002 - نور بانو پر تبصرہ تحریر : مون

نور بانو پر تبصرہ

سیما غزل کا تحریر کیا ہوا فہیم برنی کی ڈائریکشن میں مُصطفی قُریشی، ثمینہ احمد، عمران عباس اور ماہ نور جیسے اداکاروں سے سجے ہوئے ڈرامے نور بانو کی ابھی تک تیرہ اقساط آن ائیر ہو چکی ہیں۔
ڈرامے کی کہانی کا خلاصہ کُچھ یوں ہے کہ آغا جی ( مُصطفٰی قُریشی ) ایک بہت ہٹ دھرم اور اور ضدی قسم کے انسان ہیں۔ جن کے مُنہ سے نکلا ہوا ہر حُکم پورا ہونا چاہیے۔ اسی ضد میں وہ اپنی بیٹی سارہ کو پسند کی شادی کرنے پر عاق کر چُکے ہیں۔
بیٹے ( عمران عباس ) کی شادی یتیم بھتیجی نور بانو سے زبردستی کر دی جبکہ بیٹا تو صاف انکار کر رہا تھا اور بھتیجی بھی صرف اس لیے مان گئی کہ وہ سر پر ہاتھ رکھنے والے چچا کو انکار نہیں کر سکتی تھی۔ یعنی احسان کا بدلہ چُکانا چاہتی تھی۔

بیٹے کے انکار کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ یہ ہی تکرار سے بیان کی گئی ڈرامے میں کہ نور بانو عمر میں بڑی تھیں۔ اور اس میں صاحبزادے کی مرضی نہیں تھی۔ آغا جی نے اپنے لفظوں کو پورا کرنے کے لیے یہ زبردستی شادی کی۔
عمران عباس نے شادی تو کر لی لیکن دُلہن کا گھونگھٹ اُٹھا کر اُسے گھر چھوڑ کر جانے کی خبر مُنہ دکھائی میں دی۔

امریکہ جا کر وہاں دوسری شادی کر لی محبت کے نام پر۔
دوسری بیوی کے لاکھ کہنے پر بھی نور بانو کو طلاق صرف اس لیے نہیں دینا چاہتا کیونکہ ان کے خاندان میں اس کا رواج نہیں۔ اور بیوی کو اس کا حق بھی نہیں دینا چاہتا کیونکہ وہ عمر میں بڑی ہے اور زوری شادی کروائی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی اتنی چاہت اور احترام ہے کہ اس کے ہر بات اور کام میں مشورے کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ رات کے دوسرے یا تیسرے پہر اُٹھ کر جائیداد کے تنازعے پر مشورے کیے جاتے ہیں۔

ابھی تک کی اقساط کے حساب سے دوسری بیوی کے ہاں اک بیٹی ہو چُکی ہے اور وہ واپس جانا چاہتی ہے شوہر کے ساتھ۔ مگر ضد میں آکر وہاں سے اکیلی ہی چلی آئی ہے۔ اور پیچھے سے "خاندانی وارث" کے لیے پہلی بیوی کا خیال آہی گیا عمران عباس کو۔ کیونکہ ثمینہ احمد کو خاندان کا وارث خاندانی لڑکی سے ہی چاہے ہے تاکہ دونوں طرف سے اپنا ہی خون اکٹھا ہو۔ جس پر نور بانو شدید احساس توہین کا شکار ہو گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں لیکن گھر والے سمجھ رہے ہیں کہ وہ مر چُکی ہیں۔
ایسی سچویشن والے ہزاروں ڈرامے دیکھ دیکھ کر اُوب چُکے ناظرین ابھی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نور بانو کی واپسی ہو گی ضرور اور شاید کسی بیٹے کے ساتھ ہی ہو۔ اگر ایسا نہیں ہو سکا تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ کہانی پچھلی کہانیوں سے کُچھ مختلف ہے۔

ڈرامہ ابتدا میں ناظرین میں کافی مقبول ہوا مگر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی جارہی ہے روایتی ہوتی جارہی ہے۔ یعنی صاف لفظوں میں اپنا اثر کھوتی جارہی ہے۔
سیما غزل جیسی منجھی ہوئی رائٹر کے قلم سے برصغیر میں بنے ہوئے بے بنیاد غلط اور کُچھ حد تک ہندوانہ رسوم و رواج کا پرچار بہت تکلیف دہ لگ رہا ہے۔

جیسے اس کہانی میں چند ایک ڈائیلاگز کو تسلسل سے دُہرایا گیا ہے۔ جن سے بہت غلط مثال بھی قائم ہوتی ہے اور کسی کو تکلیف بھی۔ مثال کے طور پر " ہمارے خاندان میں طلاق نہیں ہوتی ہے چاہے لڑکی ساری عمر ایسے ہی بیٹھی رہے" یعنی عورت کی اپنی کوئی مرضی،زندگی اور سوچ نہیں ہے۔ اس کے کوئی جذبات بھی نہیں ہیں اس کو خوشی اور چاہت کی ضرورت نہیں ہے۔

"عورت ماں بن کر ہی پوری ہوتی ہے، عورت بچے بنا ادھوری ہی رہتی ہے" یعنی اگر عورت ماں نہیں بن سکتی تو ادھوری ہے اور اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ وہ عورتیں جو قدرتی طور پر اس نعمت سے محروم ہیں تو ان کی زندگی کا کوئی مصرف نہیں ہے کیا؟

پھر دوسری بہو کو آغا جی اور نور بانو کی موت کا ذمہ دار قرار دینا۔ یعنی اللہ کی طرف سے موت لکھی گئی تھی اس کو جھٹلا کر انسانوں کو ذمہ دار قرار دینا۔ یعنی خُدا کی خُدائی میں شراکت دار ٹھہرا رہے ہیں۔۔۔ کہ اس کی وجہ سے مر گئے۔ استغفراللہ۔
اس پر آغا جی کا بچوں کو یہ سکھانا کہ اللہ تو معاف کر دیتا ہے مگر بار بار کی غلطی پر معافی نہیں ملا کرتی چاہے وہ انسان ہو یا خُدا۔ تو یہ بات بھی بہت غلط کہی گئی ہے اس ڈرامہ میں۔

اس کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ اللہ تو بہت مہربان ہے وہ انسان کو کسی بھی وقت کسی بھی بات پر معاف کر سکتا ہے۔ یہ اُس پر منحصر ہے لیکن انسان کو کبھی ایسا اختیار ملے کہ وہ کسی کی غلطی معاف کر سکے تو وہ فوراً فرعونیت کے مقام پر جا پہنچتا ہے اور ہر حد سے گُزر جاتا ہے۔

پھر ماں باپ اپنے مُنہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو فیصلہ کا رُوپ دے کر زبردستی ہی سہی پورا کروائیں اور شدید انا پرستی کا مظاہرہ کریں اور پھر یہ اُمید بھی رکھیں کہ اللہ سب بہتر کرے گا۔ اور اولاد کے احتجاج پر یہ کہنا کہ ماں باپ ہی بہتر کر سکتے ہیں اور ان کی بغاوت پر ان کو بالکل بھی معافی نہیں دینا۔

اُوور آل یہ ڈرامہ ابھی تک انتہائی عجیب سا تاثر پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یعنی ایک ضدی اور ہڈ دھرم فیملی جو اپنی انا کی خاطر دوسروں کو عزت نفس کو کُچلنے اور ممتا کو مارنے سے بھی گُریز نہیں کرتا۔
یہ دیکھنے والوں کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ اس ڈرامہ سے کیا سیکھیں گے۔ ضدی پن یا میانہ روی؟؟؟