004 - نقّارہ تحریر: احسان سحر

نقّارہ
پرانے وقتوں میں لوگ قلعوں کے اندر شہر بسا کر زندگی گذارا کرتے۔ سارا دن شہر سے کھیتی باڑی اور تجارت کرنے کے بعد رات کو تمام لوگ شہر میں داخل ہو جاتے اور ایک مخصوص وقت کے بعد قلعہ کا بڑا دروازہ بند کر دیا جاتا۔

رات کو بیرونی خطرات سے آگاہ رہنے کے لیے قلعہ کی چاردیواری پر پہرہ دار تعینات کیے جاتے تھے۔ جن کے پاس الاؤ جلانے کا پورا سامان ہوتا تھا تاکہ کسی بھی مشکل کی صورت میں الاؤ روشن کر کے دوسرے پہرے داروں کو مطلع کیا جاسکے۔

قلعہ کے دروازے کے ساتھ والی دیوار پر ایک بہت بڑا سا نقّارہ رکھا جاتا تھا۔ جب الاؤ جلائے جاتے تو تمام پہرے دار چوکنّے ہو جاتے۔ اور جس پہرے دار نے خطرہ دیکھا ہوتا وہ تیزی سے دیوار سے نیچے اترتا، گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس نقارے کے پاس پہنچ جاتا۔ جہاں پر افسر خاص موجود ہوتا جو کہ نقارہ بجا کر شہر کی سپاہ اور لوگوں کو طلب کرتا۔ اور انہیں خطرے سے آگاہ کرتا۔ پھر سپاہ کی میٹنگ کے بعد حفاظتی ضوابط طے کیے جاتے۔

اندرونِ شہر کی حفاظت کے لیے کوتوالِ شہر اپنے سپاہیوں کے ساتھ گشت لگاتا رہتا اور جہاں مشکل دیکھتا اس کو قاضی کی عدالت میں لے جاتا اور وہیں عدل کر دیا جاتا۔

شہر انتہائی کامیابی سے امن و سکون کے ساتھ رہتا اور وہاں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔

ایک دن یہ ہوا کہ نقارے کے پاس بیٹھے افسر خاص نےاندرونِ شہر ایک مسئلہ کو دیکھا اور نقارہ بجا دیا۔ سارا شہر جلدی جلدی شہر کے دروازے کے پاس پہنچا، حکام بالا بھی پہنچے۔ افسر خاص نے اندرون شہر کا مسئلہ بیان کیا۔ حکام بالا نے افسر خاص کی تعریف کی۔ کوتوالِ شہر اور قاضیِ شہر دونوں کو سخت سست کہا۔ کوتوال ختم کر دیا گیا۔ اور اندرون شہر کی حفاظت بھی شہر کے پہرہ داروں کے اس افسر خاص کے حوالے کر دی گئی۔ اب شہر کے پہرہ داروں کی توجہ اندرونی اور بیرونی دونوں طرف ہو گئی۔ جس کی وجہ سے پہرہ داری کے معاملات کا معیار گرنے لگا۔

معاملات کو سنوارنے کے لیے پہرہ داروں کی تعداد بڑھائی جانے لگی۔ لیکن زیادہ تعداد ہونے کے باوجود اندرونی اور بیرونی دونوں معاملات بگڑنے لگے۔ تقریباً ہر روز نقارہ بجنے لگا لیکن اب لوگ پہلے جیسے جوش و خروش سے شہر کے دروازے کی طرف نہیں آتے تھے۔

اب کئی دشمن حملہ آور خاموشی سے شہر میں داخل ہوتے اور انہی لوگوں جیسی وضع اختیار کرکے شب خون مارتے۔ جس سے شہر کو بہت نقصان ہونے لگا۔ لیکن اس شہر کے باسیوں کو پھر بھی سمجھ نہ آئی اور انہوں نے اپنے قوانین تبدیل نہیں کیے۔

دن گزرتے گئے۔ تجربہ کار پہرے دار مر گئے اس کے بعد ان کی جگہ ان کے بچوں نے لے لی۔

سنا ہے کہ اب وہ شہر بہت زیادہ زخمی حالت میں ہے۔ افسر شہر اور پہرے دار ابھی بھی دیواروں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ لوگ ان کی ویسے ہی عزّت کرتے ہیں۔

اور نقارہ اب ہر وقت بجتا رہتا ہے مگر کوئی بھی اس کی آواز سن کر اب اپنے شہر کی حفاظت کے لیے دروازے پر نہیں آتا۔