010 - میکومی کی سیر از درِ نایاب

تنزانیہ،براعظم افریقہ کا ایک خطّہ جو کہ مشرقی افریقہ کہلاتا ہے اس کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ یہ کینیا کے پڑوس میں اور بحرہند کے کنارے پر واقع ہے۔ یہ ملک اپنی زرخیزی، معدنی وسائل، جنگلات اور جنگل جانور، قدرتی مناظر، دریاؤں، پہاڑوں اور تفریحی مقامات کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔
یہ ملک زیادہ تر افریقہ کی ریفٹ ویلی، ماونٹ کیلی منجارو (افریقہ کی بلند ترین چوٹی)، جھیل وکٹوریا اور زنزیبار آئیلینڈ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
دارالسلام یہاں کا سب سے بڑا شہر اور بزنس سنٹر بھی ہے۔ بحر ہند کے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ شہر ہرے بھرے، خوبصورت سفید مٹی اور نیلے پانیوں کے ساحلوں سے مزین ہے۔ تاہم تنزانیہ کا زیادہ حصہ جنگلات پر مشتمل ہے لہذا شہر سے صرف 4 گھنٹے کی ڈرائیو پر واقعہ میکومی نیشنل پارک ہمیشہ سے ہی کوئیک ٹور کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تین ہزار دوسو تیس مربع کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے اس پارک کی جغرافیائی لوکیشن بھی کافی دلچسپ ہے۔ داراسلام سے مغرب اور جنوب کی طرف جانے والے تقریباً تمام شہروں کا راستہ اس علاقے سے ہو کر گزرتا ہے۔ بسوں سے دوسرے شہر جانے والے مسافر راستے میں ہاتھیوں، جنگلی بھینسوں، زرافوں، ہرنوں اور اگر خوش نصیب ہوئے تو شیروں سے بھی ملاقات کرتے آگے بڑھتے ہیں۔
پارک کے اندر جاتے ہی کچھ دور بندروں (جن میں زیادہ تر چمپینزی، ببون وغیرہ شامل ہیں) کے غول سڑک کے کنارے ایسے کھڑے ہوئے نظر آتے ہی جیسے کالج کی چھٹی کے بعد طلباء بسوں کا انتظار کر رہے ہوں۔ ان میں سے کچھ شرارتی کبھی گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے اور کھانے پینے کی اشیاء ڈیمانڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر پارک کے قانون کے مطابق جانوروں کو کسی بھی قسم کی کھانے پینے کی چیز دینا سختی سے ممنوع ہے اور اگر پکڑے گئے تو پارک آفیسرز ہمارا ہی کھانا پینا حرام کر دیتے ہیں۔
کچھ آگے بڑھتے ہی بہت کھلا کھلا علاقہ نظر آتا ہے جہاں پر نیچی گھاس اور دور دور درخت نظر آتے ہیں۔ یہاں زرافے، زیبرے، وائلڈ بیسٹ، وائلڈ ہاگس، جنگلی بھینسے، ہاتھی، ہائینا، اور بہت سی اقسام کے ہرن نظر آتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد مین مختلف اقسام کے جانور آزادی سے گھومتے نظر آتے ہیں مگر کہیں کوئی دھاڑ یا چنگھاڑ سنائی نہیں دیتی سب اپنے اپنے حدود کا احترام کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں ہاتھی، جنگلی بھینسوں یا زرافوں کے بیچ لائن آف کنٹرول نظر نہیں آتی۔
یہاں پر بھی پیدل اور گاڑی سوار کا قانون لاگو ہے۔ اگر کوئی جانور سڑک پار کر رہا ہے تو ازراہ اخلاق گاڑی فاصلے پر روک کر ان جانوروں کو سڑک پار کرنے کا موقع دینا ضروری ہوتا ہے مگر چونکہ وہ جانور ہیں اور یہ ان کا علاقہ ہے تو کبھی کبھی وہ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ہوجاتے ہیں جیسا کہ ہاتھی کو ہمیشہ اپنی سائز اور طاقت کا زعم ہوتا ہے۔ ایسے میں جانور سے قدرے فاصلہ رکھتے ہوئے چپ چاپ صبر کے گھونٹ پینا ضروری ہوتا ہے۔
یہ جانور تو بہ آسانی نظر آجاتے ہیں لیکن بادشاہ جنگل کے دیدار کے لئے خاصی تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔ اگر خوش نصیب ہوئے تو علی الصبح یا شام کے وقت سڑک کے کنارے ملاقات ہوجاتی ہے ورنہ ان کے گھر تک ملنے جانا پڑتا ہے۔ تاہم اگر پارک میں گائیڈ کے ساتھ گھوما جائے تو گائیڈ فیس رائیگاں نہیں جاتی کیونکہ وہ کہیں سے بھی ڈھونڈ دھانڈ کر ایک آدھ شیر دکھا ہی دیتے ہیں۔ ان شیروں کو پہلی دفعہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے کیونکہ یورپ اور امریکہ کے چڑیا گھروں کے شیر کافی کاہل، سست اور مفت خورے ہوتے ہیں۔ جبکہ جنگلوں کے یہ شیر دبلے پتلے، پھرتیلے اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے والوں میں سے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں کوئی مفت میں روزانہ تازہ گوشت کھلانے سے رہا انہیں خود ہی رزق حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے۔
آگے کچھ دائیں بائیں مڑنے کے بعد ہیپو پول نظر آتا ہے یہ اس پارک کی سب سے مشہور جگہ ہے۔ یہاں ہیپو یعنی دریائی گھوڑوں کے علاوہ مگر مچھ بھی ہوتے ہیں۔ مگر دونوں قومیں دور دور رہتی ہیں اور ایک دوسرے سے اجتناب برتتی ہیں۔ مگرمچھ ہمیشہ تاک میں ہوتا ہے کہ ہیپو یہاں وہاں ہو اور وہ اس کا بچہ ہڑپ کرجائے مگر ایسا کرنا اپنی موت کو آواز دینا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہیپو کے صرف ایک ہی وار سے مگرمچھ کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔

جانوروں کے علاوہ یہاں پر پرندے بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لگ بھگ 400 کے قریب الگ الگ اقسام کے پرندے میکومی پارک کے علاقے میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جن میں مختلف قسم کی چڑیائیں، فاختائیں، طوطے، مرغابیاں، کبوتروں، چیل اور عقاب ہیں لیکن ان میں یہاں کا سب سے مشہور پرندہ شتر مرغ ہے۔
حیرت انگیز طور پر یہاں کے کوے ہمارے کووں سے شکل میں تو ملتے ہیں مگر عقل میں بالکل الگ ہیں۔ یہاں کے کوے شرمیلے ہوتے ہیں چور اچکے اور چھینا جھپٹی بالکل نہیں جانتے۔ ان کی پرواز بھی باوقار ہوتی ہے اور کائیں کائیں میں بھی ایک سر ہوتا ہے۔ ان کا رنگ بالکل چمکیلا کالا جبکہ سینے اور گلے کا حصہ بالکل سفید ہوتا ہے اور وہ وی آئی پی بنیان کا اشتہار بنے خوشی خوشی یہاں وہاں اڑ رہے ہوتے ہیں۔

اس علاقے کی سیرحاصل سیر کرنے کے لئے سارا دن درکار ہے۔ اور جانوروں کو اپنےاصلی مقام پر آزادی سے رہتے ہوئے دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ پارک سے باہر ریسرچ سنٹر اور چھوٹا سا میوزیم بھی بنا ہوا ہے۔ جہاں سے زیادہ تر غیر ملکی سیاح اور طالبعلم فیضیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارک میں ہی قیام کے لئے کیپمنگ کی سہولت، گیسٹ ہاوسز اور لگژری ہوٹل بھی موجود ہیں۔ جنگل کے بیچوں بیچ لگژری ہوٹل کو دیکھ کر جنگل میں منگل کا خیال آتا ہے لیکن حیرت عالیشان ہوٹل کو دیکھ کر نہیں ہوتی بلکہ ایسی جھونپڑیوں اور چھوٹے چھوٹے گھروں کو دیکھ کر ہوتی ہے جن میں لوگ جانوروں کے شانہ بشانہ رہتے ہیں۔