009 - بےانت خواہشیں تحریر نیسمہ

بےانت خواہشیں

فاطمہ۔ ۔ ۔ ۔! فاطمہ۔ ۔ ۔ ۔!
”تم یہاں بیٹھی ہو میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں۔۔ جاؤ اسے کچھ کھانے کو دو۔ ۔ ۔ وہ صبح سے بھوکا ہے۔‘‘ اماں اسے آوازیں دیتی ہوئی آ رہیں تھیں۔
پر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی۔
’’اُٹھ جاؤ بیٹا !اماں نے اسے پچکارتے ہوئے اس کا کندھا ہلایا۔
’’تو میں کیا کروں۔ ۔ ۔ ؟ بھوکا بیٹھا ہے تو۔ ۔ ۔مجھے اور کام نہیں ہیں کیا۔ ۔ ۔؟جو ہر وقت اسکے آگے پیچھے پھرتی رہوں اور کھانے پینے کا خیال رکھوں۔ ہر وقت کی مصیبت، پتہ نہیں کن گناہوں کی سزا ہے۔ مجھے تو ایسا کوئی گناہ بھی یاد نہیں ۔ ۔ اللہ نے پتہ نہیں مجھ سے کس چیز کا بدلہ لیا ہے۔ آخر وہ لے کیوں نہیں جاتا ہے اُسے، زندگی عذاب بنا دی ہے میری۔‘‘ وہ جیسے پھٹ ہی پڑی۔

اماں دکھ اور غصے کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھ کہ رہ گئیں۔

*******

’’اماں ! یہ دیکھیں فاطمہ کیا کیا اُٹھا لائی ہے ۔‘‘ خدیجہ فاطمہ کی لائی ہوئی چزیں اماں کو دیکھانے لگی۔
فاطمہ بیٹا !۔ ۔ ۔ اتنا کچھ۔ ۔ ۔ ۔! ابھی سے۔ ۔ ۔ ۔؟ ‘‘اماں حیرت سے بولی۔
’’اماں یہ تو کچھ بھی نہیں۔ ۔ میرا دل تو چاہ رہا پوری مارکیٹ اٹھا لاؤں۔‘‘ وہ جوش فرحت سے بولی۔
’’پر فاطمہ۔ ۔ ۔! یہ کیا۔ ۔ ۔؟ یہ سب تو۔ ۔ ۔! تم یہ سب۔ ۔ ۔ ۔!‘‘خدیجہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی۔
اماں بھی یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
’’وہ اس لیے خدیجہ۔ ۔ ۔! کیونکہ میں بیٹے کی ماں بننا چاہتی ہوں۔ ۔مجھے بیٹے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ۔ ۔میری خواہش ہے کہ میرا پہلا بیٹا ہی ہو اسی لیے میں نے صرف لڑکوں والی ہی شاپنگ کی ہے۔‘‘وہ ہونٹوں پہ خوبصورت مسکراہٹ سجا کر گویا ہوئی۔
’’ہاں۔۔! لیکن یہ سب تو اللہ کے کام ہیں۔ ۔ ۔اور آنے والے وقت کا کیا پتہ۔ ۔ ۔تم نے دونوں کی چزیں لینی تھیں۔‘‘اماں رسانیت سے بولیں۔
’’نہیں اماں !بیٹی نہیں۔ ۔ ۔ بس بیٹا۔ ۔ ۔‘‘اس نے شدت سے اماں کی بات کو رد کر دیا۔
’’لیکن فاطمہ۔ ۔ ! اماں ٹھیک ۔ ۔ ۔ ۔‘‘خدیجہ نے کچھ کہنا چاہا۔
’’پلیز خدیجہ کچھ نہیں تم اور اماں بس دعا کرنا۔ ۔ ۔مجھے بیٹے ہی کی ماں بننا ہے اور ویسے بھی میں لڑکیوں کی چیزوں کی طرف گئی ہی نہیں۔ ۔ ۔مجھے تو بس بیٹا ہی چاہیئے۔ ۔ ۔‘‘وہ چیزیں سمیٹتے ہوئے اپنی شدید خواہش کا اطہار کر رہی تھی۔

******

’’ہیلو۔ ۔ ۔ ! ہاں خدیجہ بیٹا کیسی ہے فاطمہ۔ ۔ ۔ ۔؟۔ ۔ ۔ ۔بچہ کیسا
ہے۔ ۔۔ ۔؟کوئی پریشانی کی بات تو نہیں۔ ۔ ۔؟ سب ٹھیک ہے نا۔ ۔ ۔؟‘‘
جب سے خدیجہ نے فون کیا تھا وہ فاطمہ کولے کر ہسپتال جارہی ہے وہ تب سے مضطرب حالت میں اللہ کے حضور بیٹھی دعائیں کر رہیں تھیں اور اب خدیجہ کا فون آنے پہ وہ ایک ہی سانس میں سارے سوال کر گئیں۔
’’جی اماں۔۔! سب ٹھیک ہے۔ فاطمہ اور بچہ بھی بالکل ٹھیک ہے۔ ۔ ۔اللہ نے آپ کو نواسی دی ہے۔‘‘خدیجہ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
’’اچھا اماں اب میں رکھتی ہوں پھر کروں گی۔‘‘
‘‘رب سوہنے کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ رب سوہنا دونوں کو اپنی امان میں رکھے۔ حیاتی دے اور نیک نصیب کرے۔‘‘ وہ فون رکھتے ہوئے مسلسل دعائیں کیے جا رہیں تھیں۔

لیکن فاطمہ کو تو بیٹے کی خواہش تھی اور اس نے سب تیاری بھی۔ ۔ ۔انھیں فاطمہ کی خواہش اور تیاری یاد آئی۔
‘‘چلو جو رب سوہنے کی مرضی۔ ۔پہلی بار ہے پھر سہی۔ ۔۔‘‘وہ مطمئن ہو گئیں۔

******

فاطمہ کو بیٹے کی بے حد خواہش تھی۔ وہ بیٹی کو دیکھ کہ مایوس ہو گئی۔ لیکن پھر ماں بننے کی خوشی اس پہ حاوی آ گئی۔اور وہ خوش ہو گئی اور یہ سوچ کہ مطمئن کہ اگلی دفعہ تو بیٹا ہی ہو گا۔

مگر پھر جب فاطمہ نے دوسری اور تیسری دفعہ بھی بیٹی کو ہی جنم دیا تو اس کی برداشت ختم ہو گئی۔ اس نے تو جیسے ہسپتال کو سر پہ اٹھا لیا اور رو رو کہ اپنا برا حال کر لیا۔ بچی کو دیکھنے تک سے انکار کر دیا۔ سب سمجھا سمجھا کہ تھک گئے کہ بیٹیاں کونسی بیٹوں سے کم ہوتی ہیں۔ اور ان شاء اللہ۔۔۔ اللہ تمہیں بیٹے سے بھی نوازیں گا۔ لیکن اس کو تو جیسے وہم ہوگیا تھا کہ بیٹیوں نے اس کا گھر دیکھ لیا ہے اب بیٹیاں ہی ہونگی وہ کبھی بیٹے کی ماں نہیں بن پائے گی۔

******

وہ ہر دفعہ ایک آس باندھتی۔ کوئی دوا ،کوئی وظیفہ اس نے نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔حتٰی کہ بیٹا ہونے کی دوا بھی کھانے لگی۔ ۔ ۔اماں کو پتہ چلا تو خفا ہوتیں۔ ۔
’’بیٹے بھی کبھی دواؤں سے ہوتے ہیں یہ تو اللہ کا حکم ہے جسے چاہے نواز دے۔‘‘

’’پر اللہ بھی جیسے اس کی برداشت آزما رہا تھا۔ یا پھر دل کھول کہ اپنی رحمتوں سے نواز رہا تھا۔ ۔ ۔ اس کی حکمتیں تو بس وہی جانے ۔ ۔‘‘
اسے یکے بعد دیگرے چھ بیٹیوں سے نوازا۔
اور وہ چھ بیٹیوں نے اسے جیسے پاگل سا کر دیا۔تھوڑا بہت جو ان کا خیال کرتی ،وہ بھی چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ان سے لاپرواہ ہو گئی کہ انہوں نے کونسی میری جان چھوڑنی ہے۔ ۔ ۔میری جان کو چھ جونکیں چمٹ گئی ہیں۔ ۔بیٹی پیدا ہونے پہ وہ ہر وقت روتی رہتی اور دنوں بیمار پڑی رہتی۔ ۔ ۔اللہ سے شکوے شکایتیں کرتی رہتی۔ ۔ ۔

’’اماں اسے بہت سمجھاتیں۔ ۔بیٹا ان کو دیکھو جو بیٹیوں کو بھی ترستے ہیں۔ اللہ نے تمہاری گود خالی نہیں رکھی۔ ۔ کیوں ناشکری کرتی ہوں۔ ۔ ۔لوگوں کے شوہر اور سسرال والے جینا حرام کر دیتے ہیں۔ ۔ طلاقیں دے دیتے ہیں۔ ۔ ۔اپنی طرف دیکھو بیٹا اللہ نے اتنا اچھا شوہر اور سسرال دیا ہے۔ ۔ جنہوں نے نےکبھی نہیں جتایا بس اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تم ماں ہو کہ ایسا کرتی ہو۔ ۔اللہ نے اتنی پیاری۔ ذہین۔ صابر بچیاں دی ہیں۔ ۔ اللہ کا شکر ادا کرو۔ ۔سب صحیح سلامت ہیں۔ ۔کیوں اللہ سے ضد لگا کہ بیٹھی ہو ۔ ۔ ؟ لیکن اسے تو جیسے بیٹے کی خواہش نے اندھا کر دیا تھا۔‘‘

******
’'اماں آپ ہی فاطمہ کو سمجھائیں ۔ ۔ یہ دیکھیں یہ کیا کرتی پھر رہی ہے۔ ۔ ۔؟‘‘خدیجہ نے اماں کو بتاتے ہوئے برہمی سے فاطمہ کو دیکھا۔
’’کیا کر رہی ہوں ہاں۔ ۔ ۔؟ جو کر رہی ہوں۔ ۔ ۔بالکل ٹھیک کر رہی ہوں۔ ۔ ۔چاہے مجھے کوئی بھی روکے لیکن میں ضرور جاؤں گی۔ ۔ ۔‘‘وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔
’’
مجھے بھی تو پتہ چلا۔ ۔ ۔‘‘اماں نے باری باری دونوں کو دیکھا۔
’’یہ۔ ۔ ۔یہ۔ ۔ ۔پاگل ہو گئی ہے بیٹوں کے لیے۔ ۔ ۔ناشکری بن رہی ہے۔ ۔ سب کچھ تو دیا ہے اللہ نے کس چیز کی کمی ہے ۔ ۔ ؟صحیح اور غلط کی تمیز بھول گئی ہے۔ ۔ ۔اماں یہ کسی پیر کے پاس جا رہی ہے۔ ۔ ۔ بیٹا لینے کی لیے۔ ۔ ۔بیٹے تو اب پیر بانٹنے لگے ہیں نا۔ ۔ ۔خود تو وہ اپنی ایک اولاد بھی پیدا نہیں کر سکا اور لوگوں کو بیٹے دے گا۔ ۔ ۔اس کی عقل پہ پتھر پڑ گئے ہیں۔۔۔‘‘خدیجہ بہت غصے میں تھی۔

اماں دکھ کی کیفیت میں فاطمہ کو دیکھتی رہ گئیں۔۔جو بیٹوں کی خواہش میں اتنی آگے چلی گئی کہ اللہ کا شریک ٹھہرانے لگی۔ انہوں نے تو یہ سب نہیں سکھایا تھا انہوں نے تو ہمیشہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور شکر کرنا سکھایا تھا۔

’’فاطمہ۔ ۔ ۔! بیٹا ۔ ۔ !‘‘ اماں نے کچھ کہنا چاہا۔
’’اماں پلیز ! مجھے کچھ نہیں سننا۔ ۔ ۔میں وہاں ضرور جاؤں گی۔ ۔ ۔‘‘وہ ضدی لہجے میں بولی۔
’’بیٹا اس کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ ۔ ۔ہو سکتا ہے وہ تمہارے حق میں بہتر نہ ہو۔ ۔ ۔وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب وہ بہتر جانتا ہے کہ کس کو کیا دینا ہے۔ ۔ ۔‘‘ اور پھر کتنوں کے بیٹے ہیں پر انھیں سوائے دکھ کے کچھ نہیں ملا۔ ۔ ۔‘‘اماں نے اسے سمجھانا چاہا۔
’’میں کچھ نہیں جانتی اماں مجھے بس بیٹا چاہیے۔ ۔ ۔وہ کیسا بھی ہو۔ ۔ ہو گا تو بیٹا نا۔ ۔ ۔ آپ کیا جانے میرے دکھ کو ۔ ۔ ؟آپ تو بیٹوں والی ہیں نا۔ ۔ ۔چھ بار۔ ۔ ۔چھ بار اس درد سے گزری ہوں اور ہر بار اس نے مجھے مایوس لوٹایا ہے۔ ۔ ۔اگر دے دے گا تو کیا بگڑ جائے گا اس کا۔ ۔ ۔پھر وہ بھی تو اللہ کے نیک بندے ہیں ان کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ ۔ ۔لوگوں کو بیٹے ملے ہیں تو وہاں جاتے ہیں نا۔ ۔ ۔ ۔‘‘وہ کسی طرح بھی نہیں سمجھ رہی تھی۔

*******
فاطمہ جو کہتی تھی اسے بس بیٹا چاہیئے۔ ۔ ۔چاہے کیسا بھی ہو۔ ۔ ۔اب بس بیٹے ہونے کے پانچ سال گزرنے پہ ہی تھک گئی ہے۔ ۔ ۔اور یہ کہتی ہے جانے یہ کس گناہوں کی سزا ہے۔

کیونکہ ساتویں دفعہ اللہ نے اسے مایوس نہیں لوٹایا۔ ۔ ۔اس کی خواہش پوری کر ہی دی۔ ۔ ۔
اور اسے بیٹے کی ماں بنا دیا تھا۔ ۔ ۔بیٹا۔ ۔ ۔جو نا صرف نچلے دھڑ سے مفلوج تھا بلکہ ذہنی طور پہ بھی معذور تھا۔ ۔ ۔پتہ نہیں یہ اس کی دعاوں کا صلہ تھا۔ ۔ ۔ یا پھر اسکی ضد کا انعام ۔۔ ۔ ۔

******