001 - شائد بے وفائی بھی مجبوری ہوتی ہے: ناز حسین

شائد بے وفائی بھی مجبوری ہوتی ہے

نامہربان لمحوں میں
جب تم نے یہ کہا تھا
کہ جاناں
سنو!!
دو گھڑی۔۔
ذرا ٹھہرو کچھ بات کرنی ہے
میرا بے تاب دل کچھ لرز سا گیا تھا
مگر
محبت کی تائید بھی ضروری تھی
اور میں ٹھہر گئی تھی
تب وہ ظالم لمحہ آیا تھا
جب تم نے
میرے وجود کو دار پر چڑھایا تھا
اور کہا تھا
"جاناں!
میں تمھارا تھا، تمھارا ہوں ، اور تمھارا ہی رہونگا
مگر
میری مجبوری ہے
مجھے جانا ہے
شائد کہ میں
لوٹ نہ سکوں
میرا انتظار مت کرنا"
اور پھر
تم چلے گئے
کبھی نہ آنے کے لیۓ
اور میں
اس لمحہ کے زیرِ اثر
آج بھی
انتظار میں آس کے دیپ جلائے
یہ سوچ رہی ہوں
کہ
شائد بے وفائی بھی مجبوری ہوتی ہے