006 - موسم گرما میں جلد کی حفاظت:ناز حسین

موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں سب سے زیادہ متاثر ہمارے چہرے کی جلد ہوتی ہے۔ براہِ راست سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے نہ صرف چہرے کا رنگ خراب ہوتا ہے، بلکہ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے مختلف جِلدی امراض بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ دھوپ کے علاوہ گرمیوں کی دوپہر کی گرم ہوا جِسے ’لُو‘ بھی کہا جاتا ہے، ہمارے چہرے کی جِلد کو بُری طرح جُھلسا دیتی ہے۔ ہماری جلد کی تین تہیں ہوتی ہیں جب دھوپ کی شعاعیں انسانی جلد میں داخل ہوتی ہیں تو یہ جلد کی پہلی تہہ میں موجود آزاد مگر حفاظتی ریڈیکلز کے ساتھ مل کر کلوجن اور ایلسٹن میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو جلد کے لیے سانس لینے کے راستوں کو بند کر دیتے ہیں اور یوں ہمارے چہرے کی جلد جھریوں، داغ دھبوں، خشکی اور تِلوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ دھوپ کی وجہ سے ہمارے جسم کا پانی کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح چہرے کی جلد کا پانی بھی تیز دھوپ میں اُڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے جِلد پانی کی کمی کا شکار ہو کر ڈھلک جاتی ہے اور اپنی عمر سے زیادہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور یہ عمل جُھریوں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پرانے وقتوں میں گرم ہوا اور دھوپ سے بچنے کے لیے لوگ ململ کے سفید کپڑے کو پانی میں بھگو کر اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے تاکہ جِلد براہِ راست دھوپ کی شعاعوں سے کم متاثر ہو، اور ہلکے رنگوں، خصوصاً سفید رنگ کے لباس کو ترجیح دیتے۔ کیونکہ سفید رنگ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو منعکس کر دیتا ہے جبکہ گہرا یا کالا رنگ ان شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور گرمی کی حدّت کو بڑھاتا ہے۔ اسکے علاوہ لسی، ستو اور ایسے ہی ٹھنڈے مشروبات اور رس دار پھلوں کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دھوپ کی تمازت کو ختم کرنے کے لیے اندرونی نظامِ تحفظ کو مضبوط رکھا جا سکے۔ زمانۂ جدید میں دھوپ کی شعاعوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اینٹی آکسیڈینٹ کو اپنے کھانے اور متاثرہ جِلد پر لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آکسیڈینٹ کے علاوہ وٹامن اے اور موئسچرائزر کو بھی جلد کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موئسچرائزر میں پائے جانے والے عناصر ’ہیومنکٹنٹ اور لیپیڈز‘ ہماری جلد میں پانی کو روکنے اور کلوجن کو بنانے کے لیے اہم عنصر ہیں۔ بہترین موئسچرائزر میں کریم اور سیلی کانز دونوں موجود ہوتے ہیں۔ جو پانی کو جلد میں لاک کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف برانڈ کے سن اسکرین لوشن، سن بلاکس میں ’Sun protection Factor‘ یعنی SPF کی مختلف رینجز کے ساتھ فروخت کیا جارہا ہے۔ یہ فارمولاز ٹھنڈے ملکوں کی گرمیوں میں وہاں کے باشندوں کے لیے بہترین ہوتی ہیں مگر گرم اور مرطوب علاقوں، جہاں سورج کی حدّت تیز ہوتی ہے، ان کے استعمال سے خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ پسینے سے جلد پر لگی کریم یا موئسچرائزر بہہ جاتا ہے۔ کچھ افراد پراڈکٹ کے خلاف اور کچھ پیسے کے ضیاع کے حوالے سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کچھ افراد کی جلد ان پراڈکٹ کے استعمال کی وجہ سے ایکنی، خشکی اور چہرے کے رنگ خراب ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ابھی تک ایشیائی ممالک کے کسی صنعت کار، سائنس دان، بیوٹیشن، ماہرِ جلد نے اس طرف توجہ نہیں دی اور کوئی قابلِ قدر پراڈکٹ ان خطوں کے عوام کے لیے سامنے نہیں آسکی۔
گرمیوں میں چہرے کی جلد کی شادابی برقرار رکھنے کے لیے کچھ زیادہ مشقت نہیں کرنا پڑتی، کچھ عادات کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا کر ہم اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ زمانۂ قدیم سے مشرق(برِصغیر) میں دھوپ کی تمازت، الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچنے کے لیے گھریلو نسخوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چند آزمودہ نسخے زیر نظرِ سطور دیے جا رہے ہیں۔ ان گھریلو نسخوں کے استعمال سے ہم اپنی چہرے کی جِلد اور جسم کے ایسے حصے جو سورج کی براہِ راست شعاعوں کا شکار ہو تے ہیں۔ انہیں دھوپ کے منفی اثرات سے بچا سکتے ہیں۔
ہمیں روزانہ اوسطاً 10 سے 12 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ پانی پینے کی مقدار کے حوالے سے پوری دنیا میں عموماً ایک کلیہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں انسان کو اوسطاً اپنے وزن سے آدھے پاﺅنڈ کے نمبرکے برابر، اونس کی مقدار میں پانی پینا چاہیے۔
جتنی بار ممکن ہوسکے چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں یا چھینٹے لگائیں۔ چھینٹے لگانے سے چہرے کے مساموں میں رُکے مردہ خلیے دُھل جاتے ہیں اور جلد کی دوسری تہہ سے تازہ خلیے چہرے کے اوپر کی سطح پر آ کر چہرے کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس عمل سے چہرے کا رنگ بھی متاثر ہونے سے بچ جاتا ہے۔
دھوپ میں نکلنے سے قبل اور بوقتِ ضرورت عرقِ گلاب کو چہرے پر چھڑک لیں۔ یہ قدرتی آکسیڈینٹ کا کام کرتا ہے اور چہرے کا پانی ختم ہونے سے بچاتا ہے۔ خواتین بیگ میں اور مرد حضرات اپنے دفتر کی میز میں عرقِ گلاب شاور رکھ سکتے ہیں۔ یہ اب بہ آسانی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ عرقِ گلاب کو قدرتی سن بلاک بھی کہا جاتا ہے۔
گرمیوں میں کھیرے، تربوز، خربوزہ اور ایسے تمام پھل جو قدرتی پانی رکھتے ہیں ان کا استعمال بڑھا دیں۔ یہ بھی قدرتی آکسیڈینٹ کا کام کرتے ہیں، ان میں پائے جانے والے قدرتی عناصر چہرے کی جلد کو تر و تازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پھلوں کے جوس پینے سے زیادہ، کھانے کا فائدہ زیادہ ہے۔ سبز پتوں کی کچی سبزیاں، سلاد کی آئیٹمز کو کھانے کے معمول میں شامل کریں۔
کیِنو، سنگترہ، مالٹا، لیموں، چکوترہ، خربوزہ ان سب کے یا ان میں سے کسی ایک کے چھلکے خشک کر کے پیس لیں اور گرمیوں میں چہرہ دھونے کے لیے استعمال کریں۔ یہ چھلکے زیادہ سفوف کی حالت تک نہیں پِسے جا سکتے اس لیے یہ اسکرب کے طور پر جلد کی ایکسفولیشن کرنے میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اسکن برن کی صورت میں چہرے کے مردہ خلیوں کو صاف کر کے چہرے کا رنگ بھی نکھار دیتے ہیں۔(آپ اسکن کے اعتبار سے ہلدی بھی اسکرب میں شامل کر کے اسے قدرتی اُبٹن کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔)
اسکن برن (دھوپ کی تمازت سے جھلی چہرے کی جلد) کو ختم کرنے کے لیے اپنا معمو ل بنائیں کہ دھوپ میں سفر کرنے کے بعد گھر آ کر ٹھنڈے پانی سے منہ صاف کریں اور برف سے چہرے کا مساج کریں۔ اس کے لیے برف کی ٹکڑیاں یا اس کو باریک کوٹ کر ململ کے کپڑے میں باندھ کر چہرے پر ملیں۔ یہ عمل جتنی بار ممکن ہو دہرائیں۔ دھوپ کی تمازت سے خراب رنگ اپنی اصلی حالت میں واپس آجائے گا۔
پپیتا بھی دھوپ سے جلی اسکن یا رنگت نکھارنے کے کام آتا ہے، اسکے بیج خشک کرکے کھانے، یا پھل کھانے سے رنگت صاف، تروتازہ اور جلد چمک دار ہوتی ہے۔
ٹماٹر کے قتلے یا ٹماٹر کا جوس چہرے پر ملنے سے اسکن برن کے اثرات مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں بلکہ باقاعدگی سے استعمال کرنے سے جلد کی رنگت بھی نکھرتی ہے۔ جس طرح سردیوں میں گاجر کا جوس ہماری جلد کی شادابی اور نکھار کے لیے اہم ہوتا ہے ایسے ہی گرمیوں میں ٹماٹر کا جوس فائدہ مند ہوتا ہے۔ ٹماٹر کا جوس بنانے کے لیے ٹماٹر، لیموں اور کرش برف کو بلینڈ کر لیں، اس میں حسبِ ذائقہ چینی، کالی مرچ اور نمک ڈالا جا سکتا ہے۔ (گردے کے مریض یا دیگر مریض اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔)
اپنی خوراک میں وٹامن اے بی سی ڈی اور ای کو ضرور شامل کریں تاکہ چہرے کی جلد کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ خصوصی طور پر وٹامن اے ہماری جلد کو جھریوں اور بڑھاپے کے اثرات سے بچاتی ہے۔
گرمیوں میں باقاعدگی سے سوئمنگ کو ترک کر دینا چاہیے۔ کیونکہ روز دھوپ کی تمازت کی وجہ سے جلد کی ڈی۔ ہائیڈریشن ہو رہی ہوتی ہے اور ایسے میں پانی کے تالاب میں زیادہ وقت گذارنے سے جلد بہت زیادہ خشکی کا شکار ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ گرمیوں میں سوئمنگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ان کوچاہیے کہ وہ سوئمنگ پول میں اترنے سے قبل موئسچرائزر (جس میں آکسیڈینٹس زیادہ ہو) کی موٹی تہہ سے اپنی جلد کو چھُپا لیں۔
دھوپ میں نکلتے وقت چہرے کو ٹوپی، چھتری یا کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ اس سے چہرہ براہِ راست سورج کی شعاعوں کا شکار نہیں ہوگا۔ کوشش کریں کہ گرمیوں میں، دھوپ سے بچنے کے لیے ہلکے رنگوں کے کپڑوں کا انتخاب کریں۔ ہو سکے تو اپنی جلد کے لحاظ سے موئسچرائزر یا سن بلاک کا استعمال کریں، یا قدرتی سن بلاک عرقِ گلاب کا استعمال اپنا معمول بنا لیں۔
اب آخر میں چلتے چلتے کچھ مختصر ٹپس جن سی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ ہوتا ہے آپ کے پیشِ خدمت ہیں۔
سب سے پہلے بال جو ہماری خوبصورتی و دلکشی کا ایک اہم حصہ ہے، کے بارے میں بتاتی ہوں کہ آگر آپ کے بال گرتے ہیں تو بہت ہی آسان سا عمل کرکے ان کو گرنے سے بچائیں۔
سرسوں کا تیل نیم گرم کر لیں اب اس میں ادرک پیس کر اس کا پانی نکال کر نیم گرم تیل میں ڈالیں ایک منٹ تک گرم کرنے کے بعد ٹھنڈا کر کے بالوں کی جڑوں میں مالش کریں۔
چند بار ہی ایسا کرنے سے آپ کو خود فرق محسوس ہوجائے گا۔
طبی ماہرین کے مطابق بادام کا تیل صحت کیلئے بہترین ہے۔ چہرے پر بادام کے تیل کی مالش سے چہرہ ترو تازہ اور شاداب رہتا ہے۔ یہ طریقہ ماضی میں بہت مقبول تھا۔ شاہی گھرانے کی خواتین اسے معمول میں شامل رکھتی ھیں۔ اب اسے’’میجک آف ایسٹ‘‘ کے نام سے مغربی ممالک میں خاصی پذیرائی حاصل ہے۔ یہ طریقہ نہایت آسان ہے ۔ اس لیے اسے اتنا سراہا گیا۔ سب سے پہلے آپ اپنے چہرے کو دودھ میں بھیگے کاٹن سے صاف کیجئے، صفائی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ رگڑنہ زیادہ ہلکی ہو اور نہ بہت زیادہ تیز۔ بس درمیانی دباؤ رکھیں۔ اب نیم گرم روعن بادام میں عرق گلاب چند قطرے شامل کر کے چہرے پر مساج کے انداز میں ہلکے ہلکے مالش کریں اور یہ عمل پانچ منٹ تک جاری رکھیں۔ اس طرح چہرے کی ورزش بھی ہو جائیگی اور چہرے پر نظر آنے والی جھریاں بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہیں۔
دانت سفید نہ ہوں تو چہرہ برا لگتا ہے دوسرے یہ کہ دانتوں کی گندگی ہماری خوراک کے ساتھ معدے میں جا کر خرابی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دانتوں کی صفائی کرنے کیلئے مسواک پر بہت زور دیا ہے۔ دانت صاف ہوں گے تو صحت بھی اچھی ہو گی پہلے زمانے میں اتنے ٹوتھ پیسٹ نہیں ملتے تھے جتنے کہ آج کے دور میں دستیاب ہیں اس کے باوجود بے شمار دانتوں کی تکالیف بچوں اور بڑوں میں شدت کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔
دانت چمکدار بنانے کیلئے ایک چائے کا چمچ کھانے کا میٹھا سوڈا ایک چمچ پسا ہوا نمک اور پسا ہوا سہاگہ لے کر شیشی میں رکھ لیں۔ روزانہ اس سے دانت صاف کریں دانت چمک دائیں گے اور اگر نمک صرف سرسوں کے تیل میں ملا کر دانت پر ملا جائے تو دانت کی پیلاہٹ دور ہو جائے گی اور آپ کے دانت خوبصورت اور چمک دار ہو جائیں گے۔
چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں اور پیروں پر بھی توجہ دیں۔ ہاتھوں اور پیروں کی رنگت کالی ہو تو بہت بری لگتی ہے ایسے میں یہ کریں کہ ایمونیا کو ہائیڈروجن میں ملا کربرش کی مدد سے ہاتھوں اور پیروں پر لگائیں امونیا کی مقدار ہائیڈروجن سے کم ہونی چاہیے۔ ہاتھوں کی اسکن چونکہ نازک ہوتی ہے تو اس لیے شاید تھوڑی بہت جلن کا احساس ہو، مگر اگر زیادہ جلن ہو تو ہاتھوں پر مت لگائیں ایک اہم چیز اور ہاتھوں پر صرف پانچ منٹ تک ہی لگائیں اور پھر دھو لیں جبکہ پیروں پر کوئی بیس سے تیس منٹ تک لگارہنے دیں۔ پھر پیروں کو بھی دھو لیں۔ ہاتھ کے ہاتھ فرق نظر آجائے گا۔