007 - میرا یونیورسٹی کا پہلا دن تحریر عامر جہاں

یونیورسٹی میں پڑھنا، بلکہ خاص طور پر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنا میرا ایک دیرینہ خواب تھا جو طلحہ بھائی، میرے گھر والوں اور میرے ایک دو دوستوں کے تعاون اور دعاؤں کی بدولت پورا ہوا۔ 2004ء میں ایف ایس سی کرنے کے بعد آج بروز پیر، بتاریخ 7 ستمبر 2009ء یعنی پانچ چھ سال کے وقفے کے بعد بالآخر میں ایک بار پھر باقاعدہ طور پر تعلیمی میدان میں داخل ہو گیا ہوں۔

پنجاب یونیورسٹی میں ٹورازم اینڈ ہاسپٹلٹی مینیجمنٹ (Tourism & Hospitality Management) میں داخلہ لیتے وقت مجھے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔THM میں داخلہ لینا کافی کٹھن مرحلہ تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ انتخاب ہی کا تھا کیونکہ میرے پاس ماسٹرز میں داخلے کے لئے ایک سے زیادہ آپشنز تھے اور اُن میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا میرے لیے خاصا مشکل تھا۔ بالآخر کافی لوگوں کی مخالفت کے باوجود میں نے THM میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرا اس میں عملی تجربہ بھی تھا اور قدرتی رجحان بھی-

یونیورسٹی کے واجبات ادا کرنے کے بعد جب میں نے ڈیپارٹمنٹ والوں سے کلاسز کے اجراء کا پوچھا تو انہوں نے ٹکا سا جواب دےدیا۔ انکے مطابق انہیں کوئی معلومات نہیں اور نیز یہ کے مجھے پانچ یا چھ ستمبر کو فون کرکے پتہ کرنے کا کہا گیا۔ مجھے پانچ ستمبر کا شدت اور بے چینی سے انتظار تھا۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ جیسے تیسے پانچ تاریخ آئی۔ میں نے صبح اٹھتے ہی ڈیپارٹمنٹ فون کیا۔ (ان دنوں میری صبح تقریباً بارہ ایک بجے ہوتی تھی۔) جواب ملا کہ اب سارا سٹاف جا چکا ہے، کل فون کرکے پتہ کریں۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ میرا دل کر رہا تھا کہ کاش اگلے دن یعنی اتوار سے ہی کلاسز شروع ہوجائیں۔ (مگر ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ میں کوئی گورنر یا صدر پاکستان تو تھا نہیں جو میرے کہنے پہ اتوار والے دن یونیورسٹی کھل جاتی)۔
اتنی بے چینی اورانتظار کی وجہ دراصل یہ تھی کہ میں یونیورسٹی لائف کے اتنے قصے سن چکا تھا کہ اب میرے لیے ایک دن بھی کاٹنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے کلاسیں بنک کرنے سے لیکر باقی سب غیر نصابی سرگرمیوں کا تجربہ بھی یہیں کرنا تھا۔ خیر آپ کو میرے بارے میں مشکوک ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو تو پتا ہی ہے کہ میں ایک اچھا بچہ ہوں۔
اگلے دن یعنی اتوار کو ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے آفس میں داخلے کے سلسلے میں سٹاف آیا ہوا تھا۔ میرے فون کرنے پر انہوں نے حسب معمول وہی جواب دیا کہ ابھی تک کلاسز کا کچھ پتہ نہیں۔ آپ کل صبح آٹھ یا نو بجے یونیورسٹی آجائیں۔ میں نے مایوسی سے فون رکھ دیا اور یونیورسٹی لائف کے خوابوں اورخیالوں میں کھو گیا۔ اچانک میرے سیل فون کی گھنٹی بجی تو میں چونک کر خواب و خیال کی دنیا سے نکل کر کال سننے لگ گیا۔

سارا دن تو خیالی پلاؤ پکاتے گزر گیا اور شام آنے والے سہانے دنوں کی آس میں۔ رات بھی اسی بے ڈھنگے طریقے سے گزر جاتی کہ رات کے ایک بجے مجھے منہ دھوتے ہوئے اپنا منہ شیشے میں دیکھنا پڑا اور مجھے اچانک یہ خیال آیا کہ میں نے اپنا حلیہ تو درست کیا ہی نہیں۔ اصل میں اس طرح کی سوچیں آنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یونیورسٹی میں لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں۔ اس سے پہلے میرا مخلوط تعلیم میں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال آتے ہی میں رات کو ایک بجے بائیک پکڑ کر بازار کی طرف بھاگا۔ اب میں خلیجی ممالک میں تو تھا نہیں کہ رات گئے دکانیں کھلی ہوں۔ یہ تو پاکستان تھا جہاں دکانیں جلد بند ہو جاتی ہیں۔
کافی خوار ہونے کے بعد بالآخر مجھے ایک باربر شاپ کھلی مل ہی گئی۔ میں آنا" فانا" اس میں گھس گیا۔ جیسے ہی میں کرسی پر بیٹھنے لگا تو دکاندار نے کل صبح آنے کو کہا۔ کیونکہ وہ دکان بند کرنے لگا تھا۔ یہ سن کر میرا تو منہ ہی لٹک گیا۔ دکان سے باہر نکل کر کوئی اور دکان ڈھونڈنے لگا اور خوش قسمتی سےمجھے اس سے پانچ چھ دکانیں چھوڑ کر ایک اور دکان کھلی مل گئی۔ میں نے فوراً بائیک سائیڈ پر لگائی اور دکان میں گھس کر کرسی پر براجمان ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ ہئیر ڈریسر مجھے کچھ کہتا، میں فوراً بول پڑا کہ یار جلدی سے میری کٹنگ اور ٹرمنگ کردو۔ کل صبح میرا یونیورسٹی میں پہلا دن ہے اور مجھے ہر حال میں اپنی کٹنگ کروانی ہے۔ یہ سن کر دکاندار مسکرا دیا اور کہا کہ چلیں کوئی بات نہیں۔ ابھی کٹنگ کروا دیتے ہیں آپ کی۔

وہ اس وقت دوسرے آدمی کے بال ڈائی کررہا تھا۔ اس نے باہر چھوٹے کو آواز دی جس کی عمر تقریباً 20،19 سال ہو گی۔ یعنی چھوٹا اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا ۔ جب وہ اندر آیا تو استاد نے اسےمیری کٹنگ کرنے کا کہا۔ لڑکے نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے استاد سے پوچھا کون سی کٹنگ کرنی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ سپائک بنا دو۔ یہ سن کر اس نے حیرت سے استاد سے پوچھا۔ " استاد جی! اے کیڑی کٹنگ اے؟‘‘ استادپانچ منٹ لگا کر اس کو سمجھاتا رہا اور میں اتنی دیر دانت پیستا رہا ۔ مجھے بار بار یہ خیال آ رہا تھاکہ اس کو تجربہ کے لیے میں ہی ملا تھا کیا؟ اگر خدانخواستہ اس نے کٹنگ خراب کردی تو میرے بال دوبارہ کس طرح لگیں گے۔ اب یہاں ’’ctrl+z” کر کے ’’Undo‘‘ والا کوئی چکرتو تھا نہیں جو ایک دو Steps پیچھے جا کر دوبارہ سے درست کیا جاسکے۔ خیر پھر اگلے 45،40 منٹ چھوٹا میری درگت بناتا رہا ۔ ۔ ۔ مطلب کٹنگ کرتا رہا اور میں دل ہی دل میں اپنی کٹنگ صحیح ہونے کی دعا کرتا رہا۔

اب کٹنگ کروانے کے ساتھ ساتھ میں اپنی کٹنگ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ وہ میرے بالوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے؟ مگر میرا چشمہ کاؤنٹر پر پڑا تھا اور میں استاد جی کے شاگرد کے شکنجے میں ایسے پھنسا تھا جیسے ایک مرغی یا بکرا ذبح ہونے سے پہلے قصائی کے ہاتھوں میں پھنسے ہوتے ہیں ۔ خیر چھوٹے نے پہلےمیری کٹنگ اور پھر ٹرمنگ کی- اب میں چھوٹے کے ہاتھوں اپنی بنی ہوئی درگت دیکھنے کو تیار تھا- میں نے عینک لگا کر کٹنگ چیک کی۔ مجھے جہاں جہاں سے کٹنگ ٹھیک کروانی تھی، کروائی اور پیسے دےکرگھر کی طرف نکل پڑا۔ گھر آ کر سونے کیلئے بستر پر لیٹنے کے بعد میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کروٹ ہی بدلتا رہا۔نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وجہ صرف یونیورسٹی جانے کی ایکسائٹمنٹ تھی جو مجھے چین سے سونے نہیں دے رہی تھی۔ الٹی سیدھی سوچوں میں سحری کا وقت ہوگیا۔

اب سونے کا وقت نہیں تھا۔ میں اٹھ کر سحری کی تیاری کرنے لگا۔ سحری کرنے کے بعد فجر کی نماز پڑھ کر میں نے کپڑے استری کرنے کا سوچا۔ یہ بھی میرے لئے ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا اور کپڑے منتخب کرتے ہوئے مجھے تقریباً آدھا گھنٹہ لگا۔ آخر کار میں پینٹ شرٹ منتخب کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا، مگر اس کشمکش میں میرا پورا کمرہ کباڑ خانے کا منظر پیش کررہا تھا۔ اس مرحلے سے فارغ ہو کر میں کمپیوٹر پہ بیٹھ گیا۔ آن لائن آنے کے بعد میں نے سب سے پہلے شہزاد بھائی کو پرسنل میسج کیا اور ان سے دعا کرنے کو کہا کہ میرا پہلا دن خیرو عافیت سے گزر جائے۔ مجھے دعاؤں کی اشد ضرورت تھی کیونکہ میں نے بہت سے لوگوں سے سن رکھا تھا کہ پہلے دن یونیورسٹی میں سینئرز کے ہاتھوں ریگنگ یا فولنگ ہوتی ہے۔ شہزاد بھائی نے مجھے نیک خواہشات دیتے ہوئے خوب دل لگا کر پڑھنے کی نصیحت کی- شہزاد بھائی کی باتوں سے دل کو کچھ اطمینان ہوا تو میں نےکمپیوٹر بند کرکے شاور لیا اور کپڑے بدل کر تقریباً سوا سات بجے گھر سے نکل پڑا۔

سات بج کر پچیس منٹ پر میں اولڈ کیمپس پہنچا۔ وہاں پر سٹوڈنٹس کا جم غفیر تھا۔اتفاقاً میرے وہاں پہنچنے کے دو منٹ بعد ہی یونیورسٹی کی بس آ گئی۔ بس کے رکنےپر پہلے نیو کیمپس کے ہاسٹلز سے آنے والے اور دیگر سٹوڈنٹس اترے۔ اور ان کے اترتے ہی بس کے انتظار میں کھڑے سٹوڈنٹس کی بس میں سوار ہونے کے لیے دھکم پیل شروع ہوگئی۔ میں بھی اس دھکم پیل میں شامل ہوکر بس میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اسی کوشش میں نہ صرف میرے کپڑوں کی حالت خراب ہو گئی بلکہ میرا چھوٹے کے ہاتھوں بنا ہوا سپائک ہئیر سٹائل کسی اور سٹائل میں بدل گیا۔ اب بس میں داخل ہوتے ہی میری نظریں خالی سیٹ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ پانچ چھ سیٹیں چھوڑ کر میری نظر ایک خالی سیٹ پر پڑی۔ میں فوراً اس سیٹ کی جانب بڑھا۔ مگر وہاں جا کر دیکھا تو سیٹ پر پڑا ہوا ایک بیگ میرا منہ چڑا رہا تھاجو کہ کسی سٹوڈنٹ نے اپنی سیٹ ریزرو کرنے کے لیے بذریعہ کھڑکی اندر سیٹ پر پھینک دیا تھا۔ خیر پھر ایک اور خالی سیٹ دیکھ کر میں اس سیٹ پر بیٹھ گیا۔

سیٹ ملتے ہی میرے لبوں پہ مسکراہٹ آگئی اور ایک عجیب قسم کی خوشی محسوس ہوئی۔ میں یوں خوش ہو رہا تھا جیسے میں نے کوئی بہت ہی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مجھے سیٹ مل تو گئی تھی مگر اب مجھے اس سیٹ پر بیٹھنے کا مسئلہ در پیش تھا۔ شاید آپ لوگ یہ جانتے ہوں کہ ماشآ ء اللہ سے میرا قدچھ فٹ اور ایک انچ ہے، تو قد لمبا ہونے کی وجہ سے مجھے اکثر اوقات سیٹ پر بیٹھتے وقت اپنی ٹانگیں ایڈجسٹ کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ سیٹ کا مرحلہ طے ہونے اور سب سٹوڈنٹس کے بس میں سوار ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد بس اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس کے لیے روانہ ہوئی۔

بس اولڈ کیمپس سے پہلے اولڈ ہیلے گئی، وہاں سے سٹوڈنٹس کو لیا اور پھر جین مندر اور مزنگ سے گزری ۔ ابھی بس کو چلے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ٹکٹ چیکر یا کارڈ چیک کرنے والا (انہیں انکل کے نام سے پکارا جاتا ہے) آ گیا اور سٹوڈنٹس کے بس کارڈ چیک کرنے لگ گیا۔ اس موقع پر میں تھوڑا سا پریشان ہوگیا۔ مگر پھر مجھے اپنی پریشانی پر ہنسی بھی آئی کہ میں یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہو کر ایسے پریشان ہو رہا ہوں جیسے پہلی جماعت کا بچہ کتاب گھر بھول آنے پر ہوتا ہے۔ مجھے ڈیپارٹمنٹ یا یونیورسٹی والوں کی طرف سےکوئی بھی کارڈ ایشو نہیں ہوا تھا۔ مگر پھر میں نے سوچا کہ خیر ہے۔ اگر اس نے آ کرکارڈ شو کرانے کا کہا اور میرے پاس کارڈ نہ ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ اب وہ مجھے بس کی کھڑکی سے اٹھا کر پھینکنے سے تو رہا نا !!! آخر لمبی ٹانگیں کب کام آئیں گی- کہیں نا کہیں پھنسا ہی لوں گا!!!!

میں نے اپنے بیگ سے اپنے موبائل کی ہینڈ فری نکال کر کانوں میں ٹھونس لی اور اپنا رخ کھڑکی کی طرف کر لیا اور یوں بے خبر ہو گیا کہ جیسے میرے اردگرد کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ اس وقت میں خود کو اس شتر مرغ کی طرح محسوس کر رہا تھا جو خطرے کے وقت ریت میں سر دے لیتا ہے۔ جب انکل میری سیٹ کے برابر بیٹھے ہوئے سٹوڈنٹ کا کارڈ چیک کر رہے تھے تو اس دوران میں نے اپنا رخ مستقل کھڑکی کی طرف ہی کئے رکھا۔ اور انکل جی کو نظر انداز کرتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے جب گردن موڑ کر دیکھا تو وہ جا چکےتھے۔ اور دوسرے سٹوڈنٹس کے کارڈ چیک کر رہے تھے۔ میری جان میں جان سی آ گئی۔ بس اب رحمان پورہ سے ہوتے ہوئے نیو مسلم ٹاؤن موڑ سے وحدت روڈ کی طرف مڑ گئی۔

بس اب وحدت روڈ سے گزرتے ہوئے پیکھے والے موڑ پر مڑ گئی تھی اور ہم پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قریب پہنچ گئے تھے۔ کچھ لمحوں بعد ہم پنجاب یونیورسٹی نیو کیپمس میں داخل ہو رہے تھے۔ گیٹ نمبر 1 سے پنجاب یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہوتے ہی میری آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ میرا یونیوسٹی میں آنا جانا رہتا تھا مگر آج میں جس جذبے اور لگن سے داخل ہو رہا تھا، یہ میرے لیے قطعاً نیا تھا اور مجھے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا ۔ میں اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت سمجھ رہا تھا۔

صبح کے آٹھ بج کر پچیس منٹ ہو چکے تھے۔ بس یونیورسٹی میں مختلف ڈیپارٹمنٹ سے گزرتے ہوئے سٹوڈنٹس کو ان کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں اتار رہی تھی۔ آخر کار دس منٹ کے بعد ICS اور IBA ڈیپارٹمنٹ آگیا اور میں بس سے نیچے اتر گیا۔ بس سے اترنے کے تقریباً دس منٹ کی واک پر میرا ڈیپارٹمنٹ ’’CEES‘‘ آگیا اور میں مین گیٹ سے داخل ہونے ہی لگا تھا کہ چوکیدار نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرا نیا داخلہ ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے کہا کہ اب آپ اس گیٹ سے داخل نہیں ہو سکتے۔ مجھے گھوم کر ڈیپارٹمنٹ کی پچھلی طرف سے اندر جانے کا رستہ بتایا گیا۔ اس سے پہلے کہ میں رخ موڑ کر اندر جاتا، اس نے مسکرا کر کہا کہ ’’ پرنسپل صاحب کا حکم ہے‘‘۔ میں نے کندھے اچکائے اور لمبا چکر کاٹنے کے بعد اپنے ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوگیا۔

اندر جا کر آفس والوں سے کلاس کا پتہ کرنا چاہا تو انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔ اور کہا گیا کہ اندر کہیں لسٹیں لگی ہوں گی۔ ہمیں خود ہی کلاس کا پتہ چل جائے گا۔ یہ سن کر میرا دل چاہا کہ میں اپنا سر پیٹ لوں۔ کس طرح کا ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے سٹاف کو اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی کلاسز کے بارے میں معلومات ہی نہیں ہیں۔ مجھے یک دم اپنے اس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے کا افسوس ہوا مگر اب داخلہ تو ہو چکا تھا۔ اب میں افسوس کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ اندر جاتے ہی میری نظر تین چار سٹوڈنٹس پر پڑی۔ میں جب ان کے پاس گیا تو میں نے انہیں پہچان لیا۔ یہ میرے کلاس فیلوز تھے۔ اینٹری ٹیسٹ اور انٹرویو دیتے وقت ان سے سلام دعا ہوئی تھی۔ ہم سب کلاس فیلوز سلام دعا اور تعارف سے فارغ ہونے کے بعد لسٹیں لگنے کا انتظار کرنے لگ گئے۔

اسی دوران میں چوکنا رہا۔ ریگنگ، فولنگ کی باتیں، مستقل میرے ذہن میں گونج رہی تھیں۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اچانک گلے میں کارڈ پہنے کچھ سٹوڈنٹس آئیں گے اور وہ اپنے پورے گروپ سمیت ہماری درگت بنائیں گے۔ میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہوا تو میرا ردعمل کیا ہوگا؟؟؟ اسی سوچ و بچار میں بیس منٹ گزر چکے تھے اور لسٹوں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ انتظار کرتے کرتے تنگ آ کر ہم سب ڈیپارٹمنٹ کا چکر لگانے نکل پڑے اور اپنے ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری میں جا کر بیٹھ گئے۔ لائبریری کے اتنے بڑے ہال میں صرف دو اے سی لگے ہوئے تھے جو سوائے شور کرنے کے اور کوئی فریضئہ انجام نہیں دے رہے تھے۔ باتیں کرتے کرتے یک دم مجھے خیال آیا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم یہاں بیٹھے رہ جائیں اور ادھر لسٹیں لگ جائیں اور کلاس شروع ہو جائے۔ یہ سوچ کر میں فوراً اٹھا اور اپنے کلاس فیلوز کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ سب میرے پیچھے چل پڑے۔ لائبریری سے نکل کر میں ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک اسٹاف ممبر پر پڑی جو کہ ہاتھوں میں لسٹیں تھامے خراماں خراماں چلا آ رہا تھا۔ ہم فوراً اس کی طرف لپکےاور اسے گھیر کر اپنی کلاس کا پوچھا۔ اس نے لسٹیں نوٹس بورڈ پر لگادیں۔ ہم نے فوراً ہی اپنے پروگرام کے نام کے آگے کمرہ نمبر دیکھا اور پھر کلاس ڈھونڈ کر اس میں داخل ہوگئے۔

کلاس میں داخل ہوتے ہی ہمارے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پورا کمرہ خالی تھا۔ میں نے سوچا کہ کیا یہ کوئی مذاق ہے یا فول بنانے کا نیا طریقہ؟ کمرہ میں نہ ہی کوئی کرسیاں تھیں اور نہ میز۔ فرنیچر نام کی کوئی بھی چیز کمرے میں نظر نہیں آرہی تھی۔ یہ دیکھ کر ہمیں بے حد مایوسی کا سامنا کرنا پٰڑا۔ ہم باہر بیٹھ کر اپنے ٹیچر کا انتظار کرنے لگ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد ہمیں اپنے استاد نظر آگئے۔ یہ وہی سر تھے جنہوں نے ہمارا انٹرویو لیا تھا۔ ہمیں ایک اور کمرے میں لے کر چلے گئے۔ اندر جا کر ہماری جان میں جان آئی کہ اتنی دیر خجل خوار ہونے کے بعد آخر کار ہمیں کمرہ مل ہی گیا۔

جب سارے سٹوڈنٹس آگئے تو ٹیچر نے بلیک بورڈ پر اپنا نام، ای میل ایڈریس اور موبائل نمبر نوٹ کروایا اور اپنا تعارف کروایا۔ میں نے جب اپنی کلاس میں موجود سٹوڈنٹس پر طائرانہ نظریں دوڑائیں تو مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہماری کلاس میں صرف پندرہ سٹوڈنٹس ہیں۔ جن میں سے ’’مستورات‘‘ کی تعداد پانچ اور لڑکوں کی تعداد دس ہے۔ (بعد میں یہ تعداد تھوڑی سی اور بڑھ گئی)۔ سر نے سب سٹوڈنٹس کو تعارف کروانے اور ساتھ میں اپنے مشاغل بھی بتانے کو کہا۔ سب کا تعارف مکمل ہونے کے بعد سر نے پوری کلاس سے سوالات کیے جو کہ ہمارے اس سبجیکٹ سے متعلقہ تھے۔ سارے سوالات کے جوابات تقریباً لڑکوں نے ہی دیئے۔ لڑکیاں شاید کچھ جھجک رہی تھیں۔ اس لیے ان کی طرف سے کوئی بھی جواب موصول نہیں ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد سر نے کلاس ختم کردی اور کہا کہ وہ ہمارا ٹائم ٹیبل ہمیں ای میل کردیں گے۔ اس کے بعد کلاس برخاست ہو گئی۔

اب ہماری واپسی کا مرحلہ آ گیا۔ میں اپنے ایک کلاس فیلو کے ساتھ فیصل آڈیٹوریم اترا اور پھر وہاں سے پوائنٹ پر بیٹھ کر اولڈ کیمپس کی طرف روانہ ہوا۔ کچھ ہی منٹ بعد پھر سے کارڈ چیکنگ کا مرحلہ آگیا۔ اور مجھے پھر سے یہ فکر لاحق ہوئی کہ صبح کے وقت تو بچت ہو گئی مگر اب کیا بنے گا؟ "خیر ہے دیکھی جائے گی"، میں نے سوچا۔ جب انکل سٹوڈنٹس کے کارڈز چیک کررہے تھے تو میں نے دیکھا کہ کچھ سٹوڈنٹس کارڈز کی بجائے اپنی جمع شدہ فیس کی رسید دکھا رہے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اور میں نے سکون کا سانس لیا۔ میں نے اپنی فیس کی رسید کو غور سے دیکھا تو اس میں بس چارجز بھی شامل تھے۔ یہ سوچ کر مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی کہ میں ایسے ہی خواہ مخواہ پریشان ہوتا رہا۔ اولڈ کیمپس آتے ہی میں بس سے اتر کر انار کلی سے ہوتے ہوئے اردو بازار کیطرف نکل پڑا۔ اور یوں میرا یونیورسٹی کا پہلا دن الحمداللہ خیریت سے گزر گیا۔
مجھے یہ دن ساری زندگی یاد رہے گا۔ امید ہے آپ لوگوں کو بھی پڑھ کر اچھا لگا ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ میری زندگی کی سب سے پہلی تحریر ہے جو میں آپ لوگوں سے شئیر کر رہا ہوں۔ میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ آپ لوگوں کو یہ تحریر پڑھتے وقت بوریت کا احساس نہ ہو اور میں اس تحریر کو ہلکے پھلکے سے انداز میں پیش کروں۔ اپنی آراء سے ضرور آگاہ کیجئے گا۔