010 - ٹھوکرتحریر سائرہ

ٹھوکر

ایک سچی کہانی۔ کبھی کبھی انسان غرور میں مبتلا ھو کر خدا کو بھول جاتا ھے۔ وہ فراموش کر دیتا ھے کہ جس نے اسے آسمان پر پہنچایا ھے وہ ایک ٹھوکر کے ذریعے اسے منہ کے بل زمین پر بھی گرا سکتا ھے، صرف ایک ٹھوکر کے ذریعے اس کی انا کو مٹی میں ملا سکتا ھے اور ایک ٹھوکر کے ذریعے اس کی تنی ھوئی گردن کو ڈھلکا سکتا ھے، صرف ایک ٹھوکر!

************************************************** ***

"بس بڑی باجی! میں تو آپ کے منہ سے ہاں ہی سن کر جاؤں گی۔"
شہناز بیگم نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔

"یہ تو آپ کی محبت ھے بیٹے لیکن ۔ ۔ ۔ "
خدیجہ آراء بیگم کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شہناز بیگم بول اٹھیں:

"لیکن، ویکن کچھ نہیں! میرا فرحان تو لاکھوں میں ایک ہے۔ خوبصورت، پڑھا لکھا اور سب سے بڑھ کر فلائٹ لیفٹننٹ ہے۔ محلے اور خاندان کی ہر لڑکی اس کی راہ دیکھتی ہے۔ پتہ نہیں کتنے ہی آفیسرز اپنی بیٹیوں کے لئے آس لگائے بیٹھے ہیں لیکن ہمیں تو حنا پسند آئی ہے۔ میرے فوجی بیٹے کے ساتھ بہت اچھی لگے گی۔"
شہناز بیگم نے فخر سے کہا۔

"بیٹا! آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ حنا کی عمر ابھی صرف پندرہ سال ہے اور اس کا میٹرک بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ بشرٰی کی تو ابھی صرف منگنی ہوئی ہے۔ ہم بشرٰی اور ملیحہ کی شادی کے بعد ہی حنا کی شادی کے بارے میں سوچیں گے۔"
خدیجہ بیگم نے دلیل دی۔

"ارے بڑی باجی عمر کا کیا ہے۔ اب میں تو آپ کو حنا کی نانی کے بجائے اماں سمجھتی تھی اور حنا کی اماں کو حنا کی بڑی باجی۔ آپ کی اور شگفتہ کی بھی تو کم عمری میں شادی ہوئی ہوگی اور پڑھنے کا کیا ہے؟ وہ تو شادی کے بعد بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ میں تو بس پکا ارادہ کر کے آئی ہوں کہ ہاں سن کر ہی جاؤں گی۔"
شہناز بیگم نے یقینی لہجے میں کہا۔

"بیٹی، میں اور شگفتہ تو بچیوں کی شادی کے بارے میں اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہم صالح اور خاندان والوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ آپ کچھ وقت تو دیں۔"
خدیجہ بیگم نے جواب دیا۔

"ہاں، ہاں، بالکل آپ حنا کے ابا سے مشورہ کر لیں مجھے پکا یقین ہے کہ صالح بھائی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ آخر کو ایک فلائٹ لیفٹنینٹ ان کا داماد بننے جا رہا ہے۔"
شہناز بیگم نے جلدی سے جواب دیا۔

*******************************************

خدیجہ آراء بیوہ تھیں۔ چھوٹی بیٹی شائستہ کے شادی ہو کر امریکہ چلے جانے کے بعد وہ بڑی بیٹی شگفتہ کے ساتھ رہنے لگیں۔ شگفتہ کے شوہر، صالح اپنی ساس کی بہت عزت کرتے تھے۔ شگفتہ کے آٹھہ بچے تھے، سات بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ بشرٰی، ملیحہ اور حنا کے بعد بیٹا، فیصل اور پھر اس سے چھوٹی باقی بیٹیاں بالترتیب فائزہ، شمسہ، نازیہ اور عائشہ تھیں۔ خدیجہ آراء کے خاندان کو خدا نے خوبصورتی کھل کر عطا فرمائی تھی۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تھے۔ حنا جہاں بے انتہا حسین تھی وہاں اس کا قد بھی سب بہنوں میں لمبا تھا اور اپنے قد ہی کی بنا پر وہ سب پر سبقت لے جاتی تھی۔
صالح صاحب کو جاننے والوں میں اخلاق، ہر کسی سے محبت سے پیش آنے اور ہر کسی کی بے انتہا مدد کرنے کی وجہ سے چچا کہا جاتا تھا۔ یہی حال خدیجہ بیگم، شگفتہ اور ان کے بچوں کا تھا۔ روز ہی کوئی نہ کوئی مہمان محلے یا خاندان میں سے ان کے گھر آتا تھا۔ خدیجہ بیگم کو سب بڑی باجی کہتے تھے۔ کسی کے یہاں دعوت ھے تو شگفتہ سے کھانے پکوائے جا رھے ہیں، شادی ہے تو بڑی باجی اور ان کی نواسیوں سے کپڑے سلوائے جا رہے ہیں، کوئی بیمار ہے تو چچا ہسپتال لانے اور لے جانے کی ڈیوٹی دے رہے ہیں غرض یہ کہ چچا کے گھر ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا۔
شہناز بیگم بھی اسی محلے میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کے شوہر وکیل تھے۔ ان کے پانچ بچے تھے۔ سب سے بڑا فرحان، پھر ریحانہ، بلقیس، فوزیہ اور قاسم۔ ریحانہ کی شادی ہو چکی تھی۔ شہناز بیگم نے جب اپنے بڑے بیٹے کی شادی کا ارادہ کیا تو ان کی نظر محلے کی حنا پر ٹھری۔
خدیجہ بیگم اور ان کے گھر والے اس رشتے پر راضی نہ تھے۔ بڑی بیٹی بشرٰی کا رشتہ طے ہو گیا تھا لیکن شادی ایک سال بعد مقرر تھی جب بشرٰی بی۔ اے سے فارغ ہو جاتی۔ بشرٰی اور ملیحہ کی شادیاں جب تک نہ ہو جاتیں اس وقت تک حنا کی شادی ناممکن تھی لیکن جب خاندان والوں سے مشورہ کیا گیا تو زیادہ تر لوگوں نے زور دیا کہ اچھے رشتے بار بار نہیں آتے اسلئے صالح اور شگفتہ کو چاہئے کہ وہ رشتہ طے کر دیں۔ شادی بے شک دو، تین سال بعد کردیں۔ خاندان والوں کے زور دینے پر صالح اور شگفتہ نے اس رشتے کو منظور کر لیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ شادی دو ڈھائی سال بعد کی جائے گی۔ شہناز بیگم نے اس بات کی حامی بھر لی۔ یہ سب کچھ شہناز بیگم کے رشتہ لے کر آنے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر ہو گیا تھا۔
دوسری طرف حنا اس شادی پر راضی نہ تھی۔ وہ شادی سے پہلے گریجویشن پورا کر لینا چاھتی تھی۔ اس کا ذہن ابھی تک اتنا میچور نہیں ہوا تھا کہ کسی آدمی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی اور انٹر کے بعد شادی کر لیتی لیکن ماں باپ کے سامنے وہ اپنی سوچوں کا اظہار نہیں کر پائی۔

*********************************************

رشتہ پکا ہونے کے کوئی دو، تین بعد شہناز بیگم فرحان کے ساتھ صالح صاحب کے گھر گئیں۔ تھوڑی بہت بات چیت کے بعد فرحان بولا:

"شگفتہ آنٹی حنا کو تو بلوائیے۔"

"بیٹا ہمارے خاندان میں لڑکیاں شادی سے پہلے لڑکوں کے سامنے نہیں آتیں۔"
شگفتہ نے وضاحت دی۔

"آنٹی یہ تو پرانے وقتوں کی بات ہے، وقت بدل گیا ہے۔ اب ایسا کہاں ہوتا ہے۔"
فرحان نے جھٹکے دار لہجے میں کہا۔

"اور کیا شگفتہ بہن، دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔ اب دیکھیں نا فرحان کا سوسائٹی میں ایک سٹیٹس ہے۔۔ اس کا ملنا جلنا بہت زیادہ ہے۔ فرحان نے تو سب کو بتا بھی دیا ہے کہ اس کی منگنی ھوگئی ہے۔ وہ اپنی منگیتر سے ملنا چاہتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ ہمیں روایات سے زیادہ اپنے بچوں کی خوشی دیکھنی چاہیے اور خاندان والوں کا کیا ہے؟ وہ تو بولتے ہی رہتے ہیں۔ "
شہناز بیگم نے بھی اپنے بیٹے کی بات کو سہارا دینا ضروری سمجھا۔

"ارے بیٹا ابھی تو صرف بات طے ہوئی ہے اور کوئی رسم بھی نہیں ہوئی ہے۔ خاندان ۔ ۔ ۔"
خدیجہ بیگم نے بولنا شروع کیا ہی تھا کہ شہناز بیگم نے ان کی بات پوری نہ ہونے دی اور دل ہی دل میں رسم اور منگنی پر استعمال ہونے والی رقم کا حساب لگاتے ہوئے جلدی سے بولیں:

"ارے بڑی باجی آپ کا خاندان تو بہت ہی بیک ورڈ ہے اور منگنی یا رسم کا کیا ہے؟ جب بات ہمارے درمیان طے ہوچکی تو بس سمجھیں کہ منگنی بھی ہو گئی۔ اب دیکھیں فرحان میس جاتا ہے یا کلب جاتا ہے تو اس کی منگیتر ساتھ نہیں ہوگی تو کتنا برا لگے گا۔ اب یہ بات ہر کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے۔ ہر کسی کے گھر میں فلائٹ لیفٹننٹ تھوڑی ہوتا ہے اس لیے خاندان یا محلے والوں کی بالکل پروا نہ کریں۔"

اب یہ تقریباً روز کا معمول بن گیا کہ شہناز بیگم اور فرحان آتے اور تقاضہ کرتے کہ حنا کو فرحان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہیے اور گھومنے پھرنے جانا چاہیے۔
خدیجہ بیگم اور شگفتہ مناسب الفاظ میں انکار کر دیتیں۔ جب بھی فرحان اور شہناز بیگم آتے تو حنا دوسری منزل پر چلی جاتی۔ اگر کوئی محلے والا بیٹھا ہوتا تو سلام کر کے جانے میں اپنی عافیت سمجھتا۔ وجہ ان کا حد سے زیادہ مغرور ھونا تھا۔
کچھ ہی دن بعد بلقیس اور فوزیہ نے بھی چکر لگانے شروع کر دیئے۔ کبھی میک اپ کا سامان لے کر آجاتیں کہ ہم حنا کا میک اپ کریں گے۔ حنا گھبرا جاتی کہ اس نے کبھی میک اپ کیا ہی نہیں تھا۔ اس کے ہزار دفعہ نہ، نہ کرنے کے باوجود بھی وہ نہیں مانتیں۔ اس کے علاوہ ہر روز اپنے بھائی سے متعلق ایک نئی بات سناتیں۔

"پتہ ہے، ھمارے گھر کے سامنے رہنے والی رخشندہ تو بیمار پڑ گئی ہے جب سے اس نے بھائی کی منگنی کی خبر سنی ہے۔ اس کے رونے کی آواز ہمارے گھر تک آتی ہے۔"

"کونے کے گھر والی شاہینہ تو روز صبح ایسی حسرت سے بھائی کو دیکھتی ہے کہ جیسے اس کی قسمت ہی خراب ہو گئی ہو۔ منگنی ہونے سے پہلے بھی روز جھانکتی تھی۔"

"یہ جو تمھاری پڑوسی ہے نا مریم، روز بھائی کو چھت پر دیکھنے آتی ہے۔"

"ہمارے چچا کی بیٹی فرح رشتہ طے ہونے سے پہلے ہر وقت ہمارے گھر کے چکر لگاتی تھی اور اب تو ایسی غائب ھوئی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ایک دن آئی تو میں نے قاسم سے اس کے سامنے پوچھا کہ حنا باجی کیسی لگتی ہیں تمھیں؟ تو اس نے کہا وہ تو رئیل بیوٹی ہیں۔ جل گئی پورے محلے والوں کی طرح، اتنا سا منہ نکل آیا تھا اس کا۔"

*********************************************

ایک دن شہناز بیگم اور فرحان آئے تو ان دنوں شائستہ اور ان کے شوہر فیروز آئے ہوئے تھے۔ فرحان نے کچھ دیر فیروز صاحب سے باتیں کرنے کے بعد پھر پرانا مطالبہ شروع کر دیا۔ شگفتہ جب اسے کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکیں تو اس نے کھڑے ھوتے ہوئے کہا:

"آج میں حنا سے خود بات کروں گا کہ آخر وہ چاہتی کیا ہے۔"

یہ کہہ کر وہ ڈرائنگ روم سے اٹھ کر گھر کے اندرونی حصے میں چلا گیا۔ سب بہن بھائی حیران کہ آج فرحان بھائی اندر کیوں آگئے ہیں۔ فرحان نے فائزہ سے پوچھا کہ حنا کہاں ہے تو اس نے بتا دیا کہ اوپر ہیں۔ جب تک وہ صحن میں پہنچا، فیروز صاحب بھی آگئے۔ فرحان کسی کا لحاظ کیے بغیر دوسری منزل کی طرف منہ کر کے چیخنے لگا:

"حنا! سامنے آؤ اور مجھ سے بات کرو۔ میں دیکھتا ہوں کہ آج تم کیسے نہیں آؤ گی۔ آج فیصلہ ہو کر رہے گا۔"

فیروز صاحب نے بات بگڑتے دیکھ کر بہانہ بنا دیا کہ حنا کے سر میں درد تھا تو وہ سو رہی ہے' لیکن فرحان ایک ہی بات پر اٹکا ہوا تھا کہ وہ آج بات کر کے ہی جائے گا لیکن جب اسے کوئی نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آیا تو وہ پیر پٹختا ہوا اپنی ماں کو ساتھ لے کر چلا گیا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگ مذہب کو بھولے نہیں تھے۔ شہناز بیگم کے خاندان جیسے لوگ خال خال ہی نظر آتے تھے۔ ایک گھر کی آواز دوسرے گھر تک آسانی سے پہنچ جاتی تھی۔ ہر گھر کی دیوار دوسرے کے گھر کی دیوار سے ملی ہوئی تھی۔
فرحان کے رخصت ہونے کے کچھ دیر بات پڑوس کی شبنم عرف شنو آگئیں۔

"اے ہے بڑی باجی کیا ہو گیا؟ آخر یہ بدبخت فرحان کیوں چیخ رہا تھا؟"

"ارے کچھ نہیں بس ایسے ہی۔"
خدیجہ بیگم نے ٹالنے کی کوشش کی۔

"آئے لو بڑی باجی، اب چھپانا مت۔ مجھے سب سنائی دے رہا تھا۔ وہ حنا کو بلا رہا تھا۔"
شبنم نے جلدی سے کہا۔

بڑی باجی گھبرا گئیں کہ کہیں وہ کوئی غلط مطلب نہ لے لیں۔ انھوں نے پوری بات بتا دی۔ پوری بات سننے کے بعد شبنم نے کہا:

"غضب خدا کا! دیدوں کا پانی ختم ہو گیا ہے۔ ان کے ماڈرن گھرانے کے علاوہ مجھے کوئی ایک مثال آپ اپنے خاندان میں سے یا محلے میں سے دے دیں جہاں ایسا ہوتا ہو۔ آپ سختی سے منع کریں۔ کوئی غلط بات تھوڑی کہہ رہی ہیں آپ۔"

"وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم لڑکی والے ہیں۔"
خدیجہ بیگم نے کمزور جواز پیش کیا۔

"لڑکی والے ہونے سے کیا ہوتا ہے اور بڑی باجی برا نہ مانیے گا۔ یہ رشتہ ہی ٹھیک نہیں ہے۔ کہاں آپ جیسے سیدھے سادھے لوگ اور کہاں ان جیسے چنٹ اور چھچورے! یہ بات تو میرے باؤلے حِکم (حکمت) کو بھی سمجھ آتی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اتنے جھگڑالو آدمی کی اتنی سیدھی لڑکی سے شادی ۔"
شبنم نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

"شنو حِکم کو باؤلا نہ بولا کرو۔ اتنا ذہین بچہ ہے اس کی میٹرک میں تیسری پوزیشن آئی ہے۔"
خدیجہ بیگم نے شنو کو ٹوکا۔

"ارے تو میں کیا کروں اس کی تیسری پوزیشن کا۔ آپ کو نہیں پتہ جاسوسی ناول پڑھ پڑھ کر ان کے کرداروں کی جیسی حرکتیں کرنے لگا ہے۔ اسے تو دنیا کا کوئی ہوش ہی نہیں ہے۔"
وہ سانس لینے کے لئے رکیں اور پھر بولیں:

"اب دیکھیں اس باؤلے حکم نے بھی اس بات کا اندازہ لگا لیا۔ پتہ نہیں آپ لوگوں نے کیا سوچ کر ہاں کردی۔ ان کے تو پیر ہی زمین پر نہیں ٹکتے ہیں۔ بھول گئے ہیں کہ اگر ٹھوکر لگتی ہے تو انسان آسمان سے منہ کے بل زمین پر گرتا ہے۔"

********************************************

دوسرے دن شہناز بیگم کافی غصے کے عالم میں موجود تھیں۔

"آج فیصلہ ہو کر رہے گا۔ آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ کب تک یہ چھپن چھپی کا کھیل چلے گا؟ فرحان کو اتنی بے عزتی لگتی ہے کہ وہ اپنی منگیتر کو پارٹیز میں ساتھ لے کر نہیں جا سکتا ہے۔ آخر اس کا بھی کوئی اسٹیٹس ہے۔"

"دیکھو بیٹے! ہماری بشرٰی کی بھی منگنی ہوئی ہے مگر ایک سال ہو رہا ہے کاشف کبھی بھی اس سے ملنے نہیں آیا۔"
خدیجہ بیگم نے سمجھانے کی کوشش کی۔

"بڑی بی ! کچھ خدا کا خوف کریں۔ آپ سویلین اور ڈیفینس کو آپس ملا رہی ہیں۔ آپ کچھ آگاہی حاصل کریں اور ایک بات بتائیں آپ بڈھی کیوں آکر بیٹھ جاتی ہیں؟ کیا فرحان آپ بڑھیا کو دیکھنے آتا ہے؟ اور یہ کیا دکھاوا لگا رکھا ھے آپ لوگوں نے کہ ہمارے یہاں یہ نہیں ہوتا اور وہ نہیں ہوتا۔ سب پتہ ہے ہم کو! فیروز صاحب کی بہن زرینہ جب میرے شوہر کے پاس آئی تھیں تو انھوں نے بتایا تھا کہ آپ کی لڑکیاں اپنے گھر میں لڑکوں کو بلاتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے رشتہ کیا لیکن آپ جیسے دوغلے لوگوں کا کیا کیا جا سکتا ہے!"

شائستہ کو اس الزام پر بہت غصہ آیا اور وہ بولیں:

"بکواس کرتی ہے زرینہ۔ اس کا تو فیروز کے گھر والوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رہ گیا ہے اور وہ کونسی ان کی سگی بہن ہے! رشتے کی خالہ زاد بہن لگتی ہے۔ ہم نے تو آج تک اس کی شکل بھی نہیں دیکھی ہے۔ آپ اس کی بات کا کسں طرح یقین کر سکتی ہیں اور محلے میں سے کوئی ایک چشم دید گواہ تو لائیے جس نے کوئی ایسا واقعہ دیکھا ہو۔"

شہناز بیگم اور زیادہ بھڑک اٹھیں۔

"ارے جاؤ، جاؤ۔ بڑے دیکھے ہیں تم جیسے دوغلے اور جھوٹے لوگ۔ میرے اتنے کلچرڈ بیٹے کا تم جیسے اوچھے لوگوں کے ساتھ گزارہ نہیں ہو سکتا۔ خدا کا شکر میری بروقت آنکھیں کھل گئیں اور میرا بچہ بچ گیا۔ میں یہ رشتہ ابھی اور اسی وقت ختم کرتی ہوں۔"

*********************************************

شہناز بیگم تو اپنا فیصلہ سنا کر چلی گئیں لیکن پریشانیوں نے چچا کے گھر کی راہ دیکھ لی۔
فیروز صاحب کا خیال تھا کہ لوگ باتیں بنائیں گے اور ابھی معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ زرینہ کے بہکانے کے باعث ہوا ہو۔ صالح صاحب کا خیال تھا کہ اچھا ہوا ان لوگوں کی اصلیت سامنے آگئی۔ جو ہوا اچھا ہوا لیکن فیروز صاحب نے دوسرے دن شہناز صاحبہ کے گھر جانے کا ارادہ کر لیا سب کے منع کرنے کے باوجود۔
دوسرے دن فیروز صاحب اور شائستہ شہناز بیگم کے گھر سے مایوس لوٹے۔ نہ صرف شہناز بیگم نے بلکہ ان کے بچوں نے بھی خوب ان کو بے عزت کیا تھا۔ شائستہ نے بتایا:

"پتہ نہیں کیا بات تھی، بلقیس جیسے ہی ہم کچھ بولتے تو قہقہے مار کر ہنسنا شروع کر دیتی۔ صرف فوزیہ چپ بیٹھی تھی۔"

دوسری طرف اس سب کاروائی کے باوجود حنا اطمینان سے تھی کہ ہر روز کی بیکار باتوں سے اس کو نجات مل گئی۔ وہ خوش تھی کہ اب وہ سکون سے پڑھ سکے گی۔
رشتہ تو ایک مہینے میں ہو کر ختم ہو گیا لیکن ساتھ ایک پینڈورا باکس کھول گیا۔ اس سب پر ہی بس نہیں ہوا۔ شہناز بیگم اور ان کے گھر والوں نے محلے بھر میں حنا کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ ہر دوسرے، تیسرے روز کوئی نہ کوئی نئی کہانی لے کر آجاتا۔

"اے بڑی باجی سنا ہے کہ حنا نے فرحان سے پی آئی اے کے رنگین رومال منگوائے تھے۔"

"حنا تم نے تو بیچارے فرحان سے تحفے ٹھگ ٹھگ کر اسے کنگال ہی کر دیا۔"

"فرحان نے بشارت کو بتایا ہے کہ جب فرحان گلی میں دوستوں کے ساتھ بیٹھتا تھا تو حنا اشارے کر کے فرحان کو بلاتی تھی۔"

صرف محلے کی حد تک نہیں آس پاس جاننے والوں میں بھی یہ باتیں مشہور ہو گئی تھیں۔ حنا جہاں سے گزرتی کوئی آواز ضرور اس کے کانوں سے ٹکراتی۔

"یہی ہے چچا کی بیٹی حنا!"

ایک دن حنا اسکول سے واپس آرھی تھی کہ محلے کی سامنے والی مین روڈ پر اسے اپنے بھائی کے اسکول کی ٹیچر مل گئیں اور وہ اس سے باتیں کرنے لگیں۔ مین روڈ پر چھوٹی سی پرچون کی دکان تھی۔ اس کے برابر والے گھر کے برآمدے میں ایک بوڑھی خاتون بیٹھی رھتی تھیں۔ جیسے ہی انھوں نے حنا کو دیکھا تو دکاندار سے کہا:

"یہی ہے نا تیسری گلی کے چچا کی بیٹی۔"

حنا کی برداشت جواب دے گئی اور اس نے خاتون سے کہا:

"جی دادی میں ہی ہوں چچا کی بیٹی حنا۔ اگر نظر نہ آرہا ہو تو قریب آجاؤں۔"

اس واقعے کے بعد سے چچا کے گھر والوں نے محلے میں ملنا جلنا بہت ہی کم کر دیا سوائے چند ایک گھرانوں کے۔ شہناز بیگم کا خاندان بھی گھر چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہو گیا۔
کچھ ہی دن بعد اطلاع ملی کہ فرحان کی شادی ہو گئی ہے۔ پڑوس کی مریم کی اماں نے بتایا:

"شہناز آئی تھی بشارت کی شادی میں۔ بڑی خوش تھی۔ میں نے فرحان کی بیوی کو دیکھا تھا۔ توبہ توبہ بالکل معمولی شکل کی ہے۔ فرحان کے کسی بہت بڑے افسر کی بیٹی ہے۔ ھماری حنا تو اتنی حسین ہے وہ تو اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔"

شگفتہ اس سب صورتحال سے بہت دل برداشتہ رہنے لگی تھیں۔ انھوں نے کہا:

"دوسروں کو تکلیف دینے والوں کی خوشی دائمی نہیں ہوتی۔ میں بھی انتظار کر رہی ہوں کہ کب یہ لوگ ٹھوکر کھائیں گے!"

*********************************************

چار پانچ سال گزر گئے۔ ملیحہ کی بھی شادی ہو گئی۔ حنا نے اپنا گریجویشن مکمل کر لیا تھا۔ ایک دن وہ فائزہ کے ساتھ مارکیٹ کچھ خریداری کرنے کے لیے گئی۔ ابھی ان دونوں نے ایک دو کپڑے ہی دیکھے ہوں گے کہ حنا کو کسی نے آواز دی۔ حنا نے پلٹ کر دیکھا تو فوزیہ کھڑی تھی۔

"حنا دکان سے باہر آکر میری ایک بات سن لو۔"
فوزیہ نے کہا۔ حنا جھجکی تو پھر کہنے لگی۔

"پلیز حنا انکار مت کرنا مجھے صرف ایک چھوٹی سی بات کرنی ہے۔"

جب وہ دونوں دکان سے باہر آگئیں تو فوزیہ نے کہا:

"حنا تم فرحان بھائی کو معاف کردو۔ وہ بہت تکلیف میں ہیں۔ پچھلے سال اس کا پلین کریش ھو گیا تھا اور اب اسکی ٹانگیں بیکار ہو گئیں ہیں۔ کہاں کہاں علاج نہیں کرایا گیا لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا۔ وہ ساری زندگی کے لئے وہیل چئیر پر بیٹھ گیا ہے۔ ہم نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ مجھے ابھی چچا بھی راستے میں ملے تھے۔ میں نے ان سے بھی معافی مانگی ہے۔ تم سب لوگ بہت اچھے ہو۔ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ میرا بھائی بہت اذیت میں ہے۔ پلیز حنا تم اتنی اچھی ہو، میرے بھائی کو معاف کر دو۔ ہم نے بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔"

***ختم شد***