002 - میری ذات ذرّہ بے نشان تبصرہ مون

میری ذات ذرہ بے نشاں عمیرہ احمد کا ناول کتابی شکل میں دسمبر 1999 میں پبلش ہوا۔ یقینا” ایک مشہور ناول بھی ہوگا۔ جبھی اس کو ڈرامائی تشکیل دی گئ۔ ابھی تک آن ائیر جارہا ہے۔
لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر ایسا ہی اچھا تو تو اب دس سال بعد کیوں۔۔۔۔ خیر آجکل ٹی وی چینلز زیادہ ہو جانے کی وجہ سے ہر ایک رائٹر کی مانگ بڑھ گئ ہے۔ اُن کی بھی جن کو لکھنا نہیں آتا۔ عمیرہ کو تو خیر ویسے بھی لفظوں کی آبرو رکھنا آتی ہے بلکہ ان کو دل میں بھی اُتارنا آتا ہے۔

اس ڈرامے کا ٹائٹل سونگ راحت فتح علی خان جیسے منجھے ہوئے گلوکار کی مدھر پُرسوز آواز میں ہے۔
کہانی سے مطابقت رکھتے موتیوں سے لفظ، بہترین موسیقی اور دلکش آواز ایک دل موہ لینے والے گانے کی صورت میں ڈھل کر روح کے اندر اُتر کر اُداس کر جاتا ہے۔

اس ڈرامے کی نمایاں کاسٹ میں فیصل قُریشی ( عارفین ) عمران عباس ( حیدر ) ثروت گیلانی ( سارہ ) ثمینہ پیرزادہ ( تائی جی ) خیام سرحدی ( تایا جی ) سمعیہ ممتار ( صبا ) عدنان صدیقی ( کزن، عادل ) شامل ہیں۔
پروڈکشن ہمایوں سعید کی ہے۔
کہانی کا آغاز اور ڈرامے کا آغاز ایک ہی جیسا ہے مگر ان دونوں میں تھوڑی سی چینجنگ شاید ڈرامے کو ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے کی گئ ہے۔ یا پھر شاید کہانی میں زیادہ تفصیلات میں جانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئ تو اور یہ سب ڈرامے کے لیے ضروری تھا۔
جیسے فرنچ لُک لیے عارفین کا بیٹا حیدر، ( عمران عباس میں فرنچ یا ولایتی لُک والی کوئی بات نہیں ہے ) اور فرنچ بیوی بھی نہیں ہے شاید۔
فیکٹری میں سُپر وائزر کے طور پر کام کرتی سارہ، صبا سے محبت کرنے والا عادل، تائی امی کا چار حج کر کے ہمہ وقت تسبیح گھماتے رہتے ہوئے بھی ادھر اُدھر ٹوہ لے کر باتیں پھیلانا۔
حیدر کا بچپن میں صبا سے ملنا اور انسپائر ہونا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمایوں سعید کا ایکسٹرا کردار جو کہ کہانی میں نہیں تھا۔ لیکن ڈرامے میں بس ٹھیک ہی ہے۔
عمران عباس کا اپنی ہمسائی سے فرینڈ شپ جیسا چکر۔۔۔۔

سپیشلی خیام سرحدی اور ثمینہ پیرزادہ نے اپنا کردار بہت ہی اچھے سے نبھایا ہے۔
کہیں کہیں فیصل قریشی ایکٹنگ میں جلدی کا شکار دکھائی دیے یعنی جلدی جلدی کام بھگتانے کے چکروں میں دکھائی دیے کئ جگہ پر وہ کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق اپنے تاثرات دینے میں ناکام رہے اور اور عدنان صدیقی ایک مستقل تھکاوٹ کا شکار۔ جس کی وجہ سے ان کے کریکٹر نے کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑا۔

ثروت گیلانی کی ایکٹنگ بھی اچھی تھی۔ مگر کہیں کہیں وہ بھی اُوور ہوتی دکھائی دیں۔ اور ڈریسنگ بالوں کے اسٹائل سے کافی ماڈ سی لگیں۔ اپر کلاس کا ایک حصہ ، عمران عباس شاید اپنی لُکس سے ہر جگہ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ مگر ان کی ایکٹنگ اور ڈرامے میں کریکٹر کو ٹھیک ہی کہا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ سچویشن کے حساب سے بیک گراؤنڈ میں راحت صاحب کا گانا اچھا تاثر چھوڑ رہا ہے۔

ناولز کو پڑھنے والوں کا دائرہ اتنا وسیع نہیں جتنا زیادہ ٹی وی کے ناظرین ہیں۔ اس کہانی پر ڈرامہ بننے کا ایک یہ فائدہ ضرور ہے کہ ناضرین تک کہانی کا مین تھیم ضرور پہنچے گا۔
یعنی خُدا کے کلام کی عزت ہر کسی پر فرض ہے۔ اس کو مشعل راہ بنا کر اپنی زندگی سنوارنی چاہیے۔ کسی کی سچائی یا جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے گواہ بنانے کی بجائے اپنی زندگی کو اور سوچوں کو اس کے تابع کر لینا چاہیے۔ ورنہ انسان ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہتا ہے۔

جن لوگوں نے کہانی پڑھ رکھی ہے ان کے ذہن میں یقینا” ایک امیج بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے ڈرامہ زیادہ اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہا۔ لیکن جن کے لیے کہانی نئ ہے ان کو یقینا” پسند آئے گی۔