004 - کرکٹ اور پاکستان کرکٹ :محمد کاشف فیاض

کرکٹ اور پاکستان کرکٹ

چیتن شرما آخری گیند کرانے کے لیے تیار اور جاوید میانداد انتہائی پریشانی کے عالم میں۔ یہ وہ وقت ہے جب شارجہ میں پاکستان اپنی عزت کے لیے کھیل رہا تھا، انڈیا پاکستان کے تعلقات انتہائی برے ہو چکے تھے۔ اس ٹورنامنٹ کو جو کہ شارجہ میں تھا، اس طرح شیڈول کیا گیا تھا کہ کسی بھی طرح پاکستان اور انڈیا کا سامنا نہ ہو۔ سوائے اس کے کہ اگر وہ فائنل میں آجائیں۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔
دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مدّ مقابل اور لگتا تھا جیسے کرکٹ نہیں اپنی بقا کی جنگ لڑی جا رہی ہو۔
آخر کار چیتن شرما نے گیند کرائی اور گیند فل ٹاس ہو گئی۔ جاوید میانداد نے ایک انتہائی خوبصورت شاٹ کھیلا اور گیند باؤنڈری سے باہر ہو گئی۔ یہ چھکّا انڈیا کے سینے میں جیسے خنجر گھونپنے کے برابر تھا اور جاوید میانداد نے اس بال پر چھکّا مار کے اس بال کو چیتن شرما کے کیریئر کی آخری گیند بنا دیا۔
رہتی دنیا تک جاوید میانداد کے اس چھکّے کو کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

کرکٹ کی دنیا میں بڑے بڑے کھلاڑی گزرے جنہوں نے بہترین کھیل کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کیا۔ سر ڈان بریڈ مین، گیری سوبرز، میک گرا، برائن لارا، مائیکل بیون، سچن ٹنڈولکر، سنیل گواسکر، سعید انور، جاوید میانداد، عمران خان، وسیم اکرم۔ غرض یہ کہ اتنے بہترین کھلاڑی گزرے ہیں اس دنیا میں، کہ سب کے بارے میں اگر لکھنا شروع کر دیا جائے تو شاید یہ جگہ چھوٹی پڑ جائے۔ گیری سوبرز جنہوں نے ایک ہی اوور میں 6 چھکّوں کا ریکارڈ قائم کیا۔ ویسٹ انڈیز کے لیے ایک ایسے موقعے پر جب کہ سب امیدیں دم توڑ چکی تھیں۔

انٹرنیشل کرکٹ کونسل اب تک ۹ ورلڈ کپ کروا چکی ہیں۔ جب کہ دسواں ایونٹ 2011 میں ہونا قرار پایا ہے۔
1975 اور 1979 میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ہرا کر کرکٹ کی دنیا کا چیمپیئن ہونے اعزاز حاصل کیا۔ 1983 میں انڈیا کے ہاتھوں شکست پر ویسٹ انڈیز کو چیمپیئن کے اعزاز سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 1992 میں پاکستان نے انگلینڈ کو ہرا کر پہلی مرتبہ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ فتح ایسی تھی کہ جس کا کوئی تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے فتح کا تاج اپنے سر سجایا۔ 1996 میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو ہرا کر ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔
آسٹریلیا جو کہ حال میں ایک نا قابلِ تسخیر ٹیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ہر ایونٹ جیتنا اور چیمپیئن بن جانا جیسے کوئی معنی ہی نہ رکھتا ہو۔ نفسیاتی طور پر ہر ٹیم آسٹریلیا کو خود سے بہتر سمجھتی ہے۔ 1987، 1999، 2003 اور 2007 کے ورلڈ کپس جیت کر اِس وقت سب سے زیادہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی اسی ٹیم کو حاصل ہے۔
باؤلنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ ہر شعبے میں مہارت۔ اس کے علاوہ مزید محنت کرتے رہنا اور اپنی ٹیم کو بہتر سے بہتر بنانا، یہی اس ٹیم کا پلس پوائنٹ ہے۔
50 اوورز فارمیٹ کے میچز میں اب تک کے زیادہ تر ایونٹس آسٹریلیا ہی نے جیتے ہیں۔
کچھ عرصے سے دنیائے کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی کا رواج ہو گیا ہے۔ ہر میچ بیس اوورز کا اور شائقین کے لیے بھی آسانی کہ کم وقت میں بھرپور مزہ۔
2007، 2009 اور 2010 میں اس طرز کی کرکٹ کے ورلڈ کپس منعقد کروائے جا چکے ہیں اور حیران کُن طور پر دنیائے کرکٹ کی بے تاج بادشاہ آسٹریلیا کی ٹیم اب تک ایک بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔
پہلا ورلڈ کپ انڈیا نے پاکستان کو ہرا کر اپنے نام کیا، تو دوسرے ورلڈ کپ میں پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر اس ٹرافی کو حاصل کیا۔
2010 کا ورلڈ کپ جس میں زیادہ امیدوں کا محور پاکستان تھا تو دوسری طرف آسٹریلیا نے بیان دیا کہ وہ یہ ورلڈ کپ ضرور جیتیں گے۔ پاکستان تو سیمی فائنل تک ہی رسائی حاصل کر سکا۔ لیکن آسٹریلیا فائنل تک پہنچنے کے بعد بھی انگلینڈ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا۔ انگلینڈ جو کرکٹ کا بانی ہے۔ پہلا ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوا۔

دنیائے کرکٹ نے بہت سے تیزی ترقّی کی اور آج اس کے بہت زیادہ شائقین پائے جاتے ہیں۔ کرکٹ نے ایسے ایسے ناموں کو نامور کروایا، جنہیں کوئی نہیں جانتا تھا اور اب وہ نام رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔