008 - خواہشوں کے گرداب تحریر ناز حسین

خواہشوں کے گرداب

"اے خدا! مجھے معاف کردے ۔۔اے میرے مالک! میری بخشش کردے۔۔۔ میں کبھی یہ بات سمجھ نہیں پایا کہ تو ہی سب کا مالک ہے' تو ہی داتا ہے اور آج میں ذلت کی ان پستیوں میں اتر گیا جن کا سوچ کر بھی میری روح کانپ رہی ہے۔۔ یااللہ! میرے گناہوں کی سزا مجھے ایسے نہ دے' مجھے بخش دے۔۔ حبیبِ پاک کے صدقے مجھے بخش دے "
وہ اونچا پورا مرد رو رہا تھا اور ہچکیوں سے رو رہا تھا۔۔ اس کا پچھتاوا آج اس کو اس مقام تک لے آیا تھا کہ اس کو کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔ یہ وہی انسان ہے 'جس نے جوانی کے جوش میں سمجھ لیا تھا کہ وہی سب سے طاقتور ہے اور بس پیسہ کمانا ہی زندگی کا مقصد ہے۔۔ جب کہ اس وقت اس کے پاس نیکی کرنے کی راہیں بھی کھلی تھیں مگر انسان بدی کی طرف جلدی مائل ہوتا ہے سو وہ بھی ہوگیا ۔
آپ سمجھ نہیں پا رہے ہیں ناں میری بات؟ اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔ یہ باتیں ہی ساری اتنی الجھی ہوئی ہیں کہ کسی کی سمجھ میں آسانی سے آتی ہی نہیں ہے ۔ چلیں میں سب کچھ آسان کرتا ہوں اور آپ کو وہاں لے چلتا ہوں جہاں سے سب کچھ سمجھ میں آنے لگے گا یہ بات ہے سن 1995 کی:
------------------------------------------------------------------------------------
"اماں! میں نے نہیں کھانا یہ لمبا شوربہ اور اس میں سے جھانکتے دو آلو۔ مجھے تو دس روپیے دے دو' میں باھر جاکر کچھ کھا لوں ۔"

"عجیل! کیا بدتمیزی ہے روز روز کا تماشا نہ لگایا کرو۔۔ اللہ کا نام لو اور کھا لو' جو اللہ نے عطا کیا اس کا صبر شکر کرو۔"
صغرہ نےتیرہ سالہ عجیل کوکچھ غصہ سے کچھ پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
"اماں مجھے کیا کسی کوڑے سے اٹھایا تھا تم نے۔ ایک ہی ایک ہوں میں اور اس پر بھی کچھ اچھا کھانے کو نہیں ملتا۔۔مجھ سے اچھا تو وہ پپو کھاتا ہے روز کے 50 روپیے ملتے ہیں اس کو بھیا جی سے۔ نہ مجھے کام کرنے دیتی ہو' نہ ہی اچھا کھانے اوڑھنے کو دیتی ہو' بتارہا ہوں اماں میں نہیں رہ سکتا ایسے اور نہ ہی مجھ سے یہ پڑھائیاں ہوتی ہیں۔ خوامخواہ جی کا جنجال۔ "
عجیل اچھی خاصی بدتمیزی کرتے ہوئے دروازہ کو ٹھوکر مار کر باہر چلا گیا اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ اس کی ماں سارے دن کی تھکی ہاری محنت مزدوری کرکے سکون سے دو لقمے کھانے کی حسرت لیے اس کی پشت کو تک رہ ہے۔

یہ روز روز کی کہانی تھی۔۔ صغرہ کے پاس اتنے پیسے نہ ہوتے کہ عجیل کی مہنگی مہنگی خواہشات کوپورا کرسکے۔۔ تو دوسری جانب عجیل کی فطرت میں قناعت کا عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔
ایک غریب بیوہ' جس کا صرف ایک ہی آسرا اس کا جوان ہوتا بیٹا ہو۔۔ وہ کہاں سے اتنا پیسہ لائے کہ لاڈلے بیٹے کی زیادہ نہ سہی مگر اچھا کھانے کی خواہش کو ہی پورا کرسکے۔۔ ایسا پچھلے سات سالوں سے ہو رہا تھا۔۔ عجیل کا باپ جب وہ پانچ سال کا تھا تب ہی غربت کی وجہ سے خون تھوکتے تھوکتے اور درد سے تڑپتے تڑپتےمر گیا' اور اس کی ماں صغرہ کو بیوگی کے ٹھیک آٹھویں دن ہی پیٹ کی بھوک مٹانے کی خاطر گھر سے نکلنا پڑا۔ غربت ایسی عفریت جس نے اس کو ٹھیک سے بیوگی کا غم بھی منانے نہ دیا۔۔ آج بھی صغرہ صرف اتنا ہی کرپاتی ہے کہ عزت سے پیٹ بھرا جاسکے۔۔ ایک ان پڑھ گھر میں جھاڑو پونچھا لگانے والی اگر اتنا بھی کرلے تو بہت ہے۔۔ مگر عجیل اتنا خودغرض کے کبھی ماں کی کڑی تپسیا کو نہ دیکھا ہمیشہ اپنی ناآسودہ خواہشات کا ہی رونا روتا رہا۔
روزو شب کا یہی معمول تھا عجیل کی پڑھائی میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر اور صغرہ کی کوششیں کے کچھ پڑھ لکھ کر عجیل اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے۔۔ مگر بدنصیب نہیں جانتی تھی کہ اس پیڑ کا پھل کھانا اس کا نصیب نہیں ہے۔۔
------------------------------------------------------------------------------------
عجیل عمر کے سترہویں سال میں لگا ہی تھا کہ ایک رات صغرہ ایسا سوئی کہ دوبارہ آنکھ نہ کھولی۔ شاید سکون کی موت ہی اس کی تمام زندگی کی محنت کا صلہ تھی۔ عجیل نے کچھ دن تو ماں کی موت کا سوگ منا کر اور آس پڑوس سے آیا کھانا اڑا کر گزارے مگر کب تک ؟ ایک نہ ایک دن تو وقت کی تیز چھن چھناتی دھوپ میں آنا ہی تھا۔۔ عجیل کا دل تو پہلے ہی پڑھائی میں نہ تھا مگر ماں کی زندگی میں میڑک کے پیپر دے چکا تھا رزلٹ کی نہ اس کو فکر تھی نہ ہی کوئی امید ۔ ایک دوست کی توسط سےاس ایک مکینک کی دوکان پر بطور ہیلپر نوکری مل گئی۔ اب صبح سے شام تک کام اور اس کے بعد ہاتھ میں موجود پیسوں کی عیاشی ہی اس کا چلن بن گئی ۔مگر مکینک کی دکان پر ہیلپر سے اس کو اتنا اب بھی نہ ملتا کی وہ اپنی کسی بڑی خواہش کو پورا کرپاتا ۔ اسی دوران اس کا میڑک کا رزلٹ نکلا اور وہ بس پاس ہوگیا۔ وہ بھی شاید مری ہوئی ماں کی دعائیں تھیں۔

ایک دن مکینک کی دکان پر کچھ ایمبولینس سروس کے لیے آئی ہوئی ایمبولینس کے ڈرائیور رفیق کی عجیل سے سلام دعا ہوگئی۔۔ وہ اکثر عجیل سے ملنے کے لیے آنے لگا ادھر عجیل بھی ان کوششوں میں لگا ہوا تھا کہ کہیں اور بہتر جاب ہوجائےاس نے رفیق سے اس بات کا ذکر کیا تو رفیق نے اس کو بتایا کہ ایمبولینس کے ڈرائیور کی ضرورت ہے اگر وہ کہے تو وہ اس کی بات کرے تنخواہ 4000 ماہوار تک ہوگی۔۔
"ارے رفیق بھائی کیا بات کرتے ہو اگر ایسا ہوجائے تو تمھاری مہربانی ہے میرا کچھ بہتر آسرا ہوجائے گا"
عجیل کے تو دل کی مراد پوری ہوگئی جس مقصد کے لیے اس نے رفیق سے دوستی گانٹھی تھی وہ مقصد تو خودبخود حل ہونے لگا تھا۔
رفیق نے اس کی بطورایمبولینس ڈرائیور کے طور پر جاب کروادی ۔ یہی وہ دوسرا مقام تھا جہاں وہ اپنی زندگی کو سنور سکتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
------------------------------------------------------------------------------------
ایمبولینس ڈرائیور کے طور پر جاب کرتے ہوئے عجیل کے دو تین ماہ ہوگئے۔۔ شروع شروع میں تو4000 روپے بھی عجیل کو بہت لگتے تھے مگر گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ عجیل کی عجلت بھری فطرت اور بے صبرا پن۔۔ اس کی مزید' اور زیادہ کی ہوس بڑھتی چلی گئی۔۔
٭ ۔۔۔۔۔۔۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭
نئی صدی کی ابتداء جہاں اور لوگوں کے لیے نئی راہوں کے ابتداء بنی وہیں عجیل کی ملاقات عارف نامی ایک شخص سے ہوئی عارف خود بھی ایک ایمبولینس کا ڈرائیور تھا۔۔ عجیل کی عارف سے ملاقات بھولو کے ہوٹل پر ہوئی جہاں عموما ایمبولینس کے ڈرائیور وغیرہ اور مزدور پیشہ لوگ کھانا کھاتےتھے۔ عارف بھی روز وہیں کھانا کھاتا تھا اور عجیل بھی۔ ایک دوسرے کو اکثر وہاں دیکھتےتھے۔۔ دونوں میں علیک سلیک ہوگئی۔ عارف پچیس چھبیس سال کا تجربہ کار جوان تھا جو پنجاب کے ایک پسماندہ گاؤں کا رہنے والا تھا اور صرف پیسہ کمانے کی خاطر کراچی آیا تھا۔۔
ایک روز عجیل اور عارف کھانا کھا رہے تھے۔ عارف نےعجیل کو مخاطب کر کے کہا۔۔
"عجیل یار! ایک تو مجھے تمھارا نام سمجھ نہیں آتا بڑا وکھرا جیائے ہے۔ مطلب کیا ہے ؟"
ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے عجیل کے چہرہ کا احاطہ کیا شائد اپنی ماں کو سوچ کر :
" پتا ہے عارف یہ میرے ماں باپ کا واحد ورثہ ہے۔۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا انھوں نے۔۔ ویسے میرے نام کا مطلب تیز چلنے والا ہے میری ماں کو یہ نام بہت پسند تھا اور اسی نے رکھا تھا۔"

"او چل یار نام تو بڑا چھانٹ کر رکھا تیری اماں نے مگر تو اپنے نام سے بالکل مختلف ہے۔ ایک دم آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہا ہے زندگی میں ۔مجھے دیکھ میں آج کہاں ہوں ۔ جب کراچی آیا تھا ناں تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔ آج گاؤں میں سب سے پکا میرا گھر ہے ابھی پچھلے سال ہی ٹائلز لگائے ہیں۔ گاؤں کے قریب ہی کئی ایکڑ زمین خرید چکا ہوں بیوی میری ہر وقت سونے میں پیلی رہتی ہےاماں ابا کو حج کرواچکا ہوں اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے مجھے۔"
عارف ایک تمسخر بھری ہنسی کے ساتھ عجیل کو دیکھتے ہوئےبولا :
"عارف یار! مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آیا کہ تیرے پاس اتنا پیسہ آتا کہاں سے ہے جبکہ تو بھی میری ہی طرح ایمبولینس ڈرائیور ہے۔"
معنی خیزی سے سر کو ہلاتے ہوئے اور عجیل کو تولتی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے عارف بولا:
"او میرے بھولے بادشاہ ! آج کل تو اتنے ذرائع بن گئے ہیں کہ پیسہ کمانا کونسا مشکل ہے۔"
"کیا مطلب؟ میں نے تو تیرا اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں دیکھا"
عارف کی طرف سوالیہ اور الجھی نظروں سے دیکھتے ہوئے عجیل کچھ الجھ کربولا۔
"دیکھ عجیل اگر تو' تو واقعی میں کچھ کمانا شمانا چاہتا ہے تو میں تجھ کو بھی وہ ذریعہ بتادیا ہوں بول کیا کہتا ہے؟"
"عارف یار مجھے بس پیسا کماناہے ترستی ہوئی زندگی نہیں چاہیے اور کسی چیز سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے ۔"
"ہممم ۔۔۔ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا چل پھر میرے ساتھ کرتے ہیں تیرا کچھ ۔ شروع میں ایک دو لائن میں تیری سیٹ کردوں گا مگر میرا کمیشن الگ ہوگا بعد میں تو خود ہی سب کچھ کرلے گا۔"
"تیرا کمیشن پکا ہے مگر کرنا کیا ہوگا؟ "
ایک سوالیہ نگاہ سے عجیل نے سوال کیا۔۔
" اب میری بات سن غور سے ہمارا کام کیا ہے حادثوں کی جگہ سے زخمیوں اور لاشوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانا۔۔ جیسے ہی شہر میں کہیں بم بلاسٹ ہو یا کوئی اور حادثہ تو تم کوشش کرنا کے سب سے پہلے اس جگہ پر تم پہنچ جاؤ' ویسے بھی ہم لوگوں کا اصول تو' تو جانتا ہے جس نے جس' جس لاش پر اپنی چادر ڈالی وہ زخمی اس کو ہی ملتا ہے۔ اب بس مزید یہ کرنا ہے کہ لاش کو جلد سے جلد اٹھاؤ اور مطلوبہ ہسپتال پہنچادو۔ لاش کی جیب سے سارے شناختی نشان غائب کردینا تاکہ اس کے ورثہ کو اس وقت تک خبر نہ پہنچے جب تک ہم لوگ نہ چاہیں اور لاش کے پاس موجود پیسوں کو بھی الگ کرلینا۔۔ پولیس کا حصہ لاش کے پاس سے ملنے والے سامان میں برابر کا ہوتا ہے پھر تم جب لاش لے کر ہسپتال پہنچو تو ڈاکٹر کو میں بتادوں گا باقی کام ڈاکٹر کا اور تم کو فی لاش چالیس سے پچاس ہزار مل جائیں گے"
عجیب بے حسی سے عارف نے یہ ساری بات عجیل کو بتائی کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ لاشوں سے متعلق بات کر رہے ہیں۔۔
" عارف مگر مجھے پیسے دے گا کون اور کس بات کے؟"
عارف کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی عجیل نے لالچی انداز میں مطلب کی بات پوچھ لی۔۔
" دیکھ یار! یہ جو ہسپتال ہیں ناں یہاں کچھ ڈاکٹر ہے جن کو ایسی لاوارث لاشیں چاہیے ہوتی ہیں۔۔ ورثاء کی موجودگی سے ڈاکٹر کو خطرہ ہوتا ہے اسی لیے یہ لا وارث لاشوں کو اپنے کام کے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔۔ یہ ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کا نام کرکے گردے وغیرہ نکال کر لاکھوں میں بیچتے ہیں اور ان ڈاکٹروں نے ہی پیسے دینے ہوتے ہیں ۔ بس تو زیادہ اس بارے میں فکر نہ کر اور یہ سوچ کہ پیسوں کے ساتھ تجھے کرنا کیا کیا ہے۔"
شاطرانہ انداز سے ایک شاطرنے اپنے جال کو کسا تھا اور پنچھی خود ہی پھنسنے کو تیار تھا۔۔ آسانی ہی آسانی تھی ایک شیطان نے کمزور نفس کے انسان کو پھر سے بہکادیا اور عجیل بھی عارف کی بتائی راہ پر چل نکلا۔
------------------------------------------------------------------------------------
عجیل اور عارف نے ساجھے داری میں کچھ عرصہ یہ کام کیا۔۔ مگر پھر عارف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گاؤں واپس جانا پڑگیا کیونکہ اس کے بیٹے کا گاؤں میں چوہدریوں سے جھگڑا ہوا جس میں اس کے ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آگئی اور وہ ہمیشہ کے لیۓ معذور ہوگیا تھا۔
عارف کی دکھائی ہوئی راہ عجیل کے لیۓ مشعل ِ راہ ثابت ہوئی کراچی میں ہونے والے آئے روز ہنگامے' بم بلاسٹ نے تو عجیل کی زندگی میں روشنیاں بھر دی۔ اور اس نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا کہ وہ کس راہ پر چل نکلا ہے۔۔؟
اس نئی راہ پر چلتے چلتے عجیل اس مقام پر آگیا کہ اس کو کسی چیز کے لیے ترسنا نہیں پڑتا۔ عجیل نے شادی کی خداوند کریم نے اس کو مال و اولاد کی دولت سے خوب خوب نوازا۔۔ عجیل اپنی دنیاوی جنت میں دین کو فراموش کر چکا تھا اسے آج بھی اللہ یاد نہ آتا اگر اس کی رسی کو کھینچ نہ لیا جاتا ۔
آج سے کوئی چار دن پہلے کی بات ہے عجیل کی بیوی اسماء اپنے بڑے بیٹے فہد اور چھوٹے بیٹے سعد کے ساتھ مارکیٹ شاپنگ کے لیۓ گئی' تو زندہ واپس نہ آسکی اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ایک ٹرک سے ہوگیا جس میں اسماء اور فہد تو موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ سعد گاڑی کی کھڑکی سے باہر جاگرا تھا اس کے دماغ میں چوٹ آئی تھی جس کے سبب وہ زندہ تو تھا۔۔ مگر زندہ لاش کی طرح ۔ عجیل کو حادثے کی جب اطلاع ملی تو وہ پاگلوں کی طرح ہاسپٹل پہنچا۔
------------------------------------------------------------------------------------
ڈاکٹر کہہ چکے ہیں کہ سعد کو مشین سے زندہ رکھنا ناممکن ہوگیا ہے اس کا معصوم جسم اتنا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا اس کی روح کو جسم کی قید سے آزاد کرنا مجبوری ہے۔۔ عجیل آج ایک لختِ جگر کو دفنا کر دوسرے کو دفنانے کے خوف سے ہی کانپ اٹھا ہے اس کو اب یاد آتا ہے کیسے کیسے لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں اس سے پوچھتے تھے کیسے تڑپتے تھے کوئی آواز اس کی سماعت کے پردے سے نہ ٹکراتی تھی وہ بے حس بن کر خاموش رہتا تھا۔۔ کیونکہ وہ پیارے تو قصائی ڈاکٹروں اور اس کی آمدنی کا ذریعہ بن رہے تھے۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں کون ہوں جو اتنی تفصیل سے سب کچھ جانتا ہے تو میں عجیل کاوہ ضمیر ہوں جس کو عجیل نے تھپکیاں دے دے کر سلا دیا تھا' اور میں جب جب جاگا تب تب اس کو آواز دی کبھی میری کسی صدا پر اس نے کان نہ دھرا تھا مگر آج میں ہی سچ کا کھرا آئینہ اس کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
آج جب سعد کی زندگی کے چراغ کی مدھم سی لو بھی بجھنے کے قریب ہے تو عجیل کو اللہ یاد آرہا ہے۔۔ سب یاد آرہا ہے اس کو اپنے گناہ بھی یاد آرہے ہیں' توبہ کا دروازہ بھی یاد آرہا ہے۔۔ کیا اس کو توبہ ملے گی مجھے تو لگتا ہے کہ نہیں مگر کیا کہیں اللہ تو رحمن و رحیم ہے وہ کریم ہے ہوسکتا ہے کہ مل ہی جائے۔
------------------------------------------------------------------------------------
دیکھیں کیا ہوتا ہے ڈاکٹرز عجیل کی طرف آرہے ہیں اور عجیل زرد ہوتے رنگ کے ساتھ ان کی طرف آس بھری نظروں سے تک رہا ہے دل میں اللہ کو پکار رہا ہے کہ وہ اس کو معاف کردے اس کے لختَ جگر کو زندگی بخش دے۔۔۔
"مسٹر عجیل سعد بہت چھوٹا ہے اس کو انکیوبیٹر پر مزید نہیں رکھا جاسکتا آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ہم نے ایسے ایسے کیس دیکھیں ہیں کہ مریض کو انکوبیٹر ہٹانے کے بعد بھی زندگی مل گئی ہے آپ بس اب فیصلہ کرلیںخود غرض نہ بنیں۔۔ سوچیں' آپ کو سعد کی مکمل زندگی چاہیے یا ایک ایسی زندگی جس میں وہ کسی کا محتاج ہو۔ مزید انکوبیٹر پر اس کو رکھا تو کبھی زندگی میں ہوش آنے کی صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے یا تو وہ ذہنی معذور ہوسکتا ہے یا پھر کسی قسم کی اور ڈس ایبلیٹی ۔ ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں' سعد کو انکیوبیٹر سے ہٹانا اب بہت ضروری ہوگیا ہے۔۔ بہرحال آخری فیصلہ آپ کا ہے مگر یہ جان لیں کہ سعد کی نس نس میں اب تکلیف ہورہی ہے ۔"
ڈاکٹر اسلم نے کیا کہا؟عجیل نے بالکل ناسمجھی والے انداز میں سنا اس کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس ایک ہی جملہ اس کےکانوں گونج رہا ہے۔۔
"اللہ پر بھروسہ؟ مگر میں کیسے کروں کیا اب بھی اللہ مجھے معاف کردے گا کیا میرا بیٹا میرا آخری اثاثہ مجھے مل سکتا ہے؟ کیا کروں میں، ہاں ہاں اماں کہتی تھی کہ مشکل میں دو رکعت نماز نفل پڑھ کر دعا مانگو اور سب اللہ پر چھوڑ دو۔ ہاں میں یہی کرتا ہوں"
عجیل بے اختیاری میں اٹھا اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے لگا دعا کواٹھے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے پیدا کرنے والے رب کو پکار رہا ہے:
"اے اللہ میں سیاہ کار میں گناہ گار کس منہ سے تیرے سامنے دامن پھیلاؤں میں کچھ نہیں۔۔۔ میرے مولا مجھے معاف کردے میرے بچے کو میرے عمالوں کی سزا نہ دے۔۔ اللہ وہ تومعصوم ہے تو جانتا ہے رب! میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور آج تیرے سامنے اپنے اس وعدہ کو دھراتا ہوں جو میں بھول گیا تھا وہ وعدہ جو تونے میری پیدائش سے پہلے ہی مجھ سے لیا تھا اللہ میں اب کبھی تیری ناخلفی نہیں کروں گا ہر گناہ سے تائب ہوجاؤں گا۔۔ بس میرے مالک مجھے بخش دے میں آج تیری رضا میں راضی ہونا چاہتا ہوں اور اپنے جگر کے ٹکڑے کو تیرے حوالے کرتا ہوں اس کی تکلیف ختم کرتا ہوں اے اللہ اے ربِ ذوالجلال مجھے معاف کردے مجھے تھام لے میری مدد"
ٹوٹے پھوٹےالفاظ اشکِ ندامت کے ساتھ بہے جارہے تھے اور شبنمی رات بھیگی جارہی تھی جیسے جیسے رات کا سفر مکمل ہورہا تھا ایسے ایسے عجیل کے دل میں فیصلہ اترتا گیا۔۔ وہ فیصلہ جس کو کرنا ایک ایسے انسان کے لیے دشوار ترین تھا جو اپنی تمام متاع لٹا کر خالی ہاتھ بیٹھا تھا سعد کو انکوبیٹر سے ہٹانے کا فیصلہ۔۔۔
جیسے ہی فجر کی اذان کی آواز عجیل کے کان میں پڑی عجیل جائے نماز سے اٹھ کر ڈاکٹر اسلم کے روم کی طرف چل پڑا اور وہاں جاکر نہایت تحمل سے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا:
"ڈاکٹر صاحب آپ بسم اللہ پڑھ کر میرے بیٹے کو ان تکالیف سے نجات دلادیں میں نے اس کو اللہ کے حوالے کیا"
کچھ کاغذات کی فارمیلیٹی کے بعد ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ڈاکٹر اسلم آئی سی یو میں گئے ہیں میرے بیٹے میرے چاند کو تکلیف سے چھٹکارا دلانے کےلیے۔ ایک ایک گذرتا ہوا لمحہ میرے دل میں نقش ہو رہا ہے
آئی سی یو کےکھلتے ہوئے دروازہ سے ڈاکٹر اسلم باہر آتے ہیں میری نگاہوں نے زمین سے اٹھنے سے انکارکردیا ہے اچانک ایک ہاتھ میرے شانے پر آکر ٹھہر گیا ہے ڈاکٹر اسلم کچھ کہہ رہے ہیں مگر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ آنکھوں سے سیل رواں ہے کچھ نامانوس سے الفاظ میری سماعت سے ٹکرا رہے ہیں پتا نہیں مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر اسلم مجھے زندگی کی نوید دے رہے ہیں کوشش کرتا ہوں اور دوبارہ ان سے پوچھتا ہوں۔۔۔
"ڈاکٹر صاحب کیا ہوا؟ آپ نے جو کہا میں سمجھا نہیں"
ڈاکٹر اسلم نے نہایت جوش سے بتایا ہے۔۔
"مسٹر عجیل آپ کو بہت بہت مبارک ہو انکیوبیٹر ہٹاتے ہیں سعد نے ہمیں رسپونڈ کرنا شروع کردیا ہے۔۔ اللہ کا کرم ہورہا ہے اب ہم امید کرسکتے ہیں کہ سعد کی زندگی بچ سکتی ہے ۔۔اب بس دعا اور امید کا دامن تھام کررکھیں "
ایک دم زمین پر ہی عجیل سجدہ میں گر گیا اور زار و قطار روتے ہوئے کہنے لگا۔۔
" اللہ!اے اللہ! اے اللہ !تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو بخشنے والا ہے تو کریم ہے تو رحیم ہے تو نے مجھ گناہگار کو مایوس نہیں کیا اللہ 'اللہ ۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں اللہ میرا سعد تیرے حوالے ہے ناں تو نے اس کی زندگی کی نوید دے کر مجھے ایک موقع اور دیا ہے۔۔ میں ساری زندگی بھی تجھ سے معافی مانگتا رہوں تب بھی میرے گناہ معافی کے قابل نہیں ہیں مگر اللہ تو رحیم تو رحمان تو کریم ہے "
میرے دل کی حالت عجیب ہورہی ہے میرا سجدہ میں جھکا سر صرف اللہ اللہ پکار رہا ہے پلیز آپ لوگ بھی دعا کریں میرا بیٹا میری زندگی ٹھیک ہوجائے اور اب بس مجھے میرے اللہ میرے رب کو پکارنے دیں ۔