Page # 001

بکھرنے سے پہلے
"آئی ایم سوری ڈاکٹر نشاط مگر
CAT Scan
کے رزلٹ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ مجھے حیرت ہے آپ نے اتنی دیر کیوں کردی؟ آپ کے سمپٹمز دیکھتے ہوئے تو بہت پہلے یہ سارے ٹیسٹ کروالینے چاہیے تھے۔ بہرحال اب واحد حل
Liver Transplant
بچتا ہے۔" ڈاکٹر ڈکسن نے اس کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا تو نشاط کو لگا وہ اس کی نہیں کسی اور مریض کی بات کررہے ہیں۔ جیسے وہ لوگ اکثر اس قسم کے کیسز ڈسکس کیا کرتے تھےاور پھر ڈاکٹر ڈکسن ان سب ریزیڈینٹ ڈاکٹرز سےمختلف ٹریٹمنٹس کے بارے میں پوچھتے تھے کہ اگر وہ ان کی جگہ ہوتے تو کون سی ٹریٹمنٹ دیتے۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اس کے بارے میں کہا جارہا ہے۔ نشاط نے کچھ کہے بغیر ان کے ہاتھ سے اپنی رپورٹس لیں اور دروازے کی طرف قدم بڑھادیئے تھے۔ وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی کے لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے کتنی لمبی ویٹنگ لسٹ ہے۔ ڈاکٹر ڈکسن نے بہت دکھ سے باہر جاتی اپنی ذہین ترین اسٹوڈنٹ کو دیکھا۔۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے وہ سینئر ڈاکٹرز کے سامنے ڈاکٹر نشاط زیدی کی تعریفیں کرتے کہہ رہے تھے کہ وہ ایک بہت اچھی ڈاکٹر ثابت ہوگی اور وہ مسکرا کر سارا کریڈٹ ڈاکٹر ڈکسن کو دے گئی تھی۔ مگر اس وقت وہ نہیں جانتے تھے کہ جس کا وہ اتنا فخریہ تعارف کرواتے ہوئے اس کے بہت آگے جانے کی پیشن گوئی کررہے ہیں اس کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے۔
* - - - * - - - *
وہ اس وقت کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ تیز تیز چلتے پارکنگ کی طرف جاتے ہوئے اس نے عشارب کی آواز سنی ان سنی کردی تھی۔
"نشاط کیا ہوا ہے؟ گھر میں تو سب ٹھیک ہے؟ تم رو کیوں رہی ہو؟" اس سے پہلے کے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھتی عشارب نےدروازے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
"پلیز عشارب اس وقت مجھے جانے دیں۔ میں کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔" اس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بہت بے بسی سے کہا تھا۔
"مجھے بتاؤ تو ہوا کیا ہے؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے تمہیں ڈاکٹر ڈکسن کے ساتھ ایک وارڈ سے نکلتے دیکھا تھا۔ تب تو تم بالکل ٹھیک تھیں۔ کسی پیشنٹ کی وجہ سے پریشان ہو؟" عشارب نے اسے بری طرح روتے دیکھ کر پریشانی سے پوچھا تھا۔
"عشارب اس دفعہ میں کسی پیشنٹ کے لیے نہیں اپنے لیے رو رہی ہوں۔ میرے ٹیسٹ ہوئے تھے دو دن پہلے اور ابھی ڈاکٹر ڈکسن نے بتایا ہےکہ مجھے لیور سرہوسز ہے اور اس اسٹیج پر ہے کے لیوور ٹرانسپلانٹ واحد ٹریٹمنٹ بچی ہے۔" وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے عشارب کو یہ سب کیوں بتادیا تھا مگر اس وقت شاید کوئی بھی اس کے سامنے آتا وہ سب بتاتی چلی جاتی۔ بولتے بولتے وہ اپنی کار سے ٹیک لگائےوہیں زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ اور عشارب کو لگا کے پورا آسمان اس کے سر پر آگرا ہو۔ کچھ دیر تو وہ کچھ بول ہی نہ سکا۔ بڑی دقتوں سے اپنے اوپر قابو پاکر نشاط کا ہاتھ پکڑ کراسے اٹھایا اور زمین پر پڑا اس کا استھیٹواسکوپ اور رپورٹس اٹھائے اسے قریبی بینچ پر بٹھادیا تھا۔ اور خود اس کی رپورٹس دیکھنے لگا یہ جانتے ہوئے بھی کے ڈاکٹر ڈکسن جیسے ماہر ڈاکٹر کی تشخیص غلط نہیں ہوسکتی اس نے پوری شدت سے دعا کی تھی کہ یہ کسی اور کی رپورٹس ہوں نشاط زیدی کی نہیں۔
رپورٹس دیکھ کر اس نے بہت پریشانی سے انہیں واپس لفافے میں ڈالا تھا اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھے روتی ہوئی نشاط کو دیکھا۔
"اپنے آپ کو سنبھالو نشاط۔ میں مانتا ہوں یہ سب بہت شاکنگ ہے مگر تم پریشان نہیں ہو اِن شاءاللہ تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گی۔" عشارب نے اسے بہت دکھ سے دیکھا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کن الفاظ میں تسلی دے۔
"آپ پلیز کسی کو نہیں بتائیں گے۔ میرے پیرنٹس تک یہ بات نہیں پہنچنی چاہیے۔" اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے بینچ پر سے اپنی چیزیں اٹھائیں اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"مگر نشاط۔ ۔ ۔اس طرح۔ ۔ ۔ " وہ شش و پنج میں مبتلا تھا۔
"پلیز ابھی نہیں۔ میں نے مناسب سمجھا تو خود بتادوں گی۔ میں انہیں اس تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتی جس سے میں گزررہی ہوں۔" اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا تھا۔
"اوکے ٹیک اٹ ایزی۔ پریشان نہیں ہو میں کسی سے کچھ نہیں کہہ رہا۔" وہ بھی اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔
"تھینکس۔" وہ بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کررہی تھی۔
" میں ڈراپ کردوں؟" اس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔
"نہیں امی پریشان ہوں گی۔ میں چلی جاؤں گی۔"
"خیال سے ڈرائیو کرنا۔" نشاط خاموشی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جاچکی تھی مگر عشارب کافی دیر تک وہیں کھڑا بے یقینی سےاس کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔
* - - - * - - - *
تیز ہارن کی آواز پر وہ چونکی تھی گاڑیوں نے اس کے آس پاس سے نکل نکل کر جانا شروع کردیا تھا مگر اسے اپنا ذہن بالکل ماؤف ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ نشاط نے گاڑی ایک سائڈ پر کرلی تھی۔ اس نے زور سے آنکھیں میچ کر کھولیں اور اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر ڈکسن نے وہ سب اسے ہی بتایا تھا۔" مگر اب ۔ ۔ ۔ اب میں کیا کروں؟" اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنے جزبات پر کیسے قابو پائے۔" مما اور پاپا تو مجھے دیکھتے ہی سمجھ جائیں گے کہ میں روئی ہوں۔ ان سے کیسے جھوٹ بولوں گی میں؟" "مگر میں انہیں یہ سب بتا بھی تو نہیں سکتی۔ پاپا پہلے ہی ہارٹ پیشنٹ ہیں۔ وہ یہ سب کیسے برداشت کرسکیں گے۔" اس نے آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسوؤں کو صاف کیا اور بہت مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا تھا۔ گھر پہنچ کر وہ سر درد کا کہہ کر اپنے روم میں بند ہوگئی تھی۔ مما کی کوئی دوست آئی ہوئی تھیں اس لیے انہوں نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ رات کا کھانا کھاتے ہوئے بھی وہ کافی چپ چپ تھی۔ مما پاپا دونوں نے پوچھا تھا مگر وہ ٹال گئی تھی۔ مگر اپنے کمرے میں آتے ہی اس کا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ سب کچھ اتنی جلدی ختم بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے کتنے شوق اور محنت سے میڈیکل فیلڈ جوائن کی تھی۔ ابھی وہ ریزیڈینسی کررہی تھی۔ اس کے پیرنٹس نے اس کے لیے کتنے خواب دیکھ رکھے تھے۔ وہ لوگ کافی سالوں سے شکاگو میں رہائش پزیر تھے اور نشاط یونیورسٹی اوف شکاگو میڈیکل سینٹر میں ریزیڈینسی کررہی تھی۔ نشاط کی ایک ہی بہن تھی ، نرمین، جس کی دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔ نشاط کی انگیجمنٹ اس کے پاپا کے کزن کے بیٹے، تابش سے ہوئی تھی۔ ان لوگوں کی زندگی میں صرف خوشیاں ہی تھیں مگر اب نشاط کو لگتا تھا کہ ساری خوشیاں اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتی جارہی ہیں۔
کچھ دن تک اس نے اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے بہت مضبوط رہی تھی۔ بڑے سے بڑے مسئلوں کو چٹکیوں میں اڑانے والی۔ اس دفعہ گو کہ بات بہت بڑی تھی مگر نشاط زیدی چھپاگئی' کیونکہ وہ اپنوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو بہت مصروف کرلیا تھا۔ صبح سے شام تک ہاسپٹل میں ہوتی تھی۔ شام کو گھر آکر بھی کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوجاتی تھی۔ وہ تکلیف دہ سوچوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی تھی۔ اس نے اپنے جزبات پوری طرح چھپالیے تھے مگر تنہائی میں یہ سب اسے کسی ڈھونگ کی طرح لگتا تھا۔ وہ اکثر سوچتی تھی کہ وہ سب ٹھیک کررہی ہے یا نہیں۔ نشاط کے لیے سب سے زیادہ اہم اس کےپیرنٹس کی خوشی تھی اور وہ اسےخوش دیکھ کر خوش رہتے تھے مگر اب اکثر نشاط کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔ اس نے کافی ویٹ لوز کیا تھا، اس کا کچھ کھانے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ بڑی مشکل سے مجبوری میں سب کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑا بہت کھالیتی تھی۔ مگر اس کی گرتی ہوئی صحت سب محسوس کررہے تھے بلکہ کافی پریشان بھی تھے مگر وہ پڑھائی کی ٹینشن کاکہہ کر ٹالے جارہی تھی۔
* - - * - - - *