007 - چھوڑ کر چل دیئے: اشرف نواز آرائیں

جانے کا بس کہا، چھوڑ کر چل دیئے
کچھ سنا، نہ کہا، چھوڑ کر چل دیئے

کتنا چاہا کہ روکیں تمہیں جانے سے
دل پہ ٹھوکر لگا، چھوڑ کر چل دیئے

کوئی کتنی صدائیں ہی دیتا رہا
مڑ کے دیکھے بنا، چھوڑ کر چل دیئے

کتنا دکھ ، درد آنکھوں میں تھا اس گھڑی
ہاتھ جھٹ سے چھڑا، چھوڑ کر چل دیئے

لوٹ آؤ کبھی تو اے ہمدم میرے
کتنے ساون ،گھٹا چھوڑ کر چل دیئے

منتظر آج بھی راہ میں ہے کوئی
جس کو تم بے وفا، چھوڑ کر چل دیئے