011 - بجز غبار : فیضان احمد

بجز غبار نہ کوئی ہوا کے سامنے ہے
پھر ایک سنگِ ندامت انا کے سامنے ہے

مرا ہی دیدہءِ حیرت زدہ سمجھ اس کو
وہ آئینہ جو تری ہر ادا کے سامنے ہے

سفر تمام ہوا خیریت سے آخرِکار
درِ قبولیت اب التجا کے سامنے ہے

وہ لا جواب ہوا ہے یا مصلحت سے ہے چپ
یا بحرِ خامشی اُس کی صدا کے سامنے ہے

اِسے نصیب سمجھ لے یا امتحاں فیضان
جو تیرے اور ترے نا خدا کے سامنے ہے