012 - قسط وار: وقت کی پکار دوسری قسط تحریر وش:

اقبال حیدر اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی گُزار رہے ہیں۔ ماریہ نے یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کے امتحان دیئے ہیں جبکہ اُس کی چھوٹی بہن فاریہ ایف ایس سی کی طالبہ ہے۔ ماریہ کی منگنی اُس کے کزن اسد سے ہو چُکی ہے اور وہ لوگ شادی کے لیے اُس کے امتحان ختم ہونے کے منتظر ہیں۔ ماریہ زندگی میں شادی اور گھر داری سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتی ہے۔ ۔ لیکن ایسا اظہار کرتے ہیں سب سے پہلی مخالفت اُس کی ماں کی صورت میں اُس کے سامنے آتی ہے۔ باقی آگے۔ ۔ ۔

وقت کی پُکار

دوسری قسط

ماریہ سوالیہ نظروں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
"کوئی بات نہیں بیٹے! بات ابھی بگڑی نہیں۔ مزید کوشش کی جا سکتی ہے۔ محاذ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار نہیں مان لینی چاہیئے۔ یہ رُکاوٹیں، مشکلات۔ ۔ ۔ یہ سب تو قدم اُٹھانے سے پہلے کے مسائل ہیں۔ اصل مشکلات تو تب شروع ہوں گی جب کچھ کرنے کے لیے قدم بڑھاؤ گی۔ آگے آپ کی اپنی مرضی ہے کہ ہتھیار ڈالنے ہیں یا زِیر کرنا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہر انسان کو اُس کی جنگ خود ہی لڑنی پڑتی ہے، اس لیے میں چاہوں گا کہ آپ اپنی ماں کو راضی کرنے کا یہ معرکہ خود ہی سر کریں۔" اقبال صاحب کے لہجے میں ایک باپ اور فوجی دونوں بول رہے تھے۔
ماریہ جو کھانے کی میز پر ہاتھ رکھے سر جُھکائے سب سُن رہی تھی نے ہاں میں گردن ہلائی۔ اقبال صاحب اپنی جگہ سے اُٹھے، اُس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا اور اپنے کمرے میں چل دیئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"کیا بات ہے بیگم آپ کیوں منہ بنائے بیٹھی ہیں؟ میں تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ کیا شوہر سے ڈانٹ کھا کر بیٹھی ہیں۔" اقبال صاحب کھانے کی میز سے سیدھے اپنے کمرے میں آئے تھے جہاں شاہدہ بیگم ٹی وی آن کیے غُصے سے اُسے گھور رہی تھیں۔ اُنگلیاں تھیں کہ کسی ایک چینل پر ٹِک ہی نہیں رہیں تھیں۔ اقبال صاحب کے بولنے پر اُنھوں نے گُھور کر دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔
"ارے رحم کریں بیگم! اب اس عمر میں ہم ان نظروں کی تاب لانے کے قابل کہاں؟" اُنہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔
"آپ کیا کبھی سنجیدہ نہیں ہو سکتے؟ مجھے ماریہ کی فکر کھائے جا رہی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔" اُنہوں نے پریشانی اور غُصے کے عالم میں کہا۔
"مذاق کیسا جناب۔ میں نے تو بس اتنا کہا کہ یہ بوڑھا وجود اب ان نظروں کی تاب نہیں لا سکتا۔ اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے ریمورٹ کنٹرول اُن کے ہاتھ سے لے لیا۔
"اب اسے دیکھنے لگ جائیں۔ یہ زیادہ اہم ہے نا میری بات سے۔" اُنھوں نے برہم لہجے میں کہا۔
"اچھا بتائیں۔ کیا چاہتی ہیں آپ کہ میں اس سب میں کیا کروں؟" وہ سنجیدہ ہوئے۔
"میں چاہتی ہوں کہ آپ ماریہ کو سمجھائیں کہ وہ ضد چھوڑ دے۔" اُنہوں نے مسئلہ بیان کیا۔
"ہمم۔ ۔ ۔ لیکن ابھی باہر تو آپ نے کہا تھا کہ میں اس معاملے میں دخل اندازی نہ کروں۔"
"ہاں لیکن میری فیور تو کر سکتے ہیں نا۔"
"اگر مجھے فیور ہی کرنی ہے تو کیوں نہ اُس بات کی کروں جو مجھے اچھی لگے؟"
"تو آپ کو لگتا ہے کہ ماریہ ٹھیک کر رہی ہے؟" اُنہوں سے سوالیہ اور پر شکوہ نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا۔
اقبال صاحب جواب دینے کی بجائے کروٹ لے کر لیٹ گئے۔
"تو آپ میرا ساتھ نہیں دیں گے؟" اُنہوں نے اُمید کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لیے سوال کیا۔ اقبال صاحب نے پلٹ کر اُن کی طرف دیکھا اور بولے:
"میں ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ رب العزت مجھے ایک بیٹے سے نوازے تاکہ میں اُسے بھی اپنی طرح اپنے قوم کا محافظ بناتا۔ لیکن جو رب کی مرضی اُسی کو میں نے اپنی مرضی بنا لیا اور آج تک کبھی کسی سے یہ سب کہا نہیں۔ فوج میں میں اپنی بیٹی کو بھی بھیج سکتا تھا لیکن میں نے کبھی ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا کیونکہ ہم دونوں یہ طے کر چُکے تھے کہ بیٹے کی پرورش میں اپنے طور سے اور بیٹی کی پرورش آپ کی مرضی سے ہو گی۔ میں آج تک اپنے اس عہد سے نہیں ہٹا اور نہ ہی کبھی ہٹوں گا۔ آپ جانتی ہیں میں کبھی اپنے بچوں کو ایسی زندگی دینے کا خواہاں نہیں رہا کہ وہ اپنے وطن کے لیے کچھ کر گُزرنے کے جذبے سے عاری زندگی گُزاریں۔ اس کے بعد بھی آپ جو بھی کریں میری طرف سے کبھی کوئی اعتراض سامنے نہیں آئے گا۔" اُنہوں نے یہ کہہ کر واپس کروٹ لی اور ٹیبل لیمپ بُجھا دیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اُس رات اگر ماریہ اور اقبال حیدر جاگتے رہے تو نیند شاہدہ بیگم کو بھی نہ آئی۔ وہ اپنی شال لپیٹ کر باہر بالکونی میں رکھی کُرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ کرسی کی پشت پر سر رکھے وہ آنکھیں موندے بیٹھی تھیں۔ ۔ ماضی نے یاد کے جھرونکوں سے جھانکنا شروع کر دیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"بیچاری۔ ۔ ۔اتنی سی عمر میں والدین کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ بیٹے ہوتے تو اتنی پریشانی کی بات نہ ہوتی۔ ہیں بھی تو دونوں بیٹیاں۔ کون لے گا اپنے سر دو دو بیٹیوں کا بوجھ۔"

شاہدہ اُس وقت 20 سال کی جبکہ اُس کی چھوٹی بہن اسماء ابھی 16 سال تھی۔ ان کے والد میجر جرنل حسن خالد کا انتقال ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہوا تھا۔ حسن صاحب کیوں کہ ایماندار اور اصول پسند انسان تھے تو وہ کئی لوگوں کے راستے کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔ اور یوں اُنھیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ کار ایکسیڈنٹ میں اُنھیں اُن کی اہلیہ سمیت شہید کر دیا گیا۔ ۔

قیامت کی گھڑی تھی جب ان کی میتیں گھر لائی گئی جس کا استقبال میجر جرنل حسن کی بیٹیوں اپنی بیٹیوں نے کیا۔ کتنے ہی پل بے یقینی اور پتھرائے ہوئے گُزر گئے گویا وہ یقین ہی نہ کر پا رہی ہوں کہ یہ کیا ہوا۔ ہوش میں آتے ہی وہ حواس کھونے لگیں۔ ہر طرف چیخ و پُکار کا سا سماں تھا۔ اسماء تو ایک کونے میں کھڑی روتی رہی جب کہ شاہدہ اپنے والدین کے مُردہ وجود سے لپٹی جا رہی تھی۔ اُسے نہ اپنے دوپٹے کا ہوش تھا نہ ارد گرد کی کوئی خبر ۔ سر کا سائبان یوں اچانک چھین لیا جائے تو انسان حواس کھو ہی بیٹھتا ہے۔

پھر رفتہ رفتہ لوگوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دور اور قریب کے تقریباً سبھی لوگ جمع تھے اور میتوں کے سامنے بیٹھ کر لوگ اُن کی وفات سے زیادہ اُن کی حیات بچیوں پر افسوس کر رہے تھے کہ زندہ رہ جانے والیں اب کیسے جیئں گیں۔

"ارے بہن خالائیں ہی رہ جاتی ہیں بعد میں اپنی بہن کے بچوں کو سینے سے لگانے کے لیے۔ اِن بچیوں میں ہی تو اب ہمیں ہماری بہن دِکھے گی۔" جن خالہ نے کبھی پلٹ کر نہ پوچھا تھا اب اُن کی محبت اُمڈ اُمڈ آ رہی تھی۔
"ظاہر ہے بھئی کوٹھی اور بڑے بینک بیلنس رکھنے والی بچیوں کے لیے تو پیار جاگ ہی جایا کرتا ہے۔" کسی ددھیالی رشتے دار نے سرگوشی کی۔
آہستہ آہستہ وقت گُزرتا گیا۔ اب اِن ہستیوں کو لے جانے کی باری تھی۔ ایک دم سے فوجی قافلے کو میت کے پاس آتا دیکھ کر شاہدہ خود پر ضبط نہ رکھ سکی اور ایک بار پھر سے اپنے بابا سے لپٹ کر دھاڑیں مار کر رو دی۔
"نہیں لے جائیں انہیں۔ میں نہیں لے جانے دوں گی۔ بابا ایسے کبھی نہیں گئے ہمیشہ جاتے ہوئے مجھے سینے سے لگا کر ڈھیروں پیار کر کے جاتے تھے ، بابا اٹھو اب بھی ،مجھے سینے سے لگاؤ ، اور وعدہ کرو کہ جلدی واپس آو گے۔ نہیں تو میں نہیں جانے دوں گی۔ ۔ ۔ میں نہیں جی سکتی آپ کے بغیر بابا۔ ۔ ۔ ماما آپ ہی کہیں نا بابا کو کہ وہ میری بات سُنیں۔ آپ ہی سُن لیں ماما۔ ۔ ۔ اب کہ وہ اپنی ماں سے التجا کر رہی تھی۔ ۔ ۔اس حقیقت کو فراموش کیے کہ جانے والے جواب نہیں کرتا۔ تایا جان آپ انہیں منع کر دیں نا۔ شہید تو زندہ ہی ہوتے ہیں۔ پھر یہ زندہ لوگوں کو کیوں لے جا رہے ہیں؟ انہیں ہمارے ساتھ ہی رہنے دیں۔ ہمیں دِکھتے تو رہیں گے نا۔ ان سے کہیں نا کہ میری بات مان لیں۔" شاہدہ اپنے حواس کھو رہی تھی جب تائی جان نے آگے بڑھ کر اُسے تھاما اور اپنے سینے سے لگا لیا۔ تایا ابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ،" ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہر کسی کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"
مگر اسے اس وقت ان باتوں کی کچھ سمجھ نہیں تھی وہ بار بار جنازے کی طرف لپکتی۔ آنسووٴں سے اس کا پورا چہرہ بھیگا ہوا تھا، آواز بیٹھی جا رہی تھی، بے حال بال اس کی بکھری اور بے حال زندگی کی کہانی بیان کرتے تھے۔ کبھی تو اس کی آواز بلند ہونے لگتی کبھی بس ایک سسکی لے کر رہ جاتی۔
"نہ میری بچی۔ ایسے نہیں کرتے۔ اُنھیں تکلیف ہو گی۔"
"تائی جان۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ بابا کہتے تھے نا شہید حیات ہوتے ہیں۔ پھر؟ زندہ لوگوں کو بھی کوئی یوں لے جاتا ہے؟" وہ بآواز بلند رو رہی تھی۔
نعرہ تکبیر۔ ۔ ۔اللہ اکبر اور کلمہ شہادت کی آوازئیں فضا میں بلند ہوئیں۔ رونے کی بھی آوازیں باقاعدہ چیخوں میں بدل گئیں ۔ میتیوں کی جانب بڑھے ہوئے ہاتھ ہواؤں میں حائل رہ گئے اور جانے والے جُدا ہو گئے۔ یوں وطن کے لیے جینے والا ایک سپاہی قومی جھنڈے میں اپنے پیاروں سے رُخصت ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تین دن تک گھر میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ کسی کو بات بھی کرنی ہوتی تو دھیمے لہجے میں کرتا۔ اسماء کی حالت پھر بھی بہتر تھی۔ وہ بے آواز روتی اور زیادہ وقت اپنے والدین کے لیے کچھ نہ کچھ پڑھتی ہی رہتی جبکہ شاہدہ کی حالت نہ سنبھل رہی تھی۔ وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھی کہ جانے والے جا چُکے اب اُن کو پُکارنا بے کار تھا۔
تیسری رات جب شاہدہ کے ننھیالی رشتہ دار روانگی کی تیاریاں کر رہے تھے تو اُنھوں نے شاہدہ اور اسماء کو بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔ اس مقصد کے لیے شاہدہ کی تین خالائیں اور دو ماموں اکٹھے ہو کر مرحوم حسن خالد کے بڑے بھائی احسان خالد کے پاس پہنچے۔

"دیکھیں بھائی۔ یہ ہماری بہن کی بچیاں ہیں، ہمیں اپنی بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہیں۔" اُس کی بڑی خالہ بولیں۔
"اب آج کے دور میں تو سبھی اپنا اپنا گُزارا ہی مشکل سے کرتے ہیں تو بچیوں کی ذمہ داری تو پھر بہت بڑی ہوتی ہے۔ اُس کے لیے اگر آپ ان کے حصے کی جائیداد بھی دونوں میں بانٹ دیں تو ان بچیوں کے لیے آسانی رہے گی۔" چھوٹی خالہ نے مزید کہا۔
"ہے تو بھائی صاحب یہ بھاری ذمہ داری لیکن ہمیں بخوشی قبول ہے۔" ماموں نے جتایا۔
"یُوں بھی ہمارے لیے بچیوں کو سنبھالنا اور اُن کی پرورش کرنا زیادہ آسان ہے کہ ہماری اپنی ان ہی کی ہم عُمر بیٹیاں ہیں۔ اور ان کو دل بھی جلدی لگ جائے گا اپنے ہم عُمروں میں۔" منجھلی خالہ نہ احسان صاحب کے ہاں بیٹی نہ ہونے پر چوٹ کی۔

یُوں کتنی ہی دیر سب اُنھیں الگ الگ مشورے دیتے رہے۔ احسان صاحب نے سب کو خاموشی سے سُنا۔ جب سب اپنا اپنا مؤقف بیان کر چُکے تو وہ بولے۔
"رضیہ بیگم جا کر بچیوں کو بُلا لائیں۔"
"لیکن اس معاملے میں بچیوں کا کیا کام؟ یہ تو بڑوں کے فیصلے ہیں۔" بڑی خالہ نے کہا۔
"وہ اتنی بھی بچیاں نہیں ہیں باجی۔ شاہدہ ماشاء اللہ بالغ اور تعلیم یافتہ ہے۔ وہ اپنا اچھا بُرا اچھی طرح سمجھ سکتی ہے۔" تایا جان نے وضاحت کی۔
اتنی دیر میں شاہدہ روئی روئی سر پر دوپٹہ اوڑھے کمرے داخل ہوئی اور اُس کے پیچھے پیچھے اسماء بھی۔ تایا ابا نے دونوں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور گویا ہوئے۔
"بیٹا جی! جو بھی ہوا اُس کا افسوس سب کو ہے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ جانے والوں کے ساتھ زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔ پیچھے رہ جانے والوں کو جینا ہی پڑتا ہے۔ کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور اپنی ذمہ داری بھی نبھانی پڑتی ہے۔ اب ایک فیصلہ آپ دونوں کو بھی کرنا ہے۔ آپ کے خالہ اور ماموں آپ دونوں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ آپ کی اچھی دیکھ بھال اور پرورش کر سکتے ہیں۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر۔ یہ نہ سوچیں کہ آپ کسی پر بھی بوجھ ہو سکتی ہیں۔ آپ کے والدین اتنا چھوڑ کے گئے ہیں کہ آپ کسی پر بار بننے کی بجائے دوسروں کا بار آرام سے اُٹھا سکتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی پریشانی کے بغیر آپ یہ طے کریں کہ آپ کو یہاں سے جانا ہے یا یہیں رہنا ہے۔ ہم سب کو آپ کا فیصلہ بخوشی قبول ہو گا۔"
شاہدہ نے نظریں اُٹھا کر کچھ پل اپنے تایا ابو کو دیکھا اور بنا کچھ بولے اُن کے تھوڑا پیچھے کھڑیں تائی اماں کے گلے لگ کر رو دی۔
"مجھے خود سے جُدا نہ کریں تائی ماں۔ مجھ سے پہلی جُدائی ہی نہیں سہی جا رہی۔ میں آپ لوگوں کو چھوڑ کے کہیں نہیں جاؤں گی۔"
تایا جان نے سوالیہ نظروں سے اسماء کی جانب دیکھا کہ اُس کا کیا فیصلہ ہے اور اُس نے بھی بہن کی تائید میں سر ہلا دیا۔ سب کو اُن کو جواب مل چُکا تھا۔

"میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ ان کے اس فیصلے کو بخوشی اپنائیں گے۔ اس کے بعد اب میرا بھی ایک فیصلہ ہے۔" سب تجسس سے اُنھیں دیکھ رہے تھے کہ وہ کیسا فیصلہ سُنانے جا رہے ہیں۔
"ہمیں اپنے بچے اور بچیوں کے با کردار ہونے پر کوئی شائبہ نہیں۔ لیکن باوجود اس کے ہم کسی کو بھی کوئی ایسا موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ ہمارے بچوں کے بارے میں کبھی بھی کوئی بات کرے۔ ہمارا بیٹا تعلیم یافتہ اور باکردار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کل آپ لوگ شاہدہ بیٹی اور ہمارے بیٹے اقبال حیدر کے نکاح میں شرکت کے بعد ہی یہاں سے جائیں۔" سب کو ایک دم جھٹکا لگا۔
"کیا؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی صاحب۔ ابھی تو ان کے والدین کی قبروں کی مٹی بھی خُشک نہیں ہوئی۔" بڑی خالہ ناگواری سی بولیں۔
"دیکھیں باجی خوشی منانے اور فریضہ انجام دینے میں فرق ہے۔ اپنے بھائی اور بہنوں جیسی بھابھی کے کھونے کا مجھے کتنا دُکھ ہے شاید میں لفظوں میں بتا نہ پاؤں بہرحال یہ فیصلہ بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس موقع پر موجود ضرور رہیں۔"
"لیکن بھائی صاحب بچیوں کی مرضی بھی تو معلوم ہونی چاہیے۔"
"اور بیٹےتو پھر ہمارے بھی ہیں۔" بڑے ماموں بولے۔
"ٹھیک ہے بھائی صاحب۔ آپ شاہدہ بیٹی کے پاس بیٹھ کر اُس سے صلاح مشورہ کر لیں اور اُس کی مرضی جان لیں کہ اُس کو کیا منظور ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ بیٹی اس گھر میں رہے یا آپ میں سے کسی کے، وہ بنا کسی سرپرست کے نہیں رہیں گی۔" یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکلنے کے لیے پلٹے کے پیچھے تائی اماں کے ساتھ لگی شاہدہ پر نظر پڑی تو اُس کے سر پر پیار دے کر بولے۔
"بیٹا شاید میرا یہ فیصلہ ابھی آپ کو قبول کرنا مشکل لگے یا غلط لگے لیکن بس اتنا کہوں گا کہ مجھ پر اعتبار رکھنا۔ تم دونوں میرے لیے میرے اپنے بیٹے سے زیادہ اہم ہو۔" یہ کہہ کر وہ اُسے سر پر دُعائیہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"دیکھو بیٹا یہ دُنیا بڑی خراب ہے۔ آج کے دور میں کوئی اپنا نہیں ہوتا۔ پہلے تمھارے ساتھ پیار کا دکھاوا کر کے اپنے پاس رکھنے پر مجبور کیا کہ یہ سونے کی چڑیا ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ اُس سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو اب اپنے بیٹے کو تمھارے سر پر لاد رہے ہیں۔ کہ کسی بھی طرح بچ کر نہ جا سکو۔ اب وہ سب تایا اور تائی کی غیر موجودگی میں شاہدہ کو گھیرے بیٹھے اُسے تایا جی کے منصوبوں سے آگاہ کر رہے تھے۔ کافی دیر تک وہ خاموشی سے اُن سب کی باتیں سُنتی رہی اور جب سب کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ اُس کی خاموشی ہی اُس کا اقرار ہے تو بولی۔
"دیکھیں ماموں جی۔ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط۔ اور کیا میرا ہے کیا پرایا۔ مجھے سب کا علم ہے۔ آپ فکر نہ کریں اگر مجھے اپنے پاس رکھنے اور میری شادی سے اپنے بیٹے سے کرانے کا مقصد میری دولت ہتھیانا ہے تو اس سب میں وہ کیا کوئی بھی کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ میں اپنے تمام حقوق اور اختیارات سے بخوبی واقف ہوں۔ جہاں تک رہی تایا جی کے نکاح کا فیصلہ کرنے کی تو کچھ پلوں کے لیے مجھے بھی اُن کا فیصلہ بہت غلط لگا اور دُکھ بھی ہوا۔ لیکن اُس پر غور کرنے کے بعد اگر میرے دل میں کچھ ہے تو وہ صرف احساسِ تشکر ہے۔ اُنہوں نے واقعی ہمارے بابا بن کر سوچا ہے۔" یہ کہتے کہتے اُس کی آواز رندھ گئی۔ وہ سنبھل کر بولی۔
"آپ فکر نہ کریں ماموں جان۔ میں مطمئن ہوں اور تایا جی کے ہر فیصلے سے راضی ہوں۔ آپ سب بھی اس پر خوش ہوں گے تو مجھے اچھا لگے گا۔ تایا جی کی دوائی کا وقت ہو رہا ہے۔ میں دیکھوں اُنہوں نے دوائی لی یا نہیں۔" یہ کہتے ہی وہ وہاں سے باہر نکل آئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلے دن نہایت سادگی اور بنا کوئی خوشی منائے شاہدہ اور اقبال حیدر کا نکاح اُس کے تمام رشتہ داروں کی موجودگی میں کر دیا گیا۔ کبھی کبھی زندگی میں خوشیاں بھی ایسے ملتی ہیں کہ خوشی کہ کسی احساس تک کا شائبہ نہیں ہوتا۔ کچھ ایسا ہی شاہدہ اور حیدر کے ساتھ بھی ہوا تھا لیکن دونوں میں سے کسی کو بھی اس کا کوئی افسوس نہ تھا۔ دونوں ہی حالات سے سمجھوتہ کرنے والے اور دوسروں کا احساس کرنے والے تھے۔ رخصتی کا وقت تین سال کے بعد ہونا قرار پایا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اقبال حیدرکو گھر میں حیدر کہہ کر بُلایا جاتا تھا، شاہدہ سے تین سال بڑے تھے۔ اپنے خاندان کی طرح اُن میں بھی قوم کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا جذبہ موجود تھا لیکن باقیوں کی طرح اُنھوں نے پاک فوج کی بجائے پاک فضائیہ کا انتخاب کیا۔ اُنہیں شروع سے ہی آسمان کی بُلندیوں کو چُھونے کا شوق تھا۔ وہ عموماً کہتے تھے
"میرا بس چلے تو میں تو گھر بھی اُوپر کہیں کُھلی فضاؤں میں بناؤں۔"
"میں بھی۔" اسماء اکثر جواب دیتی۔
"کسی درخت کی شاخ پر پرندوں جیسا گھونسلا بنا لو آزاد فضاؤں میں۔" شاہدہ دل ہی دل میں بُڑبُڑاتی، لیکن کبھی کہنے کا حوصلہ نہ کر پائی۔
اسماء کو بھی بُلندیاں پسند تھیں۔ کُھلی ہواؤں میں جینا آزادی کی سانس لینا، فضائیہ تمام فوجوں میں سے اُس کی پسندیدہ ترین تھی۔ اُس کا جی چاہتا کہ حیدر یونہی فضائیہ کی باتیں کرتے رہیں اور وہ بیٹھ کے سُنتی رہے۔ جبکہ شاہدہ باقی پر معاملے کی طرح اس میں بھی اسماء سے یکسر مختلف سوچ رکھتی تھی۔ حیدر سے تو اتفاقاً ہی کبھی آمنا سامنا ہوتا لیکن وہ اُس کے جنون سے بخوبی واقف تھی۔ جتنا اسماء اور حیدر فوج کے دیوانے تھے وہ اُتنی ہی اس سب سے کٹتی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"حیدر بھائی! میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔" شیشے کے سامنے کھڑے تیار ہوتے حیدر نے پیچھے کھڑی اسماء کو دیکھا۔
"تم وہاں جا کر کیا کرو گی گڑیا۔" حیدر نے مسکرا کر جواب دیا۔
"میں ۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ میں لوگوں میں کھڑے رہ کر دور سے ہی آپ سب کو دیکھوں گی۔" اُس نے جیسے کسی حسرت کا اظہار کیا۔
"لیکن دیکھو! آج تو موسم بھی کتنا خراب ہے،کل سے مسلسل ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہے۔ ۔ ایسے موسم میں جاؤ گی تو بیمار پڑ جاؤ گی۔"
"ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ لوگوں کی نظر میں میں بڑی کب ہوں گی؟ میں اتنی بھی چھوٹی نہیں کہ یہاں ذرا بارش ہو اور وہاں میں بیمار پڑ جاؤں۔" اسماء نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
حیدر نے بال سیٹ کرنے کے بعد یونیفارم کی ٹوپی سر پر رکھتے ہوئے پلٹ کر اُسے دیکھا اور اپنے مخصوص پروفیشنل انداز میں گھڑی دیکھتے ہوئے کہا:
"باہر میری گاڑی میں ٹھیک نو منٹ بعد ہارن بجے گا اور دسواں منٹ ہوتے ہی گاڑی چل پڑے گی۔ اُس سے پہلے اگر تم آ سکو تو آ جانا۔"
اسماء نے حیرانی سے حیدر کو کمرے سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ اس نرالے اندازِ رضامندی پر وہ حیرانی سے باہر جاتے حیدر کو دیکھ رہی تھی اور دروازہ بند ہونے کی آواز پر چونک کر کھڑی ہوئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حیدر ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں مُوندے ریڈیو پر بجتا نغمہ "اے وطن پیارے وطن!" سُن رہے تھے۔ آج 23 مارچ کو وہ اس عظیم دن کی یاد میں منعقد کیے گئے فنکشن میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جہاں پاکستان آرمی پریڈ اور جنگی توپوں کے ذریعے سلامی پیش کرنے والی تھی جبکہ پاک فضائیہ کا ارادہ اپنے حوصلے اور ہمت کے مظاہرے کے لیے جنگی طیاروں کو آسمان کی بُلندیوں تک لے جانے کا تھا۔

حیدر پوری طرح نغمے میں ڈوبے ہوئے تھے جب گاڑی کا دروازہ کُھلا اور اُنہوں نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور پھر کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا۔

"واہ بھئی صرف سات منٹوں میں بندی تیار۔" وہ متعجب ہوئے۔
"ہم فوجی کی بیٹی ہوا کرتے ہیں۔ وقت کی قدر و قیمت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔" اسماء نے اتراتے ہوئے کہا اور حیدر نے مُسکراتے ہوئے گاڑی چلا دی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اسلام آباد میں سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہونے والی تینوں فوجوں کے مظاہرے قابلِ دید ہوتے ہیں۔ ۔ ۔اور اسماء کے لیے یہ سب اتنا قریب سے، یوں براہِ راست دیکھنا بالکل ایک خواب جیسا تھا۔ وہ ہمیشہ سے ہی ایسے مواقع پر اپنے بابا کے ساتھ جانا چاہتی تھی لیکن اُس کے بابا گھر کے کسی فرد کو ایسی گیدرنگ میں لے جانے کے قائل نہ تھے۔ اُس کا یہ خواب اس تاریخ سے پہلے تک ادھورا ہی تھا جسے آج تکمیل بخش دی گئی تھی۔ لیکن اب جب وہ یہاں تھی تو اُس کی آنکھوں میں خوشی کی بجائے اُداسی پہرا ڈالے بیٹھی تھی۔
"کیا ہوا گُڑیا! یوں منہ بنائے کیوں بیٹھی ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟" وہ جو اسماء کو نہایت پُرجوش موڈ میں فیملیز کے لیے بنے کیمپ میں بٹھا کر گئے تھے واپسی پر اُسے یوں اُداس دیکھ کر پریشان ہو گئے۔
"نہیں کچھ بھی تو نہیں۔" اسماء نے زبردستی مُسکرانے کی کوشش کی۔
"کچھ تو ہوا ہے۔ یہ اُداسی کیسی؟ بتاؤ مجھے۔"
"حیدر بھائی وہ۔ ۔ ۔" اسماء کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب ہونے لگیں۔
"کہو۔ ۔ ۔" حیدر سچ میں پریشان ہو گئے۔
"حیدر بھائی! اگر آج یہاں ان بیگمات کے درمیان بیگم ظلِ ہُما اور وہاں سب افسروں کے بیچ میجر جنرل خالد ہوتے تو یہ سب کتنا مُکمل ہوتا نا۔" دو آنسو اُس کی آنکھوں سے گرے اور منوں بوجھ اپنے ساتھ بہا لے گئے۔
حیدر نے مُسکرا کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "مکمل تو بس خُدا کی ذات ہوتی ہے اسماء۔ کمی تو کسی نہ کسی صُورت میں بہرحال انسان کے ساتھ رہتی ہے۔ چلو اب جلدی سے مُسکرا دو ورنہ سب کہیں گے کہ میں کس چھوٹی سی بچی کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں جو گھر سے نکلتے ہی خوفزدہ ہو کر رونے ہی لگ گئی۔"
"کوئی نہیں! روئیں ہمارے دُشمن۔" اسماء آنسو صاف کرتے ہوئے مُسکرا دی۔
"شاباش۔ یہ ہوئی نا بات۔ اب تم یہاں آرام سے بیٹھو۔ میں کچھ دیر تک آؤں گا۔"
"جی۔ آپ بے فکر ہو کر جائیں اور ہمارا نام روشن کر کے آئیں۔" اسماء نے شوخی سے کہا اور حیدر اُس کے سر پھر ایک چپت لگاتے ہوئے وہاں سے چل دیئے۔

زندگی میں کچھ دن آتے تو خاموشی سے ہیں لیکن جاتے جاتے کچھ گہرے نقش چھوڑ اور راستوں پر پڑی دُھند ہٹا جاتے ہیں۔ یہ دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا، جب وہاں آڈیٹوریم میں، ہزاروں لوگوں کے درمیان بیٹھی لیکن سوچ کے منہ زور دریا میں اکیلی ڈولتی اُس لڑکی نے یہ تہیہ کیا کہ اُسے اپنی زندگی میں کن راہوں پر چلنا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باقی آئندہ