015 - Me & My Honey On Moonتحریر: سید جرار علی

Me & My Honey On Moon

لو جی کون کہتا ہے کہ شادی کے بعد مشکلیں بندے کو گھیر لیتی ہیں؟ میری زندگی میں تو سب اچھا اچھا ہی ہوا۔ بلکہ بہت اچھا اچھا ہوا۔ ( ایویں احسان بھائی نے رولا ڈالا ہوا تھا )۔ بیاہ کے کوئی ہفتے بعد ہی میری ووٹی نے گھومنے پھرنے کی بات کی۔ میں تو دنیا سے اوازار تھا ہی، اتنے روڑے اٹکائے تھے میری اور چندا کی شادی میں دنیا والوں نے، تو کیسے اوازار نہ ہوتا ؟ لیکن جب میں نے چندا سے پوچھا کہ تم گھومنے کے لیے کہاں جانا چاہتی ہو تو مجھے معلوم پڑا کہ وہ بھی بہت اُکتائی ہوئی تھی۔ ( بالکل ایسے ہی جیسے کافی سارے لوگ آج کل افسانوں سے اکتائے ہوئے ہیں)۔

اس نے کہا " اے جی ! چاند پر چلیں ؟“۔ میری تو بانچھیں کھل اُٹھیں۔ میں بھی ایڈونچرس آدمی تھا فٹ سے بولا " او جی ! مسئلہ ہی کوئی نہیں، تم ہار سنگھار کرو میں ابھی چاند گاڑی لے کر آیا۔“ وہ خوش ہو کر بولی " ہاں جی میں تو لالی پاؤڈر لگاؤں گی، اور نو پالش ( نیل پالش)۔ لف ٹک ( لپ اسٹک) سارا کچھ “۔ وہ تیار ہونے کو اُٹھی اور میں گاڑی لانے کو۔ ( تانگہ چاند پر جاتا ہی نہیں تھا ورنہ جس تانگے پر آرائیں بھائی میرے بلاگ میں آتے ہیں وہ ہی لے آتا )۔

اس نے بہت رنگ برنگا پھولوں سے بھرا ہوا فراک نما کچھ پہنا ( بالکل جی اپنی ساحرہ آپا کی وارڈ روب سے نکال کر۔ ) میں جب چاند گاڑی لے کر واپس گھر کی جانب لوٹ رہا تھا تو وہ گھر کے دروازے کے باہر ہی کھڑی نظر آئی، دور سے تو یوں لگتا تھا کہ پورے کا پورا باغیچہ ہی گیٹ پر کھڑا ہوا ہو۔ ( دیکھو جی میں نے کب ڈائٹنگ کرنے والیوں کا نام لیا ؟ ایویں نہ الزام دو)۔

خیر جی ، جیسے تیسے کر کے ہم چاند گاڑی میں سمائے، اور اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ چندا بولی" اے جی ! ذرا دھیان سے گاڑی چلاؤ، کیا دھکے مار رہے ہو“ ، مجھے کمال کا غصہ آیا " او جی ! میں کوئی پیدا ہوتے سے چنگ چی تو نہیں چلا رہا جو ہاتھ صاف ہو، زندگی میں پہلی بار، فرسٹ ٹائم اس چاند پر جانے والی سوزوکی میں بیٹھا ہوں“ ۔ ہی ہی ہی ہی ۔۔ ( نہ جی یہ سوبی کی ہنسی نہیں تھی، میری چندا بھی ایسے ہی ہنستی تھی، کھسیانی ہنسی )۔

راستہ تھوڑا لمبا تھا ( بالکل ایسے ہی جیسے گولڈن پوائنٹس نہ ہونے پر ممبرزکا رائٹر سوسائٹی تک کا راستہ لمبا ہو گیا تھا۔ ) میں نے راستہ گزارنے کو گُنگنانا شروع کر دیا۔ " میں نے پوچھا، چاند سے کہ دیکھا ہے کہیں، میرے یار سا حسین، چاند نے کہا، چاندنی کی قسم، نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔۔ “ ( بقول یاز بھائی ۔۔۔ وہی تو )ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ( نہ جی کائنات آپا نہیں ہنسیں، یہ بھی میری چندا کا نیو اسٹائل تھا۔ جس سے میں خود ابھی ابھی واقف ہوا )۔

اللہ اللہ کر کے چاند آیا ۔۔۔۔ او ہو نہ جی مطلب، منزل آئی۔ ہم باہر نکلے اور گہرے گہرے سانس لیے ۔ لیکن سانس آیا ہی نہیں جی۔ پھر سوچا جب ہم زمین پر ہیں ہی نہیں تو زمین والوں کے جیسے کام کیوں کریں، چلو آج بنا سانس کے ہی جی کے دیکھتے ہیں۔ ( آہو جی بالکل ایسے جیسے بیت بازی میں شعر کے بعد شعر پوسٹ کرتے ہوئے اپنا ساحل سانس نہیں لیتا )۔

اب نیا مسئلہ یہ تھا کہ گاڑی کہاں پارک کی جاتی؟ وہاں تو کوئی پارکنگ ہی نہیں تھی۔ " اے جی ! ایسے ہی چھوڑ دو نا یہ کون سا پاکستان ہے جو یہاں چیز رکھی اور وہاں غائب “ میں نے کہا " ارے او میری بھولی ووٹی ! یہ خلا ہے سمجھتی ہو خلا کیا ہوتی ہے؟“ اس نے کہا "نہ جی ! میرے کو تو بس خالہ خیرن کا ہی پتا ہے اللہ معافی بڑی پھاپھے کٹنی ہے“ ( او ہو بھئی خالہ کہا ہے یعنی فی میل ہے کوئی اب میرا نام کیوں سب کے ذہنوں میں آ گیا ؟)۔

"اوئے میری جند ! یہ خلا ہوتی ہے، اسپیس، کوئی چار جماعتیں پڑھ کے آئی ہے کیا ؟“ وہ افسردہ منہ بنا کر بولی " نہ جی ! ابے نے پڑھایا ہی نہیں، کہتا کرنا تو وہی ہانڈی چولہا ہے“ ۔ حیرت سے میرا منہ کھلا " ہیں ؟ یعنی تو چٹی ان پڑھ ہے ؟ “ ۔۔۔۔۔ " ہاں جی “ اس نے منہ اور نیچے کر لیا، اب میرے لیے موقع نکلا کہ میں اپنی تلیم ( تعلیم) کا رعب جھاڑتا ( او ہو بھئی جیسے اپنی مش جھاڑتی ہے ) " ہاہاہاہا ۔۔۔۔ یعنی تو white ان پڑھ ہے “ میری بھی انگریزی تو جی پوری پوری تھی۔

"لے مسئلہ تیری میری تلیم ( تعلیم) کا نہیں ہے۔ اس وقت مسئلہ تو گاڑی پارک کرنے کا ہے “ ۔۔۔۔ " تو اب کیا ہو گا جی؟ کہاں کھلا رکھو گے؟“ میں نے کہا " میرے پاس ایک آئیڈیا ہے ، میں چاند میں ایک کیل ٹھونکتا ہوں پھر رسی کے ساتھ گاڑی کو باندھ دیں گے ورنہ کہیں دور ہی نکل جائے گی “ بس جی پھر کیا میں نے کیل ٹھونکی وہی وڈی سی جس سے اپنے گاؤں میں مجیں بندھی ہوتی ہیں۔ اور رسی لے کر باندھ دیا گاڑی کو ( آہو جی جیسے پاکستانی بیویاں کھونٹے سے بندھ جاتی ہیں شادی ہو کر)۔

میں اور چندا چاند پر گھوم گھوم کے جائزہ لینے لگے۔ مجھے ایک بات کی خوشی ہوئی کہ زمین پر چاہے وہ جتنی مرضی بھاری تھی یہاں وہ ایک دم ہوا میں ہلکی پھلکی سی ہو گئی تھی ۔میں نے اس سے کہا " چل یہاں مزا لے بن پروں کے اُڑنے کا ، لوگ کہتے ہیں ہم نے گڈی اُڑائی میں جا کر واپس کہوں گا میں نے بڈی اُڑائی ، ہاہاہاہاہاہا “ وہ بھی بڑی خوش تھی گُنگنانے لگی "میں اُڈی اُڈی جاواں ہوا دے نال“ ( بس ہوا کو خلا سے ریپلیس کر لیں، جیسے غلط شعر پوسٹ ہو جانے پر فوراً اسے صحیح شعر سے ریپلیس کر دیا جاتا ہے)۔

"ہائے اللہ ! وہ اپنی زمین ہے؟ ۔ اور وہ کون ہے جو ایک کونے میں معصوم سا بنا بیٹھا ہے؟“ میں نے غور سے دیکھا " وہ ۔۔۔۔ وہ اپنا پاکستان ہے بیچارہ چنا منا سا “ ( اب یہ کوئی نہ سمجھے کہ ساحرہ آپا جس جس کو منا کہتی ہیں وہ سارے پاکستان ہیں )۔

"اے جی ! وہ کون ہے جو اس قدر لڑ رہا ہے، مُکوں سے؟“ دوسری طرف کا منظر دیکھا "ارے وہ امریکہ ہے بھئی، اس کا کام ہی لڑنا ہے یہ ایک مکا مارا اس نے عراق کو، یہ دوسرا ایران کو اور تیسرا پاکستان کو ہی مارے گا “ ( بالکل جی جیسے اپنے فورم پر ایک تھریڈ اور پھر دوسرا تھریڈ احسان میاں بناتے ہیں گویا مُکوں کی بارش کر دیتے ہیں )۔

"اچھا اچھا کہو نہ جی، یہ درمیان میں کون ہے جو کبھی کچھ کہتا ہے کبھی چپ ہو جاتا ہے؟“ ۔۔۔۔۔ " کہاں، کہاں؟ ارے وہ ۔۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔ اقوام متحدہ ۔۔۔۔ اس کا کام ہی یہی ہے جہاں دو فریق یا ملک آپس میں لڑے یہ ان کے درمیان صلح کروا دیتا ہے۔ بس بولنا بولنا اور بس پھر چُپ کر جانا “۔ ( بالکل جی جیسے بلاگ والے تھریڈ کے بعد ساحرہ آپا نے رول ادا کیا، سیز فائر )

"دیکھو نہ جی، وہ والا ایک کتنا فتنا ہے نا ایک چٹکی ساتھ والے کو کاٹ دی اور پھر میسنا سا بن کے بیٹھ گیا ۔“ میں نے کہا" وہ بھارت ہے اپنے پاکستان کا ہمسایہ اسے پاکستان کو ہی چٹکیاں کاٹنے کی عادت ہے، اور چھوڑ نہ تو یہاں آ کر بھی زمین کی باتیں کرتی ہیں وہاں تو یہ سب دیکھنا ہی ہے یہاں تو چین لے اور کچھ اور باتیں کر“ ( جیسے اپنی مونا باجی کے بلاگ میں جا کر لوگ سوچتے ہیں کہ یہاں بھی کوئی لمبا لمبا سا افسانہ ہو گا، اجی چھوڑیئے نا کہیں تو اختصار بھی ہونا چاہیے نا )۔

وہ بولی " ہاں چھوڑ، یہ بتا، تجھے میں کیسی لگتی ہوں ؟ “ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا " تو بہت سوہنی ہے ری“ ( بالکل کیانی بھائی کی مزاحیہ شاعری کی جیسی )۔ "لیکن تو صحیح سے نظر کیوں نہیں آ رہی ؟“ ( بالکل جیسے کسٹمائز کرنے کے بعد میرا بلاگ خود مجھے ٹھیک سے نظر نہیں آ رہا تھا )۔

" یہ چاند کی لیٹ ( لائٹ) کم ہے نا اس واسطے“ میں نے کچھ سوچ کے کہا " ہاں اس پر بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہو گی، اس ٹائم تو سورج بھی ڈوبا ہوا ہے یعنی اس کی بھی بتی گئی ہوئی ہے ، ہائے رے دو جا پاکستان۔ “

" اے جی! وہ کیا جا رہا ہے آسمان میں؟“ میں نے دیکھا تو وہ ٹوٹتا تارا تھا " ارے وہ فلموں میں ٹوٹتا ہے نا، آج حقیقت میں دیکھ، یہ ٹوٹتا تارا ہے“ ۔ وہ خوش ہو کر بولی " وہ جو شروخ خان ( شاہ رخ خان) اور کجلی ( کاجل ) کی فلم میں ٹوٹا تھا ؟“ ۔۔۔۔ " ہاں ری بالکل وہی “۔ وہ بہت خوشی خوشی اس تارے کو دیکھنے لگی۔ پھر کچھ سوچ کے بولی " اے جی ! یہ ٹوٹا کیسے ؟“ میں نے تھوڑا سا سر کھجایا، اس کو جواب نہ دینے کا مطلب ہوا کہ مجھے خود بھی نہیں معلوم اور میرے رعب کا کیا ہوتا جو بس جمنے ہی والا تھا۔

میں نے کہا " دیکھ ری ، ہوا یوں کہ نیچے زمین پر نا ایک گھر میں لڑائی ہوئی بڑی جبردست (زبردست) قسم کی ( آہو جی جیسے اپنے فورم پر بھی اکثر و بیشتر ہوتی ہے۔ ) اس میں نا بیوی کو بڑا گجب (غضب) کا غصہ آیا اس نے پکڑا اپنے میاں کا 42 نمبر کا چھتّر( جوتا) اور دے مارا، وہ میاں تو عادی تھا، بیوی کے ایسے حملوں سے بچنے کا گُر جانتا تھا، اس لیے اس نے میسنا سا ہو کے گردن نیچے جھُکا لی۔ وہ چھتّر لگا آ کر تارے کو، اور ان کے گھر کی لڑائی میں یہ غریب ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا۔ “

"ہائے، اس کا کیا قصور تھا، ایسا تو نہیں ہونا چاہیے تھا نا “ اس نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا۔ دو آنسو بھی آنکھوں میں جھلملانے لگے۔ ( بالکل اپنی گُل دی کے جیسے) " اے ری پگلی، اس طرح تو پھر ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ، اور دیکھ نا اس سے ہمیں کتنے سبق بھی ملتے ہیں “ مجھے موقع ملا اپنی استادی جھاڑنے کا ، ( مش کی طرح )

"ہیں کیا سبق ملتے ہیں ، مجھے بھی تو بتا “۔ میں نے ذرا فخر سے بال وال درست کیے اور بولا " اے ری دیکھ، اس سے سبق ملتا ہے کہ اپنے گھر کی لڑائیاں چار دیواری میں کرو چھت پر چیخو گے تو ساری دنیا سُنے گی۔ ( جیسے اعلانات والے تھریڈ میں کوئی اعلان ہو تو سب سُن لیتے ہیں) اور یہ بھی کہ جب گھر کی بات باہر نکلتی ہے تو بہت دورررررررر تک جاتی ہے “

"ہاں جی کہتے تو ٹھیک ہو بھولو “ وہ میری عقل سے خاصی متاثر ہو گئی۔ میں بولا " ارے نیک بخت تو بیٹھ کر تارے دیکھ میں ذرا کمر سیدھی کر لوں“ وہ کہتی " ہیں ؟ کیا پہلے تیری کمر اُلٹی ہے ؟“( اب میں اس نا سمجھ کو کیا سمجھاتا۔ ہوتا ہے نا بہت سی باتیں ہم ویسی نہیں کہتے، جیسی اگلے سمجھ لیتے ہیں اب بندہ کسی کو کیا سمجھائے۔ ) میں چاند کی سطح پر لیٹا تو آواز آئی " اے جی سنتے ہو؟“ میں پھر سے اُٹھ کر بیٹھ گیا "کیا ہوا ؟“

" وہ نا ابھی ابھی یہاں سے بادل گزرا تھا مجھے آنکھ مار کے گیا ہے “ اس نے قدرے شرماتے ہوئے کہا " اری نیک بخت وہ دیکھ رہا ہو گا کہ زمین کے عجوبے اب آسمان پر بھی کیسے نظر آنے لگے ہیں “۔۔۔" نہ جی اس نے کرخت سی آواز میں مجھے چھیڑا بھی “ اب کے تو مجھے غصہ ہی آ گیا، میں کھڑا ہوا اور میں نے بادل کو للکارا۔ " ارے او بادل میاں، کیا بول کے گئے ہو ہماری ووٹی کو ؟“

بادل کو میرا اندازِ تخاطب پسند نہ آیا۔ وہ گرج کے بولا " اس سے پہلے کہ میں برس برس کے تمہاری ووٹی کا سارا میک اپ اتاروں اور تم اس کی اصلیت دیکھو بھاگ جاؤ اپنی زمین پر “ ۔ میں نے سوچا اگر واقعی یہ بارش برس گئی اور چندا کا اصلی روپ میری نظروں کے سامنے آ گیا تو یہ ہڈی تو گلے میں اٹک کے رہ جائے گی نہ اُگلے گزارا ہو گا، نہ نگلے بات بنے گی۔ ساری حیاتی گزارنی ہے دھوکے میں ہی رہوں تو اچھا ہے۔ ابھی تو اللہ بھلا کرے، حوریہ اور مینا بیوٹی ٹپس کا کچھ نہ کچھ تو بنی سنوری رہتی ہے اچھا خاصا گزارا تو ہو رہا ہے۔

بس جی پھر میں نے تھاما چندا کا ہاتھ اور اسے لیے واپس آ گیا ۔ ہماری شادی کے بعد کی یہ سیر بہت یادگار رہی۔ اور سب سے اچھا یہ ہوا کہ چندا میری تلیم ( تعلیم) سے بہت امپریس ہو گئی۔ ( شکر ہے اسے میرے فلسفے بورنگ نہیں لگے ورنہ سارا مزا کرکرا ہو جاتا )۔ ہم تو جی اب ہیپی میرڈ لائف گزار رہے ہیں آپ بھی ہیپی ہیپی رہا کریں۔