004 - محبت : وش

محبت

محبت اظہار چاہتی ہے
اور کئی کئی بار چاہتی ہے

اُسے دل میں بسا لیں ہم
یہی اقرار چاہتی ہے

دلوں میں جو یہ بس جائے
تو پھر دلدار چاہتی ہے

وصل کے مرمریں پل کا
سنو! اعتبار چاہتی ہے

انا کے روٹھے لمحوں میں
بس اک پُکار چاہتی ہے

نہ چاہے کُچھ سوا تیرے
تجھے بے شمار چاہتی ہے