002 - ہمارے مسائل اور ہمارے روّیے تحریر: مہر فاطمہ

ہمارے مسائل اور ہمارے روّیے

تاریخ کی ایک ادنٰی طالبعلم اور قاری ہونے کی حثییت سے جانے کیوں مجھے یقینِ کامل ہے کہ کسی قوم کی منزل کا تعین ہم راستے میں آنے والی خطرناک رکاوٹوں اور ان کے عبور سے نہیں لگا سکتے بلکہ یہ عام سی کچی پکی پگڈنڈیاں اور راستے کے چھوٹے چھوٹے موڑ ہوتے ہیں جو کہ منزل کا نشان بن جاتے ہیں۔ اسی طرح مجھے واقعات کی بانسبت روّیے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ کیونکہ واقعہ ایک فیصلہ ہوتا ہے اور روّیہ تمام پیش آئیند حالات و واقعات میں لیے جانے والے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلا دو روّیے ایسے تھے جنھوں نے مجھے بہت متاثر کیا، ایک رہنما کے طور پر اور دوسرا من حیث القوم۔

امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنے مالی سے شام میں ایک پودا لگانے کو کہا۔ پیڑ کا نام جان کر مالی نے بے اختیار کہا کہ جناب یہ نہال تو بہت ہی سست رفتاری سے بڑھتا ہے۔ اسے مکمل درخت بننے میں سو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ یہ جواب سُن کر صدر نے فورا کہا۔ ایسی صورتحال میں تو وقت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ایسا کرو تم اسے آج دوپہر میں ہی لگا دو۔

جنگِ عظیم دوئم کے دوران برطانوی وزیرِاعظم سر ونسٹن چرچل نے اپنی قوم سے التماس کی کہ وہ چینی کے استعمال میں کمی کر دیں بصورتِ دیگر ملک میں چینی کی قلت کے باعث چینی درآمد کرنا ہو گی جو قیمتی زرِمبادلہ کے زیاں کا باعث ہو گا۔ اس گزارش کا نتیجہ یہ تھا کہ چند ماہ بعد برطانیہ کا نام چینی برآمد کرنے والے ممالک میں نظر آ رہا تھا۔ کہیں پڑھنے میں آیا تھا کہ برطانیہ میں اُس نسل کے لوگ آج بھی بغیر چینی کی چاہے ہی پیتے ہیں۔

بظاہر یہ دونوں واقعات شائد تاریخِ عالم میں کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں مگر میرے نزدیک ان میں جھلکنے والے روّیے درحقیقت ان اقوام کی منزل کا فیصلہ کر رہے تھے۔ جس پودے کو سو سال میں سینچ کر آپ ایک ہرا بھرا درخت بنائیں گے تو پانچ سو سال تک اس کے پھل سے بھی فیض یاب ہوں گے اور کڑی دھوپ میں اس کے گھنے سائے تلے راحت بھی پائیں گے۔ جبکہ مستعجل اور وقتی حل قوموں کو جتنی جلدی آگے لے کر جاتے ہیں اتنی ہی جلدی واپس ابتدائی مقام سے بھی پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ اور اسی طرح جو قوم اپنے معمولات کی قربانی دینا جانتی ہو اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو قربان کر سکتی ہو وہ وقت آنے پر بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ گر کر اٹھنے اور اٹھ کر سنبھلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہی دو واقعات کی روشنی میں اب ہم اپنے رہنماؤں کے فیصلوں اور اپنی قوم کے روّیوں اور معمولات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ ہم بھی اپنی منزل کا سراغ پا سکیں۔

پچھلے دنوں پاکستان جانا ہوا۔ خالص دیسی ذائقے کا پاکستانی کھانا کھانے کی آرزو اتنی شدید تھی کہ لاہور ائیرپورٹ سے سیدھا فوڈ سٹریٹ گوالمنڈی کا رخ کیا۔ وہاں پہنچنے پر ایسا لگا جیسے کسی غلط جگہ پہنچ گئے ہوں۔ ادھر سے گزرتے ایک بھائی صاحب سے پوچھا کہ فوڈ سٹریٹ کدھر ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ "کہاں کی فوڈ سٹریٹ باجی، اُجڑ پُجڑ گیا سب کچھ" میں شائد ہی کبھی ان کے لہجے کا کرب اور اداسی بُھول سکوں۔ حیران کن پریشانی سے وضاحت کرنے کی استدعا کی تو انہوں نے بتایا کہ اہلِ محلہ کی اس شکایت پر کہ انہیں فوڈ سٹریٹ سے تنگی ہوتی ہے حکومت نے اسے بند کرنے کا فرمان جاری کر دیا ہے۔ ذرا غور کیجیے یہ لاہور کی وہ جگہ تھی جو سیاحوں کے ساتھ ساتھ لاہور کے رہائشیوں کے لیے بھی اچھے اور سستے ترین پاکستانی کھانوں کا مرکز تھی۔ ملک میں بڑھتے ہوئے فاسٹ فوڈ کے رحجان میں یہ بارش کا وہ پہلا قطرہ ثابت ہوئی تھی جس نے بعدازیں دوسرے شہروں میں بھی پاکستانی کھانوں کی لاج رکھی۔ اسی تازہ خیالی سے ہی متاثر ہو کر برطانیہ میں فوڈ سٹریٹ کھولی گئی تھی۔ اہلِ محلہ کی تنگی کے پیشِ نظر اس مسئلے کا سلجھاؤ تو واجب تھا مگر اس عارضی حل کی بجائے کچھ بہتر راستے بھی ہو سکتے تھے مثلا بحریہ ٹاؤن اور ایم این اے ٹاؤن وغیرہ کی جگہ ایک رہائشی بستی یہاں کے مکینوں کے لیے بھی بسائی جا سکتی تھی۔ ان کو کوئی بہتر اور متبادل جگہ فراہم کی جا سکتی تھی۔ یہ راستہ لمبا تو ضرور ہوتا مگر دیرپا اور مستقل حل دے جاتا۔ اور اتنا انتظار کون کرے۔ یوں بھی اس میں اتنی جلدی واہ واہ کی امید نہیں تھی۔ اسی طرح زرعی ملک میں آٹے کی قلت ہو جائے تو وجوہات کی تلاش اور ان کا تدارک محنت طلب کام ہے سو اس کا آسان حل ہمارے پاس موجود ہے "سستی روٹی"۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اسی طرح آسانیاں تلاش کرتے کرتے ہم وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں چاروں طرف سے ہمیں بحرانوں نے گھیر رکھا ہے مگر ہم ابھی بھی شارٹ کٹس ہی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اور جنھیں شارٹ کٹ میں زندگی گزارنے کی عادت ہو انہیں لمبے رستے کہاں بھاتے ہیں۔ کہ ان کی نظر منزل پر نہیں اپنے راستے کی آسانیوں پر ہی رہتی ہے۔ اختر عباس نے ایک جگہ کہا تھا۔ "شارٹ کٹ کتنا ہی صاف ستھرا کیوں نہ ہو اس کا میلا پن آنکھوں اور دل سے کبھی نہیں جاتا۔" لیکن شائد اس کے میلے پن کو محسوس کرنے کے لئے آنکھ نہیں بینائی درکار ہے اور وہ تو کہیں سے مستعار بھی نہیں ملتی۔

اسی طرح جب نظر رہنماؤں سے ہٹ کر ہماری قوم پر پڑتی ہے تو وہاں بھی روّیے قابلِ ستائش ہرگز نہیں ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت کئی دہائیوں کے شارٹ کٹ فیصلوں کی بدولت برقی توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک گھنٹہ کے لئے لوڈشیڈنگ کی جانی ہو تو ہم "یوپی ایس" کا استعمال کر کے اسے دو گھنٹوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم سے یہ کہا جائے کہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروبارِ زندگی کا آغاز صبح جلدی کر لیا جائے تاکہ رات میں بجلی کی بچت کی جا سکے تو ہم احتجاجاً ہڑتال کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ستر فیصد لوگ دن چڑھے سو کر اٹھنے کے باعث فجر کی نماز قضا کرنا پسند کر لیتے ہیں مگر رات میں جلدی سونا پسند نہیں کرتے۔ اگرچہ ہمیں اس کی بھی خبر ہے کہ کوئی قوم ہو یا کوئی فرد اوّل وقت سونے والے ہمیشہ خیروبرکت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ بعینہ جب ملک چینی کے بحران کا شکار ہو تو بھی مہمانوں کے لیے کھانے میں میٹھا نہ ہو تو ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے سو وہ بھی ضرور بنے گا۔ پہلے ہی کی طرح ملنے ملانے اور مبارکبادیوں کے لئے جانا ہو تو مٹھائیاں لے جانا بھی بہت ضروری ہے اور ساتھ ساتھ چینی کی قلت کا رونا بھی رویا جاتا رہے گا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ملک میں چینی کا بحران ہے سو مٹھائیوں کی کیا ضرورت ہے تو لوگ برا مان جاتے ہیں۔ ہم دھرنے دے سکتے ہیں، جلسے کر سکتے ہیں جلوس نکال سکتے ہیں توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں،یوٹیلیٹی سٹورز میں صبح سے شام تک لائینوں میں لگ کر دھکے کھا سکتے ہیں مگر اپنے معمولات میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اپنی خواہش کو قربان نہیں کر سکتے۔ یوں بھی چینی جیسی غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال ترک کرنے پر ہماری صحت پر جو مضر اثرات پڑیں گے اس سے ہو سکتا ہے کہ ہم شوگر جیسی عظیم بیماری سے محروم ہو جائیں۔

ہمارے حکمران ہمیشہ اسی تگ و دو میں رہتے ہیں کہ وہ اپنا دورِ حکومت آرام سے مزے کرتے گزار جائیں انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ اس وقت صحیح اور مشکل فیصلوں سے بچنے کی کوشش بعد ازاں ملک میں کن مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ رہی عوام، اس کے تو کیا ہی کہنے۔ اس کی خواہش ہے کہ اچانک کوئی محمد بن قاسم آئے، کوئی قتیبہ بن مسلم، کوئی موسٰی بن نصیر نمودار ہو اور پلک جھپکتے میں ہمارے سارے مسائل حل کر دے۔ اب ان خوابوں کی دنیا سے کنارہ کش ہو کر ہمیں حقیقت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لینا چاہییے۔ اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ صرف اور صرف ٹیم ورک ہی کامیابی کا وحد راستہ ہے ورنہ یہ ہوگا جو اس تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ اربوں کی مالیت اور سالوں کی محنت کا حاصل، ناسا کا یہ سٹیلائیٹ صرف پیچوں کا جائزہ لینے والوں کی غفلت کے باعث ناکامی سے دوچار ہو گیا۔

http://images.spaceref.com/news/2003/9.6.2003_01.lrg.jpg

ہم میں سے ہر ایک کو حتٰی کہ سڑک پر جھاڑو لگانے والے اور برگر میں کباب ڈالنے والے کو بھی اپنے کام کو اہم جاننا ہو گا اور اپنے حصے کی ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا۔ اب گھنے سایہ دار اور مضبوط درختوں کی بنیاد ہی ہماری ملّی زندگی کی واحد ضمانت ہے۔ جن کا پھل اور گھنا سایہ شاید ہمارے نصیب میں تو نہ ہو مگر ہماری آنے والی نسلوں کی خوشیوں اور راحت کا ضامن ضرور ہوگا۔ ہمارے روّیے جس کھائی کو ہماری منزل بناتے دکھائی دے رہے ہیں وہ اب کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اگر اب بھی ہم اپنے روّیوں کا موڑ مڑ جائیں، اپنی سمت درست کر لیں تو یقینا ایک خوبصورت منزل بانہیں کھولے ہمارا انتظار کر رہی ہو گی۔ اور میرا ایمان ہے کہ ان شاءاللہ ہم ضرور پلٹ آئیں گے کہ ابھی بہتری کی سوچ، آگے بڑھنے کے خیال اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کے خواب دیکھنے والی آنکھیں سلامت ہیں۔
__________________