Page # 001

ہم تو مہمان ہیں گھڑی بھر کے

کہتے ہیں کہ شیر کے منہ کو خون لگ جائے تو پھر وہ ہر دم اسی تاک میں رہتا ہے کہ کوئی شکار ملے اور وہ اپنے لبوں کو رنگین کرے۔ ہمیں بھی ایک طرف شفیق انکل نے، پچھلے سفرنامے کے انعام میں چند ہرے ہرے نوٹ دے کر، نوٹ خور شیر بنا دیا تو دوسری طرف ون-اردو مینیجمنٹ نے ڈھیر سارے پوائنٹس دے کر 'پنک پری' کی طرح پوائنٹس جمع کرنے کی لت بھی لگادی۔ علاوہ ازیں چونکہ ان نوٹوں پر پاکستان کے چند تاریخی مقامات اور بابائے قوم کی تصویریں بھی بنی ہوئی ہیں اور جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ مشہور لوگوں اور تاریخی مقامات کی تصاویر جمع کرنا بھی ہمارا ایک شوق ہے، لہٰذا ہم اسی تاک میں تھے کہ کب موقع ملے اور کب ہم کوئی دوسرا سفرنامہ لکھ کر اپنے شوق کی تسکین اور لذتِ کام و دہن کرسکیں۔

(افغانستان کے نقشے کی تصویر)

افغانستان کے سفر اور ون۔اردو کے موجودہ شمارے نے ہمیں یہ نادر موقع فراہم کردیا۔ چنانچہ جب ہم نے گھر میں شرماتے لجاتے اعلان کیا کہ اس دفعہ ہم اپنے سفرِ افغانستان کی روداد لکھنے کے لیے پر تول رہے ہیں اور ساتھ ہی شاباش وصول کرنے کے لئے محفل پر نظر دوڑائی تو خلافِ توقع کافی حوصلہ شکن منظر دیکھنے کو ملا۔
کام چور چھوٹے بھائی نے یہ کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا کہ اف! پھر مجبوراً زور زبردستی کے پانچ چھ صفحات پڑھنے پڑیں گے۔ بھانجے اور بھانجیاں ڈر کر ماں کے پیچھے چھپ گئے یہ کہتے ہوئے کہ امی! کیا ماموں پھر اپنی ڈراؤنی تصاویر میگزین میں دکھا دکھا کر ڈرائیں گے۔ ادھر سے شفیق انکل نے بھی اطلاع بھجوائی کہ بیٹا! کیا کرتے ہو؟ آرام سے بیٹھو، ہم پچھلی غلطیوں کو دہرانے کے عادی نہیں۔ گھریلو خرچہ ہی اتنا بڑھ گیا ہے اور اس پہ تم سفرنامے کے انعامات کا بوجھ بھی ڈالنا چاہتے ہو۔ کوئی انعام نہیں ملے گا اس دفعہ۔ یہ حوصلہ شکن حالات دیکھ کر ہماری کمر ٹوٹ گئی اور رہنمائی کے لئے ون-اردو پر آئے۔ چند احباب مثلاً یاز لالا، ندیم اختر، دِیا اور مہر صاحبہ سے مشورہ مانگا۔ انہوں نے کہا کہ بھئی تمہارے پچھلے سفرنامے کے بارے میں تو ہماری رائے کافی اچھی ہے کیونکہ ابھی تک پڑھا نہیں ہم نے۔ اس لئے لکھ لو یہ سفرنامہ بھی۔ یہ مایوس کن صورتحال دیکھ کر ہم نے اپنے دل کی طرف نگاہ کی۔ دل سے پھر ہوئی میری بات کہ اے دل، اے دل! آپ کیا کہتے ہو بیچ اس مسئلے کے۔ انہوں نے فرمایا کہ صاحب حوصلہ کرو، ہر دور میں عظیم مصنفین کو ایسے حوصلہ شکن اور صبر آزما صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ظالم سماج کی رکاوٹوں کو عبور کرکے ہی سب نے نام کمایا ہے۔ آپ بھی کمر باندھو۔ قلم اٹھاؤ اور الفاظ کے ڈھیر لگادو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ چنانچہ ہم نے بسم اللہ کی۔

تو قارئین! یہ قصّہ ہے آج سے تقریباً چار سال قبل کا جب ہم میڈیکل کے سالِ چہارم کے طالب علم تھے۔ چند وجوہات کی بناء پر افغانستان جانے کا پروگرام بن تو گیا پر وہاں کے حالاتِ سابقہ اور حالاتِ حاضرہ سن سن کر ہمیں ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔ چونکہ ہمیں اپنی بخیریت واپسی مشکوک نظر آرہی تھی لہٰذا بھائی بندوں اور دوستوں سے فرداً فرداً ملے اور اپنے گناہ بخشوائے۔ اپنے قریبی دوست کاشف عرف بروٹس سے الوداعی ملاقات کرتے ہوئے ہم نے دوسروں کی نظر بچا کر اسے چند تصویرِ بتاں اور چند حسینوں کے خطوط دئے اور کہا۔ "اے رفیق دیرینہ! ہم واپس نہ آئے یا ہمارے گوانتا نامو بے پارسل ہونے کی خبر ملے تو ان بیبیوں کو اطلاع کردینا۔ ہر ایک کو الگ الگ، فرداً فرداً لکھ دینا کہ وہ جو تیرے تیرِ نظر کا شکار تھا، وہ آج کشتگانِِ عشق میں شامل ہوگیا ہے۔ اور خبردار احتیاط کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ الف کا لفافہ "ب" کو ملے اور "ب" کا " ج" کو۔ ورنہ غضب ہوجائے گا۔ اور شاید بعد از مرگ بھی میری قبر پر سینڈلوں کے نشان ثبت ہوجائیں گے۔ "یہ سن کر اور دستاویزات وصول کرکے بروٹس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ ہم سمجھ گئے کہ ہم سے بچھڑنے کا غم ہے اسے۔ چنانچہ اسے تسلی اور تشفی دی۔ کہنے لگا۔ "غم کے نہیں، خوشی کے آنسو ہیں، ان شاءاللہ ہم ان بیبیوں کو تمہاری کمی محسوس نہ ہونے دیں گے۔ ان کے ای۔ میلز بھی ذرا دینا۔" ہم نے یہ کہتے ہوئے اپنا سر پیٹ لیا

؎بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

قارئینِ کرام! تمہید کافی لمبی ہوگئی ہے، معاف کیجئے گا۔ قصہ مختصر فیض صاحب کی نظم
مرے دل، مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہو ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں

گنگناتے ہوئے، سامان سے لدے پھندے، کیل کانٹوں سے لیس ہم پشاور سے تقریباً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پاک- افغان سرحد طورخم پہنچے۔ سرحد پار کرتے ہی ہماری صورت دیکھ کر ایک جم غفیر استقبال کے لئے جمع ہوگیا۔ ہم سمجھ گئے کہ لو بھئی! افغان بھی اب کافی سمجھ دار ہوگئے ہیں۔ ہماری فراخ پیشانی اور اقبال مندی کی دیگر نشانیوں سے انھوں نے ہماری قائدانہ صلاحیتوں کا غالباً اندازہ لگالیا ہے اور اس قحط الرجال والی حالت میں شاید ہمیں اپنا متفقہ لیڈر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ مجمع میں ہاؤ ہو ہورہی تھی۔ کئی افراد تو ہمیں ہاتھوں سے پکڑ کے آگے لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ ہم کھنکھار کر، گلا صاف کر کے تقریر کرنے کے لئے پر تول ہی رہے تھے، کہ ایک ساتھی نے سرگوشی کی کہ یہ کوئی انتخابی جلسہ نہیں، سب ٹیکسی ڈرائیور ہیں، اور ہمیں شکار سمجھ کر چھینا جپھٹی کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے لیڈرانہ جذبات کو تھپک تھپک کر سلادیا اور قبل اس کے کہ ہمارے لباس اور سامان کو دولخت کیا جاتا ، ہم نے خود ہی ایک ڈرائیور کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ ہولیے۔ چونکہ ہم نے ان ڈرائیوروں کی تیزرفتاری اور طورخم- کابل روڈ پر ہونے والے آئے دن کے حادثات کے بارے میں کافی کچھ سنا تھا۔ لہٰذا ایک مرنجا مرنج اور دھان پان سے نظر آنے والے ڈرائیور کے ساتھ ہی ہولئے تھے، یہ سوچ کر کہ یہ تو اپنا پورا وزن بھی ایکسیلیٹر پر ڈالے گا تو چالیس کلومیٹرفی گھنٹہ سے آگے سوئی شاید ہی جاسکے۔ سامان ڈکی میں رکھ کر گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور کی سیٹ پر کوئی اور شخصیت نظر آئی، جو شکل سے ہی سلطانہ ڈاکو کا برادرِ خورد نظر آرہا تھا۔
ہم نے جی کڑا کرکے، ذرا ہکلاتے ہوئے پوچھا، " جناب، آپ کون؟ آپ کی تعریف؟" کہنے لگا۔ "جی، سب کرتے ہیں۔۔ جلد ہی آپ بھی کرنے لگیں گے۔" پھر نسوار سے پیلے پڑتے دانتوں کی بتیسی نکالتے ہوئے کہا، " ڈرائیور ہوں میں اس ٹیکسی کا۔ " مار استاد" (مار: اژدھا، سانپ) کے نام سے پکارا جاتا ہوں۔ دوسرا شخص تو قلی تھا۔" چونکہ اس گفتگو کے دوران وہ گاڑی اڈے سے نکال کر سڑک پر لاچکا تھا، اس لئے طوعاً و کرہاً ہم چپ رہے، کچھ نہ کہا۔ کچھ ہی دیر بعد ہمیں عجیب سا محسوس ہونے لگا۔ سڑک پر موجود ساری گاڑیاں ریورس میں آتی ہوئی لگنے لگیں۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے دیکھا تو پہاڑ بھی ہماری طرف بھاگم بھاگ آتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ذرا عقل استعمال کی، تو یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ قصور ان کا نہیں، ہماری گاڑی ہی ساؤنڈ بیرئیر کو توڑ کر کسی بد مست ہاتھی کی طرح بھاگ رہی ہے۔ سپیڈو میٹر پر نظر پڑتے ہی ہمارا دل بیٹھ گیا اور گھگھی بندھ گئی۔ ہم نے بہتیرا ڈرائیور سے کہا کہ" اے بھائی، اے سلطانہ ڈاکو صاحب! مار استاد صاحب! کیا کرتے ہو، ذرا آہستہ، ہم دل کے مریض ہیں، بلکہ سرے سے دل ہی نہیں ہے اپنے پاس۔ کافی سارے لوگوں میں تقسیم کر چکے ہیں۔ آہستہ چلو، ابھی تو ہماری شادی بھی نہیں ہوئی۔ کیوں خونِ ناحق کرتے ہو۔" مگر وہ "اک تبسم، سب کے جواب میں۔" کی عملی تفسیر بنا رہا۔ اور پشتو گانوں کے "وائی قربان" پر سر دھنتا ہوا سپیڈ بڑھا تا رہا۔ اسد کی طرح ہمارے ہاتھ بھی پھول گئے مگر خوشی کے مارے نہیں، ڈر کے مارے

؎اسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
کہا جو اس نے مرے پاؤں ذرا داب تو دے