008 - پشاور شہر کے پس منظر میں : سلمان سلو

پشاور شہر کے پس منظر میں

پھولوں کے شہر میں دیکھو پھر خزاں آنے کو ہے
ظلم کی راہوں میں پھر اک قتل ہو جانے کو ہے

روز رکھو ساتھ اپنے خواہشوں کا اک کفن
یاں تو ہر اک موڑ پر اک لاش اٹھ جانے کو ہے

پھر کسی معصوم الفت کا ضیاع ہو جائے گا
کس قدر اب درد کا احساس مٹ جانے کو ہے

آگہی کے دور میں بھی وحشتوں کے سائے ہیں
آدمیت سے میرا ایمان اٹھ جانے کو ہے

کیا تیرے دل میں، اتنی بھی جگہ باقی نہیں
کیوں ترے دامن کا ہر گلشن اجڑ جانے کو ہے؟

نفرتیں ہوں ختم یا رب ، رحم تو کر دے عطا
بس کہ اب یہ ظلمِ انساں حد سے بڑھ جانے کو ہے

سلّو اپنی تو دعا ہے ،کوئی لادے یہ خبر!
پھولوں کے اس شہر سے رخصت خزاں ہونے کو ہے