011 - خونی بھیڑیے: تحریر دلپسند سیال

خونی بھیڑیے

وہ بہت ہی بارعب شخصیت کا مالک تھا سفید داڑھی اس کے چہرے کے وقار میں اور اضافہ کررہی تھی۔اس کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی کشش تھی کہ دیکھنے والا اپنی نظریں چرانے پر مجبور ہوجاتا تھا۔اس کی نظریں جسم کے آرپار ہوتی محسوس ہوتی تھیں۔وہ ایک اونچے اسٹیج پر بیٹھا اپنی گونجیلی اور بارعب آواز میں درس دے رہاتھا۔اس کے مخاطب پندرہ نوجوان تھے جن کی عمریں سولہ سے بیس کے درمیان تھیں۔اس کی آواز نے سبھی نوجوانوں کے دل ودماغ کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ نوجوانوں کے چہرے تمتمائے ہوئےاور دل جذبات سے لبریز تھے۔
وہ کہہ رہا تھا۔
"میرے مسلمان مجاہدو! آج دین اسلام کو آپ جیسے مجاہدوں کی ضرورت ہے۔آج اسلام کو پوری دنیا دہشت گرد ثابت کرنے پر تلی ہے گویا وہ اسلام کو مٹانے کے درپے ہے۔آج کا مسلمان کشمکش میں مبتلا نظر آتا ہے۔ہمارے حکمران نام کے مسلمان ہیں ۔وہ اپنے مسلمانوں کو جہاد سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ وہ کفار کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور ان کے اشاروں پر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہارہے ہیں۔ان حکمرانوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف جہاد فرض ہوچکا ہے۔کچھ لوگ جو بظاہر بڑے بڑے عالم دین نظر آتے ہیں مگر وہ سچے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ شیطان کے چیلے ہیں جنہوں نے اسلام کو فرقوں میں بانٹ رکھا ہے۔اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر مسلمان جوانوں کو دین حق سے بھٹکا رہے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف بھی جہاد کرو۔تم لوگ خوش نصیب ہو کہ اللہ نے تم لوگوں کو اسلام کی سربلندی کے لیے منتخب کیا ہے۔اور شہادت نصیب کرنے کا موقعہ عطا کیا ہے۔ہمارے پاس نا اسلحہ ہے اور نہ ہی فوج بس ہمارے پاس اپنی جان ہے سو ہم اسلام کی خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ دے کر اسلام کو دشمنوں سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ دنیا چند روزہ ہے۔ اے مجاہدو! اسلام تم لوگوں سے جان کا نذرانہ مانگتا ہے۔ان دجال کے چیلوں پر خودکش حملے کرکے انہیں تباہ وبرباد کردو اور خود جنت کے حق دار بن جاؤ۔ جنت تم لوگوں کو بلارہی ہے۔ اور حوریں تمہاری خدمت کےلیے جنت کے دروازے پر منتظر کھڑی ہیں۔یہ دنیا چند روزہ ہے پس تم جہاد کرو اور جنت میں چلے جاؤں جہاں حوروں کی مرمری بانہیں گلے لگانے کے لیے وا ہیں۔ "
اس کے یہ الفاظ نوجوانوں کے دلوں کو گویا مسمرایز کررہے تھے' جزبہ شہادت سے ان کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی۔اور وہ کچھ بھی کرنے کو تیار نظر آتے تھے۔ جبکہ ایک جوان جس کی عمر تقریبًا بیس سال تھی۔اس کے چہرے پر کشمکش کے آثار نظر آتے تھے۔ وہ اس شخص کی باتوں سے یقینًا متاثر نظر آتا تھا لیکن اتنا نہیں جتنے دوسرے نوجوان تھے۔اسی لیے جیسے ہی وہ شخص خاموش ہوا یہ جوان فورًا کھڑا ہوگیا اور بولا۔
”محترم! میرے ذہن میں یہ بات نہیں سمارہی کہ خود کش حملے سے ہمیشہ غریب مظلوم اور لاتعلق لوگ ہی کیوں مارے جارہے ہیں۔حکمران یا اعلٰی طبقے کے لوگ کیوں نہیں؟ "
جوان کے سوال پر محترم کا چہرہ غصے سے متغیر ہوگیا۔اس نے بامشکل خود کو سنبھالا اور نوجوان کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
"جنگ کا ایندھن ہمیشہ عوام ہی بنتی ہے۔اور عوام ہی جنگ کے خلاف احتجاج کرتی ہے اور حکومتوں کے تختے الٹتی ہے۔ ہماری عوام سوئی ہے انہیں جگانے کے لیے یہ دھماکے ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے بھائیوں عزیزوں کو خون میں لت پت دیکھ کر حکمرانوں کا محاسبہ کریں۔"
********
"یہ نوجوان کیا نام ہے اس کا ۔۔۔۔؟ ہاں ! یاد آیا شہباز خان۔ یہ نوجوان بہت سوال کرنے لگا ہے۔ میرا خیال ہے اسے جلدی سے استعمال کرلیا جائے ورنہ یہ دوسرے جوانوں کے دماغ خراب کردے گا۔" وہ بزرگ اس وقت ایک بند کمرے میں اس تنظیم کے ذمہ داروں کی میٹنگ میں شہباز خان کے بارے اپنے خدشات کا اظہار کررہا تھا۔
"ہاں جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میں نے بھی شہباز خان کے انداز واطوار میں کافی تبدیلی محسوس کی ہے وہ ہر وقت کچھ سوچتا رہتا ہے۔ " ذمہ داروں میں سے ایک شخص نے جواب دیا۔
"بس تو پھر ٹھیک ہے اسے جلد ہی استعمال کرلیا جائے۔۔" بزرگ نے کہا۔
" اوپر سے جو نئے ٹارگٹ کے بارے میں بتایا گیا۔ان میں سے ایک ٹارگٹ شہر کے گنجان آباد علاقے کی جامعہ مسجد ہے ۔ دودن بعد جمعہ کی نماز کے دوران مسجد میں خودکش حملہ کرنے کا حکم ہے۔تو پھر شہباز خان کو ہی اس خود کش حملے میں استعمال کرلیتے ہیں۔" ان میں سے ایک شخص نے گویا نئے ٹارگٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
سب کے اتفاق رائے سے جامعہ مسجد کے خودکش حملے کےلیے شہباز خان کو منتخب کرلیا گیا اور اس کے ساتھ ہی میٹنگ ختم کردی گئی۔
******
شہباز خان کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا۔اس کا اور اس کے گھروالوں کا تعلق طالبان سے نہیں تھا۔وہ ایک امن پسند اور محب وطن گھرانہ تھا۔ایک دن ان کے گھر کو ڈرون طیارے سے میزائل مارکر تباہ وبرباد کردیا گیا۔ شہباز خان اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا۔ اسے جیسے ہی خبر ہوئی وہ بھاگا بھاگا گھر پہنچا مگر اسے گھرنظر نہیں آیا۔ جہاں پہلے اس کا گھر تھا۔وہاں اب ملبے کا ڈھیر تھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اس ملبے میں دب کر مرگئے۔شہباز خان کی دنیا تاریک ہوگئی ۔اس کے اندر پہلی مرتبہ اس دنیا کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور وہ اس دنیا پر بسنے والے فرعون صفت لوگوں کو تباہ وبرباد کرنے بارے سوچنے لگا۔ مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔بستی والوں نے شام تک ملبے سے اس کے گھروالوں کی ناقابل شناخت اور جلی ہوئی نعشیں نکال لیں اور رات گئے تک انہیں دفنا دیا گیا۔
تین چار دن تک شہباز خان گم صم سا بستی میں گھومتا رہا اور ایک دن کچھ لوگ اس کے پاس آئے اور اسے اپنے ساتھ لے گئے ۔اور اسے ایک جگہ پہنچا دیا گیا جہاں اس کے غم وغصے کو مہمیز دی گئی ۔اور اسے جہاد کے لیے تیار کرلیا گیا۔ کچھ دن کی برین واشنگ کے بعد اسے شہر کے موجودہ گھر میں پہنچا دیا گیا۔اس گھر میں اس کے علاوہ بھی کوئی بائیس تئیس کے قریب نوجوان تھے جنہیں وہ بزرگ اپنی پراثرانگیز آواز سے جہاد کے نام پر خودکش حلموں کےلیے ذہنی طور پر تیار کررہا تھا۔اس کے آنے کے بعد چار نوجوان کو اس کے سامنے بارود سے بھری جیکٹیں پہنے اپنے ٹارگٹ کی طرف خودکش حملہ کرنے کےلیے روانہ ہوتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ اوران چاروں نے ٹھیک اپنے ٹارگٹ پر خودکش حملہ کیا تھا۔اور اب دودن بعد شہباز خان کو جامعہ مسجد میں خودکش حملہ کرنا تھا۔
******
"شہباز خان! تم ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہو جنہیں شہادت نصیب کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔آج گویا تم اس راستے پر جارہے ہو جو تھوڑی دیر بعد جنت کے دروازے پر ختم ہوگا جہاں حوریں تجھے خوش آمدید کرنےلیے کھڑی ہوں گی۔پس تم جاؤں اور اپنی جان کی قربانی دے کر جنت کے حقدار بن جاؤ۔"
اس وقت وہ بزرگ شہباز خان کو ٹارگٹ کی طرف روانہ کرنےکےلیے گیٹ پر کھڑے اسے جنت کی بشارت دے رہے تھے۔ شہباز خان نے ایک طاقتور بارود سے بھری جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد ایک موٹر سائیکل نے اسے مسجد سے تھوڑی دور ڈراپ کردیا تھا۔اور اب شہباز خان آہستہ قدموں سے گویا ٹہلتا ہوا مسجد کی طرف جارہاتھا۔ ہر طرف سے لوگ نماز جمعہ اداکرنے مسجد کی طرف آرہے تھے وہ بھی ان نمازیوں میں شامل ہوکر ان کا حصہ بن گیا تھا۔۔اس وقت لاؤڈ اسپیکر پر امام مسجد کی آواز گونج رہی تھی۔امام صاحب قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے بارے میں فرما رہے تھے کہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے خلاف جہاد جائزہے۔ شہباز خان کے کانوں میں امام صاحب کی آواز پہنچ رہی تھے۔ امام صاحب کہہ رہے تھے۔
" حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ۔اور جس نے ناحق کسی انسان کا خون بہایا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ دین اسلام امن کا نام ہے۔ اسلام نے ہمیشہ امن وسلامتی کا درس دیا ہے۔ اور غیر مسلموں کو بھی حقوق عطا کیے ہیں۔کچھ جرائم پیشہ لوگ جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ خودکش حملے ہرگز جہاد نہیں ۔بلکہ خودکش حملے ہیں حرام ہیں اسلام ان کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتا۔"
امام صاحب کے الفاظ اس کے دل ودماغ پر اثرانداز ہورہے تھے۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے دماغ پر چھائی کوئی دھند صاف ہورہی ہو۔ لیکن وہ خود کو لعن طعن کرنے لگا اور استغفار پڑھنے لگا کہ یہ ضرور شیطان ہے جو اس کے دل میں وسوسے پیدا کرکے اسے شہادت جیسے رتبے سے محروم کرنا چاہتا ہے۔اس نے اپنے گھروالوں کی ادھ جلی اور ناقابل شناخت لاشوں کو تصور میں لایا تو اس کے اندر غم و غصہ پیدا ہوگیا ۔اور اس کے قدم جو ڈگمگانے لگے تھے پھر ہموار ہوکر چلنے لگے۔جبکہ اس کے کانوں میں متواتر امام صاحب کی آواز آرہی تھی۔وہ فرما رہے تھے۔
” ہرگز ہرگز وہ مسلمان نہیں ہو سکتے جو نہتے اور مظلوم لوگوں کا خون بہارہے ہیں۔ایک مسلمان ہرگز ہرگز نمازیوں کو ایذا نہیں دے سکتا۔ پھر وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے جو مسجد میں آکر خودکش حملہ کرکے بےگناہ نمازیوں کو خاک وخون میں نہلادے۔ ایک مسلمان دوسرے انسان کو نماز کی تلقین تو کرسکتا ہے مگر نماز پڑھنے والے کو جان سے نہیں مار سکتا۔ میرے مسلمان بھائیوں ان کفار کی چالاکیوں کو سمجھو۔ یہ دجالی لوگ ہم مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش کررہے ہیں۔انہیں روز بروز پھیلتے ہوئے اسلام سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔چند نا آقبت اندیش لوگ ان کے آلہ کار بن چکے ہیں اور کچے ذہن کے جوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں اور ان مٹھی بھردہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ہماری حکموت جیسی بھی ہو مگر اس وقت ملک کی خاطر ہمیں یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اور ان دہش گردوں کے ارادوں کو ناکام بنانا ہوگا۔"
امام صاحب کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح اس کے ذہن پر برس رہے تھے۔ جبکہ اس کا ضمیر اسے اس کام سے روکنے کی کوشش کررہا تھا۔مگر وہ خود اس بات کا دلاسہ دیتا ہوا جارہا تھا کہ یہ صرف اور صرف شیطان کی کارستانی ہے جو اس کے دل میں وسوسے پیدا کررہا ہے۔ اس نے تو حضرت ابراہیم علیہ وسلام کے دل میں بھی وسوسہ ٌپیدا کرکے بیٹے کی قربانی سے منع کرنے کی کوشش کی تھی۔
مسجد کا دروازہ اس کے سامنے تھا اور استغفار پڑھتا ہوا مسجد میں داخل ہوگیا۔
******
کوٹھی کے خفیہ تہہ خانے میں اس وقت بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ان کے سامنے دیوار پر ٹی وی کی ایک بڑی سی سکرین روشن تھی۔ جس پر ملک کا ایک مشہور نیوز چینل چل رہا تھا۔ سبھی لوگ جامعہ مسجد میں ہونے والے دھماکے کو ٹی وی پر دیکھنے کےلیے شدت سے انتظار کررہے تھے۔اس وقت وہ بزرگ بھی ایک صوفے پر پھیل کر بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا جس سے وہ گاہے گاہے چسکیاں لے رہے تھے۔
”رام داس ! اوپر سے حکم آیا ہے کہ خودکش حملوں میں تیزی لائی جائے۔‘‘ان لوگوں میں سے موجود ایک شخص نے بزرگ کو مخاطب کیا۔
”میتل جی! میں نے ایک درخواست کی تھی ۔اوپر والوں نے اس بارے میں کیا جواب دیا ہے۔؟‘‘ رام داس جوکہ عالم دین کے بھیس میں ہندو تھا نے سوال کرنے والے سے پوچھا۔
”رام داس! آپ کی درخواست قبول کرلی گئی ہے۔بہت جلد آپ کی مطلوبہ رقم آپ تک پہنچ جائے گی‘‘ میتل نے جواب دیا۔
”میتل جی!آپ کو پتہ ہے کہ یہ رقم میں اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے دیش کی خاطر لے رہا ہوں یہ رقم ان نوجوان مسلوں پر خرچ ہوتی ہے جنہیں خودکش حملے کےلیے تیار کیا جاتا ہے۔‘‘رام داس نے کہا۔
رام داس! اوپر والے آپ سے بہت خوش ہیں آپ دیش کےلیے بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔۔ عنقریب آپ کو بڑے اعزاز سے نوازا جانے والا ہے۔۔" میتل نے جواب دیا۔
"میتل جی ! آج کے دھماکے سے اوپر والوں کے دل باغ باغ ہوجائیں گے اس مسجد میں تین عرب ملکوں کے سفیر بھی نماز پڑھنے آئے ہوں گے۔ ان سفیروں کی ہلاکت سے وہ عرب جو کہ پاکستان کی مدد کےلیے ہروقت تیار رہتے ہیں ۔ پاکستان سے کیسے خفا ہوتے ہیں۔ بس مزہ آجائے گا۔ "
رام داس گویا چشم تصور سے پورا منظر دیکھتے ہوئے خوشی سے بولا۔ٴ
”رام داس! کافی دیر ہوگئی ہے۔ اب تو جماعت بھی ختم ہوچکی ہوگی لیکن ابھی تک دھماکا نہیں ہوا۔ "ان میں سے ایک شخص نے دھماکے کی طرف سب کی توجہ مبزول کرائی۔
اسی وقت دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا سب سے پہلے اس پر رام داس کی نظر پڑی اور وہ بے اختیار بولا ۔
”شہباز خان!تم۔۔۔۔اور اس وقت یہاں۔۔۔؟رام داس کے لہجے میں حیرت موجزن تھی۔
”رام داس! میں نے تم سب لوگوں کی باتیں سن لیں۔۔ تم مکار بنئیے ابھی تک پاکستان کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا اور اس کی جڑی کاٹنے میں لگے ہوئے ہو۔۔
امام مسجد بالکل ٹھیک فرما رہے تھے کہ مسجد میں نمازیوں پر حملہ کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔۔ اس لیے مجھے مسجد میں دھماکا کرنے کو دل نہیں چاہا کیونکہ میں مسلمان ہوں ۔ مجھے دھماکا کرنے کےلیے جو جگہ درست لگی وہی چلا آیا ہوں۔ " شہباز خان نے بہت سکون سے جواب دیا۔
”شہباز خان! ایک منٹ ٹھہرو میری بات سنو۔۔۔۔۔۔۔۔" رام داس کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔ ایک زور دار دھماکا ہوا ۔ اور ساری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ رام داس اپنے ساتھیوں سمیت جہنم واسل ہوگیا۔
تھوڑی دیر بعد ایمبولینس اور پولیس گاڑیوں کے سائرن کی آوازوں سے پورا علاقہ گھونج اٹھا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭