010 - جز ترکِ تعلق : فیضان احمد

جز ترکِ تعلق کوئی چارہ بھی نہیں تھا
بن اُس کے مگر اپنا گزارا بھی نہیں تھا

دعوے تو سبھی کو تھے وفاداری کے لیکن
ہم ڈوبے تو تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا

لمحاتِ فراق آئے کھڑے تھے کیوں ابھی سے
ہم نے تو ابھی وقت گزارا بھی نہیں تھا

وہ شخص رگ و پے میں اُترتا ہی گیا یوں
جیسے کہ مجھے خود پہ اجارا بھی نہیں تھا

دنیا سے تو خیر اپنا گِلہ ہی نہیں بنتا
اِس دل کو مگر رنج تمھارا بھی نہیں تھا

فیضان میں دل کھول کے رکھتا بھی تو کس آگے
یاں مجھ سا کوئی درد کا مارا بھی نہیں تھا