004 - نعت رسول مقبول ﷺ از فریدوں

گنبدِ خضرا کے سامنے

خم ہو سر نیاز یہ کعبہ کے سامنے
اور موت آئے والیٔ بطحا کے سامنے

کمتر ہے خلق شاہِ مدینہ کے سامنے
جیسے حباب موجۂ دریا کے سامنے

آقا نے رب سے مانگنا ہم کو سکھا دیا
پھیلائیں ہاتھ کس لئے دنیا کے سامنے

دنیا میں یوں تو لاکھوں مناظر حسین ہیں
بے کیف سب ہیں گلشنِ طیبہ کے سامنے

فائق ہیں اپنے اپنے خصائص میں انبیاء
عاجز ہیں پر شفاعتِ عظمیٰ کے سامنے

کونین کا نظام بدل جائے بالیقیں
سیرت نبی کی آئے جو دنیا کے سامنے

شادیٔ مرگ اِس کا نہ ہو جائے اُس گھڑی
پہنچے گا جب غلام یہ آقا کے سامنے

کیا رعب و دبدبہ ہے کہ شاہانِ وقت کی
نظریں جھکی ہیں آپ کے روضہ کے سامنے

قسمت نے یاوری کی ہماری تو ایک دن
لکھیں گے نعت گنبدِ خضراء کے سامنے

حسنِ ازل کا جلوہ رخِ مصطفٰی میں ہے
ہر حسن ماند ہے رخِ زیبا کے سامنے

ادنیٰ غلامِ سرورِ کونین ہوں فرید
نسبت یہ کام آئے گی مولیٰ کے سامنے