006 - بنیاد پرست تحریر: ندیم اختر(پہلا باب)۔

بنیاد پرست

محسن حامد کے ناول "The Reluctant Fundamentalist" کا ترجمہ

پہلا باب

معاف کرنا دوست، کیا میں تمہاری کچھ مدد کرسکتا ہوں؟ اوہو، مجھے لگتا ہے میں نے تمہیں ڈرا دیا۔ دیکھو میری داڑھی سے بالکل مت ڈرو، میں تو امریکا کے چاہنے والوں میں سے ہوں۔ مجھے ایسا لگا جیسے تمہیں کسی چیز کی تلاش ہو، بلکہ شاید تم کسی مہم پر نکلے ہو۔ اور کیونکہ میرا تعلق اسی شہر سے ہے اور میں تمہاری زبان بھی جانتا ہوں، تو سوچا کیوں نہ اپنی خدمات تمہیں پیش کروں۔

مجھے تمہارے امریکی ہونے کا پتہ کیسے چلا؟ تمہاری جلد کی رنگت سے تو بہرحال نہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں ہر رنگ کے لوگ بستے ہیں۔ تمہارا رنگ میرے شمال مغربی علاقوں میں رہنے والے ہموطنوں جیسا ہے۔ نہ تمہارا لباس کوئی واضح شناخت ہے کہ کوئی یورپین سیاح بھی ایسے ہی لباس میں ہوسکتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمہارے چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے بال، یہ کشادہ چھاتی جو بے تحاشہ کسرت سے ہی حاصل ہوتی ہے اورتمہاری طویل قامتی ایک خاص طرح کے امریکیوں کی یاد دلاتے ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے کھلاڑی اور فوجی قریب قریب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان سب کے بجائے میں نے تمہیں تمہاری چال ڈھال سے پہچانا۔ تمہارے تاثرات سے لگتا ہے کہ تم نے میری بات کا برا مانا ہے جبکہ میں نے صرف اپنا مشاہدہ بیان کیا تھا۔

چلو، مجھے بتاؤ، کیا ڈھونڈ رہے تھے تم؟ یقیناً دن کے اس پہر صرف ایک ہی چیز تمہیں پرانے انارکلی کھینچ کر لائی ہوگی، چائے کے ایک زبردست کپ کی خواہش۔ تمہیں پتا تو ہوگا، انارکلی !جس کے نام پر یہ بازار ہے، ایک کنیز تھی جسے شہزادے سے عشق کے جرم میں دیوار میں چنوا دیا گیا تھا۔ تو میرا اندازہ درست ہے نا؟ پھر مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں اپنی پسندیدہ جگہ سے چائے پلواؤں۔ ہاں یہ رہی' اس کی دھاتی کرسیاں بہت آرام دہ نہیں ہیں اور میزیں بھی کچھ سالخوردہ سی ہیں۔ لیکن یقین کرو یہاں کھلے آسمان تلے جو چائے ملتی ہے اس کا جواب نہیں۔۔

تو تم نے ایسی نشست چنی جہاں تمہاری پشت پر دیوار ہے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن یہاں تم ہوا کے شام کی خوشگواریت بڑھانے والے جھونکوں سے ٹھیک سے لطف اندوز نہ ہو سکو گے۔ اور تم اپنی جیکٹ کیوں نہیں اتار رہے؟ امریکی اتنے پرتکلف تو نہیں ہوتے۔ کم از کم میرے تجربے کے مطابق تو نہیں۔ اور میرا تجربہ کچھ کم نہیں ہے۔ میں نے تمہارے ملک میں ساڑھے چار سال گزارے ہیں۔ کہاں؟ میں نیویارک میں جاب کرتا تھا۔ اور اس سے پہلے نیوجرسی کے کالج میں پڑھتا تھا۔ ہاں! بالکل ٹھیک۔ پرنسٹن ہی میں تو۔ کیا خوب اندازہ لگایا تم نے۔

پرنسٹن کے متعلق میری کیا رائے ہے؟ اس سوال کا جواب خود ایک داستان ہے۔ جب میں پہلے پہل وہاں پہنچا، اپنے اطراف کی بلند و بالا عمارتوں پر نظر ڈالی، جو درحقیقت شہر کی بیشتر مساجد کے بعد تعمیر ہوئی تھیں لیکن تعمیراتی فن کاری کےسبب کہیں قدیم دِکھتی تھیں۔ تو سوچا کہ بالآخر میرا خواب پورا ہوگیا۔ پرنسٹن نے جیسے میرےاندر اس سوچ کو پروان چڑھایا کہ زندگی ایک فلم ہے جس کا ہیرو میں ہوں جو کچھ بھی کرسکتا ہے۔ آخر کو یہ عظیم درسگاہ میری پہنچ میں ہے جس کے پروفیسرز اپنے اپنے شعبوں کے لیجنڈز ہیں اور ساتھ پڑھنے والے ایسے جو آگے چل کر دنیا کہ باگ دوڑ سنبھالیں گے۔

مجھے اعتراف ہے کہ کم ازکم ساتھی طلباء کے بارے میں اندازہ لگاتے ہوئے میں نے کچھ زیادہ کشادہ دلی سے کام لیا تھا۔ بیشک وہ سب بہت ذہین اور ہوشیار تھے لیکن دوسری طرف ہم صرف دو پاکستانی طلباء تھے جو اس کلاس میں داخل ہوئے۔ یاد رہے، دس کروڑ سے زیادہ کی آبادی سے صرف دو، کیونکہ امریکیوں کو داخلے میں درپیش آنے والی مشکلات ہم سے کہیں کم تھیں۔ تمہارے ایک ہزار ہموطنوں کو داخلہ ملا تھا، ہم سے پانچ سو گنا زیادہ، حالانکہ تمہارا ملک آبادی میں ہم سے صرف دوگنا ہے۔ نتیجتاً، ہم میں سے جو غیر امریکی تھے ان کی اوسط کارکردگی امریکیوں سے بہتر ہی رہتی تھی، اور میرے معاملے میں تو یہ صورتحال تھی کہ آخری سال تک پہنجتے پہنچتے میں نے کسی بھی مضمون میں ایک "بی" تک نہیں لیا تھا!

اب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو اس طاقتور نظام کی خوبیاں مزید آشکار ہوتی ہیں جو اپنی عملیت پسندی کے سبب کامیاب تھا۔ امریکا میں زیادہ تر معاملات میں یہی کیفیت ہے ۔ مجھ جیسے انٹرنیشنل طلباء کودنیا بھر سے بے شمار امتحانات، انٹرویوز، تحریری مقابلوں اور سفارشات کی چھلنیوں سے گزار کر چنا جاتا تھا۔ خود میں، پاکستان سے بہترین پوزیشن ہولڈر تھا اور یونیورسٹی کا سطح کا بہت اچھا فٹبالر بھی۔ فٹبال میں نے وہاں بھی خوب کھیلی، جب تک کہ تیسرے سال میں کھیل کے دوران میرا گھٹنا نہیں ٹوٹ گیا۔ مجھ جیسے طالبعلموں کو ویزا اور مکمل وظیفے سے نوازا جاتا تھا اور ہمارا ذہنی اور مالی طور پر برتر طبقات تک پہنچنا عین ممکن تھا ۔ بدلے میں ہم سے توقع رکھی جاتی تھی کہ ہم خود کو تمہارے معاشرے کا حصہ سمجھیں اور اسے اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچائیں۔ اور ہم میں سے زیادہ تر ایسا کرتے ہوئے بہت خوش تھے۔ میں تو یقیناً تھا۔ کم از کم شروع کے دنوں میں!

ہر سال ایک موقع آتا تھا جب پرنسٹن میں کارپوریٹ سیکٹر سے لوگوں کو مدعو کیا جاتا تھا تاکہ وہ اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء میں سے اپنے اداروں کیلئے ریکروٹس منتخب کرسکیں۔ یہ سب بےحد ذہین اور باصلاحیت ترین لڑکے لڑکیاں ہوتے تھے۔ لیکن مجھے اپنے آخری سال میں واضح طور پر یہ معلوم تھا کہ مجھ میں ایسا کچھ ہے جو مجھے باقی سب سے ممتاز کرتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ میں جس ادارے میں بھی چاہوں بآسانی جاب حاصل کرسکتا ہوں۔

سوائے ایک کے! "انڈروُڈ سیمسن اینڈ کمپنی۔" تم نے ان کے متعلق نہیں سنا؟ وہ ایک ویلیوایشن فرم تھی جو اپنے کلائنٹس کو کسی کاروبار کی قدروقیمت کا اندازہ لگا کر دیتی تھی اور اس کام میں ان کی صلاحیت کمال درجے کو پہنچی ہوئی تھی۔ افراد کی تعداد کے اعتبار سے وہ ایک مختصر ادارہ تھا لیکن وہاں کام کرنے والوں کی تنخواہیں شاندار تھیں، فریش گریجویٹس کے لئے اسّی ہزار ڈالر سالانہ تک! لیکن زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ان کا نام اتنا تھا اور وہاں دو تین سال تجزیہ کار کے طور پر گزار کر اتنا کچھ سیکھنے کو مل جاتا تھ کہ اس کے بعد ہارورڈ بزنس اسکول میں داخلہ یقینی تھا۔ اسی لئے پرنسٹن کے سال 2000کی کلاس کے سو کے قریب طلباء نے اپنے گریڈ اور ریسیومے انڈروُڈ سیمسن کو بھیجے، جاب کے لئے نہیں بلکہ انٹرویو کہ لئے، اور ان میں سے ایک میں بھی تھا۔

تم فکرمند دکھائی دے رہے ہو، بالکل مت ہو، یہ فربہ شخص صرف ہمارا ویٹر ہے۔ اور اپنی جیکٹ کے اندر کیوں ہاتھ ڈال رہے ہو، والٹ نکالنے کے لئے؟ اس کی ضرورت نہیں۔ پیسے ہم بعد میں دیں گے۔ چائے کیسی پیو گے؟ دودھ اور شکر والی یا گرین ٹی، یا پھریہ جو ان کی خاص پیشکش ہے، خوشبودار کشمیری چائے؟ بالکل ٹھیک فیصلہ کیا، میں بھی یہی لوں گا، اور ساتھ ایک پلیٹ جلیبیوں کی بھی۔ لو! گیا وہ۔ سچ کہوں تو وہ صرف دیکھنے کی حد تک خطرناک ہے۔ بات تو اتنے پیار سے کرتا ہے کہ بس۔ تم اگر اردو سمجھتے تو اس کی گفتگو کی مٹھاس تمہیں دنگ کردیتی۔

تو ہم کہاں تھے؟ اوہ ہاں، انڈروُڈ سیمسن ۔۔۔ اپنے انٹرویو والے دن میں اپنی عادت کے برخلاف قدرے نروس تھا۔ انہوں نے ایک اکیلے بندے کو انٹرویو لینے بھیجا تھااور پورے سوئیٹ کی بجائے صرف ایک کمرہ "نساؤ ان" میں اس مقصد کےلیے مختص کیا تھا۔ شاید وہ جانتے تھے کہ ہم پہلے ہی ضرورت سے زیادہ متاثر تھے۔ جب میری باری آئی تو کمرے میں داخل ہونے پر جو شخص نظر آیا وہ تمہاری ہی طرح ایک تجربہ کار آرمی آفیسر لگتا تھا۔ "چنگیز؟" اس نے پوچھا اور میں نے سر ہلایا کہ یہی میرا نام ہے۔ "آجاؤ آجاؤ، بیٹھو یہاں۔"

اس نے اپنا نام "جِم" بتایا اور یہ بھی کہ میرے پاس خود کو اس جاب کا اہل ثابت کرنے کے لئے پچاس منٹ تھے۔
"خود کو فروخت کرو۔" اس نے کہا۔ "آخر کیا کیا خصوصیات ہیں تم میں؟"

میں نے اپنے تعلیمی ریکارڈ سے شروع کیا، خاص کر اس بات کا تذ کرہ کہ اب تک کسی بھی مضمون میں مجھے ایک بھی "بی" نہیں ملا ہے۔

"مجھے یقین ہے کہ تم اسمارٹ ہو۔" وہ گویا ہوا۔ " لیکن یہاں اب تک میری جس کسی سے بھی ملاقات ہوئی، کسی کاایک بھی "بی" نہیں ہے۔"

مجھے جیسے دھچکا سا لگا۔ پھر میں نے اسے بتایا کہ مجھ میں مسائل سے نبرد آزما ہونے اور ان پر جلد قابو پالینے کی صلاحیت تھی۔ جب میرا گھٹنا زخمی ہوا تو اسے ٹھیک ہونے میں ڈاکٹروں کی توقع سے آدھا وقت لگا جس میں بہت کچھ دخل میری قوت ارادی اور سخت ٹریننگ کا بھی تھا۔ اور اب میں فٹبال تو نہیں کھیل سکتا لیکن ایک میل دوڑنے میں مجھے چھ منٹ سے بھی کم لگتے ہیں۔
"بہت اچھے۔" وہ بولا، اور پہلی دفعہ مجھے یوں لگا جیسے میں اس پر کوئی تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہا ہوں جب اس نے اضافہ کیا "اس کے علاوہ اور کچھ؟"

میں خاموش ہوگیا۔ تمہیں اندازہ تو ہوگیا ہوگا اب تک کہ مجھے بات چیت میں کتنا مزہ آتا ہے، مگر اس ساعت میں مجھے معلوم نہیں تھا کہ اب کیا کہنا ہے۔ میں ذہن میں یہ سوال لیے، کہ اب وہ مجھ سے کیا سننے کی توقع رکھتا ہے، اسے خود کو دیکھتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔ اس نے ٹیبل پر رکھے میرے ریسیومے کو ایک نظر دیکھا اور پھر اس کی آنکھیں ایک ایسے جوہری کی مانند مجھے پرکھنے لگیں جسے ایک ہیرا پسند تو آرہا ہو لیکن اسے خریدنے میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہ ہو۔ بالآخر کچھ وقت گزرنے پر، شاید وہ ایک منٹ بھی نہ ہو مگر مجھے اس کی طوالت کہیں زیادہ لگی، جِم نے کہا۔"کچھ بتاؤ مجھے، کہاں سے تعلق ہے تمہارا؟"

میں نے بتایا کہ میں لاہور سے ہوں، جو پاکستان کا دوسرا بڑا شہر، پنجاب کا دارالخلافہ اور آبادی کے لحاظ سے نیویارک کے برابرہے،ایک ایسا شہر جسے ماضی میں آریائی اقوام سے لے کر منگولوں اور برطانوی راج، سب کی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا اور پھر بولا " کیا تم مالی امداد پر ہو؟"

میں نے اسے فوراً جواب نہیں دیا۔ میں جانتا تھا کہ انٹرویو لینے والے کچھ موضوعات پر سوال کرنے کے مجاز نہیں ہوتے جیسے مذہب یا جنسی رجحان، اور میرا گمان تھا کہ فنانشیل ایڈ بھی انہی میں سے ہے۔ لیکن میری جھجک کی وجہ یہ تھی کہ اس سوال نے مجھے ڈسٹرب کیا تھا۔ پھر میں نے کہا۔ "ہاں۔" " اور کیا اس سے داخلے میں فرق نہیں پڑتا؟" اس نے پوچھا۔ "انٹرنیشنل طالبعلم جب امداد کے ساتھ داخلے کی کوشش کرتے ہیں تو نہ ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے نا؟"
میں نے پھر کہا"ہاں۔" "یعنی تمہیں پیسوں کی شدید ضرورت ہوگی تبھی تم نے ایسا کیا؟"
"ہاں۔" مجھے تیسری بار کہنا پڑا۔
جِم نے کرسی سے ٹیک لگائی اور ٹانگ پر ٹانگ چڑھالی، بالکل جیسے ابھی تم نے کیا ہے۔ پھر بولا :
"تم اتنے باتہذیب اور خوش لباس ہو۔ تمہارا لہجہ بھی متاثر کُن ہے۔ زیادہ تر لوگ تمہیں بہت امیر کبیر سمجھتے ہونگے۔" یہ سوال نہیں تھا اس لیے میں خاموش رہا۔ "کیا یہاں یہ بات تمہارے دوستوں کو معلوم ہے۔" وہ کہتا رہا۔ " کہ تمہاری فیملی تمہیں بنا وظیفے کے پرنسٹن بھیجنا افورڈ نہیں کرسکتی تھی؟"

جیسا کہ میں نے بتایا، یہ انٹرویو میرے لئے بےحد اہم تھااور میں جانتا تھا کہ مجھے ہر حال میں پرسکون رہنا ہے لیکن میرا پارہ چڑھنے لگا تھا اور اس طرح کے مزید سوالات برداشت کرنا میرے بس سے باہر تھا۔ لہٰذا میں نے کہا۔"معاف کرنا جِم، لیکن کیا اِن سب باتوں کا کوئی مقصد ہے؟" میری آواز کی بلندی اور لہجے کی تلخی، دونوں میرے ارادے سے بڑھ کر تھے۔

"یعنی انہیں نہیں معلوم!" جِم مسکرایا اور پھر بولا "تم میں غصہ ہے۔ مجھے اچھا لگا یہ دیکھ کر۔ویسے میں نے بھی پرنسٹن سے پڑھا ہے۔ 81 بیج" اس نے ایک آنکھ دبائی۔ "میں اپنے خاندان سے کالج جانے والا پہلا فرد تھا۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے میں ٹرینٹن میں رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا۔ اتنی دور اس لئے کہ کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ تو مجھے اندازہ ہے چنگیز۔ تم میں طلب ہے،آگے بڑھنے کا شوق، اور یہ ایک اچھی چیز ہے۔"

میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس نے میرا توازن بگاڑ دیا تھا۔ میری سمجھ سے باہر تھا کہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کروں مگر مجھے یہ ضرور معلوم تھا کہ میں جِم سے بےحد متاثر ہوا تھا۔ اس نے کچھ ہی دیر میں میرے اندر وہاں تک جھانک لیا تھا جہاں تک بہت سے دوسروں کی سالوں کی شناسائی کے باوجود رسائی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے سمجھ آنے لگا تھا کہ وہ ویلیوایشن کے میدان میں اتنا کامیاب کیوں تھا اور یہ بھی کہ اس کی کمپنی کو اتنا اونچا مقام کیوں حاصل تھا۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی تھی کہ اسے مجھ میں ایسا کچھ دکھا تھاجو اس کے نزدیک اہمیت کا حامل تھا۔ یہ سوچ کر میرا متزلزل اعتماد پھر سے بحال ہونے لگا۔

اگر تم اجازت دو تو ایک ضمنی بات کی وضاحت کردوں۔ میں غریب نہیں ہوں۔ ہرگز نہیں ہوں، کسی طور نہیں۔ میرے پردادا، مثال کے طور پر، ایک بیرسٹر تھے جن کے پاس اتنے وسائل تھے کہ انہوں نے پنجاب کے مسلمانوں کے لئے ایک بڑا اسکول قائم کیاتھا۔ ان ہی کی طرح میرے دادا اور والد نے بھی اعلٰی تعلیم برطانیہ میں حاصل کی تھی۔ ہمارا خاندانی گھر ایک ایکڑ پر بنا ہوا ہے اور گلبرگ میں ہے جو شہر کا سب سے مہنگا علاقہ ہے۔ ہمارے بہت سے نوکر ہیں، بشمول ڈرائیور اور مالی کے، اور یہ سب چیزیں امریکا میں بہت دولتمندی کی نشانیاں ہوتی ہیں۔

مگر ہم بہت امیر بھی نہیں ہیں۔ ہمارے گھرانے کے مرد اور عورتیں ۔۔۔ ہاں، عورتیں بھی ۔۔۔ سب کام کرنے والے، پروفیشنل لوگ ہیں۔ اور میرے پردادا کی وفات کے بعد جو نصف صدی گزری ہے وہ پاکستان میں پروفیشنلز کے لئے بہت شاندار نہیں رہی۔ تنخواہوں میں مہنگائی کی نسبت سے بہت کم اضافہ ہوا ہے جبکہ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مستقل گرتی رہی ہے۔ اور ہم میں سے جن کے پاس خاندانی جائیدادیں تھیں وہ نسل در نسل تقسیم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھیں۔ لہٰذا جو کچھ میرے پردادا افورڈ کرسکتے تھے وہ میرے دادا نہیں کرسکتے تھے اور ظاہر ہے میرے والد کی استطاعت ان سے بھی کم تھی۔ اس لیے جب مجھے کالج بھیجنے کا وقت آیاتو اس کے لئے درکار رقم ہمارے پاس نہیں تھی۔

لیکن کسی بھی روایتی اور طبقاتی سوچ کے حامل معاشرے کی طرح ہمارے ہاں بھی اسٹیٹس، دولت کے مقابلے میں کم رفتار سے نیچے آتا ہے۔ چنانچہ ہماری پنجاب کلب کے رکنیت بدستور برقرار ہے۔ ہم اب بھی شہر کی اشرافیہ کی پارٹیوں، شادیوں اور دیگر تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک نئے طبقے نے ترقی کے زینے طے کئے ہیں۔ ہم اِن قانونی اور غیر قانونی طور پر نئے نئے کاروبار کرکے دولت کمانے والوں کی طرف رشک اور حسد کے ملے جلے جذبات سے دیکھتے ہیں۔ ان کی سڑکوں پر پھسلتی "بی ایم ڈبلیو" اور "ایس یو وی" گاڑیوں کو بظاہر نظر انداز کرتے ہیں اور دل ہی دل میں سراہتے ہیں۔ ہماری کیفیت شاید انیسویں صدی کے یورپ کی اشرافیہ سے ملتی جلتی ہے جنہیں درمیانے طبقے کی ترقی نے حواس باختہ کردیا تھا۔۔ سوائے اس فرق کے کہ یہاں ہم جیسے سابق امراء اور درمیانہ طبقہ ایک ہی بحران سے دوچار ہیں۔ کہ جو ہم پہلے خرید سکتے تھے اس میں سے بہت کچھ اب ہماری پہنچ سے باہر ہے۔

جن لوگوں کو ایسی صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے ان کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو یہ سمجھتے اور ظاہر کرتے رہیں کہ سب اچھا ہے، یا پھر کمر کسَ لیں اور سخت محنت کرکے حالات کو پرانی ڈگر پر لانے کی کوشش کریں۔ میں نے بیک وقت دونوں کا انتخاب کیا۔ پرنسٹن میں، میں نے خود کو ایک نوجوان شہزادے کے طور پر پیش کیا جس کا ہاتھ بہت کھلا ہو اور جسے دنیا کی کوئی پرواہ نہ ہو۔ پر ساتھ ساتھ جتنی خاموشی سے ممکن ہوا، میں تین تین آن کیمپس نوکریاں بھی کرتا رہا۔ میں ایسے مقامات کا انتخاب کرتا تھا جہاں لوگوں کی آمدورفت کم سے کم ہو جیسے دور افتادہ اور میرے کورسز سے غیر متعلقہ ڈپارٹمنٹس کی لائبریریاں۔ وہاں میں رات رات بھر اپنی کلاسز کی تیاری بھی کرلیتا تھا۔ میرے زیادہ تر ملنے والے مجھے وہی سمجھتے تھے جیسا میں نے خود کو ظاہر کر رکھا تھا۔ پر جِم ان میں سے نہیں تھا۔ اب یہ میری خوش قسمتی کہ جو بات میرے لیے شرمندگی کا سبب تھی اس کے نزدیک وہ خوبی یا صلاحیت تھی۔ اور وہ، جیسا کہ مجھے بعد میں سمجھ آیا، اپنے خیال میں بڑی حد تک درست تھا۔

لو، ہماری چائے آگئی۔ اسے اتنی مشکوک نظروں سے مت دیکھو ۔ میرا یقین کرو، اسے پی کر تمہیں کچھ نہیں ہوگا، پیٹ میں درد تک نہیں۔ اس لیے کہ اس میں زہر بالکل نہیں ملا ہوا۔ چلو، تمہاری تسلّی کے لئے ہم اپنے کپ بدل لیتے ہیں۔ اب ٹھیک ہے؟ شکر کتنی لو گے؟ بالکل نہیں؟ حیرت ہے، لیکن میں اصرار نہیں کروں گا۔ یہ مٹھائی تو کھا کر دیکھو ذرا، جلیبی کہتے ہیں اسے، لیکن احتیاط سے، بہت گرم ہے یہ۔ مجھے لگ رہا ہے کہ تمہیں پسند آئی ہے۔ یہ ہے ہی اتنی مزیدار۔ کتنی عجیب سی بات ہےناں کہ چائے کاایک گرماگرم کپ ایسے گرم دنوں میں بھی تروتازہ کردیتا ہے۔

میں تمہیں بتا رہا تھا کہ کیسے جِم نے مختصر دورانیے میں ہی مجھے جانچ لیا تھا۔ میں انتظار میں تھا کہ دیکھوں اب وہ کیا کہتا ہے۔ جب وہ بولا تو اس کے الفاظ تھے:
"ٹھیک ہے چنگیز! چلو اب تمہارا امتحان بھی ہوجائے۔ میں تمہیں ایک کمپنی اور اس کے کاروبار کے بارے میں بتاتا ہوں۔ تم مجھے بتاؤ کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہوگی؟ تم اس بارے میں جو چاہو پوچھ سکتے ہو۔ اور حساب کتاب کے لئے کاغذ قلم بھی استعمال کرسکتے ہو۔ تیار ہو؟ " میرے مثبت جواب پر اس نے بات آگے بڑھائی ۔ "تمہیں تھوڑا سا کری ایٹو ہونا پڑے گا۔ ویسے کمپنی تو بہت سادہ سی ہے۔ وہ صرف ایک ہی قسم کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ "پلک جھپکتے میں سفر"۔ تم ان کے نیویارک میں بنے ہوئے ٹرمینل میں داخل ہوئے اور اگلے لمحے وہاں سے غائب ہوکر لندن میں بنے ٹرمینل میں ظاہر ہوگئے۔ جیسے "اسٹار ٹریک " میں ٹرمینلز ہوتے ہیں۔ سمجھ گئے ہو۔ ٹھیک ہے تو پھر شروع ہوجاؤ۔"

میں نے خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن اندر سے میں گھبرا سا گیا تھا۔ آخر کوئی اس طرح کی فرضی اور حقیقت سے دور کمپنی کی قدروقیمت کیسے متعین کرسکتا تھا۔ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ شروع کروں تو کہاں سے ۔ میں نے جِم کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔چنانچہ میں نے ایک گہری سانس لی اور آنکھیں بند کرلیں۔ فٹبال کھیلتے ہوئے میں خود پر ایک خاص کیفیت طاری کرنے کی کوشش کرتا تھا جس میں میری اپنی ذات، اس سے وابستہ مسائل اور شکوک شبہات کہیں چھپ جاتے تھے اور میری ساری توجہ کھیل کی طرف منتقل ہوجاتی تھی ۔ اس کیفیت میں میں خود کو ناقابلِ تسخیر محسوس کرتا تھا۔ شاید دورِ قدیم کے جنگجو کسی خونریز معرکے سے قبل موت کے خوف پر حاوی ہونے کے لئے کچھ ایسا ہی کرتے ہوں گے۔

اور میں اس کیفیت کے حصول میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے اپنی ساری توجہ کیس میں آگے بڑھنے پر مرکوز کردی۔ میرے ابتدائی سوالات ٹیکنالوجی سے متعلق تھے، کہ وہ کتنی قابلِ بھروسہ اور محفوظ ہے، نیز یہ کہ پختگی کی کس منزل پر ہے۔ " پھر میں نے جِم سے ماحول کے متعلق پوچھا۔" کیا اس کمپنی کا کوئی براہِ راست مد مقابل ہے؟ اگر کسی سپلائی میں نقص رہ جائے تو حکومتی اداروں کا رویہ کیا ہوگا۔ اس کے بعد میں نے اپنی توجہ قیمتوں اور خرچ کی طرف مبذول کی۔ پھر آمدنیوں کی باری آئی۔ میں نے کنکارڈ کو موازنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے آدھے وقت میں سفر پر کرائے میں ہونے والے اضافے کو مثال بنایا اور اندازہ لگایا کہ وقت صفر کردیا جائے تو کتنا مزید وصول کیا جانا چاہیے۔ جب میں یہ سب کچھ کرچکا تو میں نے منافع کو مستقبل کے اعتبار سے شمار کیا اور پھر موجودہ قدر کے لحاظ سے اس میں کمی کردی۔ بالآخر میں ایک تخمینے تک پہنچ گیا۔

"دو اعشاریہ تین بلین ڈالرز۔" میں نے کہا۔
جِم ایک لمحہ خاموش رہا، پھر اس نے سر جھٹکا۔"ناقابلِ یقین۔" وہ بولا۔ "کیا تمہیں لگتا ہے کہ لوگ اس طرح کی چیز کو باآسانی قبول کرلیں گے۔ کیاخود تم بخوشی ایک ایسی مشین میں داخل ہونا چاہو گے جو تمہارے مادّی وجود کو برقی رو میں بدل کر ہزاروں میل کا سفر اسی حالت میں کروائے؟ زیادہ تر لوگ انڈروڈ سیمسن کو پیسے دیکر اسی طرح کے لغو حسابات لگوانا چاہتے ہیں۔" میرا منہ لٹک گیا۔ "لیکن۔" جِم نے بات جاری رکھّی۔ "تم میں وہ صلاحیت ہے جو اس کام کے لیے درکار ہے۔ ضرورت صرف تربیت اور تجربے کی ہے۔" اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ "میں تمہیں جاب آفر کرتا ہوں۔ فیصلہ کرنے کے لیے تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے۔"

مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ سنجیدہ ہے، کیا مجھے کچھ اور مراحل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ "ہم ایک مختصرادارہ ہیں جو وقت ضائع کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔" وہ بولا۔"پھر یہ بھی ہے کہ نئے تجزیہ کاروں کی شمولیت سراسر میری ذمہ داری ہے ۔ اس کے لیے مجھے کسی اور کا مشورہ درکار نہیں ہوتا۔" مجھے احساس ہوا کہ اس کا ہاتھ بدستور مصافحے کے لیے بڑھا ہوا تھا۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ اسے پیچھے نہ ہٹالے، میں نے جلدی سے بڑھ کر اسے تھام لیا۔ اس کی گرفت مضبوط تھی اور اس لمحے جیسے اس میں میرے لیے پیغام تھا کہ انڈروُڈ سیمسن کا حصہ بن کر اس کی طرح میری زندگی بھی تبدیل ہوجائے گی۔ اس حد تک کے میرے دولت اور اسٹیٹس سے وابستہ سب خدشات ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔

اس روز اپنے ہوسٹل کی طرف بڑھتے ہوئے مجھے آسمان معمول سے زیادہ نیلا محسوس ہوا، آج کے غبار آلود نارنجی آسمان سے یکسر مختلف۔ میں نے اپنے اندر ایک فخر سے بھرپور امنگ اٹھتی محسوس کی جو اتنی طاقتور تھی کہ میں نے سر اوپر اٹھایا اور پوری طاقت سے، جس نے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ خود مجھے بھی حیران کیا، چِلّایا۔ "تھینک یو، گاڈ۔"

ہاں، اب بھی پرنسٹن کی یاد اسی طرح میرے دل ودماغ کو سرخوشی اور تروتازگی سے بھر دیتی ہے۔ پرنسٹن، جس نے میرے لیے ہر چیز کو ممکن بنا دیا تھا۔ لیکن وہاں ہوتے ہوئے بھی کچھ چیزوں کو نہ میں بھولنا چاہتا تھا، نہ کبھی بھول سکا۔ جیسے اپنے آبائی شہر کی یہ گاڑھی، میٹھی اور ملائی دار چائے۔ اس کی تو پھر بات ہی کچھ اور ہے نا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے اپنا کپ ختم کرلیا ہے۔ مجھے اجازت دو کہ میں اسے دوبارہ سے بھر دوں۔

اختتام باب اوّل