007 - دنیا کا پل صراط پہلا حصہ تحریر: روشنی

دنیا کا پل صراط

ہانگ کانگ روشنیوں کا ملک ‘جہاں کبھی رات نہیں ہوتی۔ فلک بوس عمارات کاایسا جنگل جہاں سورج کو بھی زمین چھونے میں دشواری ہوتی ہے۔۔ رات کو مصنوعی روشنیوں کا ہجوم دن کا سماں بنائے رکھتا ہے۔۔ اتنی چکاچوند میں سائے بھی اپنا منہ چھپا لیتے ہیں۔کنکریٹ کے اس جنگل میں ایک ساٹھ منزلہ پروس پرس گارڈن کی اپنی الگ ھی چھب ہے۔
بیسواں فلور پروس پریس گارڈن
اسلامک سنٹر کے صدر خالد علوی نے ایک فلیٹ میں ذیلی مدرسہ قائم کیا تھا،جو مرکزی مسجد کے دور ھونے کی وجہ سے مشکل کے شکار مسلمانوں کے لئے در رحمت ثابت ھوا ۔اس مدرسےکی امامت ایک عربی نژاد بزرگ مولانا صدیق کے ذمے تھی۔۔ انہوں نے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر مدرسے کو سونپی تھیں۔۔

مدرسہ کے بالکل سامنے والا فلیٹ ایک عیسائی جوزف کا ہے'ہر ویک اینڈ اس ،سب کےدوست وہاں ہنگامہ برپا کیے رکھتے ہیں۔۔پینا پلانا' ناچ گانا ان کا شغل ہوتا ہے۔ جوزف اور اسمتھ بزنس پارٹنر ہیں۔۔ کیتھی اسمتھ کی بہن ھے اور ڈاکٹر ہے ۔ جوزف اور کیتھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ان تینوں کی تکون ،پانچ سال سے اکٹھی ہے،ایک دوسرے میں گم ،اردگرد سے بےنیاز ،سیدھی سادی زندگی گزارتے ہوئے' آنے والے لمحوں کے خواب بنتے دن گزر ریے تھے کہ وقت نے پلٹا کھایا اور اک نئی کہانی شروع ہوگئی ۔

* ...................... * ..................... *
مولانا صدیق مدرسے میں صفوں کی درستگی کے دوران ملنے والے کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اٹھا کر فلیٹ سے باہر کچرے کی بالٹی میں پھینکنے کے لئے گئے۔۔وہاں ایک طرف پڑی شراب کی خالی بوتلوں کو دیکھ کر ان کے دل میں ٹیس سی اٹھی'آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئےاور لبوں پر نہ چاہتے ہوئے بھی اک شکوہ سا آ گیا۔۔

"تو نے اے میرے رب! دنیا کے سانپ ،بچھو تو دکھا دیئے۔۔ مولا !آخرت کے سانپ' بچھو چھپا دیئے ،میٹھی میٹھی لذتوں میں ،میٹھا زہر بنا کر۔۔
یہ کیسے لوگ ہیں' جو آخرت کے سانپ ہاتھوں میں لے کر پھر رہے ہیں ،یہ بے خبر اور مدہوش ،کیسی ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں؟
یہ تیرے بندے ہیں مولا! تیری ہی محبت و رحمت سے محروم ۔ یہ محروم ہی رہے تو ہلاک ھو جائیں گے ۔تو اپنی اس رحمت کے در کھول دے مولا! جو تیرے غضب پر حاوی ھے ۔تیرے ہاں تو کوئی کمی نہیں ۔۔تو چایے تو دل بدل دے ۔دل بدل دے مولا!۔۔۔۔"
گھٹی گھٹی سسکیاں اور آنسوؤں سے بندھی ہچکیاں ماحول میں عجیب سی اداسی پیدا کر رہی تھیں۔۔

شراب کی چند مزید بوتلیں کچرے میں پھینکنے کے لئے آتے ہوئے ساتھ والے فلیٹ کے جوزف نے حیرت کے ساتھ ،اس ضعیف شخص کو شراب کی خالی بوتلوں کے پاس روتے دیکھا اور نا سمجھی کی کیفیت میں گھر سے شراب کی ایک بوتل اٹھا لایا اور اس روتے ہوئے شخص کی طرف بڑھادی۔۔

مولانا نے وہ بوتل ایسے اٹھا کر پھینکی' جیسے ھاتھ میں سچ مچ کاسانپ آگیا ہو۔۔
جوزف نے غصے اور حیرت سے ملے جلے جزبات سے اس شخص کو دیکھا اور کچھ کہے بنا لفٹ سے نیچے چلا گیا۔۔

* ......................... * .......................... *
تائی مو شان پارک ،ہانگ کانگ کا اک مشہور پر فضاء مقام ھے ،کچھ لوگ یہاں باربی کیو کے لیے آتے ھیں ،اور کچھ منچلے اس کی اونچی پہاڑیوں ،گہری گہری کھائیوں اور بادلوں سے گھری چوٹیوں میں اپنی زندگی کے لمحوں کو امر کرنے آتے ہیں۔۔
یہ جوزف ،کیتھی اور اسمتھ کا پسندیدہ پکنک اسپاٹ تھا۔۔ جہاں وہ ہر آنے والی نئی خوشی کا جشن مناتے تھے ،بلندی کی انتہاء پر' بادلوں کے بیچ'دنیا کی کثافتوں سے دور ،خوشیوں کے ان لمحات کو ہمیشہ کے لیے ایک اچھی یاد بنا دیتے تھے۔۔

آج کا دن بھی ان کی زندگی کا اہم دن تھا ،جوزف اور کیتھی اپنے ساتھ کو رشتے میں باندھنا چاھتے تھےاور اسمتھ ان کی خوشی میں شریک ان کو ورلڈ ٹؤر کا سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔

وہ تینوں اپنے اپنے طور زندگی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔۔ پاس کھڑا کاتب تقدیر کچھ اور رقم کر رہا تھا۔۔

انسان اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اپنے طور پر کر رہا ھوتا ھے اور مقدر مسکرا کر' کوئی آہٹ کیے بنا اپنا فیصلہ سنا کر زندگی کی راہ ہی بدل دیتا ہے'اور انسان کو ان انجان رستوں پر چلنا پڑتا ہے'اس طے کردہ منزل کی جانب' جس کا انتخاب اس کے لیے کیا جا چکا ہوتا ہے۔۔

ان تینوں نے مل کر گاڑی میں سے کھانے پینے کی چیزیں باہر نکالیں اور حسب معمول پہاڑ کی چوٹی پر پہلے کون پہنچے گا' شرط لگائی۔۔

جوزف پہاڑی کے بیچوں بیچ بنی پتلی سی پگڈنڈی پر جلدی جلدی پہاڑ کی چوٹی کی جانب تیز تیز اپنے قدم بڑھا رہا تھا' تاکہ ہمیشہ کی طرح وہ کیتھی اور اسمتھ سے جیت جائے' منزل پر پہنچ کر اس نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس اندر کی جانب لیا' ہوا کی تازگی کو محسوس کیا اور دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں ' اسے محسوس ہوا جیسے بادل کسی غیر مرئی صورت میں اس کے سامنے آکھڑے ہوئے ہوں۔۔اس کے سینے پر اک گھونسا سا پڑا کچھ انہونا سا احساس دامن گیر ہوا اور سرگوشی سی سنائی دی۔۔
" پڑھو۔۔۔۔۔۔۔!"
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔۔۔""
اس نے ہڑبڑا کر اپنا سر جھٹکا۔ شبیہہ بادلوں میں تحلیل ہوگئی اور جوزف اس سوچ میں پڑ گیا' آیا یہ خواب تھا یا حقیقت۔۔۔

* ..................... * ...................... *
کیتھی اور اسمتھ ایک ساتھ چوٹی پر پہنچے۔۔ جوزف کو پہلے سے موجود پا کر مسکرائے اس کے گرد روشنی کا ہالہ دیکھ کر حیرانگی سے جوزف سے دریافت کیا۔۔
"وہ کدھر بادلوں میں گم ہو گیا تھا؟یہ کیسی روشنی تھی؟"
جوزف نے کچھ کہے بنا ء نیچے اترنا شروع کر دیا' کیتھی اور اسمتھ حیران اس کے پیچھے اترنے لگے۔

اس کی خاموشی پر ان دونوں نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔

"ھمم۔۔۔ "اسمتھ نے کھنکار کر اس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔

تو میرے پیارو !نئی زندگی کی شروعات پر میری طرف سے آپ کا تحفہ۔۔"اسمتھ نے دو ٹکٹ نکال کر انکی طرف بڑھائے۔۔

"کیتھی کے سہ روزہ سمینار کے بعد اس کی تعطیلات منظور ہو گئی ہیں اور بزنس تو میں دیکھ لوں گا اس لئے تمہارا تو مسئلہ نہیں ہوگا۔۔"کیتھی نے ٹکٹ لے لئے۔۔ جوزف نے مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا۔۔

"ٹھیک تو ہو تم اور چپ چپ بھی'اس خوشی کے موقع پر۔۔"کیتھی نے مذاق میں اس کے سر کو چھو کر کہا'اس کا جسم تپ رہا تھا۔۔
"تمہیں تو اتنا تیز بخار ھے۔۔" اس نے تشویش سے کہا

"کچھ کھا لو ،پھر دوا لے لینا۔۔"پورک سینڈوچ اس کی طرف بڑھاتے ھوئےکہا۔۔

اور خود گاڑی سے دوا لینے چل دی' پہلا نوالہ ہی منہ میں گیا تھا کہ جی متلا گیا 'کھایا پیا سب باھر آگیا۔۔
اس کی طبیعت کی خرابی دیکھتے ہوئے۔۔اب وہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔ ان تینوں نے واپسی کی راہ لی ۔ وہ گھر پہنچ کر بے سدھ ہوگیا تھا۔
کیتھی نے سہ روزہ سمینار کے لیے بیجنگ جاناتھا اور اب جوزف کی جگہ اسمتھ کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑ رہا تھا۔۔

*........................... * ........................... *
تحریم خالد علوی کی اکلوتی بیٹی اپنی ماں اور بی اماں (دادی) کے ساتھ مظفر آباد میں رہائش پذیر ھے۔ عکرمہ اس کی خالہ کا بیٹا ھے۔ جو ہانگ کانگ میں ٹریڈنگ کے شعبے سے وابستہ ہے۔۔

خوبصورتی تحریم کی کمزوری تھی اور شاید جنون بھی۔۔اب وہ چاہے جگمگ کرتے چہرے ہوں یا دیواریں' یا انگارے اسےفرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔

*.................... * ...................... *
کالی گھٹائیں گھرگھر کر آ رہی تھیں'بادل بوجھل بوجھل چھلک جانے کو بے تاب تھے،ھوا مست ھو کر خزاں رسیدہ پتوں اور خاک کو اڑائے لیے جا رہی تھی'گھر کے کھلے دروازے'کھڑکیاں بج بج کر کسی آنے والے طوفان کا پتہ دے رہے تھے اور عید کے سلسلے میں کی جانے والی صفائی کا صفایا ھو رہا تھا۔۔

تحریم نے افسردگی سے آندھی کے بقایاجات کو دیکھا اور کمر پر دوپٹا کس کر دوبارہ صفائی میں جت گئی۔۔

"میری سوھنی تحریم ! نماز کا وقت تنگ ہو رہا ھے'پہلے سجدہ دے لے'پھر کرتی رہنا صفائیاں۔ یہ گرد مٹی'دھول سے اتنی نفرت کیوں بیٹا۔۔ یہی ہمارا گزرا ہوا کل تھا اور یہی آنے والا کل۔ اپنا تو سارا وجود ہی مٹی ہے'اس مٹی کو کہاں کہاں سے صاف کرو گی۔۔"
اماں کا نصیحت نامہ کھل گیا تھا'تحریم سنی ان سنی کرتے اپنے کام میں لگی رہی۔۔

"پڑھ لوں گی اماں!ابھی بہت وقت ھے۔۔"تحریم بھی کہاں ماننے والوں میں سے تھی ۔

"کب ،عصر ،مغرب اکٹھے ؟" اماں نے سوال داغا۔۔

اماں کی گھوریوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ آہستہ سے نہانے چل دی۔

سورج افق کے اس پار پہنچ چکا تھا'مؤذن صدائے تکبیر بلند کر نے ھی والے تھےکہ تحریم خراماں خراماں ٹہلتے جا کر عصر کے فرض ادا کر نے لگی ۔۔

ادھر اذان مغرب ھوئی اس نے دعا افطار پڑھی اور پاس پڑی پانی کی بوتل کو کھڑے کھڑے منہ لگا لیا۔۔

اماں نے سو دفعہ دہرائی ھوئی نصیحت دہرائی۔۔"پانی بیٹھ کر پینے میں کتنی دیر لگتی ھے ؟ اتنی بے دردی سے سنت کو ضائع کر دیتی ہو۔۔"

" اماں مغرب میں دیر ھو جائے گی نا' اس لیئے۔۔" وہ توجیہہ پپیش کر کے منظر سے ھٹ گئی اور بی اماں گہری سو چ میں ڈوب گئیں ۔

نماز کے بعد تحریم اماں کے ھاتھ لگی تو انہوں نے اس کے بھاگنے سے پہلے ہی اسکی شادی کا موضوع چھیڑ دیا۔۔

"عکرمہ اچھا جوان ہے۔ تمہارے بابا تمہاری اور اس کی نسبت طے کرنا چاھتے ہیں۔۔" اماں نے آخر کار پٹاری کھول ہی دی

"کیا اچھائی ھے عکرمہ میں ؟ہمیں بھی تو پتا لگے۔۔" تحریم نے ناگواری سے کہا۔۔

"دیکھا بھالا'دین دار' اپنی برادری کا'ذمہ دار۔۔۔۔۔" اماں کی بات پوری ہونے سے پہلے تحریم نے کاٹ دی۔۔

"اماں آپ مجھے سمجھ نہیں پائیں یا سمجھنا چاھتی ھی نہیں ؟ آپ کو عکرمہ کا توے کی طرح کا رنگ نظر نہیں آیا۔۔آپ ابا کو منع کر دیں' اور ان سے یہ کہہ دیجیے گا کہ عکرمہ میرے بھائیوں جیسا ہے'مجھے یہ رشتہ قبول نہیں۔۔"

اماں کے چہرے پر اک سایہ سا آکر گزر گیا ۔

* ........................ * ................... *
اسےمحسوس ہوا ،وہ ایک تاریک صحرا میں اوندھا پڑا ہے اور ایک روشنی کا ہیولا اڑتا ھوا اس کے قریب آ رہا ہے ،سناٹے میں نامانوس سی سرگوشیاں سنائی دینے لگی۔
اٹھو ،پڑھو ،
. اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO
وقت کم ہے ،جلدی کرو
اھد نا الصرالط المستقیم
سرگوشیاں بلند ہوتی گئی
چہرے پر اک عجیب سی بے چینی رقم ہے ،وہ اضطراری انداز میں مٹھیاں بھینچے کھولے جا رہا تھا۔ ،سرگوشیاں بلند تر ہوتی گئی ،روشنی کے ہیولے نے اسے گھیر لیا اور اک چیخ کے ساتھ اس کی نیند ٹوٹ گئی ۔

اس کا سارا جسم پسینہ سے بھیگا ہوا تھا ،حلق میں جیسے کانٹے سے اگ آئے تھے ،اس نے ہاتھ بڑھا کر بستر کے کنارے ٹیبل لیمپ آن کیا ،اور پاس پڑی اسکاچ کی بوتل منہ سے لگا لی ۔

دوسرے ہی لمحے اسے ایسا محسوس ھوا جیسے اس کے اندر آگ سی بھر گئی ہے ،ساری پی ہوئی قے کی صورت میں باہر نکل رہی تھی ،اسکاچ کی بوتل ہاتھ سے گر کر بجلی کی ساکٹ پر گر پڑی ،اور سارا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا ۔

اس نے بستر کو ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے فون کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر بےسود۔پھر وہ خود کا گھسیٹتا ہوا گھر سے باھر نکل آیا اور سامنے والے فلیٹ کے نیم وا دروازے پر پہنچ کر مدد کے لئے کسی کو پکارنا چاھا مگر الفاظ حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئے۔

اندر سے آنے والی آواز نے اس کے اندر اک نئے احساس کو بیدار کر دیا ،بےچینی کی گرد چھٹنے لگی ،روح و جاں کی تشنگی مٹنے لگی ،وہ دم سادھے ،آنکھیں موندھے اسی آواز کی گونج میں جیسے کھویا رہا۔

"اوئے ،پی کر یہاں کہاں پڑ گئے ہو۔۔"آنے والے نےنفرت سے اسے ٹھوکر رسید کر کے کہا۔۔

"آہ! "نقاہت بھری کراہ اسکے لب سے نکل گئی-
اندر سے مولانا نے سرزنش بھری نظر سے اسے دیکھا اورپانی لانے کو کہا
پانی پی کر جوزف کے حواس بحال ہوئے مگر اس نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کر دیا ۔وہ کچھ لمحے پہلے ملی سکون کی کیفیت کو پھر پانا چاہتا تھا ،وہ وہیں دروازے کے کنارے ،آنے والے نمازیوں کے جوتوں کے پاس ٹکا رہا۔ اس کے دل میں جو طلب جاگ چکی تھی ،اس نے اسے اس حقیقت سے بے پرواہ کر دیا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے ،کس حال میں ہے۔

*************
"نماز کے وقت اس نجس کا یہاں ہونا ضروری ہے کیا؟"
عکرمہ کو اس شرابی کا وہاں رکنا اچھا نہیں لگا جس کا اس نے اظہار بھی کر دیا ،
مولانا کچھ کہے بنا جماعت کے لئے کھڑے ہو گئے۔۔
نمازی آتے گئے'جماعت کے بعد مولانا نے ایک چھوٹا سا خطبہ دیا۔۔

"اگر اک کتا بھی دہکتی ہوئی آگ کی طرف جا رہا ہو ،تو آپ اسے روکیں گے ؟"

"روکیں گے نا ؟"مولانا نے سوال دہرایا۔۔

"ہاں۔۔۔!"سب نے مل کر جواب دیا۔۔

"تو یہ لوگ جب جہنم کی آگ کی طرف جا رہے ہیں' تو آپ کو ترس نہیں آتا' دکھ نہں ہوتا۔۔ یہ نفرت کہاں سے آگئی بیٹا ؟
اس دنیا میں دو طرح کے بیمار ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کے جسم بیمار ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کی روح بیمار ہوتی ہے۔ ایک مریض کی عیادت کرو تو صبح سے شام ستر ہزار فرشتے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور جو اس کا علاج کرے' سوچو اس کو کتنا ثواب ہو گا۔۔ یہ بھی روح کے روگی ہیں' ان کی فکر کرو' ان پر ترس کھاؤ۔۔
اللہ تعالٰٰی قرآن میں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فکروغم کا ذکر کرتے ہیں۔۔
. (اے حبیبِ مکرّم!) تو کیا آپ ان کے پیچھے شدتِ غم میں اپنی جانِ (عزیز بھی) گھلا دیں گے اگر وہ اس کلامِ (ربّانی) پر ایمان نہ لائے۔۔o
یہی نبیوں کاشیوہ رہا ھے ،اور یہی ہمارے لیے مشعل راہ ہونی چاہیے۔۔"
مولانا کی باتیں سن کر عکرمہ دل ھی دل میں شرمندہ ہو گیا
-------------------

وہ ان دو اشخاص کی گفتگو سن رہا تھا' اسے آگاہی مل رہی تھی' وہ ان آنسؤوں کا معنی سمجھ گیا تھا'جو مولانا شراب کی بوتلوں کے پاس بہا رہے تھے۔۔۔ وہ اس گھونسے کا مطلب سمجھ رہا تھا جو اسے تائی موشان میں پڑاتھا۔۔ اس کی نظر و دل کو بدلا گیا تھا۔۔ وہ ایک نیے احساس سے روشناس ہوا تھا ' اسےطلب ودیعت کی گئی تھی۔۔ وہ اس تکلیف کا معنی سمجھ گیا تھا۔ کیوں کل سے ابھی تک اس کا معدہ ہر چیز کیوں قبول نہیں کر رہا تھا۔۔ کیونکہ وہ نئی راہگزر جواسے ملی تھی اسے وہاں پاکیزہ رہنا تھا۔ اس کی راہ بدل دی گئی تھی۔۔ اس کا اختیار کچھ لمحوں کے لیے محدود کر دیا گیا تھا۔۔ بےبسی اور بے چینی سے اس کی مدد کی گئی تھی اسے ہدایت کی طرف ھانکا گیا تھا۔۔
نمازی چلے گئے۔مدرسہ میں مولانا اور عکرمہ رہ گئے ۔۔
عکرمہ نے جوزف سے اپنے رویے کی معافی مانگی اور اسے اس کے گھر پہنچانے کی پیشکش کی۔جوزف مسکرا دیا۔۔

"میرا گھر تو یہ سامنے ہے۔۔مگر میں جانا نہیں چاہتا۔۔"

"کیوں؟"

"یہ جو تم لوگ پڑھتے ہو نا' اس کلام نے مجھے یہاں باندھ دیا ہے۔۔ مجھے ایسی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ کبھی خواب میں 'کبھی حقیقت میں۔۔ ایسے لگتا ہے میں خود پہ اختیار کھو رہا ہوں۔
کیا معنی ہیں اسکے ۔جو تم بار بار پڑھتے ہو۔

. اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔۔"O

مولانا نے قرآن کی چند آیتیں تلاوت کیں۔۔انکا مفہوم بیان کیا۔۔

"قرآن اللہ کا تعارف بیان کرتا ہے۔"
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الله کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ زبردست حکمت والا ہے (۱) آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لیے ہے۔۔ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (۲) وہی سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور ظاہر اور پوشیدہ ہے اور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (۳) وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا پھر وہ عرش پر قائم ہوا وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں اوپر چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور الله اس کو جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے (۴) آسمانوں اورزمین کی حکومت اسی کے لیے ہے اور سب امور الله ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں (۵) وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اوروہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔۔

سورہ حدید

چند آیات میں اتنی بڑی بات کہہ دینے والا کیا خوبصورتی سے اپنا تعارف دے رہا ہے۔۔ساری کائنات میں جو کچھ ہے۔۔ اسی کی ذات سے ہے۔۔ اب کھلی آنکھوں سے اس کائنات کو دیکھو اور اسے پا لو' مگر وہ کائنات جس کا بیان ہوا ہے۔۔ ہمارا علم اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اس کا تین فیصد ہی دیکھ پایا ہے۔۔ باقی جو علم ہے۔۔وہ رب جانے۔۔
مولانا نے مفہوم بیان کیا۔۔
وہ جانتا ہے! جو ھم سوچتے ہیں' ہمارا ارادہ' ہمارا عمل۔۔ کتنا خبردار ہے میرارب۔
اس کے دل نے گواہی دی'بے شک رب کی یہی عظمت ہے۔

بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کے لیےڈرانے والا ہو (۱) وہ جس کی آسمانوں اور زمین میں سلطنت ہے اور اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کوئی سلطنت میں اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اندازہ پر قائم کر دیا (۲) اور انہوں نے الله کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے نقصان اور نفع کے مالک نہیں اور موت اور زندگی اور دوبارہ اٹھنے کے بھی مالک نہیں۔۔۔
الفرقان

بےشک یہ قرآن بڑی شان والا ہے (۷۷) ایک پوشیدہ کتاب میں لکھا ہوا ہے (۷۸) جسے بغیر پاکو ں کے اور کوئی نہیں چھوتا (۷۹) پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے (۸۰) سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو (۸۱) اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو (۸۲) پھر کس لیے روح کو روک نہیں لیتے جب کہ وہ گلے تک آ جاتی ہے (۸۳) اورتم اس وقت دیکھا کرتے ہو (۸۴) اور تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے (۸۵) پس اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے (۸۶) تو تم اس روح کو کیوں نہیں لوٹا دیتے اگر تم سچے ہو۔۔
سورہ واقعہ

یہ کیسا چیلنج تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنی روح کو پھیرتے نہیں دیکھا' بھلا کوئی روح کو پھیر سکتا ھے ؟ یہ کتنی بڑی دلیل تھی۔ یہ آیت کہنے والے کی عظمت' جاہ وجلال کو کیسے بیان کر رہی ھے۔اسے محسوس ہوا' وہ کانپ رہا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔۔
بلکہ انہوں نے تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور ہم نے اس کے لیے آگ تیار کی ہے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے (۱۱) جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو اس کے جوش و خروش کی آواز سنیں گے (۱۲) اور جب وہ اس کے کسی تنگ مکان میں جکڑکر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے (۱۳) آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو (۱۴) کہہ دو کیا بہتر ہے یا وہ بہشت جس کا پرہیز گارو ں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کا بدلہ اور ٹھکانہ ہوگی (۱۵) وہاں انہیں جو چاہیں گے ملے گا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ تیرے رب کے ذمہ ہے جو قابل درخواست ہے ۔۔

آج ایک موت کو نہ پکارو ،بہت سی موتوں کو پکارو۔۔

یہ کیسا ہیبت ناک ڈر تھا۔۔جو اسے سنایا گیا تھا۔۔ یہ وہ الفاظ تھے جو کہنے والے کا پتہ دے رہے تھے۔۔۔

اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورت اس جیسی لے آؤ اور الله کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو (۲۳) بھلا اگر ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

سورة البَقَرَة

مولانا نے یہ آیت تلاوت کر کے تؤقف کیا اور اس کا مفہوم بیان کیا۔ میرے اللہ نے یہ چیلنج دیا ہے۔ اگر تمہیں شک ہے کہ یہ انسانی کلام ھے۔ تو جاؤ اس جیسی اک آیت ہی بنا لاؤ' اور اس اللہ کی قسم آج تک کوئی بھی اس میں کامیاب نہیں ہوا۔۔

کلام اپنے متکلم کی خود گواہی دیتا ہ ے'ایسا ڈر میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔۔ایسی خوشخبری میرے علم میں کبھی نہیں آئی۔۔ ایسی دلیل' ایسے چیلنج'کوئی انسان بھلا کیا کرے گا ؟

"میں اندھا اور بہرا نہیں ہوں۔۔ میرا دل لرز رہا ہے' میں اس ہدایت کی آہٹ محسوس کر رہا ھوں جس سے مجھے نوازا گیا ہے۔۔"
وہ خود کلامی کی کیفیت میں چلا گیا۔۔
جوزف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کے دل نے حق کو پہچان لیا۔ہدایت کی دل تک رسائی ہو گئی۔
"میں ایمان لانا چاہتا ہوں۔" جوزف نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔۔
"کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ اسلام کو مکمل طور پر جان لیں ؟" عکرمہ نے مداخلت کی۔۔

"میں اپنے اختیار میں نہیں ہوں۔۔" جوزف نے کہا اور مشرف بہ اسلام ہو گیا۔۔

ایمان لانے کے بعد اس کا نام عمر تجویز کیا گیا۔۔۔

کچھ لوگ تمام عمر سفر میں رہتے ہیں اور اس ایک لمحے کو نہیں پا سکتے جو ان کی زندگی کا عنوان بدل دے اور کچھ لوگ اک پل میں ہی اس لمحے کو پا لیتے ہیں۔عمر بھی ان بانصیب لوگوں میں سے تھا ۔

باآواز بلند پڑھو الکھف ،6 طلب کو زباں مل گئی ،اور ھدایت کا در کھل گیا

ماہ رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا اور عید کی آمد آمد تھی۔ ۔ اماں صبح صبح تلاوت میں مصروف تھی۔ قرآنی آیات سےماحول میں نورانیت سی طاری ہو گئی۔ تحریم عید میں پہنے جانے والے کپڑوں کی سلائی مکمل کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اس دفعہ اس نے اماں کی درزن سے زمانہ قدیم کے ڈیزائن سلوانے کی بجائے خود ہی نئے فیشن کے کپڑے سی لیے تھے ۔کچھ دیر بعد وہ اپنا نیا سلا ہوا جوڑا پہنے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ سلیو لیس ،گھٹنوں سے لمبی قمیض،لمبے لمبے چاک اور ٹخنوں سے کافی اونچا تنگ پاجامہ پہنے اپنے روپ کو آپ ہی سراہ رہی تھی۔
اماں تلاوت کر کے اس کے پاس آئیں تو اسے دیکھ کر حیران ہی رہ گئی۔
عید کے دن یہ پہنو گی؟ اور سہیلیوں کے گھر بھی جاؤ گی؟
اماں نے استفسار کیا۔۔
"ہاں اماں!رستے میں عبایا پہن لوں گی۔ اور سارا کے گھر تو مرد نہیں ہیں۔" اس نے اماں کو مطمئن کرنا چاہا۔

"اللہ تو ہو گا نا۔"اماں نے کہا
"اللہ سے کیا پردہ۔؟" اس نے دوبدو کہا

"پردہ نہ سہی' شرم تو ہونی چایئے۔ رمضان کی مبارک گھڑیوں میں ساری رات لگا کر یہ لباس سیا ہے۔۔ جس میں عطا کرنے والے کو اک سجدہ بھی نہ کر سکے۔" اماں نے افسوس سے کہا۔۔

"سجدہ کرنے کے لیے آپ کے سلوائے ہوئے اور لباس ہیں نا اماں۔" اس نےڈھٹائی سے کہا۔۔
"یہ چکا چوند' یہ روشنیاں مصنوعی ہیں بچے۔ یہ آنکھوں کو چندھیا دیتی ہیں۔ سامنے کامنظر واضح نہیں ہونے دیتی۔ ان میں چھپا ہوا اندھیرہ بندے کو نگل لیتا ہےاور اسے خبر ہی نہیں ہوتی۔ یہ دنیا پل صراط کی مانند ہے۔ اس پر وہی امن سے گزر پائے گا جو اپنے نفس کو تھامے رکھے گا۔ اپنے آپ کو خواہشوں کے ناگ کے حوالے کر دو گی تو دنیا میں ہی ڈوب جاؤ گی۔" اماں نے اسےسمجھانا چاہا۔

"چاردن جوانی ہے اماں۔ چین سے جی لینے دیں۔پھر تو آپ کی طرح تسبیح ہی اٹھانی ہے۔ ابھی میں نماز کے لیے کھڑی ہوتی بھی ہوں تو رکعات یاد نہیں رہتیں۔۔ تلاوت سے میرے سر میں درد ہو جاتاہے۔ آپ کے قرآن میں مجھے پناہ نہیں ملتی' نماز میں سرور نہیں آتا' میری روح ان سے بھاگتی ہے۔ کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے جیسے میں غلط گھر میں پیدا ہوگئی ہوں۔
مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ آپ کی باتوں سے' نصیحتوں سے۔ آپ کے ہروقت کےواعظ سے میں تنگ آچکی ہوں۔ مجھے میری زندگی جینے دیں۔ میں ایک درویش بن کے زندگی نہیں جی سکتی۔مجھے ملانی ملانی کا طعنہ نہیں سننا۔ میں اس دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتی ہوں۔" وہ تنگ آکر پھٹ پڑی۔۔
"گھٹن ان باتوں میں نہیں ہے' گھٹن تمہاری خود کی بے لگام خواہشوں کے تعفن سے ہے۔جس دل میں خواہش کو خدا مانا جاتا ہو۔۔اس کی پرستش کی جائے۔ اس پر غرض کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہو۔ اسے قرآن میں پناہ نہیں ملتی۔ اسے نماز میں سرور نہیں حاصل ہوتا۔" اماں نے بھی دل کا بوجھ ہلکا کیا۔
"ایمان کوئی تمغہ نہیں ہے جو تمہیں ماں کی گود میں مل گیا اور تمام عمر سینے پر سجا کر تمہیں مسلمان رکھنے کو کافی ہو گیا۔ یہ تو اجلے کپڑے کی طرح ہے' تب تک نیا اور اجلا ریتا ہے جب تک اس کی حفاظت کی جائے۔ ہر کوتاہی اس پر چرکہ لگاتی ہے' اسے سیاہ کرتی ہے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ ایک چیتھڑے کی مانند رہ جاتا ہے۔ " اماں کہتی گئی اور وہ سنی ان سنی کر کے چل دی۔
لفظ کیسے بےآبرو سے ہو جاتے ہیں' اسکی دل کی زمین کیسی بنجرتھی۔۔ جیسے سمندر میں کھڑی کوئی چٹان۔۔جس سے لہریں ٹکرا ٹکرا کر اپنا سر پھوڑتی رہتی ہیں۔
اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔

**************

زندگی اک نئی ڈگر پر چل پڑی تھی۔ عمر کی صبحیں اسلامک سنٹر اور شامیں مدرسہ میں کٹنے لگی۔ عید کے بعد اسے عکرمہ کے ساتھ اپنی نئی شناخت کی قانونی چارہ جوئی کے لئے رجسٹریشن آفس جانا تھا۔ وہ گھر ضروری کاغذات لینے آیا ہوا تھا۔
ڈور بیل مسلسل بجی جا رہی تھی۔ آنے والا بیل پر ہاتھ رکھ کر ہٹانا بھول گیا تھا۔
عمر نے دروازہ کھولا۔باہر کاسلاخوں والا گیٹ ہنوز بند تھا۔
بن بلائے مہمان کو دیکھ کر عمر نے رخ موڑ لیا۔

"اندر آنے کو نہیں کہو گے؟" کیتھی نے سوال کیا
"نہیں۔ !" یک لفظی جواب آیا۔۔

"تم بہت بدل گئے ھو جوزف۔ ! پانچ سالہ محبت کو پانچ دن میں بھلا دیا۔" اس نے شکوہ کیا۔۔
"یہاں کوئی جوزف نہیں رہتا۔"عمر نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔
کیتھی روتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔
کیتھی کو واپس جاتا دیکھ کر سامنے سے آتے ہوئے اسمتھ کو بہت حیرانی ہوئی۔
"جوزف ! کیا کیتھی سے جھگڑا ہو گیا ہے؟ کیوں بچوں کی طرح لڑتے ہو؟ کدھر کھو گئے ہو؟ گھر تمہارابند ہے۔آفس تم نہیں آرہے۔" کسی انہونی کے ڈر سےاس نے پوچھا۔

"میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ " عمر نے متانت سے کہا۔۔

"لیکن کیوں؟" وہ چیخا۔۔

"کیونکہ میں اندھا' بہرا نہیں ہوں۔اس لیے کہ میرے دل پر مہر نہیں لگی ہوئی۔" عمر نے بے ربط جواب دیئے۔۔
"اور ہمارے خوابوں ‘' ارادوں اور وعدوں کا کیا ہو گا؟" اسمتھ نے بےیقینی سے پوچھا۔۔
"ہمارے رستے بدل گئے ہیں۔ میرا تو اس پار آنا ممکن نہیں۔ تم چاہوتو میرے پاس اس پار آسکتے ہو۔"عمر نے فیصلہ سنا دیا۔۔

"اور تمہاری محبت؟" اسمتھ نے بڑی آس سے پوچھا۔۔

"اب اس محبت کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں۔" اس نے اپنے دل کو جیسے مٹھی میں مسل دیا۔۔

"گنجائش تو بہر حال ہے۔ اتنا اسلام تو میں بھی جانتا ہوں۔"اسمتھ اسے گھیر رہا تھا۔۔

"میری غیرت ایمانی یہ گوارا نہیں کرتی کہ میں کسی مشرکہ کے ساتھ رہوں۔ میں اپنی آنے والی نسل کو خالص دیکھنا چاہتا ہوں۔" عمر کی باتوں میں کوئی لچک نہ تھی۔

"اتنے کٹھور نہ بنو جوزف۔" اسمتھ نے غصے سے کہا۔۔
"میں جوزف نہیں ہوں۔ میں عمر ہوں۔ جوزف مر چکا ہے۔" عمر حلق کے بل چیخا تھا۔

"تم تنہا رہ جاؤگے جوزف۔" اس نےڈرانا چاہا۔

"صرف اس لیے کہ راہ حق کا مسافر ہو گیا ہوں۔ مرے سر پہ ٹوپی سج گئی ھے۔ میں بیہودہ باتوں سے پہلوتہی کرنے لگا ہوں۔ موسیقی سے کنارہ کرلیا ہے۔ میری شامیں مسجد میں بسر ہونے لگی ہیں۔میں نے خود کو اک حد میں مقید کر لیا ہے۔میں دنیا کی برائے نام جدیدیت سے منحرف ہو گیا ہوں۔
لوگوں کے سامنے' ان سڑکوں کے بیچ بارہا میں نے شراب پی' جوا کھیلا' نشے میں بے سدھ پڑا رہا۔ لوگوں کے بیچ ننگے ناچ دیکھے۔
میں سراپا غلط تھا مگر میں نہیں شرمایا۔ میں نے خود کو نہیں چھپایا اور آج جب میں سچ کی پہلی سیڑھی پر کھڑا ہوں۔ ہدایت کی روشنی کو اپنے اندر سمو رہا ہوں۔ اسی رنگ میں رنگا جانا چاہتا ہوں تو میں شرماؤں؟ خود کو چھپاؤں؟
کیوں؟ اس یے کہ یہ دنیا مجھے تنہا چھوڑ دے گی۔ اگر ایسا ہے۔ تو بھی مجھے تنہا رہنا منظور ہے۔ میرے لیے زندگی کے معنی بدل چکے ہیں۔ یہ ساتھ تو چلتی سانسوں تک ہے۔ اس کے آگے تو بس تنہائی ہی ہے۔ اگر دنیا کے اس پل صراط پر جم کر کھڑے رہنے کے لئے' اسے پار کرنے کے لیےکچھ وقت تنہا بھی رہنا پڑ جائے تو بھی سودا برا نہیں ہے۔"
عمر نے بات ختم کر دی ۔اور اسمتھ حیران حیران جوزف کے نئے روپ کو دیکھ رہا تھا۔
__________________

بہت دنوں بعد اس نے اپنی گاڑی نکالی اور ڈرایئو کرنے کا سوچا۔ عکرمہ کی دی ہوئی تلاوت و ترجمہ (انگریزی) کی سی ڈی لگائی۔ کچھ ہی دیر میں وہ اور عکرمہ رجسٹریشن آفس پہنچ گئے۔ کاغذی کاروائی نمبٹا کر واپسی کی راہ لی۔ کار پارک میں اسے اسمتھ ٹکرا گیا۔ عمر نے مروتا” اسے لفٹ آفر کی۔ جو اس نے قبول کر لی۔ گاڑی گھر کی طرف گامزن ہو گئی۔اس کے ساتھ ہی تلاوت والی سی ڈی خود کار نظام سے چل پڑی۔اسمتھ نے کچھ بولنا چاہا مگر عمر نے اشارے سے منع کر دیا۔وہ کچھ خیال کر کے چپ ہو گیا۔
اسمتھ گاڑی سے باہر دیکھنا شروع ہو گیا۔عکرمہ کی فون اسکرین کسی خاص نمبر سے جگمگانےلگی۔ اس نے دھیمے انداز میں بات کی۔
تلاوت جاری تھی۔

(۱۳) بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے ہیں' کہہ دو تم ایمان نہیں لائے لیکن تم کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں اورابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا' اور اگر تم الله اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا بے شک الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔۔

لفظ اس کے ذھن سے چپک گئے۔ آنکھیں نم ہو گئی۔ اسے سینے میں جلن کا احساس ہوا۔ اسٹئرنگ پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ باہر کا منظر دھندلا رہا تھا۔
کیا ایمان میرے دل میں داخل ہو گیا ہے یا میں بھی فقط مسلمان ہی ہوں؟
سوچوں کی یلغار ہوئی۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔۔
اس کے بائیں جانب ایک کٹر مسلمان گفتگو میں مصروف تھا۔ اسکے پیچھے اک عیسائی باہر کے نظاروں میں گم' بےخبر تھا۔ آیتیں بس اس کے دل میں ہی جزب ہو رہی تھیں۔

تلاوت جاری تھی۔

(۱۵) کہہ دو ! کیا تم الله کو اپنی دین داری جتاتے ہو اور الله جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور الله ہر چیز کو جاننے والا ہے (۱۶) آپ پر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے ہیں کہہ دو مجھ پراپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتلاؤ بلکہ الله تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی کی اگر تم سچے ہو (۱۷) بے شک الله آسمانوں اور زمین کی سب مخفی چیزیں جانتا ہےاوردیکھ رہاہےجوتم کررہےہو (۱۸)

بے شک اللہ احسان رکھتا ہے۔

اس کے دل سے ٹیس سی اٹھی ۔ دل میں درد بڑھتا گیا۔ اس نے گاڑی کو بریک لگا دی اور سینے پر مکے مارنے لگا۔

عکرمہ اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا' اسمتھ اورعکرمہ نے عمر کو پچھلی سیٹوں پر ڈالا اور ہسپتال لے گئے۔

ایمرجنسی میں مشینوں میں جکڑا ہوا یہ کوئی اور ہی جوزف لگ رہا تھا۔
"وہ اس سے کبھی نفرت کر پائے گی؟" کیتھی نے اسے طبی امداد دینے کے بعد دل میں سوچا۔۔

خالد علوی اور مولانا بھی خبر ملنے پر آگئے۔ اس کی حالت دیکھنے پر مالانا کو بہت دکھ ہوا۔ ایمان لانے کے بعد تو وہ انہیں اور بھی عزیز ہو گیا تھا۔ دل سے دعا نکلی۔ "الٰہی!اگر یہ اجل ہے تو اس کا رخ میری طرف موڑ دے۔ یہ بچہ ایمان کی ابھی چند سانسیں ہی لے پایا ہے۔ اس پر رحم کر۔۔ آمین۔" کوئی لمحہ قبولیت کا ہوتا ہےاور دعا پر فوراً مہر لگ جاتی ہے۔ یہ بھی ایساہی لمحہ تھا۔ مولانا نے اپنی لاٹھی کرسی کے کنارے رکھی۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر رکھا۔ بولے۔۔ "فی امان اللہ۔۔ "
کلمہ پڑھا اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں ۔ان کے پاس کھڑے عکرمہ اور خالد علوی ہکا بکا رہ گئے۔
دوسری طرف عمر کی ڈوبی ہوئی سانسیں بحال ہو رہی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن کا گراف نارمل ہو رہا تھا۔ اس کے چہرے کا اضطراب سکون میں ڈھل گیا۔ہونی نے راہ بدل لی تھی۔
چند لمحوں بعد اس نے آنکھیں کھول دی۔اور اٹھنا چاہا۔
پاس کھڑی کیتھی نے اسے پر سکون رہنے کو کہا اور اس کا خون لینے لگی۔
خالد علوی مولانا کے بارے میں کم جانتے تھے۔ان کے لواحقین کا پتا نہیں چل سکا۔ اخرکار انہیں یہیں دفنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
خاصی دیر بعدعمر کی گلو خلاصی ہوئی۔ اسے مولانا کی وفات کی خبر ملی۔
کیتھی' عمر کی بلڈ رپورٹ ہاتھ میں اٹھائے حیران کھڑی تھی۔۔ جس میں اس جان لیوا اٹیک کے اثرات کا شائبہ تک نہ تھا۔

یہ معجزہ تھا یا کرشمہ؟ یتھی کے لئے سوچ کا در وا کر گیا

***************
ہانگ کانگ ایسا ملک ہے۔۔ جہاں قبر کی دو گز زمین کے لیے بھی لیز لینی پڑتی ہے۔ عمر نے مولانا کی قبر کے لیے سال کی لیز کی ادایئگی کر دی۔ اور ان کے جسد خاکی کوامانتاً دفن کر دیا گیا۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
عمر کی کایا پلٹ کا سرا پانے کے لیے کیتھی نے اسلام کو جاننے کا فیصلہ کیا۔وہ خالد علوی کو ہسپتال میں مل چکی تھی، انہیں سے مزید تفصیلات اور رہنمائی کا امکان نظر آیا ۔ اتوار کو اس کی تعطیل تھی۔ اس نے اسمتھ کو اپنے ساتھ اسلامک سنٹر جانے پر راضی کر لیا۔ اور اتوار کو ملاقات کا وقت لے لیا۔

اتوار کی صبح وہ اسمتھ کے ساتھ خالد علوی کے سامنے موجود تھی۔

"ہم اسلام کو جاننا چاہتے ہیں۔ اس میں آپ کی مدد اور رہنمائی چاہیے۔" کیتھی نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے تمہید باندھی۔

"مجھے یہ جان کر دلی خوشی ہوئی، ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کی مدد کرنا میرے لیے عین سعادت ہو گی۔ " خالد علوی نے مطمئن انداز میں جواب دیا۔

"اسلام کو جاننے کی پہلی کڑی کیا ہے؟" کیتھی نے پہلا سوال کیا۔

"پہلی اور اہم ترین کڑی قرآن ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ۔
قرآن ہمیں اللہ کا تعارف دیتا ہے، اس کے نبیوں، کتابوں اور فرشتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس وسیع کائنات کی نشانیوں کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اور ہمیں اس میں رب کی ذات کا عکس دیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دے کر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ اور ان سب باتوں کے بعد وہ زندگی کا اک منشور اور ضابطہ حیات ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اور پھر آنے والے وقت میں کامیابی اور ناکامی کا مفہوم ازبر کرا کر خوشخبری اور ڈر کا عنوان بن جاتا ہے۔ نبی اس سارے منشور کو زندگی پر لاگو کر کے سارے جہاں کے لئے مثال بن جاتے ہیں۔"

"ہم قرآن کو کیسے جانچ یا پرکھ سکتے ہیں؟ " اب کی بار اسمتھ نے سوال کیا۔

"قرآن میں بیان کی گئی نشانیوں کی تصدیق انسانی علوم سے ہوتی ہے۔ جیسے قرآن میں اک ایسے سمندر کا ذکر ہے۔ جہاں میٹھا اور کھارا پانی اکٹھا ہے مگر ملتا نہیں مگر قرآن اس میں نہ نظر آنے والی آڑ کا ذکر کرتا ہے۔ پھر اس میں آج کی ایمبرائیالوجی کی پوری اساس موجود ہے۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے ایک ناخواندہ شخص پر نازل ہونے والی کتاب ‘اپنے سے ڈیڑھ صدی آگے کے علم کا کیسے بیان کر رہی ہے؟ اگر انسان سمجھ رکھتا ہو تو اک اس بات میں ہی بہت بڑی نشانی ہے۔
معجزہ کی بات کریں تو آب زمزم کو ہی لے لیں۔ لاکھوں لوگ ایک ہی دن اس کا استعمال کرتے ہیں مگر وہ اک چھوٹا سا چشمہ جاری و ساری ہے۔ اسلام آپ کو ایک ہزار دلیل دے گا مگر اس پر یقین حاصل کرنے کے لیے آپ میں طلب ہونی ضروری ہے۔ یہ آپ کی طلب ہی ہو گی جو آپ کو یقین کی سرحد تک لے جانے کی شاہراہ بن سکتی ہے۔"
خالد علوی نے مفصل جواب دیا۔

"میں پہلی کڑی کو جاننا چاہتی ہوں۔" کیتھی نے خواہش ظاہر کی۔

"میں آپ کو کچھ ویب سائٹس کے لنک دیتا ہوں‘ پہلے مرحلے میں آپ تلاوت قرآن سنیں۔ اور دیکھیں آپ کا دل اس کو کتنا قبول کرتا ہے۔ آیا یہ انسانی کلام ہے یا آسمانی؟ دوسری مرحلے میں آپ ان نشانیوں پر غوروفکر کریں جو اس میں بیان ہوئی ہیں۔ پھر جو ابہام ہوں گے انہیں اگلی بار موضوع گفتگو بنائیں گے۔ " خالد علوی نے کہا۔

ملاقات کا وقت ختم ہو گیا۔ ان دونوں نے خالد علوی سے اجازت چاہی اور واپسی کی راہ لی۔

کیا کیتھی کے دل میں بھی شمع نور روشن ہوئی تھی۔

اگلا حصہ ان شاء اللہ آئندہ