008 - امریکا کا پہلا تاثر تحریر ام فوزان

شکاگو میں ایک علاقہ ہے ڈیوان کے نام سے- یہاں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی اور انڈین آباد ہیں، اور تیسری بڑی قوم یہودیوں کی ہے۔ یہ بڑی دلچسپ سی صورتحال ہے۔ پہلے جو کبھی ڈیوان ایوینیو ہوتا تھا اب آدھا قائداعظم اور آدھا گاندھی کے نام سے منسوب ہے-چودہ اگست کو آدھے ڈیوان ایوینیو پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اور باقی پر بھارتی ترنگا لہرا رہا ہوتا ہے-
ڈیوان پرمرد دھوتیوں میں اور عورتیں گوٹے والے کپڑوں میں بھی نظر آتی ہیں اور آپکو پاکستان سے آ کر بالکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ اس علاقے کو کیب ڈرائیوروں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والے اکثر لوگ کیب چلاتے ہیں اور کیبی کہلاتے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس پیسہ آجاتا ہے وہ یہاں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہاں کے سکولوں میں کالے اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے کجا پاکستانی۔ پھر بھی پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد وہاں رہتی ہے اور کاروبار بھی کرتی ہے۔ ڈیوان ایوینیو کے دونوں طرف پاکستانی اور بھارتی گروسری سٹورز اور ریسٹورنٹ ہیں۔ روڈ کے ایک سرے پر یہودیوں کی دکانیں بھی ہیں۔

ڈیوان جانا ایک حیران کن تجربہ تھا۔ یہاں آپ کو ہر اپارٹمنٹ کے آگے ایک ییلو کیب کھڑی ملے گی۔ یہاں رہنے والے کیب ڈرائیور ذیادہ تر رات دن میں کل کم از کم چودہ سے اٹھارہ گھنٹے کیب چلاتے ہیں۔ دن میں کچھ ٹائم سوتے ہیں اور پھر روزی رزق کی فکر میں نکل جاتے ہیں۔ جب یہ گھر آتے ہیں تو بچے سکول ہوتے ہیں۔ جب بچے گھر آتے ہیں تو انکی کام پر جانے کی تیاری ہوتی ہے۔ یہ لوگ ویک اینڈ پر بھی کام کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ گھر پر ہوتے ہیں تو گھر والوں کو بیچینی ہوتی ہے کے یہ کب دھندے پر نکلیں گے۔ یہ نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور رش آورز نکل جائیں۔
ان کیب چلانے والوں کی بیویاں سارا دن اس فکر میں رہتی ہیں کے کتنے پیسے بنے۔ اگر اس دن کا گھر اور کیب کا کرایہ نہ نکلا تو گھر کا ماحول خراب ہو گا۔ پیسہ بن گیا تو سب ٹھیک-------اسلئے وہ سارا دن سیل فون پر شوہروں سے رابطے میں رہتی ہیں اور گفتگو کا موضوع ڈالرز کی تعداد ہوتا ہے۔ بچے بھی اسی فکر میں ہو تے ہیں کے ویک اینڈ پر پاکٹ منی ملے گی یا نہیں۔ انکی ذیادہ تر خواتین زیادہ سے زیادہ بہتر بارگین کے چکر میں ہر وقت "مارشل" اور "جیسی پینی" جیسے سٹورز کے چکر لگاتی اور چیزیں تبدیل کرواتی نظر آتی ہیں۔ انکے بچے ڈیزائینر کپڑے پہنتے ہیں۔
ان کیب ڈرائیورز کے وائٹ کالر جاب کرنے والے عزیز انہیں ناپسند کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ یہ انکے گھر کیب میں آئیں اور انکے گھر کے آگے کیب کھڑی ہو۔ تحقیق پر پتا چلا کہ امریکہ میں امریکی بھی کیب کے کام کو اچھا نہیں سمجھتے۔ وجہ! شکاگو میں خاص طور پر یہ لوگ ڈاؤن ٹاؤن میں کیب چلاتے ہیں۔ رات کے ٹائم کیب چلانے والے زیادہ تر شراب خانوں اور قحبہ خانوں کے آگے اپنے گاہک ڈھونڈتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کے کیب کی پچھلی سیٹ پر جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے اس سے اللہ بچائے-
یہ لوگ جب اکٹھے ہوتے ہیں تو پہلا سوال یہ ہوتا ہے کے کیا آجO’Hareکی سواری ملی یا نہیں – وہاں کی سواری ملنے کا مطلب ہے کے یہ ہفتہ فائدے میں رہا- O’Hare شکاگو کا ائیر پورٹ ہے اور مین شہر سے ائیرپورٹ کی سواری ٹپ سمیت ساٹھ سے سو ڈالر کا روزگار ہے۔-
امریکہ آتے ہی یہ میرا یہاں رہنے والے دیسیوں کے رہن سہن کا پہلا مشاہدہ تھا۔ میں بہت دن تک کڑھتی رہی تھی کہ یہ لوگ اس کام میں سے نکلتے کیوں نہیں اور کوئی بہتر کام کیوں نہیں کرتے۔ یہ یہاں پاکستان کی کیسی نمائندگی کر رہے ہیں؟ بیشک کسی کام میں برائی نہیں مگر کچھ کام آپکا تعارف بن جاتے ہیں۔ نوائے وقت میں بہت عرصہ پہلے ایک آرٹیکل پڑھا تھا کہ سڑکوں پر روزی کمانے والے ان لوگوں کی زندگی اکثر سڑک پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ جب میں نے یہ آرٹیکل پڑھا تھا تو بہت حیران ہوئی تھی۔ مگر میری یہ حیرانی شکاگو میں رہتے ہوئے دکھ میں بدل گئی جب ایک پاکستانی کیب ڈرائیور کو اس سے پیسے چھین کر اسکے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا۔

ان کیب ڈرائیورز میں سے اکثر پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ بی اے تو زیادہ تر نے کیا ہوا ہے۔ کچھ ایم اے، کچھ پروفیشنلز اور ایک صاحب جو کہ بریگیڈیئر تھے، بھی وہاں کیب چلاتے تھے۔ یہ لوگ اپنے اس کام سے خاصے مطمئن تھے اور زیادہ ٹپ پر بہت خوشی کا اظہار کرتے تھے-۔ بظاہر اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کرنے والے لوگ ایک بار اس ننانوے کے پھیر سے نکلنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں مگر نکل نہیں پاتے کیونکہ نکلنا آسان نہیں۔
یہاں جب کوئی آتا ہے تو اعلٰی جاب اور تعلیم کے خواب لیکر آتا ہے مگر دوسرے ہی مہینے گھر سےفون آجاتا ہے کے کتنے ڈالر کمائے، ہمیں بھی بھیجو۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے افراد خانہ کی ضروریات کا دباؤ اتنا ہوتا ہے کہ کمانے کے چکر میں لوگ کچھ اور نہیں سوچ سکتے۔ ڈالر یہاں کمائے جا رہے ہوتے ہیں اور ضروریات میں اضافہ پاکستان میں ہو رہا ہوتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ خواب پیچھے رہ جاتے ہیں اور خواہشات کی چاہ آپکو ہمیشہ کیلئے گم کردہ راہوں کا مسافر بنا دیتی ہے۔ پاکستان میں کلرکی پر ناک بھوں چڑھانے والے یہاں سر جھٹک کر کہتے ہیں یہاں کون آ کر دیکھ رہا ہے کہ آپ پیسہ کیسے کما رہے ہیں- بس پیسہ ہونا چاہئے پیسہ-------