008 - تبصرہ از پردیسی

ماہنامہ ون اُردو شمارہ دوئم

پہلے شمارے کی بہ نسبت دوسرا شمارہ جلد منظرِعام پر آیا اور اتفاق سے سالگرہ نمبر بھی تھا۔ لیکن یہ میگزین کی نہیں ون اُردو کی سالگرہ تھی۔ اسی حساب سے میگزین کا سرِ ورق اور سالگرہ مبارک کا صفحہ بہت خوبصورت تھا۔ مدیرہ اعلٰی میم سیّد کا پیغام پڑھنے کو ملا۔
حمد اور نعت کے ساتھ ساتھ آیتِ مبارکہ اور حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میگزین شروع ہوا۔
درِنایاب، سمارا، وش اور ناعمہ نے پہلے شمارہ کے متعلق تبصرے لکھے اور مختلف سیکشنز پر اپنے قیمتی خیالات کا کُھل کر اظہار کیا۔
اسلامی صفحے پر بابِ لد کے متعلق سمارا کی معلومات سے بھر پور تحریر پڑھنے کو ملی۔ انہوں نے بہت اچھے انداز میں بابِ لد کے متعلق بیاں کیا۔
نیسمہ کی سنہری کرنیں دل کو چھو لینے والا انتخاب تھا۔ ادبی سیکشن میں مضمون منگلہ ڈیم جو کہ دلپسند نے تحریر کیا پڑھا اور پڑھ کر حیرانگی ھوئی کہ انہوں نے کہاں سے اتنی معلومات اکٹھی کیں کیونکہ چھوٹی سے چھو ٹی بات بھی انہوں نے شیئر کی اور منگلا ڈیم کی پوری تاریخ بیاں کی۔ اتنے مکمل فیکٹ اینڈ فیگرز دیے کہ پڑھنے کا مزہ آ گیا۔ جرار بھائی کی تحریر عشق لا حاصل پر تبصرہ کرنا، گویا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ھے۔ احسان کا تحریر کردہ افسانہ انکے شروع کئے ہوئے تھریڈز سے بالکل مختلف تھا اور کسی مولوی، استاد یا بیچاری لڑکیوں کے ذکر کے بغیر تھا۔
ادبی سیکشن میں وش کا تحریر کردہ ناول "وقت کی پکار" کی پہلی قسط پیش کی گئی۔ اس پر تبصرہ تو پورا ناول پڑھنے کے بعد ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
سفرنامہ "ہم کہ ٹھہرے اجنبی" غالب خستہ نے تحریر کیا۔ اب پتہ نہیں غالب اس سفر نامے کے بعد خستہ ہوا یا پہلے سے ہی خستہ تھا۔ بہرحال انہوں نے اس سفرنامے میں مصری معاشرے اور لوگوں کے رہن سہن کی بھر پور عکاسی کی۔ تاریخی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا اچھے پیرائے میں ذکر کیا۔ اور سفرنامہ پڑھتے ہوئے ایسا لگا کہ ہم بھی غالب کے ساتھ ساتھ مصر گھوم رہے ہیں۔
سائنس کی دنیا سیکشن کے پہلے ہی مضمون پر نظر پڑتے ہی حیرانگی ہوئی۔ مضمون ہے کیلکولیٹر میں ویب سائٹ کھولیں۔ پڑھ کر حیران سے زیادہ پریشان ہو گئے کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ چونکہ ہمارے ملک کی سائنسی ترقی کا ہم پر بھی اثر ہے اس لیے یہ سیکشن سرسری سے پڑھتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
سمارا کا مضمون " کہ ہم سوتے کیوں ہیں" پڑھ کر ہنسی آئی ظاہری بات ہے کہ اس لیے سوتے ہیں کہ نیند آتی ہے۔ اور جو وہ کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے نا۔ لیکن سمارا نے بہت ہی اچھا لکھا اور تصویروں کی سلیکشن تو لاجواب تھی۔ آگے آنے والے کچھ مضامین کے دائیں بائیں سے گزرتے ہوئے اپنے پسندیدہ سیکشن شاعری سیکشن میں پہنچے۔
وادعی" آتش کی نظم سیکشن کا آغاز ہوا۔ احسان سحر اور ماریہ کلام کی نظمیں بھی خوب تھیں۔ پھر غزلیں پڑھتے پڑھتے آگے بڑھے اور اس ماہ کی شاعرہ ریحانہ قمر کا عمدہ کلام پڑھنے کو ملا۔ نوید کی مزاحیہ شاعری نے قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا تو رہی سہی کسر عتیق الرحمٰن نے پوری کر دی۔ اس سیکشن میں بیت بازی کے صفحے کی کمی محسوس ہوئی جو شاید آئندہ شمارے میں پوری ہو جائے۔
انٹرنیٹ / اسپورٹس سیکشن۔
چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے متعلق دلپسند نے کافی تفصیل سے لکھا۔ جہاں اس کرشماتی ہیرو کے متعلق کافی باتوں کا پتہ تھا، وہیں کافی نئی باتوں کا بھی پتہ چلا۔ اس عظیم ہیرو کے عروج و زوال کا اچھے انداز میں احاطہ کیا۔ وحید مراد لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
کیونکہ ہماری دلچسپی زیادہ تر ہاکی اور کرکٹ میں راجر فیڈرر کو دُور سے سلام کرتے ہوئے چلے گئے اور جاکر خواتین سیکشن میں رکے۔ چونکہ کھانا پکانے اور قدرتی حسن کے مالک ہونے کی وجہ سے بیوٹی ٹپس سے دور کا واسطہ ہے اس لیے یہ سیکشن خواتین کے لیے چھوڑتے ہوئے وہاں سے بھی چل پڑے۔ لیکن جاتے جاتے وش کی گروسری ٹپس کو ضرور پڑھا بلکہ بہت ہی غور سے پڑھا۔
رائزنگ مون نے لوشن کے استعمال کے بارے میں کافی معلومات دیں۔
بچوں کے سیکشن میں ڈھونڈو تو جانیں نیچے دئیے ہوئے حل کی مدد سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے حل کیا۔
آگے چلتے ہوئے ون اردو سالگرہ سیکشن میں یازغل، ابو طلحہ، درِ نایاب، مینا اور کائنات کے ون اردو پر اپنی یاد داشتوں پر مبنی مضامین کافی دلچسپ رہے۔ سب نے اپنے اپنے تجربوں کا اچھے طریقے سے بیان کیا۔
اسپیشل مشنز والے سیکشن میں مشن اپ لوڈنگ اور مشن کمپوزنگ پر بھی سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے اگلے صفحے پر پہنچ گئے کیونکہ ہم ان میں سے کسی کے بھی ممبر نہیں ہیں۔ لیکن مشن اپ لوڈنگ اور مشن کمپوزنگ کے فیگرز دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کچھ ساتھیوں نے کافی محنت کی ہے۔
ون اردو سالگرہ کا کیک جو کہ یازغل نے لکھا اور "کوئی ہے ٹیم بھائی جیسا" امان کا تحریر کردہ دلچسپ واقعہ کافی دلچسپ تھا۔ بسنت ایونٹ جرار بھائی کی رنگا رنگ تحریر تھی۔ انہوں نے ممبرز کو لے کر پتنگ بازی کے متعلق کافی اچھے انداز میں لکھا اور پڑھنے سے لگتا تھا کہ سب سچ مچ پتنگ بازی کر رہے ہیں۔
آمنہ احمد کا لکھا ہوا افسانہ میاں بیوی کے نازک گھریلو تعلقات پر زور آزمائی اچھی زور آزمائی تھی۔ آپس کی بات ہے یہ کہانی کچھ کچھ اپنی سی لگ رہی ہے۔ اور انہوں نے اس افسانے کا اینڈ بہت اچھا کیا۔ میگزین کی آخری نظم نوید ظفر کے قلم سے کمال کی نظم ون اُردو کے متعلق سب کچھ لکھ دیا۔

جو آنا چاہے سو آئے یہاں ٹکٹیں نہیں لگتیں
جو بھائے سو اٹھا لے جائے یہاں توپیں نہیں چلتیں

نہیں ہے نیٹ پر تجھ سا کوئی گوشہ اے ون اُردو
لگانے کو چلے آتے ہیں سب پھیرا اے ون اُردو

اللہ حافظ ۔