001 - واقعہ ایک مرد مومن کا: تحریر نازحسین

"واقعہ ایک مردِ مومن کا"
پیارے بچوں کیا کبھی آپ نے صلیبی جنگوں کے بارے میں پڑھا ہے نہیں تو مختصرا میں آپ کو ان کے بارے میں بتاتی ہوں کیونکہ ابھی آپ کو صلیبی جنگوں کے بارے میں نہیں بلکہ ایک مردِ مومن و آہن کی ہمت و شجاعت کا واقعہ بتانا چاہ رہی ہوں یہ ہمت و شجاعت اس مردِ مومن کو ایمان کی سچائی اور دینِ حق کی دین تھی

سلطان صلاح الدین ایوبی نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں انھوں نے تیسری صلیبی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں 91 سال کے بعد بیتِ المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہوگی۔
تیسری صلیبی جنگ کے دوران کا ایک واقعہ ہے کہ
"قاصد کے چہرے پر تذبذب تھا۔ وہ اپنے بادشاہ رچرڈ کی طرف ایک ایسا پیغام لے کر آیا تھا، جس کے بارے میں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ مسلمانوں کا بادشاہ اس کا مثبت جواب نہیں دے گا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے بادشاہ رچرڈ کا پیغام پڑھا اور قاصد پر اک نگاہ ڈالی جس سے اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے قاصد کی ذہنی حالت بھانپ لی تھی اور مسکراتے ہوئے نرم لہجے میں جواب دیا:
”بادشاہ ر چرڈ سے کہہ دیجیے کہ ہمیں ان کی درخواست منظور ہے۔ ہم اپنے فوجی کمانڈروں کو ابھی حکم بھجوا دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ سات روز تک مکمل جنگ بندی کے عارضی معاہدے پر خود شاہ رچرڈ اور ان کی افواج بھی پوری طرح عمل کریں گے۔ صلیبی افواج کی طرف سے کوئی چھیڑ خانی ہوئی تو پھر ہم یہ درخواست رد کر دیں گے۔“
سلطان صلاح الدین ایوبی نے قاصد کے سراپا کا بھر پور جائزہ لیتے ہوئے کہا:
”ہماری طرف سے بادشاہ کو مبارک بھی دیناکہ وہ ایک اہم فریضے سے سبکدوش ہو رہے ہیں“۔
قاصد کافی مطمئن ہو چکا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مسلمانوں کا سلطان اتنا فیاض بھی ہوگا۔ دل ہی دل میں وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ ایسی درخواست سلطان کی طرف سے بادشاہ رچرڈ کی خدمت میں پیش کی جاتی تو وہ یقینا اسے حقارت سے ٹھکرادیتا بلکہ اس کا مذاق اڑاتا۔
شاہ رچرڈ اپنی بیٹی ماریہ کی شادی کرنا چاہتا تھا۔شادی کے جشن کے لیے اس نے عین اس وقت جب صلیبی جنگ اپنے زوروں پر تھی، سات روز کے لیے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ شاہ رچرڈ کے علاقے میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے ہونے لگیں، تھکے ماندے سپاہیوں کو بھی سستانے کا موقع مل گیا۔ عیسائی کیمپ میں فوجی شب و روز شراب پینے او ررقص و سرور کی محفلیں برپا کرنے لگے۔ ادھر سلطان صلاح الدین ایوبی کے کیمپ میں مجاہدین آرام کرتے اور اپنے خدا کی عبادت میں مصروف دکھائی دیتے۔
بادشاہ رچرڈ کو نئی بات سوجھی، وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔
شاہ رچرڈ کا قاصد ایک دفعہ پھر سلطان کے دربار میں کھڑا تھا اور شاہ کا دعوت نامہ سلطان کی طرف بڑھایا۔ اسے مکمل یقین تھا کہ سلطان دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔
سلطان نے دعوت نامہ پڑھا،ایک نظر درباریوں پر ڈالی، قاصد کو دیکھا اور کہنے لگے۔
”میں شاہ رچرڈ کا شکر گزار ہوں کہ انہوںنے مجھے اپنی خوشیوں میں شرکت کے لیے یاد رکھا۔ شاہ رچرڈ کو میرا پیغام دینا کہ میں شادی کی تقریب میں ضرور شرکت کروں گا۔“
قاصد یہ جواب لے کر سلطان کے خیمے سے باہر نکلا وہ مسکرا رہا تھا، اس کا دل کہہ رہا تھا کہ سلطان نے اگر چہ شادی میں شرکت کی حامی بھر لی ہے لیکن وہ وعدہ ایفا نہیں کرسکیں گے۔بھلا کون شخص ایسا ہوتا ہے جو دشمنوں کی کچھار میں جانے پر آمادہ ہو؟ وہ عین وقت پر کوئی عذر پیش کر دیں گے۔
شاہ رچرڈ کی بیٹی ماریہ کی شادی کا دن آگیا۔ بڑی دھوم دھام سے عیسائی طریقے کے مطابق شہزادی کی شادی ہوئی۔ رات کو شادی کی خوشی میں جشن کی تقریب منعقد ہونے والی تھی اور اس میں سلطان کو شرکت کے لیے دعوت بھیجی گئی تھی۔
شام سے پہلے ہی صلیبی کیمپ کا گوشہ گوشہ قندیلوں اور روشنیوں سے جگمگانے لگا۔ سپاہی شراب پی رہے تھے۔ ناچ اور گارہے تھے۔ ماریہ اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔ شاہ رچرڈ بار بار سامعین سے کہہ رہا تھا کہ سلطان نہیں آئے گا۔ اس میں ہمارے کیمپ کا رخ کرنے کی جرات کہاں؟
دوسری طرف سلطان نے اپنے کیمپ میں بڑے اطمینان اور خضوع وخشوع سے عشاءکی نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ خیمے سے باہر نکلے، جہاں ایک خادم ان کا خاص گھوڑا لیے موجود تھا۔ سلطان گھوڑے پر سوار ہوئے۔ دو گھڑ سوار پیچھے چلے آرہے تھے، جو شادی کے تحائف اٹھائے ہوئے تھے۔
”اب رات ہوگئی شاہ معظم!“ ایک درباری نے شاہ رچرڈ کو مخاطب کر کے کہا ”مسلمانوں کا سلطان نہیں آئے گا اب........“
عین اسی لمحے دربان نے اعلان کیا: ”مسلمانوں کے سلطان صلاح الدین ایوبی تشریف لارہے ہیں....! حیرت اور استعجاب سے شاہ رچرڈ اور اس کے درباریوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ شاہ رچرڈ اپنی حیرت اور بوکھلاہٹ پرقابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے باہر کی طرف لپکا۔ تھوڑی دیر بعد سلطان اپنے دو خدمت گاروں کے ساتھ خیمے میں داخل ہوئے۔ خادموں نے تحائف اٹھا رکھے تھے۔ یہ تحائف سلطان نے نئی دلہن ماریہ کے لیے پیش کیے۔ اس کے فوراً بعد دونوں خادم خیمے سے باہر چلے گئے۔
شاہ رچرڈ کا وہ خیمہ جو اس تقریب کے لیے بہت سجایا سنوارا گیا تھاجس سے شاہ رچرڈ کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا تھا۔ سلطان نے اسے ایک نظر دیکھا اورپھر اس میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہی۔ عیسائی سردار، جرنیل حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہے تھے، جس کے خلاف وہ لڑ رہے تھے اور وہ کمال بے نیازی سے اکیلا ان کے درمیان بیٹھا تھا۔ اسے کسی قسم کے خوف اور خطرے کا احساس تک نہ تھا۔ سلطان کی یہ بے نیازی، مردانہ وقار شاہ کو کھٹکنے لگا۔ اس نے سلطان سے کہا: ‘”آپ کے جنگ سے دستبردارہونے کا وقت آگیاہے“۔
”مگرکیوں؟“ سلطان نے کمالِ سادگی سے پوچھا۔
وہ اس لیے کہ یروشیلم پر عیسائیوں کا حق ہے۔ یہ ہمارا مقدس مقام ہے۔ سارے عیسائی سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ وہ کبھی بھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ آپ بلاوجہ مسلمان سپاہیوں کی موت کا باعث بنیں گے۔“
سلطان کا چہرہ بے تاثر تھا، وہ کسی بات کاکوئی اثر نہیں لے رہے تھے۔ انہوں نے وقار سے جواب دیا: ”شاہ رچرڈ یہ بحث بے وقت اور بے کار ہے۔ یہ خوشی کا موقع ہے، فلسطین کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو گا۔ چند روز میں یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ کون جیتتا ہے کون ہارتاہے“۔
سلطان کے اس منہ توڑ جواب نے شاہ رچررڈ کو یہ موضوع بدل دینے پر مجبور کر دیا۔ اب شاہ رچرڈ نے خفیہ ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بعض ماہر سپاہیوں کو خاص جنگی کرتب دکھانے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس کے اشارے پر وہ سپاہی آگئے۔ واقعی ان کے کرتب متاثر کرنے والے تھے۔ انہوں نے اپنی بہادری اور شجاعت کے ایسے ایسے نمونے پیش کیے کہ تمام درباری عش عش کراٹھے۔
سلطان تلواروں کا یہ ماہرانہ کھیل غور سے دیکھ رہے تھے جیسے ان مظاہروں میں ان کی دلچسپی تو ہے مگر وہ ان سے زیادہ اثر نہیں لے رہے۔
مظاہرے ختم ہوئے توشاہ رچرڈنے بڑے تکبر سے کہا: سلطان آپ نے دیکھا میرے پاس کیسے کیسے ماہر اور بہادر سپاہی ہیں؟ کیاآپ کے سپاہی ان کا مقابلہ کر سکیں گے؟ اس لیے میں کہتا ہوں کہ آپ جنگ ختم کر کے واپس چلے جائیں۔
سلطان اپنی جگہ سے اٹھے، اپنی ہلالی تلوار نیام سے نکالی اور اس کی آب و تاب سے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں۔ سلطان کے چہرے پر بلا کا وقار تھا۔ انہوں نے آہستہ سے کہا:”میں صرف ایک چیز دکھاتا ہوں پھر آپ جواب دیجیے گا کہ کیا آپ کا ایک بھی سپاہی تلوار کے ایسے ماہرانہ استعمال کی صلاحیت رکھتاہے؟....
یہ کہ کر سلطان بڑے وقار سے چلتے ہوئے دلہن شہزادی ماریہ کے پاس پہنچے اورنرم لہجے میںکہا: ”شہزادی کیا میں آپ کا یہ باریک نرم ریشمی دوپٹہ لے سکتا ہوں؟“
”ہاں سلطان معظم آپ لے سکتے ہیں“۔
ماریہ نے کاپنتے ہاتھوں سے اپنا قیمتی سفید رنگ کا بہت ملائم، باریک، ریشمی دوپٹہ اتار کر سلطان کو دے دیا۔
سلطان نے شکریہ اداکرتے ہوئے دوپٹہ لیا۔ شاہ رچرڈ اور دربار میں موجود تمام جرنیلوں کو وقار بھرے انداز میں دیکھا اور وہ نازک دوپٹہ ہوا میں اچھال دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ دوپٹہ زمین پر آتا سلطان نے لپک کر اس پر اپنی تلوار سے وار کیا اور وہ دو ٹکرے ہوگیا۔
سلطان نے اپنی تلوار نیام میں ڈالتے ہوئے کہا: ”کیا شاہ رچرڈ آپ خود آپ یا آپ کی فوج میں کوئی ماہر تیغ زن ہے جس کی تلوار ایسے نرم اور مہین دوپٹے کو کاٹ سکے۔ کوئی ہے تو اسے کہےے کہ وہ سامنے آئے اور ثبوت دے۔
پورے دربار میں سناٹاچھا گیا............۔
کوئی ایسا نہ تھا جس کی تلوار کی دھار اتنی تیز ہو اور کوئی ایسانہ تھا جو سلطان صلاح الدین ایوبی جیسی مہارت رکھتاہو۔
سلطان متانت اور وقار سے کھڑے رہے پھرجب کوئی نہ آیا تو انہوں نے جانے کی اجازت چاہی اور بڑے اعتماد کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے اکیلے ہی خیمے سے باہر نکل گئے"
پیارے بچوں یہ تو بس ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جو ایک سچے مسلمان کی ہمت و شجاعت اور بہادری کی واضح مثال ہے ہماری تاریخِ اسلام ایسے ایسے بہادروں سے بھری ہوئی ہے جنھوں نے صرف ایک اللہ سے ڈرنے کے علاوہ کبھی کسی سے خوف نہیں کھایا اور اللہ رب العزت پر کامل یقین کو پوری دنیا میں ثابت کرکے دکھایا تو آؤ آج ہم بھی عہد کرتے ہیں کہ جھوٹے خداؤں کے بجائے صرف ایک اللہ پر مکمل یقین رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی راہوں کو متعین کرینگے اور دینِ اسلام کو اپنا شعار بنائیں گے(آمین)۔ 1095ء سے 1291ء تک ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس (مسلمانوں کا قبلہِ اول) پر عیسائی قبضہ بحال کرنے کے لیے یورپ کے عیسائیوں نے کئی جنگیں لڑیں جنہیں تاریخ میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگیں فلسطین اور شام کی حدود میں صلیب کے نام پر لڑی گئیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا اور اس دوران نو بڑی جنگیں لڑی گئیں جس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے۔ فلسطین اور بیت المقدس کا شہر حضرت عمر کے زمانہ میں ہی فتح ہوچکا تھا۔ یہ سرزمین مسلمانوں کے قبضہ میں رہی اور عیسائیوں نے زمانہ دراز تک اس قبضہ کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ گیارھویں صدی کے آخر میں سلجوقیوں کے زوال کے بعد دفعتاً ان کے دلوں میں بیت المقدس کی فتح کا خیال پیدا ہوا۔ ان جنگوں میں تنگ نظری ،تعصب ، بدعہدی ، بداخلاقی اور سفاکی کا جو مظاہرہ اہل یورپ نے کیا وہ ان کی پیشانی پر شرمناک داغ ہے۔