Page # 002

"بہت مصروف ہوگئی ہے ہماری بیٹی۔ اب ہمارے پاس بیٹھنے کا ٹائم بھی نہیں مل رہا۔" پاپا کے کہنے پر وہ بہت دقتوں سے مسکرائی تھی۔ انہیں کیا بتاتی وہ سب سے بھاگ رہی تھی۔ اسے لگتا تھا وہ زیادہ دیر باتیں کرے گی تو اپنا ضبط کھو دے گی۔
"نہیں پاپا، بس ہاسپٹل میں بہت تھک جاتی ہوں۔ اسپیشلی نائٹ شفٹ ہو تو پھر پورا دن سوتے ہوئے گزرتا ہے۔" اس نے اپنا سر ان کے کندھے سے ٹکاتے ہوئے کہا تو انہوں نے بھی پیار سے اسے لپیٹ لیا تھا۔
"ہاں تو اپنا خیال رکھا کرو ۔ دیکھو کتنی کمزور ہوتی جارہی ہو۔ ٹائمنگز چینج کرواؤ۔ گھر میں خاموشی پڑی رہتی ہے۔ ہمیں اپنی وہی ہنستی مسکراتی نشی چاہیے۔ جو ہر ویک اینڈ پر خوب ہلہ گلہ کرتی تھی۔" انہوں نے پیار سے کہا تھا اور نشاط کو اپنے آنسؤوں پر قابو رکھنا مشکل لگنے لگا۔ وہ انہیں کیسے بتاتی کہ ان کے گھر میں ہمیشہ کے لیے خاموشی چھانے والی ہے۔ ان کی رونق لگائے رکھنے والی بیٹی کو موت ان سے چھین کر بہت دور لے جانے والی ہے۔
"کوشش کرتی ہوں پاپا کے کچھ دن کی چھٹی لے لوں۔ آپ ابھی آئے ہیں چینج کرلیں۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔" اپنی آواز کو بہت حد تک نارمل رکھتے ہوئے وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اور توقیر صاحب نے ناسمجھی سے اس کے لہجے میں موجود اداسی کی وجہ کے بارے میں سوچا تھا۔وہ ان دونوں سے ہر بات شیئر کیا کرتی تھی۔ مگر کچھ دنوں سے وہ نوٹ کررہے تھے کہ وہ خاموش ہوتی جارہی ہے۔ وہ مسکراتی تو تھی مگر اب اس کی آنکھیں اس مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیتی تھیں۔ وہ ہنستی بولتی تھی مگر اب اس کے لہجے میں پہلے جیسی کھنک نہیں ہوتی تھی۔ "کیا یہ تابش سے انگیجمنٹ پر خوش نہیں ہے؟" انہیں واحد یہی بات سمجھ میں آئی تھی اور وہ اپنی بیگم،مہرین سے اس بارے میں بات کرنے کا سوچتے ہوئے اٹھ گئے تھے۔
____________
* - - - * - - - *
نشاط کو لگ رہا تھا وقت کو پر لگ گئے ہیں۔ وقت اتنی تیزی سے گزررہا تھا کہ اسے پتا ہی نہیں چلا اور ڈاکٹر ڈکسن سے ڈسکس کیے ایک مہینہ ہوچکا تھا۔ ان سے ہاسپٹل میں ملاقات ہوتی رہتی تھی مگر وہ اپنے بارے میں کچھ بھی ڈسکس کرنےسے اجتناب برت رہی تھی۔وہ سارے ٹیسٹ کرواکر سب ڈاکٹر ڈکسن پر چھوڑ چکی تھی۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیوور ٹرانسپلانٹ کی ویٹنگ لسٹ میں شامل کروادیا تھا۔
عشارب بھی اسی ہاسپپٹل میں پانچ سال سے جاب کررہا تھا۔ پہلے ان دونوں کی کافی بات چیت تھی۔ بلکہ ان کی فیملیز کا ایک دوسرے کےگھر آنا جانا بھی تھا اور عشارب کی بہن مائرہ سے نشاط کی بہت اچھی دوستی تھی۔ مگر اب نشاط عشارب کواگنور کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ اس نے کافی دفعہ نشاط سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ حال چال پوچھنے کے بعد کوئی نہ کوئی بہانے کرکے وہاں سے چلی جاتی تھی۔ ایک دو دفعہ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی ہوا۔ مگر عشارب کو اندازہ ہوگیا تھاکہ نشاط نے اب تک گھر میں کچھ نہیں بتایا ہے۔اس لیے وہ بھی خاموش رہا۔
ڈاکٹر ڈکسن کی دی گئی میڈیسن وہ باقاعدگی سے لے رہی تھی اور ساتھ ہی لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے انتطار بھی کررہی تھی مگر نشاط زیادہ پر امیدنہیں تھی۔ وہ دعائیں ضرور مانگتی تھی مگر کبھی کبھی اس کو لگتا تھا کہ اب اس کی دعائیں قبول نہیں ہورہیں۔ تب وہ بہت اداس ہوجاتی تھی۔ وہ پوری پوری رات جاگ کر گزارتی تھی۔ اب اسے موت سے بہت ڈر لگنے لگا تھا۔
* - - - * - - - *
"آج تابش کی امی کی کال آئی تھی۔ وہ لوگ اگلے مہینے کی کوئی تاریخ رکھنا چاہ رہے ہیں۔" وہ کمپوٹر پر اپنا اسائنمنٹ کررہی تھی جب اس کی مما نے دودھ کا گلاس اس کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا تھا۔
"مگر مما اتنی جلدی؟" نشاط کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔
"جلدی کہاں؟ دو مہینے ہوچکے ہیں انگیجمنٹ کو۔ یہی بات ہوئی تھی کہ دو تین ماہ تک شادی کردیں گے۔ اس ویک اینڈ پر بلارہی ہوں میں ان لوگوں کو۔" انہوں نے پیار سےاس کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا۔
"مما پلیز! آج کل میں بہت بزی ہوں۔ ابھی کم سے کم مجھے تین مہینے اور دیں۔ آپ ابھی انہیں ٹال دیں۔"
"ایسے کیسے ٹال دوں؟ جب یہی بات ہوئی تھی تو اب وہ لوگ کوئی جواز مانگے گے۔ کیا کہہ کر ٹالوں؟ بس تم کچھ دن کی چھٹیاں لے لینا۔ یہ مصروفیت تو کبھی ختم نہیں ہوتی" انہوں نے سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا اور جلدی سونے کی تلقین کرتی ہوئی چلی گئی تھیں۔
نشاط بہت دیر تک کمپیوٹر کی اسکرین کو گھورتی رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ یہ بات نشاط کے لیے پریشان کن تھی۔ وہ کسی کو بھی دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے ایسے میں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ تابش سے صاف بات کرنے کا سوچتے ہوئے پی سی شٹ ڈاؤن کرکے لیٹ گئی تھی۔ اسے دم گھٹتا ہوامحسوس ہوا تو اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔دسمبر کی سرد ہوائیں بھی اس کے اندر کی گھٹن کم نہیں کرسکیں۔ اس نے ایک شکوہ کناہ نظر آسمان کی طرف ڈالی "اتنی جلدی اللہ میاں جی، ابھی تو نشاط کے بہت سے خواب ادھورے رہتے ہیں۔ آپ نے مجھے اتنے مواقع دیئے اور اب جب کچھ کرنے کا وقت آیا تو آپ نے ایک جھٹکے میں سب کچھ مجھ سے چھین لیا۔ پلیز مجھے صرف آپ بچا سکتے ہیں۔ پلیز اللہ میاں میں ابھی مرنا نہیں چاہتی۔" آنکھو سے بہتے آنسوؤں کو رگڑتے ہوئے وہ اپنی ڈائری لے کر بیٹھ گئی تھی۔ اپنے دکھوں کی واحد ساتھی جس سے وہ سب کچھ کہہ لیتی تھی۔ مگر شاید زندگی کی سانسوں کے ساتھ الفاظ بھی ختم ہوتے جارہے تھے۔ بہت دیر تک الٹی سیدھی لکیریں کھینچنے کے بعد کچھ لکھنے لگی تھی۔
ہوا کے بے رحم جھونکے چلیں
جب بھی
تو ڈرتی ہوں
کبھی
گہرے، مہیب سناٹے میں
موت کی چاپ سنتی ہوں
تبھی
زندگی کی لو ٹمٹمائے تو
میں لرز اٹھتی ہوں
کیونکہ
میں اک بجھتا دیا ہوں
نشاط کو لگا کہ وہ ایک بجھتا ہوا چراغ ہے۔ ایک دن بہت تیز ہوا چلے گی اور اس کی زندگی کی لرزتی ہوئی سانسوں کو بجھادے گی مگر وہ ابھی جینا چاہتی تھی۔
* - - - * - - - *
دوسرے دن وہ تابش کے لنچ آورز میں اس کے آفس میں موجود تھی اور وہ اسے وہاں دیکھ کر کافی حیران ہوا تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ کبھی اس طرح نہیں آئی تھی۔
"کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟ تم اور یہاں۔
Such a pleasant surprise"
"اس طرف سے گزررہی تھی سوچا چکر لگالوں۔" اس نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔
"بہت اچھا کیا۔ میں لنچ آرڈر کررہا تھا چلو اب باہر ہی لنچ کرتے ہیں۔" پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ نشاط مناسب الفاظ ڈھونڈ رہی تھی کہ کس طرح بات شروع کی جائے۔
"تمہارا سمیسٹرکب تک ختم ہورہاہے؟ امی نے کال کی تھی آنٹی کو۔" آرڈر دے کر تابش اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
"بس دو ہفتے بعد ختم۔ آنٹی کی کال کا بتایا تھا مما نے۔ میں اسی بارے میں آپ سے ڈسکس کرنا چاہ رہی تھی۔" نشاط نے پانی کا دوسرا گلاس بھی ایک سانس میں ختم کیا اور اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر بامشکل قابو پایا۔
"تو پھر کب چل رہی ہو شاپنگ پر؟ شاپنگ ہم دونوں ساتھ کریں گے۔ خاص طور پر شادی اور ولیمے کے ڈریسز کی۔" تابش کافی خوش لگ رہا تھا۔
"آپ بہت خوش ہیں؟" نشاط نے پوچھا تھا۔
"ہاں تو کیا نہیں ہونا چاہیے؟ مجھ سے تو اتنے دن بھی مشکل سے انتظار ہوا ہے۔ " تابش واقعی بہت خوش تھا۔
"آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں تابش؟"نشاط نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔
"بہت زیادہ ۔ اتنی زیادہ کے کبھی کبھی مجھے خود پر حیرت ہوتی ہے کہ مجھے تم اتنی عزیز کیوں ہوگئی ہو۔ اور اتنے دن بھی پتا نہیں کیسے انتظار کیا ہے۔ اب بس انتظار ختم۔ ویسے آج خیریت تو ہے؟ میں کچھ بھی کہوں تو فوراً روک دیتی ہو اب خود ہی پوچھ رہی ہو ۔" تابش نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
"تابش اگر میں کہوں آپ کچھ عرصے کے لیے مزید انتظار کرلیں پھر؟" نشاط نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو تابش کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوگئی تھی۔
"میں اس کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟" وہ ایک دم سنجیدہ ہوگیا تھا۔
"وجہ؟" وہ ایک سیکنڈ رکی تھی اپنے اندر ہمت پیدا کی اور پھر بہت دقتوں سے بولنا شروع ہوئی تھی "وجہ یہ ہے تابش کہ میں کسی کو دھوکا نہیں دینا چاہتی۔"
"تم کسی اور کو پسند کرتی ہو تو مجھے اتناعرصہ بیوقوف کیوں بنایا؟" نشاط کی بات بیچ میں ہی کاٹ کر تابش تیز لہجے میں بولا تھا۔ اور نشاط کے چہرے پر ایک سایہ سا لہراگیا تھا۔
"بہت افسوس کی بات ہے۔ ابھی کچھ منٹ پہلے محبت کا دعوٰی کرنے والے نے میری پوری بات سنے بغیر ہی الزام تراشی شروع کردی۔" نشاط کو اس کی بات سے شدید دکھ پہنچا تھا۔ تابش کو بولنے کا موقع دیئے بغیر وہ مزید بولی تھی، "مجھے لیور سرہوسز ہے اور میرے پاس صرف کچھ ماہ کا وقت بچا ہے۔ آپ سے صرف اتنا کہنا تھا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ پلیز یہ سب کچھ عرصے تک کے لیے رکوادیں۔ پھر تو سب خود ہی ختم ہوجائے گا۔ مگر پلیز میرے گھر والوں کو کچھ بھی پتا نہ چلے۔ میں انہیں تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ آپ بس یہ سب رکوادیں۔ کچھ مہینے میرے لیے مزید رک جائیں ۔ ۔ ۔بس اتنی سی خواہش ہے۔ اتنا تو کر سکتے ہیں نا؟" اس نے پانی کا گلاس پھر بھرا تھا اور ایک ہی سانس میں چڑھاگئی۔ تابش کو شاک لگا تھا۔کچھ دیر وہ بالکل خاموش رہا ۔
"مجھے یقین نہیں آرہا نشاط۔ ایک دم ۔ ۔ ۔ تم نے کسی اور ڈاکٹر کو دکھایا؟" اس نے اپنی پہلے والی بات بالکل اگنور کردی تھی۔
"ڈاکٹر ڈکسن اور ڈاکٹرز سے بھی ڈسکس کرچکے ہیں۔ شک کی گنجائش ہی نہیں۔ اب آپ اتنا بتادیں کہ آپ شادی رکواسکتے ہیں یا نہیں؟ مگر پلیز انگیجمنٹ رہنے دیں۔ صرف کچھ عرصہ۔ ۔ ۔ انگیجمنٹ ختم ہوئی تو مما، پاپا پریشان ہوں گے اور میں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ نہ ہی آپ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتی ہوں۔" نشاط کو اب تک اس کی کسی اور کو پسند کرنے والی بات پر دکھ تھا مگر پھر بھی اس نے اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا تھا۔
تابش کچھ دیر کچھ سوچتا رہا پھر بولا تھا، "ٹھیک ہے۔ میں امی کو سمجھالوں گا۔ چلو تمہیں ڈراپ کردوں۔" نشاط نے اس کو اٹھتے دیکھ کر اپنا بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف قدم بڑھادیئے تھے۔ وہ آئے تو لنچ کرنے تھے مگر ایسے ہی اٹھ آئے۔ تابش پورا راستہ بالکل خاموش رہا تھا۔ نشاط اس کی طرف سے کسی تسلی کی توقع کرتی رہی مگر تابش نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
*- - - * - - *
ایک ہفتہ بالکل خاموشی چھائی رہی تھی اور نشاط بھی کافی حد تک نارمل رویہ رکھنے میں کامیاب رہی تھی مگر آج گھر آئی تو نرمین آپی اپنے چھ ماہ کے بیٹے عثمان کو گود میں لیے امی سے باتوں میں مصروف تھیں۔
"ارے آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہوئے ہیں اور یہ میرا گپلو۔" وہ عثمان کو لیتے ہوئے نرمین کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔
"میں کھانا نکالتی ہوں تم چینج کرلو نشاط۔" اسے مما کافی چپ چپ لگیں تو سوالیہ انداز میں نرمین کی طرف دیکھا تھا اور اس نے نظریں چرالی تھیں۔
"کیا ہوا ہے آپی؟"
"کچھ نہیں کیا ہونا ہے" نرمین نے ٹالنے کی کوشش کی۔
"پلیز آپی۔ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟ آپ اور مما اتنی پریشان لگ رہی ہیں۔" نشاط کے لہجے میں پریشانی تھی۔
"آج تابش کی امی کی کال آئی تھی۔" نرمین نے گلہ کھنکھارتے ہوئے بولنا شروع کیا تھا۔
" پھر۔ ۔ ۔ ؟" نشاط کو ڈر تھا کہ کہیں تابش نے اس کے بارے میں نہ بتادیا ہو۔
"انہوں نے انگیجمنٹ ختم کردی ہے۔ وہ تابش کی اپنی بہن کی بیٹی سے شادی کررہی ہیں۔ " نرمین نے کافی دکھ سے بتایا تھا۔
"اور؟ کچھ اور بھی کہا کیا؟" نشاط نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔
"وہ کہہ رہی تھیں کہ شاید آپ کی بیٹی کو کوئی اور پسند ہے۔ اسی سے کردیں تمہاری شادی۔ کافی روکھے انداز میں بات کی اور مما کی سنے بغیر ہی فون رکھ دیا۔ انسان رشتہ داری کا ہی کچھ لحاظ کرلے۔ آرام سے بھی بات کرسکتی تھیں۔" نرمین کو ان پر غصہ بھی آرہا تھا۔ نشاط نے ایک گہری سانس لی اور اللہ کا شکر کیاکہ نشاط کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
"میں چینج کرکے آتی ہوں۔" نشاط نے عثمان کو نرمین کو پکڑاتے ہوئے کہا ۔
"مگر نشاط کیا تم واقعی کسی اور کو پسند کرتی ہو؟" نرمین آپی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا تھا۔
"مجھے کوئی اور پسند ہوتا تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی بتاتی اور آپ مجھے اچھی طرح جانتی ہے آپی میں کتنی فیئر ہوں۔ اگر مجھے کوئی اور پسند ہوتا تو تابش سے انگیجمنٹ کیوں کرواتی؟ کوئی زبردستی تو نہیں ہوئی تھی میرے ساتھ۔ بہرحال مجھے ان کے اس جھوٹے الزام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ مما پاپا کو سمجھایئے گا وہ دونوں بہت پریشان ہوں گے۔" اسے اپنے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکتا محسوس ہوا۔ اپنابیگ اٹھا کر اپنے روم کی طرف چلی گئی تھی۔ اس نے بہت دفعہ سوچا تھا کہ نرمین کو سب بتادے۔ وہ اپنی بہن سے کافی کلوز تھی مگر وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے نرمین آپی کو کچھ بھی بتایا تو وہ مما پاپا کو ضرور بتائیں گی۔ "یہ تابش کی کیسی محبت تھی جو وہ ایک ہفتہ بھی نہیں رک سکے؟ اتنی خودغرضی۔ ایک مرتے ہوئے انسان کے لیے اتنا بھی نہیں کرسکے کہ کچھ عرصے اس کے مرنے کا انتظار ہی کرلیتے۔" نشاط کو خود تو دکھ ہوا ہی تھا مگر مما پاپا کی پریشانی کا سوچ کر وہ مزید دکھی ہوگئی تھی۔ اپنی آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو رگڑتے وہ ایک دفعہ پھر اپنے بکھرتے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کررہی تھی۔
* - - - * - - - *
گھر میں کافی سناٹا چھایا رہتا تھا۔ توقیر صاحب اور مہرین بیگم نے نشاط سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں پوچھی تھی بلکہ وہ اس کا اور زیادہ خیال رکھنے لگے تھے۔ اسے اپنے مما پاپا کی اس محبت اور اعتماد پر جتنی خوشی ہوئی تھی یہ وہی جانتی تھی۔ چاہے کوئی کچھ بھی کہے وہ اپنی بیٹی کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اس لیے اس بارے میں اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا اور نشاط ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔ مگرتابش کے رویے پر اسے کافی دکھ تھا۔ کیا بگڑجاتا اگر وہ اسے کچھ ماہ دے دیتا۔ کم سے کم وہ اپنے پیرنٹس کو اس دکھ سے تو بچالیتی۔
"کیا دیکھا جارہا ہے؟"اپنی سوچوں میں گم وہ چینلز پر چینلز بدلے جارہی تھی جب توقیر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
"کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی۔ آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں؟" اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کاایک بجا رہی تھی اور اس کے پاپا جلدی سونے کے عادی تھے۔
"بس نیند نہیں آرہی تھی، یہاں کی لائٹ جلتی دیکھی توآگیا۔ تم کیوں نہیں سوئیں ابھی تک؟" وہ اس سے پوچھتے ہوئے وہیں اس کےساتھ ہی بیٹھ گئے تھے۔
"میں بس جارہی تھی سونے۔ ابھی ایک مووی آرہی تھی وہی دیکھ رہی تھی۔" نشاط نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے بہانا بنایا ورنہ وہ کافی دیر سے ایسے ہی چینلز بدلے جارہی تھی۔ ذہن میں عجیب جنگ چھڑی تھی۔
"بیٹا جو کچھ ہوا ا س پر یقیناً تم بھی اپ سیٹ ہوگی۔ مگر زندگی چلتے رہنے کا نام ہے۔ مجھے تابش کی فیملی کے رویے پر کافی افسوس ہے مگر سب اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ اس میں ہماری بیٹی کے لیے کوئی بہتری ہوگی۔ اور ہم ہیں نا اپنی بیٹی کے ساتھ۔ ہر مشکل ہر آزمائش سے بچانے کے لیے ہم، ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔" انہوں نے اسے سمجھاتے ہوئے اپنے قریب کیا مگر وہ جو بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں پر ضبط کیے بیٹھی تھی ان کی باتوں پر سارے بند ھ ٹوٹ گئے۔ وہ انہیں کیسے بتاتی کہ ان دعائیں بھی اس کو اس آزمائش سے نہیں نکال سکیں گے۔ مہرین بیگم بھی وہیں آگئی تھیں اور دونوں اس کے رونے کی وجہ تابش سے انگیجمنٹ ٹوٹنا سمجھ رہے تھے اور اس نے ان دونوں کی غلط فہمی دور بھی نہیں کی تھی۔ وہ انہیں کیا بتاتی؟ کہ تابش سے انگییجمنٹ ٹوٹنا تو بہت معمولی بات تھی، وہ ان جیسے محبت کرنے والے ماں باپ سے ہمیشہ کی جدائی کا سوچ کر رورہی ہے۔
"نشی میری جان، ایسے فضول لوگوں کے لیے تم خود کو کیا ہلکان کررہی ہو؟ ہم ہیں نا تمہارے ساتھ۔ اِن شاءاللہ تمہیں تابش سے بہت بہتر انسان ملے گا۔" مہرین بیگم نے کہتے ہوئے اسے پیار سے ساتھ لگالیا تھا اور وہ جی بھر کے رو لینا چاہتی تھی۔
"چپ ہوجاؤ بیٹا۔ یہ اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے۔انگیجمنٹ ہی ختم ہوئی ہے نا اچھا ہوا ان لوگوں کا پہلے ہی اندازہ ہوگیا۔ جو لوگ ابھی سے الزام تراشی کررہے ہیں وہ بعد میں کیا کرتے۔ تم پریشان نہ ہو۔ اللہ بہتر کرے گا۔" پاپا کے کہنے پر اس نے بامشکل اپنے آنسوؤں کو روکا تھا۔ ان دونوں کو پریشان دیکھ کر نشاط نے ایک دم اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ وہ دونوں کافی دیر اسے سمجھاتے رہے تھے اور وہ غائب دماغی سے سنتی رہی تھی۔ پھر مہرین بیگم اسے سونے کی تلقین کرتی کمرے تک چھوڑ گئی تھیں۔ مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ عشاء کی نماز وہ کب کی پڑھ چکی تھی مگر ایک دفعہ پھر جاء نماز پر جا بیٹھی۔
"اللہ میاں آپ کو تو پتا ہے نا میں کتنی کم ہمت ہوں۔ میں نے آج تک مما پاپا سے کچھ نہیں چھپایا۔ اب جب بعد میں انہیں پتا چلے گا کہ میں نے اپنی کنڈیشن ان سے چھپائی تھی تو وہ دونوں کتنا دکھی ہوں گے۔ مگر میں کیا کروں ۔ ۔ ۔ اگر انہیں بتاتی ہوں تو ان دونوں کی بہت بری حالت ہوجائے گی۔ پلیز اللہ میاں مجھے بچالیں۔ دادی کہتی تھیں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ آپ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ میں جانتی ہوں میرے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔ اسی لیے میں زیادہ دعا بھی نہیں مانگتی۔ مگر جب ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں تب بھی آپ پر یقین کم نہیں ہوتا۔ آپ مجھے بچالیں گے نا؟" بار بار یہی دعائیں مانگتے اس نے پوری رات روتے ہوئے جاء نماز پر بیٹھے گزار دی تھی۔
* - - -* - - - *
سمیسٹر ختم ہوتے ہی ان سب دوستوں نے بیچ پر جانے کا پروگرام بنالیا تھا۔ نشاط نے مائرہ کو تو ٹال دیا تھا مگر یقیناً اس نے اپنے بھائی کو بتادیا تھا تبھی صبح ہی صبح وہ ان کے گھر چلا آیا ۔
"تم کیوں نہیں چل رہیں ہمارے ساتھ؟" عشارب نے آتے ہی پوچھا تھا۔
"میرا موڈ نہیں ہورہا اور کچھ کام بھی ہے۔" نشاط نے ٹالنے کی کوشش کی۔ اس کی مما بھی وہیں آگئی تھیں۔
"السلام علیکم آنٹی۔"
"وعلیکم السلام۔ ویک اینڈ پر اتنی صبح کیسے اٹھ گئے؟" مہرین نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
" وہ آج ہم سب کا بیچ پر جانے کا پروگرام ہے نشاط کو پک کرنے آیا ہوں مگر یہ محترمہ اب تک تیار نہیں ہوئیں۔" عشارب کے کہنے پر نشاط نے اسے گھورا تھا۔
"اچھا ۔ نشاط تم نے ذکر نہیں کیا ، کچھ کھانے پینے کو ساتھ لے جانا۔ بلکہ میں خود ہی دیکھتی ہوں تم تو الا بلا اٹھا کر لے جاؤ گی۔" وہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی تھیں۔
"میرا ساتھ جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا پھر آپ نےمما سے کیوں کہہ دیا؟" نشاط نے چڑچڑے لہجے میں کہا۔
"جب ہمارا پروگرام نہیں ہوتا اور تم شارٹ نوٹس پر سب کو جانے پر تیار کرسکتی ہو تو پھر اب ہمارے کہنے پر نہیں چل سکتیں؟" عشارب کے لہجے میں ناراضگی تھی۔
"اب جلدی تیار ہو پلیز وہاں ہمارے گھر مائرہ ، عمیر اور باقی سب انتظار کررہے ہیں۔"نشاط کو خاموش دیکھ کر اس نے مزید کہا تھا اور وہ اٹھ کر تیار ہونے چل دی تھی ورنہ مما کو وضاحتیں دینا پڑتیں کیونکہ وہ جانتی تھیں نشاط گھومنے پھرنے کی کتنی شوقین ہے۔
* - - - * - - - *
اسے پانی کا شور بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ ، مائرہ اور امبرین وہیں پانی کے قریب ہی بیٹھ گئی تھی جبکہ لڑکے کافی آگے پہنچے ہوئے تھے۔ ہر تھوڑی دیر بعد پانی کی لہریں اس کے پاؤوں کو بھی بھگو جاتی تھیں۔
"یار یہاں بیٹھنے کے لیے تو نہیں آئے۔ مانا تمہارے بہت ضروری کام رہ گئے ہیں مگر پھر بھی اب کیا یونہی منہ لٹکائے بیٹھی رہو گی؟" امبرین نے نشاط کو خاموش بیٹھے دیکھ کر کہا تھا۔
"منہ لٹکائے کون بیٹھا ہے؟ مجھے بس یہاں بیٹھنا اچھا لگ رہا ہے۔ تم لوگوں کو جانا ہے تو جاؤ نا مگر میں واقعی یہیں بیٹھنے کے لیے آئی تھی۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ تھوڑی دیر وہ دونوں وہیں بیٹھی باتیں کرتی رہیں۔
"تم دونوں یہاں بیٹھنے کے لیے آئی تھیں؟ مائرہ کو تو بہت شوق ہورہا تھا پانی میں جانے کا اب یہیں بیٹھی ہو ، پھر گھر جا کر مجھے باتیں سناؤ گی۔ میری وجہ سے ٹک کر بیٹھی ہو تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جاؤ نا مجھے واقعی یہیں مزہ آرہا ہے" نشاط کے کہنے پر وہ دونوں اسے گھورنے لگی تھیں۔
"ہاں تم دنیا جہان سے بیزار یہیں بیٹھی رہو ہم ذرا پانی کا ٹیمپریچر چیک کرکے آئے" مائرہ نے اٹھتے ہوئے کپڑوں پر سے ریت جھاڑتے ہوئے کہا اور دونوں تھوڑی دیر میں آنے کا کہہ کر آگے چلی گئی تھیں۔ وہ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے شور مچاتی لہروں کو دیکھتی رہی۔ اس کے اندر بھی ایسا ہی شور تھا مگر وہ اس شور کو اندر ہی اندر دبانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی رہتی تھی۔
وہ ریت پر اپنا نام لکھتی تھی اور ہر تھوڑی دیر بعد کوئی لہر آکر اسے مٹاجاتی تھی۔ پتا نہیں کتنی بار اس نے اپنا نام لکھا اور لہر وں نے آکر مٹادیا۔ اس نے ایک دفعہ پھر سے نشاط لکھا اور اس سے پہلے کے کوئی لہر آتی عشارب نے اس کے نام کے نیچے عشارب لکھا اور فوراً اس کی تصویر کھینچ لی۔ نشاط نے کچھ چونک کر عشارب کی طرف دیکھا۔اس کو پتا بھی نہیں چلا عشارب کب اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا۔
"لہروں سے ضد باند ھ کر بیٹھی ہو؟ یہ دیکھو اب ہمارا نام کوئی لہر نہیں مٹاسکتی۔سب میرے نام کا کمال ہے۔" عشارب نے اسے ابھی کھینچی گئی تصویر دکھاتے ہوئے کہا تھا۔
"جی نہیں۔ یہ سب ڈیجٹل کیمرے کا کمال ہے۔ خالی میرا نام لکھا ہوتا تب بھی ایسی ہی تصویر آتی۔" نشاط نے چڑتے ہوئے کہا۔
"اتنی دیر سے تو تم کوشش کررہی تھیں تصویر کھینچنے کی' مگر اس سے پہلے ہی لہر آجاتی تھی۔ ویسے سچ کہہ رہا ہوں نشی اگر تمہارا نام میرے نام کے ساتھ لکھا ہو تو ہمیں کوئی نہیں مٹاسکتا۔پھر میں ممی پاپا کو کب بھیجوں؟" عشارب کے لہجے میں شرارت تھی۔
"آپ کسی مرتے ہوئے انسان کا ساتھ کیوں چاہتے ہیں؟ صرف اس لیے کے وہ آپ کی دوست ہے اور آپ کو اس پر ترس آرہا ہے؟" نشاط کے لہجے میں تلخی گھل گئی۔۔
"بہت افسوس کی بات ہے۔ تم میری محبت کو ترس سمجھ رہی ہو۔ اگر تابش بیچ میں نہ آیا ہوتا تو میں یہ سب پہلے ہی کرچکا ہوتا۔ مگر تمارے ممی پاپا کو اتنی جلدی تھی کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے اور ان لوگوں نے تمہاری انگیجمنٹ کردی۔ مگر خیر اس دفعہ میں یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا۔ صرف تمہاری طرف سے اوکے کا سگنل ملنے کا انتظار کررہا ہوں اگلے دن ممی پاپا کے ساتھ تمہارے گھر ہوں گا۔
"مجھے نہیں کرنی شادی۔ میں نے تابش کو بھی یہی کہا تھا کہ میں کسی کو دھوکا نہیں دینا چاہتی۔" اس نے ریت پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتے ہوئے کہا۔
"تم کسی کو دھوکا نہیں دے رہیں۔ مجھے ہر بات کا علم ہے۔ اور اب میرے سامنے تابش کا نام مت لینا۔تمہیں سوچنے کے لیے وقت چاہیے تو لے لو مگر مجھے جواب ہاں میں چاہیے۔" اپنی بات مکمل کرکے وہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا اور نشاط کا دل چاہا تھا کہ وہ بھی شور مچاتے سمندر کی طرح چیخ چیخ کر اپنے اندر کی ساری بے چینی، سارا غصہ عیاں کردے۔ وہ اپنے آپ سے لڑتےلڑتے تھکنے لگی تھی۔
* - - - * - - -*