009 - تعمیر ذات۔۔۔ پاء جی تحریر کاظمی

م نے سائیکل مانگی، ابا جی نے کریانے کی دکان ڈال دی، بیٹھک میں۔
-
پاس بٹھا کر سمجھایا کہ منافع کی شرح دس فیصد رکھ کے فروخت کرتے جاؤ، فیصدی تو نکالنی آتی ہے ناں؟ اب تم چھٹی میں ہو !
-
یہ پکڑو پرچیاں، سودے اس حساب سے آئے ہیں۔
-
ادھار صرف تنخواہ والوں کو، حساب دس تاریخ کو بے باق۔ فصلوں والوں کو ادھار بالکل نہیں، انہیں آمدنی اور خرچ کا اندازہ نہیں ہوتا، زیادہ ادھار اٹھا لیتے ہیں پھر فصل پر پیسے نہیں دیتے، نہ، عادت ہی نہیں ڈالنی۔
ابا جی نے ورکنگ آرڈرز جاری کر دیئے۔
-
اب اٹھو، اذان دو جا کر، میں باہر سے ہو کر پہنچتا ہوں۔ رومال سر پہ ڈالا اورچل دیئے۔
-
دکان کھل گئی، گاہک آنے شروع ہو گئے، چند روز میں ہم ناپ تول میں طاق، قیمتوں کا حساب کتاب بھی ازبر مگر بار بار اٹھنا پڑتا تھا، پڑھائی چھوڑ کے۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ گاہکوں سے کہا خود ہی تولیں، پیسے پکڑائیں اور جائیں۔ لوگ الجھتے تھے، بھلا دکان دار ا اپنا ترازو بھی کسی کے ہاتھ میں دیتا ہے؟ "ایہ منڈا تے جھلا اے" ﴿یہ لڑکا تو کم عقل ہے﴾
-
جب گاہک سامان تول رہا ہوتا تو ہم ہانک لگاتے "نیوندے تول چ وادھے" ﴿فالتو تولنے میں برکت﴾
"اوہ گھنا دیوی، میں صدقے" ﴿اللہ تمہیں وافر دے، میں تم پر قربان﴾ ماسی راجن کی سرگوشی ہمیشہ ہمیں معطر کر جاتی۔
-
دوسرے مہینے کے مکمل ہونے پر جب حساب کتاب ابا جی کو پیش کیا تو وہ بہت مطمئن تھے۔ ان کی مسکراہٹ سے حوصلہ پا کر ہم نے ایک تجویز پیش کر دی۔
-
ابا جی! یہ گھی، دال، چنے، چاول وغیرہ زیادہ بکتے ہیں، یہ ضائع نہیں ہوتے۔
سرسوں، مٹی کا تیل، گاچی، سوڈا، صابن اور مرچ مصالحے کم بکتے ہیں، ضائع بھی ہوتے ہیں۔
-
اگر آپ اجازت دیں تو میں تین درجے بنا دوں؟ آٹھ، دس اور بارہ فیصد منافع کے حساب سے !
-
ابا جی نے آنکھیں بند کیں، داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو ہونٹوں پر رکھا اور اپنے سوچنے کے مخصوص انداز میں گم ہو گئے، اٹھے، مسکرائے، ہاں میں سر ہلایا اور عصر کی جماعت کرانے مسجد تشریف لے گئے۔
-
دروازے سے باہر نکلتے ہوئے ان کے منہ سے نکلنے والی "الحمد للہ" ہم نے سن لی۔
-
ہمارے ایک بزرگ چاچا جی تشریف لائے اور بڑے پیار سے ہمیں سمجھایا کہ بیٹا یہ کاروبار ہے۔ دوسروں کا گھر بھرنا لازم نہیں ہے۔ منافع واجب ہے، اپنا حق پورا لینا چاہئے، اور جب تھوک والے فالتو نہیں ڈالتے تو تم فالتو کیوں دیتے ہو؟
-
ہم نے کچھ چاول ڈال کر ترازو برابر کی اور ان سے درخواست کی کہ تین انگلیوں میں جتنے چاول آسکتے ہیں وہ اس میں مزید ڈال دیں۔ ان کے ایسا کرنے سے ترازو کافی جھک گئی۔ ہم نے عرض کی چاچا جی! یہ چاول ایک روپے کے ہیں، ان سے مجھے آٹھ پیسے منافع ملے گا۔ جو چاول آپ نے فالتو ڈالے وہ تو ایک پیسے کے بھی نہیں ہیں، اگر میں اپنے آٹھ پیسوں میں سے گاہک کو ایک پیسہ ہی واپس کردوں تو وہ کتنا مطمئن ہو گا؟
-
چاچا جی خاموشی سے باہر نکل گئے، ان کی بہت بڑی دکان گاؤں کے وسط میں تھی۔
-
چند ہی ماہ بعد سائیکل آگئی، نویں نکور، سہراب کی، ڈبل ڈنڈے والی۔ گھنٹی، کیرئیر، فوم والی کاٹھی سمیت۔
-
پھر ہمیں ریڈیو کی اجازت بھی مل گئی۔ ان دنوں لائل پور جیل کے قیدیوں کے بنے ہوئے ٹرانسسٹر ریڈیو بہت مقبول تھے، ریگزین باڈی والے۔ ہم نے وہی لیا۔ چندا کے چار سیل پورا مہینہ نکالتے تھے۔ وائس آف جرمنی، بناکا گیت مالا، سہراب کی محفل اور جیدی کے مہمان، ہم اور ہمارا ریڈیو زندہ باد۔ عجب عادت ہوئی، ریڈیو چل رہا ہے ہم سکول کاکام کر رہے ہیں، کام مکمل، تفریح پوری۔
-
ابا جی سیربین پسند کرتے تھے۔
-
ہم چھٹی والے دن ریڈیو پاکستان لاہور، ملتان اور کراچی سے بچوں کے پروگرام سب بچوں کو جمع کر کے سنواتے اور ریڈیو والوں کو خط لکھتے۔ کبھی کبھار ہمارا نام آتا تو بہت خوش ہوتے اور ایک ایک کو بتاتے پھرتے۔ ریڈیو ہی کے ذریعے عملی سائنس رسالے کا معلوم ہوا، اس کو باقائدہ لگوا لیا اور یوں الیکٹرانکس کا شوق کاشت ہوا۔
-
نت نئے تجربے کرتے اور خوب داد پاتے۔ بڑے ،بچے سب محظوظ ہوتے۔ انہیں خط لکھتے اور انعامات بھی پاتے۔ مضمون نویسی وہیں سے شروع ہوئی۔ ذہنی مقابلوں کا شعور بھی اسی رسالے سے پایا۔ بعد ازاں نونہال، سائنس ڈائجسٹ اور مسٹری میگزین بھی آنے لگے۔
-
ہماری سائیکل، ریڈیو اور رسالے پبلک پراپرٹی تھے۔ گھر باہر کے سارے بچے ہمیں پاء جی کہتے تھے، آہستہ آہستہ بڑے بھی پاء جی کہنا شروع ہو گئے، جی ہاں ! چاچی چھیداں اور ماسی راجن بھی ، اور ہم بالشت بھر کے ہی جگت پاء جی ہو گئے۔
-
باجی کی شادی ہو چکی تھی، امی جان اچانک بہت بیمار پڑ گئیں۔ سکول اور دکان کے ساتھ اب گھر کا کام کاج بھی ہمارے ذمے آگیا۔ بھائی بہت چھوٹے تھے، چھوٹی آٹا گوندھ لیتی تھی، سبزی کاٹتے ہاتھ کاٹ لیتی تھی۔ روٹیاں ماسی راجن کے تنور سے لگوا لیتے، اوپر کے کاموں، برتن مانجھنے اور کپڑے دھونے میں وہ بچے بہت مددگار تھے جو ہمارے گھر قرآن پاک پڑھنے آتے تھے۔
-
چھوٹی کو ہم نے سلائی مشین لا دی۔ سنگر کی، ہاتھ والی۔ اسے بہت پسند آئی۔ اس نے بہت جلد کپڑے سینے اور کشیدہ کاری میں مہارت حاصل کرلی۔ ہم رسالوں میں سے ڈیزائن منتخب کرتے اور خوب شوق سے بناتے۔ آہستہ آہستہ سارا گھر اس نے سنبھال لیا۔ قرآن کا سبق دینا، گھر کا کام اور پھر سلائی کڑھائی۔ مگر اس کی پڑھائی چھوٹ گئی۔ امی جان کو اللہ نے پھر سے صحت یاب کر دیا اور ہم دوبارہ پڑھائی اور دکان میں مگن ہو گئے۔
-
مگراس دوران ہم کھانا پکانے میں اتنی مہارت حاصل کر چکے تھے کہ اب بھی خاص خاص موقع پر ہم سے فرمائشیں کی جاتی ہیں۔
-
"پتہ نہیں، مصالحے تو میں بھی وہی ڈالتی ہوں !" اس کا سراہنے کا انداز بھی سب سے جدا ہے۔