ہیں۔
کامران ۔۔۔ خوش ہونے کی ہر گز کوئی کوشش نہ کرے۔ کیونکہ انہیں کوئی کام والی نہیں مل رہی۔اسی لیے آپ سب کے سرچ وارنٹ نکالے گئے ہیں۔
حسن ۔۔۔ ارے واہ ثوبی تم نے تو بڑا اچھا گھونسلہ بنایا ہے سر پر ۔
سلمان ۔۔۔ ہاہاہا ، ہاں تھوڑا سا لٹک جاتا تو بیا کا گھونسلا بن جاتا (سب لڑکوں کا مشترکہ گونجا)۔
ارم ۔۔۔ نکلو تم سب شیطان کے چیلوں ،باہر نکلو آتے ہیں ہم۔
حرا ۔۔۔ ہائےےےےےےےے ، ککھ نہ رہے باسط تمہارا۔
سعدیہ ۔۔۔۔ کیا ہوا ،کیا کر دیا اس نے ؟
حرا ۔۔۔ میرے سوٹ کے نئے دوپٹے سے اپنے بد شکل جوتے صاف کر رہا ہے بدتمیز۔
فردوس ۔۔۔ ہائےےےےےےے یہ میرے کاجل کی شیشی میں کالی سیاہی کس نے ڈالی ہے؟
باسط ۔۔۔ وہ کاجل کی شیشی تھی ؟میں تو انک کی بوتل سمجھا تھا ۔بھرے جا رہا تھا انک ہی نہیں آ رہی تھی پین میں پھر میں نے اس میں کالی سیاہی ڈال دی۔
فردوس ۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک کارنامہ ہے تمہارا ۔
حسن ۔۔۔ ہاہاہا ، یار ڈال ہی رہے تھے تو کوئی نیلی ، یا لال سیاہی ڈالتے ۔کالی سے وہ مزا نہیں آیا ۔چلو اگلی بار ذرا مختلف رنگ کی ڈالنا۔
باسط ۔۔۔ (معصومیت سے ) فردوس باجی کہیں تو اپنا انک ریموور لا دوں؟ کاپی پر پھیرنے سے انک غائب ہو جاتی ہے۔
علی ۔۔۔ ہاہاہاہا، نہیں یوں کروں ان کو ربڑ ہی لا دو ۔ یہ مٹا لیں گی۔
فردوس ۔۔۔۔ علی کے بچے،اس ربڑ سے تمہیں نہ مٹا دوں میں۔دفع ہو نکلو یہاں سے سب کے سب۔
علی ۔۔۔ ٹھیک ہے یہ بھیانک اینڈ بیوٹی کمپیٹیشن ختم ہو تو جلد از جلد نیچے پہنچیں ۔مہمان آنے والے ہیں۔
دادی اماں کے کمرے کا حال بھی ملاحظہ کریں۔
دادا ابا ۔۔۔ ارے بیگم اس عمر میں بھی آپ قیامت ڈھا رہی ہیں۔بس نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ قیامت نظر ہی نہیں آ رہی جو آپ ڈھائے جا رہی ہیں۔
دادی اماں ۔۔۔ آئے ہائے اس عمر میں بھی شرم نہ آئی ،سہیل کے ابا ؟ یہ تو ہمارے جہیز کا سوٹ ہے بس جی آیا تو پہن لیا۔
دادا ابا ۔۔۔ (حیران ہوتے ہوئے) آپ کے جہیز کے کپڑے ابھی تک چل رہے ہیں؟
دادی اماں ۔۔۔ ارے صندوق بھر بھر کے جہیز دیا تھا میرے گھر والوں نے کوئی آپ لوگوں کی طرح کنگال نہ تھے۔
دادا ابا ۔۔۔ سوچ کی یہ بیماری تو آپ کو شادی کے بعد سے ہی لاحق رہی ہے۔اور یقیناً لا علاج ہے۔ میں چلا باہر آپ بھی تیار ہو کر آ جائیے گا۔
 
ادھر مہمان اکٹھے ہوئے اور چونکہ رسم کا اہتمام مشترکہ فیصلے سے ایک ہی جگہ پر کیا گیا تھا لہذٰا سب وہیں آ گئے۔ مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ پھولوں میں کچھ کچھ گیندے کے پھول بھی تھے جو برسائے گئے تو یوں لگا جیسے برف کے اولے منہ پر پڑ رہے ہوں۔
نفیسہ چاچی بالآخر پارلر سے تیار ہو کر آئیں۔ اور پارلر والی نے تو گویا ان کو جھونپڑے سے کوٹھی بنا دیا۔
چچا میاں ۔۔۔ آئیے خاتون اس طرف لیڈیز کا انتظام ہے۔
نفیسہ چاچی ۔۔۔ پہچانے نہیں میں ہوں۔ کس کے خیال میں یوں مودبانہ کلام کر رہےتھے۔
چچا میاں ۔۔۔ ( ہکّا بکّا منہ کھولے دیکھتے رہے) یہ آپ ہیں نفیسہ بیگم ، ذرا اسٹیج سے فاصلے پر رہیے گا۔
نفیسہ چاچی ۔۔۔۔ کیوں ؟ اب ایسا بھی کیا خراب تیّارہوئی ہوں میں۔
چچا میاں ۔۔۔ نہیں خراب نہیں ،بلکہ کچھ زیادہ ہی تیار ہو گئی ہیں آپ ایسا نہ ہو کہ آپ ہی کو دلہن سمجھ لیا جائے ۔
نفیسہ چاچی ۔۔۔ استغفراللہ ، حد ہی ہو گئی گویا کوئلے چبائے ہیں کہ جب بھی بولنا ہے بُرا ہی بولنا ہے۔
صبیحہ خاتون ۔۔۔ ارے منی بیگم ! یہاں آئیے اس طرف ۔بہت عرصے بعد آپ سے ملاقات ہوئی۔کب لوٹیں آپ امریکہ سے؟
علی ۔۔۔ ( احمد چچا سے) چچا ، یہ منی بیگم کون سی آنٹی ہیں؟ ان کو پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔
احمد چچا ۔۔۔ برخودار نام پر نہ جانا، یہ منی خود بہت سی منیوں کی منی ہیں۔مطلب اماں ہیں۔ بس نام کی منی ہیں ورنہ ننھی منی جیسے الفاظ ان کی ہٹلرانہ طبیعت کو زیب نہیں دیتے۔
سلمان ۔۔۔ اووووو اچھا۔ اور یہ جو کالے سوٹ میں ہیں یہ کون سی آنٹی ہیں؟
احمد چچا بھی ذرا شوخ طبیعت کے انسان تھے ۔ہر بات کو مزاح کا لباس پہنانا ان کی عادت سی تھی۔
احمد چچا ۔۔۔ ارے وہ کالا سوٹ ہے؟ میں تو سمجھا کوئی ٹینٹ ہی غلط جگہ لگا گیا ہے۔ ماشاءاللہ یہ رقبہ اپنی ثریا خاتون کا لگتا ہے۔ بھئی آذر کی ہونے والی چاچی ساس ۔
کامران ۔۔۔ ایک اور چہرہ پہچان میں نہیں آ رہا چچا میاں ۔ یہ جو ماما کے دائیں طرف خاتون ہیں آسمانی رنگ کے جوڑے میں یہ کون ہیں۔
احمد چچا ۔۔۔ ارے یہ آسمان کا آسمان زمین پر سمایا کیسے؟ یہ بھی آذر میاں کی سُسرالی رشتہ دار ہیں۔ ویسے ایک بات قابل غور ہے۔
حسن ۔۔۔۔ وہ کیا چچا ؟
احمد چچا ۔۔۔ وہ یہ کہ اپنے آذر کی شادی بڑے کھاتے پیتے خاندان میں ہو رہی ہے۔ ان کی صحت کو دیکھ کر تو کوئی یہی قیاس لگا سکتا ہے کہ ماشاءاللہ بڑے کھاتے پیتے ہیں۔
مایوں کی رسم شروع ہوئی۔ وہ آذر بھائی کی مایوں سے زیادہ کوئی فیشن شو کا سا سماں لگا رہا تھا جہاں ہر کوئی ابٹن لگانے نہیں بلکہ اپنا اپنا جوڑا اور میک اپ دکھانے آتا کیمرے میں دیکھ کر تصویر بنواتا اور اٹھ کر چلا جاتا۔
رسم پر سب نے اپنے اپنے دل کے ارمان پورے کیے۔ کسی نے ناک پر ابٹن لگا دیا اور کسی نے سر کو بھی نہیں بخشا۔ اور ایک سُسرالی خاتون تو اتنی پُر جوش تھیں کہ انہوں نے ابٹن لگانےکے بعد آذر بھائی کے کپڑوں سے ہی ہاتھ پونچھ لیے ۔
ایک اور خاتون ان سے بھی زیادہ خوش تھیں۔ انہوں نے مٹھائی کھلانے کی غرض سے گلاب جامن پکڑا۔ آذر بھائی کو پچھلے آدھے گھنٹے سے مٹھائی کھانے کی کچھ عادت سی ہو گئی تھی کہ جب بھی کوئی مٹھائی پکڑتا بے اختیار ان کا منہ کھل جاتا۔لیکن اس بار نتیجہ ذرا مختلف تھا۔ وہ خاتون ان کی شادی کی خوشی میں اتنی خوش تھیں کہ مٹھائی اٹھائی اور اپنے ہی منہ میں پورا کا پورا گلاب جامن ڈال لیا۔
آذر بھائی کا منہ لٹک گیا۔اور کیمرے کی آنکھ میں قید ان لمحوں کی کہانی ایک طرف کہ جب آذر بھائی منہ کھولے گلاب جامن کی فلائٹ لینڈنگ کا انتظار کررہے تھے۔اور جہاز کہیں دوسرے ہی ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا۔
مایوں کی رسم کے بعد سب کا سب سے پسندیدہ وقت شروع ہوا۔ جی ہاں، کھانے کا وقت ۔وہ وقت جو قیامت سے کسی طور کم نہیں ہوتا۔ جب ایک نفس کو دوسرے نفس کا ہوش نہیں ہوتا۔
مگر ذرا سا منظر مختلف ہوتا ہے۔کیونکہ شادیوں کے ان مواقع پر ماؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنے پیسے شادی میں دینے ہیں اتنے کا نہیں تو کم از کم آدھے پیسوں کا کھانا تو کھا کر ہی نکلیں۔ اس کے لیے فی بچہ تین سے چار بوٹیاں کھانی لازمی ہوتی ہیں۔ لیکن اولاد اس بات سے بے نیاز صرف بھوک کو فوکس کرتی ہے۔ اور سوئیٹ ڈش کے طور پر ماؤں کی گھوریاں کھاتی ہے۔جو کہہ رہی ہوتی ہیں کہ "اب نخرے نہ کرو ،کھاؤ چپ کر کے،اچھا یوں کرو بوٹیاں بوٹیاں کھا لو چاول ،نان چھوڑ دو“
میمونہ آنٹی کے پاس جا کر میزبانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے۔
حسن ۔۔۔ ارے آنٹی یہ لیں نا آپ ، مرغی کا روسٹ تو آپ نے چکھا ہی نہیں۔ یہ کیا آپ بکرے کی بوٹیاں ہی کھائے جا رہی ہیں۔
میمونہ آنٹی ۔۔۔ ارے تمہیں نہیں پتا آج کل بکرے کا گوشت ،مرغی کے گوشت سے زیادہ مہنگا ہے۔اب تو کسی کے گھر بھی جاؤ تو لوگ بکرے کا گوشت نہیں پکاتے بس اس کا تذکرہ کر دیتے ہیں کھانے کی میز پر کہ گوشت کا ذائقہ آ جائے کھانے میں۔اور گھر کی مرغی تو دال برابر ہوتی ہے۔
حسن اپنا سا منہ لے کر آگے بڑھا ۔سامنے سے آتے شرفو پر نظر پڑی جس کے ہاتھ میں انڈے تھے۔
حسن ۔۔۔ ارے یہ تم انڈے لیے کہاں گھوم رہے ہو اس وقت؟
شرفو ۔۔۔ ارے اچھا ہوا صاب آپ مل گیا۔آپ یہ انڈے پکڑو میں ذرا بڑے صاب کی بات سن آوں ۔یہ انڈے صدقہ دینے کے واسطے منگوائے ہیں۔
علی ۔۔۔ آج کے مہنگائی کے اس دور میں یہ انڈوں کا صدقہ اس وقت کسے سوجھا ہے؟
شرفو ۔۔۔ وہ کینیڈا والی میم صاب ہیں نا حنا میم صاب انہوں نے کہا ہے کہ لے کر آؤ۔
حسن ۔۔۔ عجیب خاتون ہیں یار صدقے والے کام تو اپنے گھر ختم کر کے آنے چاہیں تھے نا ان لوگوں کو۔ اچھا تم ذرا جلدی آنا۔( علی سے مخاطب ہوتے ہوئے) اب ان انڈوں کوکہاں ٹھکانے لگاؤں۔
علی ۔۔۔ لا مجھے دے میں ابھی ان کو ان کی صحیح جگہ پہنچاتا ہوں۔
علی نے وہ انڈے لے کر میز کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک اپنا نام پکارے جانے پر اس نے پلٹ کر دیکھا صبیحہ خاتون پیچھے موجود تھیں۔ڈرتےڈرتے اس نے وہ انڈے پاس ہی پڑے منی بیگم کے پرس میں ڈال دئیے۔
صبیحہ خاتون ۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ،جا کر مردوں میں دیکھو ،کوئی چیز وغیرہ کی ضرورت ہو تو۔
علی ۔۔۔ جی اسی طرف جا رہا ہوں بس۔( ان کے پاس سے کھسکا اور مردوں کی جانب چلا گیا)۔
شادیوں کے موقع پر مہماںوں کی بھی بڑی اقسام ہوتی ہیں۔کچھ عجیب آئٹم ہوتے ہیں اور کچھ نایاب۔
کامران ۔۔۔ ارے صوفی صاحب ، آپ نے یہ قورمے کا سالن چکھا؟
صوفی صاحب ۔۔۔ ارے میاں ! تم تو جانتے ہو کہ ہمیں نمکین سے زیادہ میٹھا بہت بھاتا ہے۔ اگر میٹھے کی ایک دو ڈشیں خاص میرے لیے آ جائیں اچھا ہو گا۔اور جو میں کھا نہ سکوں وہ بشوق ساتھ باندھ دینا گھر لے جانے کے لیے۔
صوفی صاحب کے وہاں سے کھسکنے کے بعد کامران سہیب بھائی سے مخاطب ہوا۔
کامران ۔۔۔ ارے واہ ، حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ ۔یعنی ہمارے خرچے پر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں ۔
سہیب بھائی ۔۔۔ خواتین کی زبان میں کہا جائے تو "اتنا دے کر نہیں گیا، جتنا ٹھونس گیا ہے “۔
حمید صاحب ۔۔۔ ارے کامران بیٹا دیکھنا ذرا خواتین میں جا کر کسی نے کہا کہ وہاں بوتلوں کی ضرورت ہے۔
کامران ۔۔۔ اچھا جی، ابھی دیکھ کر آتا ہوں۔ ( خواتین کی طرف جاتے ہوئے)۔
ایک خاتون ۔۔۔ اری او اقرا ، جا وہاں جو وہ لڑکا آیا ہے اسے کہیو ایک ساتویں آسمان والی بوتل منگوا کر دے۔
اقرا ۔۔۔ او ہو امی ، اُسے سیون اپ کہتے ہیں۔آپ بھی نا ہر بات کا قیمہ ہی نکال دیا کریں۔
خاتون ۔۔۔ اری استانی نہ بن میری۔جا جا کر بوتل لا کر دے۔یہ فرنگیوں کی زبان نہیں سمجھ لگتی۔ اپنی زبان میں تو اسے "ہضم کرنے والی بوتل “ کہتے ہیں۔ اور سنیو ۔ جو اگر وہ نہ ملے تو "آم والی بوتل “ لے آئیو۔
اقرا ۔۔۔ اففففف اب یہ آم والی بوتل کون سی ہے۔ ( کچھ سوچتے ہوئے) کہیں آپ شیزان کو تو نہیں کہہ رہیں ؟
خاتون ۔۔۔ ارے ہاں کچھ مہمان مہمان سا ہی نام تھا اس کا ۔چل اب پٹر پٹر بند کر اور لا کر دے۔
کامران ،ویٹرز کے ساتھ بوتلوں کے کریٹ لے کر آیا۔ سارے بچوں نے شیزان کی بوتل پر حملہ کر دیا۔اور آن ہی آن میں شیزان کی بوتل تو گئی۔ خاتون دور بیٹھی جائزہ لے رہی تھیں۔ بعد از شیزان ان کی نظر سیون اپ پر لگ گئی ۔ سیون اپ کا اسٹاک پہلے ہی کچھ کم تھا۔ اس لیے جلد ہی ختم ہو گیا۔ اب بچی اکلوتی پیپسی۔ خاتون نے سوچا کہ یہ تو خسارے کا سودا ہوا اگر یہ بھی ہاتھ نہ لگی تو۔ اس لیے دور ہی سے پکاریں۔
خاتون ۔۔۔ ارے بیٹا ۔ ایک یہ چیپسی مجھے بھی دیجیو۔ حلق میں بوٹی پھنس گئی ہے۔
خاتون کی سادگی پر بچوں کے ریلے نے قہقہہ لگایا کہ آنٹی "پیپسی “ کو "چیپسی“ کہہ رہی ہیں۔ جبکہ اقرا کو بے حد شرمندگی محسوس ہوئی۔اور اس نے دل میں تہیّہ کیا کے چار لفظ تو اماں کو سکھا کر ہی رہے گی۔
اتنے میں کھانے کے بعد سوئیٹ ڈش کھاتے کھاتے کسی بات پر مسز ہمدانی اتنا ہنسیں کہ ان کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی آلو بخارے کی چٹنی کی پلیٹ سامنے کھڑی مسز اصغر کے چھوٹے بیٹے کے سر پر گر گئی۔
بچے کو تو پتا نہیں چلا البتہ مسز اصغر کی ہنسی کو جیسے اچانک ہاڈلرالک بریک لگے ہوں۔
مسز ہمدانی ۔۔۔ او ہو ، سوری مجھے اپنی ہنسی کے طوفان کی شدت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔
حسن ۔۔۔ ارے کوئی بات نہیں آنٹی۔ ویسے بھی سونامی کسی کو بتا کر تھوڑا نا آتا ہے۔
بچوں نے یہاں وہاں سر پٹ بھاگنا شروع کر دیا۔ پیٹ میں روٹی کیا گئی کہ جیسے جیٹ طیارے کو پٹرول مل گیا ہو۔
اسی اثناء میں ایک بچے نے دوسرے کو دھکا دیا اور دوسرا بچہ منی بیگم کے اوپر گرا۔ منی بیگم کی تو بچت ہو گئی البتہ ان کا پرس نہ بچ سکا۔ بچہ اوندھے منہ ان کے پرس پر آن گرا۔
ساتھ ہی علی کی آواز بلند ہوئی ۔
علی ۔۔۔ " مارے گئے، ہو گیا کام“ ۔
حسن ۔۔۔ کس کا کام تمام کر دیا ؟
علی ۔۔۔ وہ جو انڈے ان کے پرس میں تھے اب تک تو ان کا آملیٹ بن چکا ہو گا۔
ساتھ ہی مسز کوثر تشریف لے آئیں۔ اور منی بیگم سے فرمانے لگیں۔
مسز کوثر ۔۔۔ ارے منی بیگم ! آپ کے پاس ذرا شیشہ ہو گا۔ کھانے کے بعد میری لپ اسٹک اتر گئی ہے تو سوچا ایک کوٹ اور پھیر لوں لپ اسٹک کا۔
منی بیگم ۔۔۔ ارے میں تو پورا بیوٹی پارلر لیے گھومتی ہوں۔ ہر چیز موجود ہے۔
علی ۔۔۔ یار اگر یہ بیوٹی پارلر کا دروازہ کھُل گیا تو اپنی قسمت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔
سلمان ۔۔۔ ارے خوامخواہ نہ ڈرو ،ان کو بھلا کیا پتا کہ یہ کس کی حرکت ہے۔
علی ۔۔۔ لیکن وہ شرفو بےوقوف ڈھنڈورا پیٹ دے گا نا کہ انڈے اس نے ہمیں پکڑائے تھے۔
اسی کے ساتھ منی بیگم نے پرس کھولا اور اندر ہاتھ ڈالا تو گندمی رنگ کا تھا مگر باہر نکلا تو اسے پیلیا ہوا ہوا تھا۔ اور ہاتھ کے ساتھ ساتھ ان کے چہرے کے زاویے بھی بدل گئے۔
جیسے ہی ہاتھ باہر نکالا تو خود ہی چیخ پڑیں۔
منی بیگم ۔۔۔ اففففف یہ کیا ڈالا ہے کسی نے میرے امریکہ کے پرس میں؟
مسز کوثر ۔۔۔ ارے منی بیگم ،آپ تو فرما رہیں تھیں کہ آپ کا پرس بیوٹی پارلر ہے مجھے تو کوئی گروسری اسٹور لگ رہا ہے۔
منی بیگم ۔۔۔ یہ ضرور کسی شیطان کی شرارت ہے۔مجھے ایک بار پتا چل جائے بس کہ کس کی حرکت ہے۔ ناس پھیر دوں گی کلموہے کا۔
سہیب ۔۔۔ ویسے آپ کو اس بات کا یقین کیسے ہے کہ وہ کلموہا ہی ہو گا؟ مطلب کلموہی بھی تو ہو سکتی ہے۔
منی بیگم ۔۔۔ یہ تو وقت بتائے گا سہیب میاں۔ یہ شادی کا موقع نہ ہوتا تو ابھی ڈھنڈورا پیٹ دیتی میں۔ اتنا مہنگا اور شاندار پرس تھا میرا امریکہ سے آیا ہے۔ کوئی عام پرس نہیں ہے۔ چلو ہٹو اب راہ سے میں یہ غلاظت تو دھو آؤں۔
ایک طوفان تو آیا اور گزر گیا۔ اب اس کے اثرات کیا ہوں گے۔وہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن دوسری طرف ایک اور طوفان آیا ہی چاہتا تھا جب پینسل ہیل پہنے عمیرہ خاتون سامنے سے آتی دکھائی دیں۔
احمد چچا ۔۔۔ ارے محترمہ نے بڑا ظلم کیا ہیل پر یعنی گاڑی کے ٹائروں پر ٹرالے کا وزن ۔
حسن ۔۔۔ ارے واقعی عمیرہ آنٹی تو امریکہ میں رہ رہ کر اور بھی پھیل گئی ہیں۔
احمد چچا ۔۔۔ ارے میاں عورتوں کی مثال تھرمامیڑ کے پارے کی سی ہوتی ہے۔جتنی جگہ ملتی جائے پھیلتی جاتی ہیں۔ اور ان ہی کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ motivating ۔
سلمان ۔۔۔ ہیں لیکن اس کا استعمال خاص ان کے لیے کیوں ہوا ؟
احمد چچا ۔۔۔ وہ اس طرح ایک بار امریکہ میں یہ بس اسٹینڈ پر کھڑی تھیں۔ اور پاس دو پاکستانی لڑکے بھی موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر ان کی شرارت کی رگ پھڑکی۔ اور انہوں نے فرمایا کہ " موٹی از ویٹنگ “ ۔ انہوں نے پلٹ کر گھور کر دیکھا تو انہوں نے کہے گئے جملے میں سے " از“ ہٹا دیا۔ اور کہا ۔ " موٹی ویٹنگ“ ۔بس اسی لیے
احمد چچا کی اس بات پر سب نے قہقہہ لگایا۔اور قہقہہے کے ساتھ ہی دھڑم کی آواز آئی۔ یہ کیا ہوا؟
عمیرہ خاتون کی ہائی ہیل ان کے وجود نہ بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو گئی اور زمین بوس کون ہوا؟ کیا عمیرہ خاتون ؟ نہیں بالکل نہیں۔ زمین بوس ہوئیں ان کے ساتھ کھڑی ہوئیں بانو بیگم ۔ جن کے اوپر انہوں نے اپنا بھاری بھر کم وجود چھوڑ دیا۔
اب اگر عمارت گرتی ہو اور گرنے وقت وہ کسی چھوٹے پلر کا سہارا لے تو یقیناً عمارت گرنے سے پہلے وہ پلر گر جائے گا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
شرمندگی اور جوتی کے ٹوٹ جانے کا رنج اپنے عروج پر تھا۔ جب بانو بیگم تڑپ کر بولیں۔
بانو بیگم ۔۔۔ ارے عمیرہ ۔ تم امریکیوں کو عادت ہے ہم پاکستانیوں کو مسلنے کی۔ آتے ہوئے یہ عادت تو وہاں چھوڑ آتیں۔ کہ یہاں بھی ہمیں ہی نشانہ بنانے آئی ہو۔
مسز صدیقی ۔۔۔ ارے آپ امریکیوں کے پیچھے کیوں پڑی ہیں۔اپنے پاکستانی بھی ماشاءاللہ کچھ کم تو نہیں ہیں۔ہر جگہ اپنے دکھڑے رونے بیٹھ جاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک پاکستانی خاتون نے سعودی عرب والی کو کہا ہے کہ " بی بی تیل آپ کا وہاں سستا ہو گا۔یہاں تو اب خود کشی کرنے کے لیے بھی مٹی کا تیل خریدو تو اتنا مہنگا ہے کہ بندہ خودکشی کا ارادہ بھی اگلے ماہ تک پوسٹ پون کرے کہ اگلی تنخواہ آتے ہی پہلے مٹی کا تیل خریدوں گا “۔
علی ، حسن ، کامران ، سہیب، اور سلمان ،احمد چچا کے ساتھ پیچھے کھڑے اس عالمی جنگ سے محظوظ ہو رہے تھے۔ جب سجاد صاحب وہاں تشریف لائے۔
سجاد صاحب ۔۔۔ ارے بھئی آپ لوگ یہاں کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں ؟ آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کیوں نہیں کرتے؟
احمد چچا ۔۔۔ ارے بھائی جان ! یو این او ، بیچاری کیا کر پائی ہے۔ جس کو ایٹم بم بنانا ہے بناتا ہے ،جس کو حملہ کرنا ہے کرتا ہے۔ یو این او تو بس تماشا ہی دیکھتی ہے۔اور وہی کر رہی ہے۔
سجاد صاحب ۔۔۔ مگر پھر بھی کوئی امن کا پیغام تو بھیجا ہوتا۔ یوں کیا تماشا لگا رکھا ہے خواتین نے۔شادی کا موقع ہے ۔رشتہ داروں کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں وہ کیا سوچتے ہوں گے۔
احمد چچا ۔۔۔ اچھا چلیں میں کوشش کرتا ہوں ۔امن کا جھنڈا لہرانے کی۔
حسن ۔۔۔ ارے احمد چچا آپ یہ جنگ عظیم روکیں گے کیسے؟
احمد چچا ۔۔۔ میاں کالج میں نفسیات کا پروفیسر ہوں،بس دیکھتے جاؤ تم ۔
احمد چچا نے آگے بڑھ کر گلا صاف کیا اور بولے۔
احمد چچا ۔۔۔ نازنین و بہترین و خواتین ۔ ہم لوگوں نے سوچا ہے کیوں نہ شادی کے موقع پر کچھ رونق شونق لگائی جائے۔اسی سلسلے میں ایک گیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کو کھیلنے کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کہ سب خوبصورت خواتین ( جو خود کو خوبصورت سمجھیں،ظاہر ہے سب کی سب ہی مخاطب ہوئیں) یہاں اُس طرف کرسیوں پر بیٹھ جائیں جن پر لال پٹیاں بندھی ہیں۔ان کرسیوں پر ایک ایک نمبر درج ہے۔ جس خوش نصیب کا نمبر پکارا جائے گا۔اس کی شان میں ایک دوسری خاتون ان کی تیاری کی اور خوبصورتی کی تعریف کریں گی۔
یہ سننا تھا کہ ساری خواتین بحث مباحثہ چھوڑ چھاڑ ،بھول بھال فٹا فٹ کرسیوں پر براجمان ہو گئیں۔ رات گئے تک کتنے ہی جھوٹ بولے گئے۔ بائیں کندھے کا فرشتہ تھکاوٹ سے چور تھا۔ کاپیوں پر کاپیاں بھری جا رہی تھیں نامہ اعمال درج کر کر کے۔ وہ الگ بات ہے کہ سب خواتین کا خون دو دو کلو بڑھ چکا تھا۔لیکن نئے بننے والے خون میں سے بچا صرف آدھ پاؤ ہی تھا۔
اب آپ سوچیں گے کہ 2 کلومیں سے صرف آدھ پاؤ خون بچا تو باقی کہاں گیا۔ جناب باقی کا خون دوسری عورتوں کی تعریفیں سن سن کر اور کر کر کے جل گیا۔ لیکن ´پھر بھی خسارے کا سودا نہیں تھا۔ کچھ نہ کچھ تو ہاتھ آیا ہی تھا۔
آذر بھائی کی مایوں کی یہ شام بلکہ رات اپنے اختتام کو ضرور پہنچی مگر ایک نئے دن کے لیے بہت سی کہانیوں کو جنم دے کر۔
مسکراہٹوں کا فقدان ہمارے ارد گرد نہیں بلکہ ہماری اپنی ذات میں ہے۔ ہم اس لیے نہیں مسکراتے کیونکہ ہم نے خود پر مسکراہٹ کے در بند کر دیے ہیں۔ ہم جو سوچنا چاہتے ہیں بس وہی سوچتے ہیں۔ اور ہم یہ سوچنا چاہتے ہیں کہ آج کا دن تو گزر گیا کل کون کون سی پریشانیاں ایسی ہیں جن کا سد باب کرنا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ گزرے ہوئے دن میں جو فلاں شخص نے ہم سے کہا اس کا بہترین انداز میں بدلہ کس طرح لیا جائے۔ اور یہی سوچیں ہمیں ایک نیا دن بھی انہی پرانی باتوں کے ساتھ شروع کرنے پر کمر بستہ کرتی ہیں۔
ایک نیا دن اگر ایک نئی بات سے شروع کریں ۔گزرے دن کی افسردہ باتوں کو نظر انداز کر کے صرف اچھی یادیں آنے والے دن میں ساتھ لے کر چلیں تو شاید ہم خود بھی مسکرا سکیں اور دوسروں کو بھی اس کے لیے تیّار کر سکیں۔جتنے لب آپ کی بدولت مسکراتے ہیں اتنی ہی خوشی آپ کے ارد گرد خوشبو بن کر بکھر جاتی ہے۔اور اس خوشبو میں آپ خود بھی مہکتے ہیں اور اپنے ارد گرد ماحول کو بھی مہکاتے ہیں۔ سدا یونہی خوش رہیں ۔مسکراتے رہیں کہ مسکراہٹ بھی محبت کا ایک روپ ہوتی ہے۔