003 - حمد باری تعالٰی از فریدوں

حمد باری تعالیٰ

بعید از فہم ذات اُس کی ، ورائے عقل کام اُس کا
انوکھی ہر صفت اُس کی ، نرالا ہر نظام اُس کا

وہی اول ، وہی آخر ، وہی ظاہر ، وہی باطن
کھلے کیونکر بشر کی عقل پر رازِ دوام اُس کا

نہ جانے کس کو وہ کس کے سبب سے رزق دیتا ہے
عجب ترتیب ہے اُس کی ، عجب ہے انتظام اُس کا

خدا کی نعمتوں سے نیک و بد سب فیض پاتے ہیں
ہے رحمت کتنی بے پایاں ، کرم کتنا ہے عام اُس کا

میں سر تا پا خطا ، اور وہ سراپا بخشش و رحمت
”خطا کوشی روش میری ، خطا پوشی ہے کام اُس کا“

عقیدت بن کے سارا جسم سجدہ ریز ہوتا ہے
مری نوکِ زباں پر جب بھی آ جاتا ہے نام اُس کا

یہ دنیا اُس کی صناعی کا اِک پُرکیف مظہر ہے
عیاں ہے ایک ایک ذرّے سے حُسنِ انتظام اُس کا

جہاں دِلبستگی کے سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں
وہاں تسکین کا سامان بن جاتا ہے نام اُس کا

عناد و کبر مانع ہو تو ہو ، لیکن حقیقت ہے
وہ اُس کا ہو ہی جاتا ہے جو سنتا ہے کلام اُس کا

قلم قاصر ، زباں عاجز ، صفات اُس کی ہیں لامحدود
بیاں کیونکر فریدِ کم سخن سے ہو مقام اُس کا