006 - سکوت ِ شب : شہزاد قیس

سکوت ِ شب سے کسی شب کلام کر تو سہی
جواب دل تجھے دے گا ، سلام کر تو سہی

وہ ایک پل میں تجھے جاوداں بنا دے گا
حیات ِ فانی ذرا اس کے نام کر تو سہی

خدا کا ہاتھ ترے سر کو چھو رہا ہو گا
تو اس کی راہ میں کچھ اہتمام کر تو سہی

سکون ِ دل بھی ملے گا ، طلائی سکے بھی
کسی فقیر کے در پر سلام کر تو سہی

فرشتہ ہے ناں! ، تیرا جسم دودھیا ہے تبھی
بدن کی دھوپ میں اک شب قیام کر تو سہی

سبو میں پھر تو فقط ٹھنڈا پانی رکھے گا
کسی کی جھیل سی آنکھوں کو جام کر تو سہی

پرندگان ِ چمن سُر میں عشق کُوکیں گے
سرود ِ قیس کی تعلیم عام کر تو سہی