010 - ایک کامیابی ہزار کامیابیوں کی کنجی :امان

ایک کامیابی ہزار کامیابیوں کی کنجی

سائنس نیوز نامی ویب سائیٹ پر یہ دلچسپ تحقیق شائع ہوئی ہے کہ مستقبل میں ہماری کامیابی کا دار ومدار ماضی کی ناکامیوں پر ہوتا ہے یا کامیابیوں پر۔

یہ محاورہ تو بہت مقبول ہے کہ انسان اپنی ناکامیوں سے سیکھتا ہے لیکن ایک جدید سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دماغ کے خلیے ناکامی کی بجائے کامیابی حاصل ہونے پر زیادہ سیکھتے اور متحرک ہوتے ہیں اور ایک کامیابی کے بعد دوسری کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ایک معروف امریکی تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے سیکھنے اور یاداشت، میں کی جانے والی ایک تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ دماغ کے خلیے صرف ان تجربات سے سیکھ کر تحریک پاتے ہیں جب کوئی کام درست انداز میں انجام کو پہنچتا ہے، نہ کہ اس سے جب ناکامی سے دوچار ہونا پڑے۔

سائنسی جریدے ’نیوران‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم آئی ٹی کے نیورو سائنس کے پروفیسر "ایرل کے ملر" اور ان کی ٹیم کے ممبران "مارک" اور "انیتھا پاسوپیتھی" نے اپنی تحقیق میں سیکھنے کے عمل کے بارے میں دماغ کی ایسی تصویریں حاصل کی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دماغ کے خلیے درست اور غلط عمل کے بارے میں یاداشت میں محفوظ معلومات کی بنیاد پر کس طرح اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

اس ضمن میں پروفیسر ملر کہتے ہیں کہ:

"ہمیں اپنی تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ دماغ کے خلیے کس طرح یہ طے کرتے ہیں کہ ان کے حالیہ طرز عمل کامیابی پر مبنی تھے یا نہیں۔ جب کوئی طرز عمل کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو دماغ کے خلیوں میں ایک نمایاں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے لیکن ناکامی کے بعد ان خلیو ں میں یا تو سرے سے کوئی تبدیلی آتی ہی نہیں یا پھر وہ بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً جب ہم کسی جواب کا درست جواب دیتے ہیں تو دماغ کے خلیوں میں فوراً ایک تحریک پیدا ہوتی ہے جو فلم میں ایک روشن نقطے کے طورپر ظاہر ہوتی ہے لیکن جب ہمارا جواب غلط ہو تو فلم میں یا تو سرے سے ہی کوئی روشن نقطہ ظاہر نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو وہ بہت معمولی نوعیت کا ہوتا ہے۔"

پروفیسر ملر نے دماغ کے خلیوں کے درعمل پر اپنے تجربات بندروں پر کیے۔ بندروں کو کمپیوٹر کی سکرین پر ایک ترتیب سے یکے بعد دیگرے دو تصویریں دکھائی گئیں۔ جب بندر نے ایک تصویر کے دائیں طرف اپنی نظریں جمائیں تو اسے کھانے کے لیے کچھ دیا گیا، جب کہ دوسری تصویر پر اسے کھانے کو اس وقت ملا جب اس نے تصویر کے بائیں جانب اپنی نظریں جمائیں۔ بندروں نے یہ سیکھنے کے لیے کس تصویر کے دائیں اورکس کے بائیں جانب دیکھنا ہے اندازوں سے کام لیا۔

اس موقع پر بندروں کے دماغ کی اتاری جانے والی تصویروں سے ظاہر ہوا کہ فیصلہ کرنے کے عمل کے دوران ان کے دماغ کا ایک مخصوص حصہ روشن ہوا اور درست جواب کی صورت میں بعد میں بھی کئی سیکنڈ تک روشن رہا۔

ماہرین کو معلوم ہوا کہ درست جواب کی صورت میں، جب کہ بندروں کو کھانے کے لیے کچھ دیا جاتا تھا، ان کے دماغ کے مخصوص حصے کے خلیے چار سے چھ سیکنڈ تک متحرک رہے۔ ماہرین کو دماغ کی تصویروں سے یہ بھی پتہ چلا کہ پہلا جواب درست ہونے کے بعد دوسرے جواب کے دوران بندروں کے دماغ کے خلیوں کا ردعمل زیادہ طاقت ور تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوا کہ کامیابی حاصل ہونے سے دماغ کے خلیوں کو تحریک ملتی ہے اور ان کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے جس سے مزید کامیابیوں کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

پروفیسر ملر کہتے ہیں کہ:

"ہر درست جواب کے بعد دماغ کے خلیوں میں پیدا ہونے والی برقی لہریں نمایاں طورپر طاقت ور تھیں اور انہوں نے دماغ کے متعلقہ حصوں کو زیادہ معلومات فراہم کیں۔ جس سے اگلی بار صحیح فیصلے تک پہنچنے کے امکان میں اضافہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے سے دماغ کے خلیوں کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے اور ایک کامیابی مزید کامیابیوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔"

بحوالہ: سائنس نیوز ویب سائٹ