001 - انسانیت کی عظمت: تحریر سلمان سلو

علامہ جلال الدین سیوطی {رحمتہ اللہ علیہ} نے کنزل العمال کی روایت سے نقل فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر چند اہم اور ضروری باتوں کے متعلق سوالات کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثناء کے بعد جوابات ارشاد فرمائے۔ ان سوالات و جوابات کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔۔

سائل: اے اللہ کے نبی{صلی اللہ علیہ وسلم}میری خواہش ہے کہ بڑا عالم بن جاؤں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو اللہ سے ڈرتا رہے پس بڑا عالم بن جائے گا۔ یعنی اللہ کا خوف اور اُس کے حُکموں پر عمل، علم و حکمت کے خزانے خود ہی فراہم کر دیں گے۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ دولت مند بن جاؤں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو قناعت اختیار کر مالدار ہوجائیگا۔

سائل: میں سب سے عادل شخص بننا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اگر تو سب کے لئے بھی وہی پسند کرے گا جو اپنے لیے پسند کرتا ہے تو سب سے زیادہ منصف اور عادل شخص بن جائے گا۔

سائل: میں اللہ کے دربار میں مقرّب بننا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو ذِکر الٰہی میں مشغول ہو تو تیری خواہش پوری ہو جائے گی۔

سائل: میں محسنوں اور نیکو کاروں میں سے ہونا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اللہ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس طرح کر جیسے وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ میرا ایمان مُکمّل ہو جائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اپنا اخلاق درست کرلے تو تیرا ایمان مُکمّل ہوجائے گا۔

سائل: میں اطاعت گزاروں میں سے بننا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اپنے فرائض ادا کرنا مُطیع افراد میں تیرا شمار ہوگا۔

سائل: میں اللہ کے سامنے اس حال میں حاضر ہوں کہ تمام گناہوں سے پاک ہوں۔
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو جنابت سے غسل کیا کر، اس کی برکت سے روز جزا گناہوں سے پاک اٹھے گا۔

سائل: میری خواہش ہے کہ حشر میں نور کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو کسی پر ظلم نہ کر قیامت کے دن نور میں اٹھے گا۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ پر رحم کرے۔
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو اپنی جان پر اور خلق خدا پر رحم کر، اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ میرے گناہ کم ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو استغفار کثرت سے کیا کر، تیرے گناہ کم ہو جائیں گے۔

سائل: میں بزرگ بننا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: مصیبت میں لوگوں سے اللہ کی شکایت نہ کر، بزرگ ہوجائے گا۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ میرے رزق میں وسعت ہو۔
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو ہمیشہ با طہارت رہ، تیرے رزق میں برکت ہوگی۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دوست بن جاؤں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: جو چیزیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہیں ان کو پسند کر اور جن سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نفرت ہے نفرت کر۔

سائل: میں اللہ کے غضب سے بچنا چاہتا ہوں۔
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: کسی پر بے جا غصہ نہ کر اللہ کے غضب سے محفوط رہے گا۔

سائل: میں اللہ کے دربار میں مستجاب الدعوات بننا چاہتا ہوں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو حرام چیزوں اور حرام باتوں سے بچ۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ کو قیامت میں سب کے سامنے رسوا نہ کرے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر اللہ تجھ کو رسوا نہ کرے گا۔

سائل: میں چاہتا ہوں کہ اللہ میرے عیب چھپائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: تو اپنے بھائیوں کے عیب چھپا، اللہ تیرے عیبوں کی پردہ پوشی کرے گا۔

سائل: میری غلطیاں کیسے معاف ہوں گی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: خوف خدا سے رونے، خدا سے عاجزی کرنے سے۔

سائل: کونسی نیکی افضل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: اچھے اخلاق، انکساری، مصیبتوں پر صبر اور اللہ کے فیصلوں پر خوشی کا اظہار۔

سائل: اللہ کے نزدیک سب سے بڑی بڑائی کیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: پوشیدہ طور سے صدقہ دینا اور قرابت داروں کا حق ادا کرنا اور ان سے سلوک و احسان سے پیش آنا۔

سائل: جہنم کی آگ کو کونسی چیز بجھائے گی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: نماز اور روزہ۔

عزیز ساتھیو، انسانیت کی عظمت کا بیان جیسا کہ مندرجہ بالا سوالات و جوابات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے تو آخر میں میری اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ کیونکہ ان باتوں پر عمل کرنے سے ہی ہم اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار سکتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال رحمتہ اللہ نے کیا خوب کہا ہے۔۔

عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے