014 - ڈرامہ: بلاعنوان :؟؟؟؟

نوٹ
شرائط: عنوان تجویز کیجیے جو عنوان مصنف کو اچھا لگے گا۔ اس کو عنوان کو نقرئی نقاط انعام دیا جائے گا۔۔
پہلے تین بہترین عنوان کو 500،300اور200 نقرئی نقاط کا انعام ہے۔۔
شرائط میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ (ادارہ)

بلاعنوان ڈرامہ۔۔۔۔

(منظر: ایک گنجان آباد شہر کے بیچ فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا بوریا بچھائے جس کے ساتھ مختلف ڈگریاں اور اسناد رکھی ہوئی ہیں جن سے اعلٰی کارکردگی کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔)

اختر نامی ایک شخص روزانہ صبح کے دھندلکے میں ہی یہاں دکھائی دیتا ہے مفلسی اور ناداری کی وجہ سے جوانی میں ہی میں بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں،قریب سے کوئی گاڑی گزرتی ہے تو امید و یاس کے عالم میں حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہے۔فٹ پاتھ پر لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے کوئی شخص پاس سے گزرتا ہے تو اختر اس کے پیچھے لپک کر اس کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔
اجنبی: یہ تم کیا کر رہے ہو؟
اختر: حضور میں بہت غریب ہوں' پڑھا لکھا ہوں بیشک آپ میری اسناد دیکھ لیں لیکن خدا کے لئے مجھے کہیں نوکر کر وا دیں ورنہ میں بے کسی کی موت مر جاؤں گا۔
اجنبی:میرے پاؤں تو چھوڑو سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں۔
(اختر پاوں چھوڑ دیتا ہے،اجنبی جلدی سے پانچ روپے کا سکہ پھینکتا ہے اور چلا جاتا ہے)
اختر: (مایوس ہو کر)میں بھکاری نہیں ہوں،بھکاری نہیں ہوں،چیختا ہے،لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
قریب ہی سے کسی گاڑی کے رکنے کی آواز آتی ہے فورا'' اس کی جانب لپکتا ہے۔
گاڑی والا:معاف کرو بھائی کھلے پیسے نہیں ہیں۔
اختر:حضور میں بھکاری نہیں ہوں،پڑھا لکھا ہوں بے شک آپ میری اسناد دیکھ لیں لیکن خدا کے لیے مجھے کہیں نوکر کروا دیں ورنہ میں بے کسی کی موت مر جاوں گا۔
(گاڑی کے آگے لیٹ جاتا ہے)
گاڑی والا: ارے ارے! یہ کیا کر رہے ہو(زیر لب) کس مصیبت سے پالا پڑا ہے۔) اچھا یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل میرے دفتر آجاؤ۔
(اجنبی کارڈ دیتا ہے اور اختر اسے دور تک دعائیں دیتا ہے۔)

************************

دروازے پر دستک ہوتی ہے،کامران چونک پڑتا ہے۔
کامران: (اندر سے)کون ہے؟
اختر: (باہر سے) حضور میں ہوں آپ کا خادم۔ کل آپ نے مجھے کارڈ دیا تھا۔
کامران:اندر آجاؤ۔
(اختر اندر چلا جاتا ہے)
کامران: دیکھو میاں ! میرے دفتر میں چوکیدار کی ضرورت ہے۔
اختر: جناب! میں یہ بھی کرنے کے لیے تیار ہوں۔
کامران: (بات مکمل کرتے ہوئے) چوکیدار کی ضرورت تو ہے مگر اس کے لیے بڑی بڑی سفارشیں آئی ہوئی ہیں۔اور تم جانتے ہو کہ ہم لوگ کتنے مجبور ہوتے ہیں۔۔
(آنسو ضبط کرتے ہوئے) اللہ آپ کو بہت دے صاحب !(واپس مڑتا ہے)۔
کامران:ارے سنو تو' اگر کچھ پیسوں کا بندوبست کرسکو تو تمہارا کام ہوسکتا ہے۔
اختر: جناب ! میں بہت غریب آدمی ہوں میرے لیے یہ ممکن نہیں۔
کامران: (نہایت غصے سے)نہ سیاسی فائدہ دے سکتے ہو نہ معاشی فائدہ تو یہاں کیا لینے آئے ہو؟آجاتے ہیں منہ اٹھا کر نوکری کرنے۔
اختر دوبارہ اسی جگہ پہنچ جاتا ہے گردش ایام کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوئے جاتے ہیں۔لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ایک دن اچانک اختر کو ''پُراسرار نور'' محسوس ہوتا ہے اور اس کی جانب تیزی سے لپکتا ہے تو کسی نورانی جسم کو محسوس کرتا ہے۔
منور:"کہو بھائی!آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔"(بولنے والا کوئی شائستہ آدمی ہے)۔
"حضور ! میں پڑھا لکھا ہوں،بیشک آپ میری اسناد دیکھ لیں لیکن خدا کے لیے مجھے کہیں نوکر کروا دیں ورنہ میں بے کسی کی موت مر جاؤنگا۔"(منور آتا ہے اور اسناد دیکھتا ہے۔)
منور: (فیصلہ کن انداز میں)" مبارک ہو اے منتظر !تمہارے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوچکی ہیں۔
بشارت ہو اب تمہیں کسی کے پاس حاجت بیاں کرنے کی بھی ضرورت نہیں تمہیں یہاں سے لے جایا جائے گا اور ہر قسم کی نعمت سے مالا مال کیا جائے گا۔"(نورانی جسم غائب ہوجاتا ہے۔)
اختر: (بے خود ہو کر) " نوکری،عہدہ،دولت،عزت ہاہاہاہاہا۔۔"
(زور زور سے ہنسنے لگتا ہے)
اسناد ہاتھ میں اٹھائے روشنی کے تعاقب میں دور تک بھاگتا ہے۔ پھر سڑک کے بیچ جھومنا شروع کرتا ہے' جھومتے جھومتے اچانک ایک گاڑی سے ٹکراتا ہے۔ شام کے دھندلکے میں ایک لمحے کو سرخ روشنی کا فوارہ ابل پڑتا ہے اور پھر سیاہی بڑھنے لگتی ہے۔تیز ہوا میں اسناد دور تک اڑتی دکھائی دیتی ہیں۔لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔

ختم شد