003 - "بگ بی" تحریر: دلپسندسیال

"بگ بی"

بالی وڈ میں بگ بی کے نام سے مشہور ہونے والے اداکار امیتابھ بچن کو کون نہیں جانتا ۔تقریباً چالیس سال سے فلمی دنیا سے وابستہ ہیں۔
امیتابھ بچن کو فلمی دنیا میں شہرت حاصل کرنے سے پہلے صرف فلموں میں کام حاصل کرنے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑی۔

امیتابھ بچن 11اکتوبر1942ءمیں اتر پردیشن کے شہر الٰہ آباد میں پیدا پوئے ۔باپ کا نام ہری ونش رائے بچن جبکہ ماں کا نام تیجی بچن ہے۔ ہری ونش رائے بچن ہندی کے بہت مشہور شاعر تھے۔ اور اس کے تعلقات کانگریس کے اعلٰی عہدیداروں کے ساتھ تھے۔ جبکہ اندراگاندھی کے ساتھ فیملی تعلقات تھے۔
امیتابھ بچن نے اعلٰی اسکولوں اور نینی تال جیسے پہاڑی پرفضا مقام پر واقع مہنگے ترین شروڈ کالج میں تعلیم حاصل کی۔ شروڈ کالج میں صرف امیروں کے بچے ہی پڑھتے تھے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد کولکتہ کی ایک شیپنگ کمپنی میں بطور ایگزیکٹو کے نوکری کرلی۔ کمپنی کی طرف سے پرکشش تنخواہ کے علاوہ رہائش کے لیے گھر اور ایک فلیٹ، کار دی گئی تھی۔
امیتابھ کے چھوٹے بھائی اجیتا بچن (بنٹی)کو یقین تھا کہ امیتابھ بچن میں اداکاری کی بہت صلاحیت ہے اور یہ کہ اگر وہ کوشش کرے تو بہت بڑا اداکار بن سکتا ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی کے اصرار پر ہی امیتابھ نے کمپنی سے چھٹی لی اور بمبئی کا رخ کیا۔ اس وقت امیتابھ کی عمر 27سال تھی۔
اسی زمانے میں بمبئی میں ایک انگریزی میگزین فلم فیئر اور ایک ہندی میگزین مادھوری کے زیراہتمام با صلاحیت اداکاروں کے انتخاب کےسلسلے میں ایک مقابلہ ہورہا تھا۔ امیتابھ کے چھوٹے بھائی اجیتا بچن نے اس مقابلے کے لیے امیتابھ کی تصویر بھیج دی۔ تصویر کو مسترد کردیاگیا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ امیتابھ کو مسترد کیا گیا مگر وہ اپنی دھن میں لگے رہے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب اداکارہ نرگس کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن جیت کر پارلیمنٹ کی رکن بن چکی تھی۔ مگر اس سے پہلے وہ سنیل دت سے شادی کرکے نرگس دت بن چکی تھی۔
نرگس کو وزیراعظم اندرا گاندھی نے فون کیا کہ فلم میں کام کرنے کے شوقین ایک نوجوان کو فلم میں کام دلوا سکتی ہیں۔ تو نرگس نے جواب دیا کہ اس نوجوان کو میرے پاس بھیج دیں۔ اور وہ نوجوان امیتابھ بچن تھا۔
مگر کوشش کے باوجود امیتابھ کو فلموں میں کام نہ ملا اور وہ واپس کولکتہ لوٹ گیا۔ کچھ عرصے بعد فلم ساز، مصنف، ہدایتکار خواجہ احمد عباس نے اپنی ایک فلم ”سات ہندوستانی ‘‘شروع کی تو اس فلم میں ایک ہندوستانی کےکردار کے لیے امیتابھ کو منتخب کرلیا۔ اور اسے کولکتہ سے بلالیا گیا۔

اس کے بعد سنیل دت نے اپنی فلم”ریشماں تے شیرا‘‘کے لیے امیتابھ کو سائن کرلیا۔ سات ہندوستانی میں امیتابھ کا کردار ایک شاعر کا تھا۔ یہ دونوں فلمیں مکمل ہوکر ریلیز ہوئیں تو فلم سازوں نے امیتابھ کا نوٹس لیا اور چند فلم سازوں نے اسے اپنی فلموں میں سائن کرلیا کیونکہ اس وقت دوسرے اداکار مل نہیں رہے تھے۔
اداکارہ جیا بہادری رشی کیش کی فلم ”گڈی‘‘سے مشہور ہوچکی تھی۔ اس وقت اس کی ڈیمانڈ تھی۔ فلم سازوں نے امیتابھ کے ساتھ جیا بہادری کو سائن کرکے گویا کاسٹ کو متوازن کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں نے فلم”ایک نظر، بنسی برجو، اور پروانہ‘‘میں ایک ساتھ کام کیا۔

امیتابھ کی پہلی فلم بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے ایک فلم ساز کندن کمار نے اسے اپنی زیر تکمیل فلم”دنیا کا میلہ‘‘سے کاٹ کرکے سنجے خان کو ان کی جگہ کاسٹ کرلیا۔ کیونکہ ڈسٹری بیوٹر امیتابھ کی فلم کو ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہتے تھے۔اس وقت تک یکے بعد دیگرے امیتابھ کی فلمیں بری طرح فلاپ ہوچکی تھیں۔ جن میں ”آنند، پروانہ، پیار کی کہانی، بمبئی ٹو گوا، بنسی برجو راستے کا پتھر‘‘وغیرہ۔

امیتابھ کے لیے یہ بہت آزمائش کا وقت تھا مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔
اگر امیتابھ کو فلم”زنجیر‘‘میں کام نہ ملتا تو پھر آج کہانی کچھ اور ہوتی۔ آج کوئی یہ بھی نہ جانتا ہوتا کہ کبھی کوئی امیتابھ بچن نام کا نوجوان بھی فلموں میں کام کرنے آیا تھا۔ مگر سرتوڑ کوشش کے باوجود کامیاب نہ ہوسکا ۔اس کی بد نصیبی یہ بھی تھی کہ اس کے پاس سفارش وزیراعظم اندراگاندھی کی تھی۔ اور سپورٹ سنیل دت جیسے اداکار کی تھی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔

مگر پروڈیوسر پرکاش مہرہ کی فلم ”زنجیر‘‘کی کامیابی نے امیتابھ کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ پہلے جسے کوئی اپنی فلم میں کاسٹ کرنا نہیں چاہتا تھا اب وہی اس کی ڈیٹس لینے کو سرگرداں تھے۔

زنجیر جب مکمل ہوئی تو امیتابھ فلم ساز کی اجازت سے فلم کے ڈبے اپنی فیٹ کار میں رکھ کر صاحب رائے لوگوں کے پاس گیا اور انہیں فلم دکھا کر ان کی رائے چاہی۔ صرف ایک آدمی نے اس فلم کو دیکھ کر اسے سپرہٹ ہونے کی نوید سنائی۔ اور وہ آدمی تھے۔ سر اسرانی۔ جوکہ جیا بہادری کو اکیڈمی میں اداکاری سکھاتا رہا تھا۔

پہلے فلم 'زنجیر' کے ہیرو دھرمیندر تھے۔ مگر اس کے پاس ڈیٹس نہیں تھی۔ اگر دھرمیندر پرکاش مہرہ کو ڈیٹس دے دیتا تو پھر فلم انڈسٹری میں امیتابھ نام کے اداکار کی پیدائش ہی نہ ہوتی۔
قسمت کی کاریگری دیکھئے کہ دھرمیندر کے بعد یہ کردار دیو آنند کو دیا گیا۔ دیو آنند نے اس کردار کو صرف اس لیے مسترد کردیا کہ فلم میں اس پر ایک گانا بھی نہیں ہے۔ پرکاش مہرہ نے راج کمار سے رابطہ کیا مگر اس نے بھی انکار کردیا۔ آخر کار جیا بہادری کی پرزور سفارش کے بعد پرکاش مہرہ نے یہ کردار امیتابھ کو دے دیا۔ اور یہ کرادر تھا اینگری ینگ مین کا۔ جو معاشرے کا باغی ہے دولت والوں کا دشمن اور غریبوں کا ہمدرد۔ اس نئے کردار میں امیتابھ کو بہت پسند کیا گیا۔ فلم پہلے ہی شو سے ہٹ ہوگئی۔

فلم کی ہیروئن پہلے ممتاز تھی مگر ڈیٹس کا بہانہ کرکے اس نے انکار کردیا حقیقت یہ تھی کہ وہ امیتابھ کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس طرح ہیروئن کا کردار جیا بہادری کو مل گیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد امیتابھ اور جیابہادری نے شادی کرلی۔

1975ءمیں ریلیز ہونے والی یش چوپڑا کی فلم ”دیوار‘‘ نے امیتابھ کو سپر سٹار کی صف میں لاکھڑا کیا۔ اور صحیح معنوں میں اس فلم دیوار سے ہی امیتابھ بچن پر اینگری ینگ مین کی چھاپ لگ گئی اس کے بعد ہر دوسری فلم میں اس کا کردار کم وبیش اسی قسم کا ہی ہوتا تھا۔

امیتابھ کو اینگری ینگ مین بنانے میں دو فلمی مصنفین کا کام ہے اور مصنفین تھے۔ سلیم، جاوید۔ فلم دیوار سے ہی۔ اس پر اینگری یگ مین کی چھاپ لگ گئی۔فلم دیوار ریکارڈ دس ماہ میں مکمل ہوئی جبکہ اس کے چار گانے اکٹھے شوٹ ہوئے۔

اب ذکر ہوجائے فلم ”شعلے‘‘کا جو کہ بالی وڈ کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ فلم ”شعلے‘‘شروع میں فلاپ ہوگئی تھی۔ ایک ہفتہ تک کوئی بھی شو ہاؤس فل نہیں ہوا۔ بہت سے لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوتے بچا۔ فلم کے ڈائریکٹر رمیش سپی نے اپنا سارا سرمایا اس فلم میں لگادیا تھا۔ امیتابھ کے گھر میں ہنگامی میٹنگ ہوئی جس میں سرجوڑ کر سوچا گیا کہ کیا کیا جائے صاحب رائے لوگوں نے رائے دی کہ فلم کے اینڈ کو تبدیل کردیا جائے یعنی امیتابھ کو مرنے کے بجائے زندہ رہنے دیا جائے۔

جب یہ بات فلم کے مصنفین سلیم اور جاوید سے کی گئی کہ کہانی کا اینڈ تبدیل کردیں تاکہ اسے دوبارہ شوٹ کیا جائے۔ لیکن سلیم اور جاوید نے صحیح معنوں میں رائٹر ہونے کا ثبوت دیا اور اینڈ تبدیل کرنے سے صاف انکار
کردیا۔ ان کے بقول کہانی کا انجام یہی ٹھیک ہے۔

کچھ عرصے بعد اچانک فلم ”شعلے‘‘ہاؤس فل ہونے لگی۔ ٹکٹیں بلیک ہونے لگی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے فلم نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھنے شروع کردیے۔

فلم”شعلے‘‘رمیش سپی کی واقعی ایک ناقابل فراموش فلم۔ اس فلم نے آدھی دنیا میں دھوم مچا دی تھی۔ پھر یہ فلم ایسی چلی کہ پانچ سال بعد بھی انڈیا کے سینما گھروں میں لگی نظر آئی۔ اس فلم کی ٹکٹیں بلیک کرکے لوگوں نے جائیدادیں بنالیں۔ تو کوئی ٹیکسیاں خرید لیں۔

اس فلم کے بارے میں عجیب عجیب قصے اور کہانیاں مشہور ہوئیں۔ جن میں ایک نابینا لڑکی کی کہانی بھی مشہور ہوئی کہ وہ لڑکی فلم شعلے دیکھنے کی اتنی شدید خواہش رکھتی تھی کہ ایک ”سائین بابا‘‘کے مزار پر دعا مانگی اور سینما چلی گئی۔ فلم کے انٹرول تک اسے بینائی مل چکی تھی۔یہ کہانی سچی بھی ہوسکتی ہے اور کسی کی اڑائی ہوئی افواہ بھی۔ کیونکہ دعا تو دعا ہی ہوتی ہے۔

اس فلم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ گانوں کے علاوہ اس کے ڈائیلاگ کی بھی ریکارڈ بن کر فروخت ہوئے۔ فلم کے ولن امجد خان کی بے مثال اداکاری فلم کے ہیرو کو دباتی ہوئی نظر آتی ہے۔
شعلے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ جب جیا بچن پہلے سین میں امیتابھ کے مقابل آتی ہے تو اس وقت امید سے ہوتی ہے۔ یعنی پہلے بچے کی ماں بننے والی ہوتی۔ اس وقت ”شویتا‘‘پیٹ میں تھی۔

1982ءمیں ریلیز ہونے والی من موہن ڈیسائی کی فلم ”قلی‘‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ کو حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ کافی عرصہ ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ پورے انڈیا میں اس کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ مندوروں پر چڑھاوے چڑھائے گئے تو درباروں پر چادریں چڑھائی گئیں۔ پوری قوم اس کے لیے دعا گو تھی۔ یہ تھی امیتابھ کی عوام میں مقبولیت اور محبت۔ صحت یاب ہونے کے بعد کچھ عرصے تک امیتابھ شعر و شاعری کرتے رہے۔

1984ءمیں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد امیتابھ نے اپنے بچپن کے دوست راجیو گاندھی کے کہنے پر سیاست میں قدم رکھا۔1984 میں فلم لائن کو خیرباد کرنے کے بعد امیتابھ نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنے خاندانی دوست راجیو گاندھی کی حمایت میں الٰہ باد کی لوک سبھا سے سابق وزیر اعلٰی اتر پردیش ایچ۔ این۔ بہوگونا کے مقابل کھڑے ہوئے اور عام انتخابات کی تاریخ کے سب سے بڑے فرق (٦٨۔٢ فیصد ووٹ)[16] سے جیت حاصل کی۔ ان کا سیاسی سفر بہت کم عرصہ پر محیط تھا اور تین سال کے بعد ہی انہوں نے سیاست کو بھی خیرباد کردیا۔

بوفورس اسکینڈل میں نام آجانے اور کمیشن کھانے کے الزام آنے پر امیتابھ کانگریس سے کنارہ کش ہوگئے۔ سوئزرلینڈ، انگلینڈ اور مریکہ کی عدالتوں میں پیشیاں بھگت کر اپنے اوپر لگے بوفورس اسکینڈل کا داغ اتار دیا۔
1990 میں فلم”اگنی پت‘‘میں قومی ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد فلموں سے کنارہ کش ہوگئے اور امیتابھ بچن کارپوریشن کے نام سے کمپنی بنائی اور اپنا کاروبار شروع کردیا۔ فلم لائن کو خیرباد کہنے کے بعد امیتابھ نے پیش کاری کو اپنایا اور اسی دوران امیتابھ بچن کارپوریشن لمیٹڈ اس (A.B.C.L) کی بنیاد اس نظریہ کے تحت رکھی کہ وہ 2000 تک اسے دس بلین روپے (250 ملین ڈالر) کی تفریحی کمپنی بنا دیں گے۔ A.B.C.L کا مقصد وسیع خدمات کو متعارف کرانا تھا جو پورے بھارت کی تفریحی صنعت کو فراہم کی جاسکیں۔ اس کی پیش کردہ خدمات میں بڑے پردے کی پیداکاری اور تقسیم، سمعی کیسٹ، بصری ڈسک، ٹیلی وژن کے مصنع لطیف کی پیداکاری اور تقسیم، نامور فنکاروں اور تقریبی انتظامات شامل تھے۔ کمپنی کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد 1996 میں ہی پہلی فلم تیرے میرے سپنے کو پیش کیا۔ یہ فلم باکس آفس پر تو اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی مگر اداکار ارشد وارثی اور جنوب کی اداکارہ سمرن جیسے نئے اداکاروں کو بڑے پردے پر کام کرنے کا موقع ملا۔
A.B.C.L نے مزید فلموں کی پیشکش کی مگر کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔
1996 کا حسینہ عالم خوبصورتی مقابلہ بینگلور، میں منعقد ہوا جس کی سرپرستی A.B.C.L نے کی مگر یہاں بھی اسے لاکھوں کا نقصان ہوا۔ A.B.C.L کی مسلسل ناکامیوں، اس کے خلاف ہونے والی قانونی کاروائیوں اور بڑے منتظمین کی اونچی تنخواہوں کی خبروں کے نتیجہ میں 1997 میں کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔ اپریل 1999 میں بمبئی ہائی کورٹ نے بچن کو ان کا بنگلہ ’پراٹیکشا‘ اور دو فلیٹ اس وقت تک بیچنے سے رکوا دیا جب تک وہ کنارا بینک کا قرضہ نہ اتار دیں۔
ادھر کاروبار بالکل بیٹھ گیا ادھر فلموں میں مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ جب امیتابھ کا دیوالیہ نکلنے والا تھا تو انہی دنوں سٹار ٹی وی نے اپنے پروگرام”کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی میزبانی کی پیشکش کی جسے امیتابھ نے پہلی فرصت میں قبول کرلیا۔

”کون بنے گا کروڑ پتی‘‘کی مقبولیت نے امیتابھ کی ساکھ کو بحال کردیا۔ اس بعد امیتابھ پھر دوبارہ فلموں میں نظر آنے لگے۔
2000 میں امیتابھ یش چوپڑا کی باکس آفس ہِٹ فلم محبّتیں میں نظر آئے۔ آدتیا چوپڑا کی ہدایتکاری میں امیتابھ نے شاہ رخ خان کے کردار کے مقابل ایک سخت طبیعت بزرگ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مزید کامیاب فلمیں منظر عام پر آئیں۔ اس کے بعد سے امیتابھ کی کامیابیوں کا سفر تاحال جاری ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق امیتابھ بچن کی اداکاری اب نکھر کر آئی ہے۔ جبکہ پہلے دور میں اینگری ینگ مین کے کردار میں اور وہ ہر فلم میں یکساں قسم کے کردار نے اسے فلم بینوں کی پسند سے گرا دیا تھا۔ جبکہ اب وہ ہر قسم کے کردار بڑی خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔

امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان میں سرد جنگ
عموماً دیکھا گیا ہے کہ اگر دو سپر سٹاروں میں آپس میں ٹھن جائے تو عوام میں بھی دو گروپ بن جاتے ہیں۔ جب امیتابھ اور خان کے درمیان تناؤ کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو بہت لوگوں کے بیان ان کی حمایت اور مخالفت میں آنا شروع ہوگئے۔ کچھ کے بیانات پاکستان کے اخباروں میں بھی شائع ہوئے۔
بال ٹھاکرے جو مسلمانوں کو زک پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وہ بھی اس جنگ میں کود پڑے اور اپنے بیانات کی دھواں دھار بمباری شروع کردی۔ صاف ظاہر ہے کہ بال ٹھاکرے کی حمایت امیتابھ کے لیے ہی تھی۔

خان کی فلم ”مائی نیم از خان‘‘ کی ریلیز سے چند دن پہلے بال ٹھاکرے نے اپنا بیان داغ دیا کہ اس فلم کو بمبئی میں ریلیز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جبکہ شاہ رخ خان اس کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہوئے اور نہ ہی بلیک میل ہوئے کیونکہ فلم کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔ دوسری اچھی بات یہ ہوئی کہ امیتابھ نے بھی اس بارے کوئی بیان نہیں دیا بلکہ اس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شاہ رخ خان ایک محب وطن نوجوان ہیں۔ اس کی فلم انڈیا میں ریلیز ہونی چاہیے۔ کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ اس کی فلم کی ریلیز میں رکاوٹ بنے۔ امیتابھ کی اس امن نامہ بیان کی وجہ سے بال ٹھاکرے بھی چپ ہو کر بیٹھ گیا۔

امیتابھ اور شاہ رخ خان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھنی شروع ہوئی جب ایشوریا رائے کی منگنی ابھیشک بشن کے ساتھ طے ہوئی۔
ایشوریا رائےاور سلمان خان پہلے آپس میں دوست تھے اور ان کے درمیان گہرے مراسم بھی تھے۔ امید یہ کی جارہی تھی کہ جلد دونوں شادی کرلیں گے ۔ مگر سلمان خان کی گرم دماغی کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ان کے درمیان تلخی ہوگئی۔ سلمان خان جو کہ شاہ رخ خان کے دوست بھی تھے۔ شاہ رخ خان سلمان کا رشتہ لے کر ایشوریا کے گھر بھی گئے تھے۔ لیکن ایشوریا کے والدین نے اس رشتے سے صاف انکار کردیا۔ شاید اس میں ایشوریا کی مرضی بھی شامل رہی ہو کیونکہ وہ سلمان کی تنک مزاجی دیکھ چکی تھی۔
صورت حال اس وقت مزید بدتر ہوگئی جب شاہ رخ خان کی فلم ”چلتے چلتے‘‘کے سیٹ پر ان دونوں میں بدمزگی ہوگئی۔ اور سلمان خان نے ایشوریا کو تھپڑ ماردیا۔
شاہ رخ خان نے فلم کی کاسٹ سے ایشوریا کو نکال باہر کیا اور اس کی جگہ رانی مکھر جی کو کاسٹ کرلیا۔ بلکہ اپنی اگلی فلم ”ویر زارا‘‘میں بھی ایشوریا کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا اور یوں ویر زارا میں پریتی زنٹا کو شامل کرلیا گیا۔
اس وقت سے لے کر اب تک شاہ رخ خان نے ایشیوریا کے ساتھ کسی فلم میں کام نہیں کیا۔ اس بات کا بدلہ امیتابھ نے ابھیشک اور ایشوریا کی شادی میں سبھی خانوں کو نہ بلا کر لیا۔
بہر حال اب یہ سرد جنگ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ہے اور برف پگھلنے لگی ہے۔

امیتابھ بچن نے اداکاری کے ساتھ گلوکاری بھی کی۔ اس کا گایا ہوا فلم”لاوارث‘‘کا یہ گانا بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول تھے۔”میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے۔"
جبکہ اس کا ایک اور گانا جو کہ عدنان سمیع کے ساتھ گایا ۔ ”کبھی نہیں‘‘ بھی بہت مشہور ہوا۔

امیتابھ بچن کے فلمی اعزاز
نیشنل ایوارڈ۔۔ بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن ایوارڈ۔ فلم فیئر ایوارڈ
انٹر نیشل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈ۔۔۔بالی وڈ مووی ایوارڈ۔۔۔زی سینی ایوارڈ
اسٹار اسکرین ایوارڈ۔۔۔اسٹار ڈسٹ ایوارڈ۔۔لائف ٹائم ایچومنٹ ایوارڈ۔۔
جب کے ان کے علاوہ قومی۔ بین الا قوامی اور ٹی وی کے بہت سے اعزازات ہیں۔
9 جون 2007ء میں یارک شائر کی ( لیڈز میٹرو پولیٹن یونیورسٹی) کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی۔
16 جون 2007ء کو برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن (بافٹا) کی طرف سے انہیں بافٹا لائف ٹائم ممبر شپ دینے کا اعلان کیا گیا۔
امیتابھ کی فلمیں
1970ء سات ہندوستانی، آنند
1971ء پروانہ ، پیار کی کہانی ، ریشماں اور شیرا۔
1972ء بنسی برجو ، بمبئی ٹو گوا، ایک نظر، راستے کا پتھر، سنجوک
1973ء بندھے ہاتھ ، زنجیر، گہری چال، ابھیمان، سوداگر، نمک حرام
1974ء کسوٹی ، روٹی۔کپڑا اور مکان، بے نام، مجبور
1975ء چپکے چپکے، دیوار، فرار، ملی، شعلے، ضمیر
1976ء عدالت، دو اجنبی، ہیرا پھیری، کبھی کبھی
1977ء الاپ، امر۔اکبر۔انتھونی، ایمان دھرم، خون پسینہ، پرورش
1978ء بےشرم، ڈون، گنگا کی سوکند، قسمیں وعدے، مقدر کا سکندر، ، دی گریڈ گیمبلر، ترشول
1979ء جرمانہ، کالا پتھر، منزل، مسٹر نٹورلال، سہاگ
1980ء دو اور دو پانچ، دوستانہ، رام بلرام، شان
1981ء ستے پہ ستا، برسات کی رات، نصیب، لاوارث، سلسلہ، یارانہ، کالیا
1982ء بے مثال، دیش پریمی، خود دار، نمک حلال، شکتی
1983ء اندھا قانون ، قلی ، مہان ، ناٹک ، پکار
1984ء انقلاب، شرابی
1985ء گرفتار، مرد
1986ء آخری راستہ
1988ء شہنشاہ ، گنگا جمنا سرسوتی
1989ء جادوگر، میں آزاد ہوں ، طوفان
1990ء اگنی پتھ، آج کا ارجن
1991ء ہم، عجوبہ، اندرمیت، اکیلا
1992ء خدا گواہ
1997ء مریتو داتا
1998ء میجر صاحب، بڑے میاں چھوٹے میاں
1999ء لال بادشاہ ، سوریا ونشم ، کہرام
2000ء محبتیں
2001ء ایک رشتہ، عکس، کبھی خوشی کبھی غم
2032ء ارمان، اوم
2004ء باغبان، خاکی، اعتبار، دیو
2005ء بلیک، بنٹی اور ببلی، گاڈ فادر، سرکار
2006ء ڈرنا ضروری ہے، کبھی الوداع نہ کہنا، بابل
2007ء اکلاویا، نشبد، چینی کم، شوٹ آؤٹ، ایٹ لو کھنڈالا
2008ء جودھا اکبر، بھوت ناتھ ، سرکار راج ، گاڈ تسی گریٹ ہو ، دا لاسٹ لاور
2009ء دہلی 6 ، الٰہ دین، جونی مستانہ، ضمانت، طلسمان، پا، تین پتی۔