001 - رنگ رنگیلا تحریر دلپسند

بقول شیکسپیئر یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور انسان ایکٹر ۔ہر انسان اس دنیا میں آکے اپنے حصے کا کردار ادا کرکے چلا جاتا ہے۔بعض انسان کا کردار اتنا لاجواب ہوتا ہے کہ ۔ان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہ جاتا ہے۔
وہ بھی ایک ایسا ہی نادر روزگار انسان تھا ، وہ ہر فن مولا تھا ،اس کی بہت سی خوبیاں تھی ۔وہ ۔اداکار،ہدائیتکار،گلوکار، قلمکار،پروڈیوسر،ڈسٹری بیوٹر،مصور،باڈی بلڈر،ہیرو،کامیڈین۔وغیرہ وغیرہ تھا ۔ایک انسان میں اتنی خوبیاں۔جی ہاں وہ اتنی ہی خوبیوں کا مالک تھا۔اللہ تعالٰی نے اس کی صورت کے نقوش ایسے بنائے تھے ۔کہ وہ بنابنایا مسخرا لگتا تھا۔اس کی اداکاری دیکھ کر روتا ہوا انسان ہنس پڑتا تھا۔
۔وہ 1937ء میں افغانستان اور بلوچستان کے بارڈر پرواقع علاقے پارا چنارمیں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد گل خان مقامی مسجد کے پیش امام تھے ۔ گل خان کے تین بیٹے تھے۔ باز خان ، سید خان اور سعید خان ۔ خاندانی دشمنی کے باعث سعیدخان کے دو بھائی اور والد نشانہ بنے اس وقت اس کی عمر چودہ سال تھی۔ماں اسے لے کر پشاور آگئی اور لکڑمنڈی کی ایک سرائے میں رہائش اختیار کی۔
سعید خان کو گھر میں شیرو کے نام سے پکارا جاتا تھا۔شیرو کی ماں کو پشتو فلموں کے ڈرائیکٹر جمیل احمد کے گھر کپڑے دھونے کاکام مل گیا۔جبکہ شیرو بوٹ پالش کیا کرتا تھا اور ساری کمائی فلموں پراڑا دیتا۔ماں نے جمیل احمد کی ماں سے سفارش کی تو اسے گھر کے چھوٹے موٹے کام اور بازار سے سبزی وغیرہ لانے کا کام سونپ دیا گیا۔اب وہ سبزیوں کے پیسوں میں ڈنڈی مار کر سینما کی ٹکٹ کے پیسے بنا لیتا۔اس کی احمقانہ حرکتوں سے سارے گھر والے تنگ تھے۔ایک دن وہ بازار سبزی لینے گیا ،ٹرکوں اور بسوں کے جلے ہوئے تیل کو اپنی ٹنڈ پر یہ سوچ کر لگانا شروع کردیا کہ اس سے اس کے بال گھنے ہوجائیں گے۔
جب اس کی کھوپڑی جلنے لگی تو وہ چیخیں مارتا ہوا گھر کی طرف بھاگا۔اس کی حرکتوں سے تنگ آکر کچھ عرصے بعد جمیل احمد نے اسے گھر سے نکال دیا۔
اور وہ سیدھا لاہور والی گاڑی پر بیٹھ گیا۔لاہور میں اس کی ملاقات پشاور کے رہنے والے ایک پینٹر سے ہوئی جو فلموں کے ہولڈنگ وغیرہ بناتا تھا ۔شیرو نے اس کی شاگردی اختیار کرلی ۔اور کچھ عرصے میں ہی اچھا خاصا مصور پینٹر بن گیا۔ساتھ ہی وہ اپنا باڈی بلڈنگ کا شوق بھی پورا کر رہا تھا اس کے لیے اس نے ایک کلب جوائن کیا ہوا تھا۔فارغ وقت میں وہ فلم اسٹوڈیو کے چکر لگاتا رہتا۔
آخر کار اس کی کوششیں رنگ لائی ۔1958 میں ایم جے رانا نے اپنی فلم ”جٹی‘‘ میں اسے ہوٹل کے بیرے کا رول دے دیا۔اور اس طرح اس کے فلمی کیئریر کا آغاز ہوا ۔اس نے فلمی نام نام ”رنگیلا‘‘اختیار کیا۔اور یوں وہ سعید خان سے رنگیلا بنا اوراسی نام سے ہی وہ مشہور ہوا۔
رنگیلا کو صحیح شناخت فلم”گہرے داغ ‘‘ سے ملی ۔اسے اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہوچکا تھا ۔تبھی تو اس نے بطور ہدائیتکار ااپنی فلم ”دیا اور طوفان‘‘ کا آغاز کیا۔
اس فلم کے آغاز پر انہیں بعض حلقوں نے شدید تنقیدکا نشانہ بنایا تاہم رنگیلا نے ان کے خدشات غلط ثابت کر دیئے۔1968 میں ریلیز ہونے والی فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی ۔اس فلم میں رنگیلا نے بطور ادارکار۔گلوکار۔وغیرہ کے کام کیا ۔اس فلم کا ایک گانا جو کہ اس نے خود گایا تھا پاکستان و ہندوستان میں یکساں مقبول ہوا۔گانے کے بول تھے
۔۔۔ "گا میرے منوا گاتا جارے جانا ہے ہم کا دور"۔۔یہ گانا جب انڈیا کے لیجنڈ گلوکار مکیش نے سنا تو حیران رہ گیا کہ پاکستان میں ایسا کونسا گلوکار پیدا ہوگیا ہے جس نے اتنا اچھا گانا گایا ہے اور وہ بھی اس کی آواز سے ملتی جلتی آواز ۔ جب اس نے رنگیلا کو دیکھا تو اور حیران ہوا کہ یہ آواز اس منہ سے نکلی ہے۔
اداکار رنگیلا میں اب اتنی خود اعتمادی آ چکی تھی کہ وہ اپنے نام پر فلم کا نام رکھ سکتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جب انھوں نے 1972 میں اپنے لئے ڈبل رول والی ایک کہانی تیار کی تو اُسی خود اعتمادی سے اسکا نام ’دو رنگیلے‘ رکھا اور یہ بھی سُپر ہٹ ثابت ہوئی۔ انھی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ایک برس بعد معروف فلم ساز و ہدایتکار شباب کیرانوی نے اَُس وقت کے دو مقبول ترین کامیڈی اداکاروں کے لئے ایک فلم لکھوائی اور بڑے دھڑّلے سے فلم کا نام رکھا: رنگیلا اور منور ظریف۔

1973 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم بھی سپر ہٹ ثابت ہوئی۔
رنگیلا نے چار سال تک مسلسل نگار ایوارڈ حاصل کیا ۔حکومتِ وقت نے بہترین صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ اعزازات سے نوازا لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے مداحوں کی محبتوں کو سب سے بڑا اعزاز سمجھا۔رنگیلا نے فلموں کے عام کامیڈین سے ہیرو شپ تک کا سفر انتھک محنت اور خداداد صلاحیتوں کے بل پر طے کیا۔پردہ سکرین پر رنگیلا اور منورظریف کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی۔
نو نگار ایوارڈز حاصل کرنے والے رنگیلا اور منور ظریف کی جوڑی نے کئی سپر ہٹ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور کسی بھی فلم کی کامیابی میں رنگیلا کا کردار انتہائی اہم رہتا ۔ رنگیلا کی خاص بات یہ تھی کہ جہاں انہوں نے اردو زبان کی244 فلموں میں کام کیا، وہیں وہ پنجابی، پشتو، ہندکو اور سندھی زبانوں کی کئی فلموں میں نظر آئے۔
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں جب لاہور کی پنجابی فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی تو مصنف حزیں قادری نے رنگیلا کے لیے مخصوص طرح کے مزاحیہ رول لکھنے شروع کیے جن میں کبھی وہ ہانگ کانگ کے نلکوں کا پانی پیتے تو کبھی گھوڑے کے انداز میں گھاس کھانے کا مظاہرہ کرتے۔
پروڈیوسر و اداکار کمال کی فلم انسان اور گدھا اور خورشید قادری کی فلم عورت راج میں ان کے کردار بہت مقبول ہوئے۔
منور ظریف کے بعد رنگیلا نے اداکار ننھا کے ساتھ جوڑی بنائی جو بہت کامیاب رہی۔
رنگیلا نے اپنی فلم ”پردہ نہ اٹھاؤ‘‘ میں بیک وقت دادا،باپ اور پوتا کا رول ادا کرکے فلمی حلقوں کو چونکا کر رکھ دیا۔
رنگیلا نے اپنے 48 سالہ فلمی کیئریر میں 650 سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔
ان کی بطور ہدائتکار اور ہیرو ۔فلمیں مندرجہ ذیل ہیں۔دیا اور طوفان۔رنگیلا۔دورنگیلے۔پرد و نہ اٹھاؤ۔پردے میں رہنے دو،میری زندگی ہے نغمہ۔حسینہ مان جائے گی۔کبڑا عاشق۔رنگیلا اور منور ظریف۔مرزا مجنوں،رانجھا۔عورت راج۔منجھی کیتھے ڈھانواں۔انسان اور گدھا۔انسان اور آدمی۔دل اور دنیا۔وغیرہ وغیرہ۔
رنگیلا کی متفرق فلموں میں سے چند کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔جٹی۔بگڑی سنبھال جٹا۔ہتھ جوڑی۔باغی۔مولاجٹ۔ناجو۔عشق نچاوے گلی گلی۔دلابھٹی۔ٹھاہ۔ہیر رانجھا۔خوبصورت شیطان۔مس کولبو۔دوستی۔جگری یار۔میلہ۔بھریا میلہ۔ماں پتر۔عجب خان۔وغیرہ وغیرہ۔
رنگیلا کے گائے چند مشہور نغمے مندرجہ ذیل ہیں۔
*گامیرے منوا گاتا جارے
*بتا آئے دنیا والے یہ کیسی تیری بستی ہے
*یہاں قدر کیا دل کی ہوگی
*کیا ملا ظالم تجھے کیوں دل کے ٹکڑے کردیئے
*میں تے مارا گا دولتی سنسار نوں
* ٹٹ گئے اج میرے دل دے تانگ
*تیرا کسی پہ آئے دل
*میں تے گانواں
*ہم نے جو دیکھے خواب سہانے
*سن میرے پپو
*ہم نے تم سے پیار کیا ہے
1973 میں رنگیلا کی ذاتی فلم ’’کبڑا عاشق ‘‘ ریلیز ہوئی تو رنگیلے کا سنہرا امیج ایک دھماکے سے چکنا چور ہوگیا۔ اس فلم کی تکمیل پر رنگیلا نے تن من دھن قربان کردیا تھا اور اسکے خیال میں یہ عالمی سطح کا ایک شاہکار تھا لیکن حقیقت اسکے بالکل بر عکس نکلی تاہم یہ امر قابلِ غور ہےکہ شہرت و ناموری کے بلند مینار سے گرنے کے بعد رنگیلے نے وحید مُراد کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا سفر نئے سرے سے شروع کر دیا۔
فلم ”کبڑا عاشق‘‘نے رنگیلا کو صحیح معنوں میں معاشی کبڑا بنا دیا ۔اس کے بعد رنگیلا معاشی طور پر سنبھل نہ سکے۔ اپنے دور کا مشہور ہیرو پر ایسا وقت بھی آیا کہ دال روٹی کی خاطر لاہور ،کراچی کے تھیٹروں میں معمولی رول ادا کرنے پڑے۔
ہیرو، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور رائیٹر کے اعلیٰ مناصب سے وہ یک دم ایک ایکسٹرا کی سطح پر آن گرا تھا لیکن قسمت نے جو مذاق اس کے ساتھ کیا تھا رنگیلے نے بھی اسے ہنسی میں اُڑا دیا اور فلموں میں چھوٹے موٹے رول قبول کرنے شروع کر دیئے اور یوں برسوں کی مشقت جھیل کر وہ ایک بار پھر فلم بینوں کے لئے قابلِ قبول بن گیا۔
ان کی آخری فلم ”خوبصورت شیطان تھی “ جبکہ ان کی ایک فلم ”منڈے توبہ توبہ “ تاحال ریلیز نہیں ہو سکی ہے جس میں انہوں نے ایک پٹھان کا کردار نبھایا ہے ، اگر یہ فلم ریلیز ہوتی ہے تو ان کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو جائے گی ۔
رنگیلا نے تین شادیاں کیں اور ان کی 8 بیٹیاں اور 6 بیٹے ہیں۔رنگیلا گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور24 مئی 2005ء کو 68 برس کی عمر میں لاہور میں اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے کوچ کر گئے۔
ختم شد