005 - واہ، گڈ (GOOD) تحریر: کاظمی

واہ، گڈ (GOOD)

یہ فیصل آباد ہے۔
کپڑے کا شہر، بلکہ کپڑوں کا شہر۔
جتنے کپڑے فیصل آباد کی خواتین پہنتی ہیں اتنے اور کسی شہر کی خواتین نہیں پہنتیں۔

در اصل فیصل آباد کی خواتین نے یہ راز پا لیا ہے کہ جو وقار اور عزّت بدن کو ڈھانپنے میں ہے وہ عیاں کرنے میں نہیں۔

اب تو یہ نعت کا شہر بھی ہے، محفلوں کا شہر۔ اور حاجی صاحبان کا شہر !

حاجی صاحب کو اپنی ہی بیوی سے محبت ہو گئی۔ ﴿لو، کر لو گل﴾۔ فیصل آباد میں یہ چلتا ہے۔

مگر رضائے الہی سے حاجی صاحب وفات پا گئے۔ حساب کتاب ہوا، اللہ تعالی نے سینکڑوں مزدوروں کی کفالت اور اپنی ہی بیوی کو محبوبہ بنانے کی پاداش میں حاجی صاحب کو جنّت میں داخل کر دیا۔ گل ہوئی ناں !

ادھر حاجن صاحبہ بھی اس جدائی کو برداشت نہ کر سکیں اور وہ بھی فوت ہو گئیں۔

ان کا حساب ویسے ہی کلیئر تھا، سارے اعمال نامے میں فیکٹری سے روزانہ لیٹ پلٹنے والے حاجی صاحب کے مسلسل انتظار اور سلائی مشینوں کی تقسیم کے سوا کچھ تھا ہی نہیں، انہیں سیدھا سیدھا حاجی صاحب والی جنّت میں ہی پہنچا دیا گیا۔

کیا کیفیت ہے، حاجی صاحب نوجوان، لشکتی چمکتی حاجن کو اتنے سارے زیوروں سے سجے بنے اپنے سامنے دیکھ کر شرما گئے۔

آپ اس دنیا میں جتنے اچھے اچھے کام کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو جنت میں آپ کا زیور بنا دیتے ہیں۔

حاجن صاحبہ بھی اتنے سجیلے اور بانکے حاجی صاحب کو چوری چوری تک رہی ہیں۔

عجب سماں ہے، ایک حور جوس لے کر آئی، حاجی صاحب نے فٹافٹ ایک گلاس لیا اور بولے "شاباش میرا پتر ِ"
محبت کی حد دیکھیں، حوروں کو پتر بنا کر بیٹھے ہیں، اللہ اللہ۔
جوس حاجن کو پیش کیا اور حور کو آنکھ ماری کہ کھسک لے۔

اندرو اندری حاجی صاحب کی بے چینی بڑھ رہی ہے، اچانک نہ جانے ذہن میں کیا آیا سامنے سے گذرتے ہوئے ایک فرشتے کو بلا کر حکم صادر فرما دیا "دیکھو تمھاری چاچی آگئی ہے، اب ہمارے نکاح کا بندوبست کیا جائے۔" فرشتہ یہ سن کر جلدی سے چلا گیا۔

اب حاجی اور حاجن بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔ دن، دو دن، مہینے، سال، کئی ۔ ۔ ۔ ہزار سال بعد فرشتہ واپس لوٹا، رنگ اڑا ہوا، کپڑے پھٹے ہوئے، بالوں میں خاک، پیڑا حال، اور آ کر چپ کر کے پر لٹکا کے ایک سائیڈ پہ ہو کے کھڑا ہو گیا۔

حاجی صاحب نے پوچھا "کاکا ! ایک چھوٹا سا کام کہا تھا، اتنا انتظار !"

صاحب، انتظار جنت میں کرنا پڑے یا جہنم میں، انتظار تو انتظار ہے۔
انتظار کرنا چھوڑئیے، اپنی زندگی ’خود‘ گزارئیے، یہی زندگی ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ ایک لفظ، صرف ایک لفظ کا درست استعمال آپ کی زندگی میں ہزاروں خوشیوں کا رس گھول سکتا ہے،

ایک لفظ، صرف ایک لفظ۔ وہ لفظ ہے ’واہ‘ یا ’گڈ‘ (Good)

اس واہ یا گڈ کے کئی انداز، کئی سٹائل ہیں۔ اور سچوئیشن کے مطابق اس کا اصل مفہوم اور تاثربھی مختلف ہوتا ہے۔

مثلاً آپ صبح واش روم جاتے ہیں، تولیہ، صابن اپنی جگہ، ٹب، لوٹا سب موجود، صاف ستھرا ماحول، مسواک، شیو کا سامان سب ترتیب سے سجا ہو ا تو آپ کے منہ سے ایک بے ساختہ واہ، گڈ پھسل کر فضا میں بکھر جاتی ہے۔

بیگم صاحبہ کو آٓپ کے پسندیدہ پکوانوں کے ساتھ ناشتے کی میز پر اخبار سے آپ کا پسندیدہ ورق کھولے ایک دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ موجود پا کر ایک تشکر آمیز اور توصیفی واہ، گڈ ایک بار پھر ماحول کو معطّر کر جاتی ہے۔

سنئے! گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ذرا دیر کو ٹھٹھکیے، پیچھے مڑ کر دیکھئے، ہلکا سا مسکرائیے اور آہستہ سے واہ، گڈ کے پھول اس پر نچھاور کرتے جائیے جسے اب شام تک آپ کا انتظار کرنا ہے۔

صاحب یہ واہ، گڈ اگر درست طور پر کہنا آ جائے تو پھر آپ اس کے جادو سے ہر جگہ بڑی خوبی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ماحول کو بدل سکتے ہیں، دل جیت سکتے ہیں، دوریوں کو سمیٹ سکتے ہیں، قربتوں کو بڑھا سکتے ہیں۔

ہم ایک صبح، بچوں والی صبح نہیں، سات بجے سکولے نہیں، بابوں والی صبح! کوئی ساڑھے گیارہ بجے دفتر میں داخل ہوئے تو ایک حادثے کا شکار ہو گئے مگر ہم نے اس المناک صورتحال کو جب اپنی مخصوص عینک سے دیکھا تو ہمیں اس میں پنہاں مسرّت و انبساط کے بے پناہ مواقع میسر آگئے۔ اس واقعہ کا احوال کچھ یوں ہے۔

.............
اک صبح، آفس میں
ایک ’کولیگ ‘ نے مجھ کو ’یو ایس بی‘ دی
اور کہنے لگی
اس میں ’وائرس‘ ہے، کوئی ’ اینٹی وائرس‘ بھی اس کو پکڑتا نہیں
میرے ’پی سی‘ میں بھی آگیا ہے، اور اب نکلتا نہیں
میں نے جھٹ سے لگا کے ’میک آفی‘ سے سکیننگ جو کی
وہ ’کلین‘ ہو گئی
اس کا ’ڈاٹا‘ اٹھا کے، ’ای‘ پر اک فولڈر ’V ‘بنا کے
اس کو ’کاپی‘ کیا
اوہ میرے خدا، کیا غضب ہو گیا
ایسا ’وائرس‘ چلا سارے سسٹم کا بیڑا غرق کردیا
’ونڈوز‘ دوبارہ کی، ساری ’سیٹنگ‘ نئی
’ڈاٹا‘ سب اڑ گیا۔ کچھ نہ باقی بچا
لیکن ’V ‘ فولڈر کس طرح بچ گیا ؟
اس کو کھولا تو بس دیکھتا رہ گیا
.................
ایک تصویر تھی
آنکھ بادام سی
پلک شمشیر سی اور غنچہ دہن
خوب کھلتا ہوا آتشیں پیرہن
دائیں کاندھے پہ جھکتی ہوئی زلف کی اک سنہری لڑی
کان میں اس کے یاقوت کی پھل جھڑی
کاغذی پھول کا ایک گجرا لئے
ہاتھ مہندی رچے
اورنظریں خلاؤں میں گاڑے ہوئے
ایک تصویر تھی
کون ہے؟
کچھ بتایا بھی تھا میری ’کولیگ‘ نے
پر میں سن نہ سکا، گم تھا میں، گم میرے ساتھ سارا جہاں
کون سنتا وہاں؟
ہم تو سن آئے تھے
ایسے پاکیزہ پیکر بہشتوں میں دیدار کو پائیں گے
جب وہاں جائیں گے
پر اسے دیکھ کر یہ یقیں ہو گیا
اپنی جنت زمیں
آسمانی بہشتوں سے کم تو نہیں
.......................

اتنی اچھی محفل، اتنے پیارے لوگ ، ہماری حاجن بھی موجود، صاحب ! اظہار محبت اور تجدید وفا کا ایسا موقع پھر کہاں، سو آپ سب کی اجازت سے دو شعر اپنی حاجن کی وفاؤں کے نام !

تیری مٹی میں رچا ہے، جو یہ خمیر وفا کا
تم پہ یہ خاص فضل ہے میرے خدا کا
مولا نے تجھے حسن، مجھے عشق دیا ہے
دم بدم شکر کرو، اس خاص عطا کا۔

گڈ ؟