012 - حلال گوشت کیوں؟ تحریر در نایاب

حلال گوشت کیوں؟
باب اور یونس دو دوست ہیں۔۔ اکثر ان کے درمیان اسلام کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت چلتی رہتی تھی۔ ایک دن اسکول سے واپسی پر دونوں دوستوں کے درمیان ذبیحہ (اسلامی طریقہ جانور کاٹنے کا) پر کچھ بات چیت ہوئی۔ آئیے ہم بھی شامل ہوجاتے ہیں اس میں۔۔

باب: یہ بتائیں کہ حرام اور حلال کے کیا معنی ہے اور ان کی کیا اہمیت ہے؟
یونس: اسلام میں جن چیزوں کو کھانے کی اجازت دی گئی ہے وہ حلال ہیں اور جو چیزیں ممنوع قرار دی گئی ہیں وہ حرام ہیں۔ حلال اور حرام کی اصطلاح قرآن پاک اور سنت نبوی سے لی گئی ہیں۔
باب: کیا آپ مجھے مثال دے کر یہ بات سمجھا سکتے ہیں؟
یونس: کیوں نہیں، جیسے اسلام میں خون کا استعمال کسی بھی صورت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم خون کا کیمیائی تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ خون کے اندر یورک ایسڈ بکثرت پایا جاتا ہے۔ جوکہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔
باب: جی ہاں یورک ایسڈ کے زہریلے اثرات سے تو ہر کوئی واقف ہے اور یہ جسم سے خارج ہونے والے فضلاء میں شمار ہوتا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ %98 یورک ایسڈ ٴخون سے گردے کے ذریعے صاف ہوکر پیشاب کی صورت خارج ہوتا ہے۔
یونس: بالکل صحیح، اب اگر تم خون کے زہریلے اثرات سے واقف ہو تو پھر اسلامی طریقے سے جانور کو ذبح کرنے کی وجوہات کا بھی علم ہوگا؟
باب: میں سمجھا نہیں آپ کی بات کہ اسلامی طریقے سے ذبح کیسے کیا جاتا ہے اور اس کی کیا وجہ ہے ؟
یونس: اسلام میں حلال جانوروں کو تندوتیز چھری حلق پر چلا کر ذبح کیا جاتا ہے۔ اس سے دماغ کی ان شریانوں کا دوران خون منقطع ہوجاتا ہے جو درد اور اذیت کے احساس کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اس طرح جانور اذیت سے محفوظ رہتا ہے۔ ذبح کے فوری بعد جانور کا تڑپنا تکلیف کی شدت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان مسلز یا پٹھوں کے پھیلنے اور سکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے جن کا دوران خون منقطع ہوچکا ہوتا ہے۔
درد اور اذیت کے بارے میں جرمن سائنسدانوں نے کامیاب ریسرچ بھی کی ہے۔
باب: کیا آپ اس ریسرچ کے بارے میں مزید کچھ آگاہی دیں گے؟
یونس: یونیورسٹی آف وٹرینری میڈیسن ہنوور جرمنی میں ڈاکٹر شولز اور ڈاکٹر حزیم کی ریسرچ کے مطابق جانور ذبح کرنے کا حلال اسلامی طریقہ سب سے اچھا طریقہ ہے جس سے جانور کی موت درد کی شدت کو محسوس کیے بغیر واقع ہوتی ہے جب کہ عموماً مغربی ممالک میں جو طریقہ رائج ہے اس سے جانور موت سے پہلے شدید اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔
باب: مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کیسے یہ نتیجہ اخذ کیا؟
یونس: یہ نتیجہ E.E.G کی مدد سے اخذ کیا گیا ہے۔ Electroencephalography ایک آلہ ہے جو کہ دماغی ایکٹویٹی کو ایک خاص موقع اور وقت کے دوران ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے مطابق
* ذبح کے بعد پہلے تین سیکنڈ تک E.E.G نے ذبح کئے گئے جانور کے دماغ کی ایکٹویٹی میں کوئی تبدیلی نہیں دکھائی۔
* اس کے بعد کے تین سیکنڈ میں گہری نیند یا بیہوشی کی حالت ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ کثیر مقدار میں خون کا ابل کر باہر آنا ہے۔
*اوپر کے کل چھے سیکنڈ کے بعد دماغ کی ایکٹویٹی صفر لیول پر ریکارڈ کی گئی۔ جس سے کسی بھی قسم کی اذیت اور تکلیف کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ دماغی موت واقع ہوچکی ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دماغی موت ہوجانے کے باوجود دل دھڑک رہا ہوتا ہے اور spinal cord کے reflex Action کی وجہ سے جسم تڑپتا ہے۔
اس تڑپنے سے خون کثرت سے جسم سے بہہ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں صاف یورک ایسڈ سے پاک گوشت میسر آتا ہے۔
باب: یہ تو آپ نے بہت معلوماتی باتیں بتائی ہیں!
یونس: ایک بات اور، حلق پر چھری پھیرنے کی وجہ سے جسم کی دوسری تمام شریانیں اور اعضاء محفوظ رہتے ہیں۔
باب: جی ہاں اس طرح ذبح کرنے سے خون بہہ جانے کی وجہ سے موت ہوتی ہے نا کہ اندرونی اعضاء کے زخمی ہونے کی صورت۔
یونس: بالکل درست، اگر جانور کی فوری موت اندرونی اعضاء مثلاً دماغ یا دل کے زخمی ہونے سے ہوجائے تو شریانوں میں خون جم جاتا ہے۔ جو کہ گوشت اور پٹھوں کے اندر تک سرایت کرجاتا ہے۔ جس سے گوشت کے زہریلے ہونے اور یورک ایسڈ کی موجودگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کی حقیقت صرف موجودہ دور میں ہی سامنے آئی ہے۔
باب: یہ بتایئے کہ مسلمان سور کا گوشت کیوں ناپسند کرتے ہیں بلکہ جو لوگ اسے
کھاتے ہیں اسے بھی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟
یونس: سور کے گوشت کی ممانعت نہ صرف قرآن پاک میں بلکہ بائبل میں بھی اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے دیکھیے۔ leviticus. chp 11, verse8
اگر ہم سور کا کیمیائی تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ ان کا گوشت چاہے کسی بھی شکل میں ہو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔
۔ میڈیکل سائنس کے مطابق سور کے گوشت کے استعمال سے انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ سور کا جسم بہت سے parasites کے لئے host کا کام بھی انجام بھی انجام دیتا ہے۔
۔ اس کے علاوہ سور کے گوشت میں کولیسٹرول، لپڈ اور یورک ایسڈ کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہوتی ہے۔
۔ سور کے خون کی بائیو کیمسٹری کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سور کے جسم میں یورک ایسڈ کی کل مقدار کا صرف %2 ہی فضلاء بن کر جسم سے خارج ہوتا ہے جب کہ %98 فیصد خون کا ایک اہم حصہ بن کر موجود رہتا ہے۔
۔ اسلام میں نہ صرف سور کے گوشت بلکہ ایسے تمام جانور جو اپنا یا کسی اور جانور کا فضلاء کھاتے ہیں کے گوشت کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

"بشکریہ نیڈو کیڈوز"