Page # 002

یہ ہمارا ہی دل گردہ تھا کہ اس پانچ گھنٹے کے سفر میں، کابل پنچنے تک ہمارے حواس تھوڑے بہت باقی تھے۔ مکمل طور پر باختہ نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنے سفر کے کپڑوں میں ہر گز نماز ادا کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ ایک تو سڑک کی سخت ناگفتہ بہ حالت، دوسری ڈرائیور کی وہ تیز رفتاری، کہ الامان الحفیظ۔۔۔۔۔۔ بعد میں مار استاد کے بارے میں پتہ چلا کہ یہ شخص غضب کا تیزرفتار ہے۔ چار گاڑیاں تباہ کر چکا ہے لیکن خود ابھی تک بچا ہوا ہے اور اس کے مقابلے کا کوئی دوسرا شخص طورخم اڈے میں نہیں۔

جلال آباد اور لغمان کے صوبے کابل کے راستے میں پڑتے ہیں۔ صوبوں سے کہیں آپ کے ذہن میں پاکستان کے صوبوں کا رقبہ نہ آجائے۔ چھوٹے چھوٹے تقریباً 34 صوبے ہیں افغانستان کے۔ اب خود ہی اندازہ کیجئے۔ جلال آباد کو تو بس پشاور ہی سمجھ لیجئیے، وہی بولی، وہی لباس، وہی طور طریقے۔ اگرچہ جلال آباد بھی کافی اچھی جگہ ہے لیکن مشہور پشتو گانے کے مطابق " خو پیخور، خو پیخور دے کنہ۔" یعنی پشاور تو پشاور ہے۔ ۔۔۔۔۔ جلال آباد اور کابل کے درمیان ایک گھاٹی ہے، "ریشمی تنگئی" کے نام سے۔ بہت لمبی اور سخت گرم، سورج بھی سوا نیزے پر رہتا ہے۔ پاکستان میں ملتان، جبکہ افغانستان میں اس تنگئی کی گرمی ضرب المثل ہے۔ کہتے ہیں دوزخ میں لوگ سخت گرم آگ میں جل بھن رہے تھے۔ ایک طرف ایک شخص چادر کی بکل مارے، کمبل لپیٹے، اکڑوں بیٹھا تھا۔ سردی کے مارے دانت بج رہے تھے۔ باقی لوگوں نے پوچھا کہ میاں، ہم تو کباب ہورہے ہیں اور آپ سردی محسوس کر رہے ہیں، ماجرا کیا ہے؟ یہ صاحب کہنے لگے " جی میں ملتان سے آیا ہوں۔" سو کچھ ایسا ہی حال اس تنگئی کا بھی ہے۔ سخت گرمی اور دھول میں کابل کا سفر کرتے رہے۔ ایک شاعر کے آزمودہ نسخے

؎ یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں

پر عمل کرنے کا سوچا کہ خیالِ یار کی چادر باندھ لیتے ہیں، سفر کٹ جائے گا۔ لیکن تصوّر میں ہی سر پر چادر کی جگہ اچھی خاصی بڑی پگڑی بندھی نظر آئی۔ کیونکہ شاعر بے چارہ تو ایک ہی محبوب کی یاد سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔ جبکہ ہم تو ایک نہیں کئی ماہ رخوں کے ستم رسیدہ تھے۔ سب کی خیالی چادریں مل کر دھوبی کا گٹھا بن جاتیں اس لئے اس نسخے سے صرفِ نظر کیا اور دھوپ سینکتے سفر کرتے رہے۔
تقریباً پانچ گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد سہ پہر کو ہم کابل پہنچے۔
عروس البلاد کابل، زبانِ حال سے ازمنۂِ قدیم کے قصے سنا رہا تھا۔ کابل عرصہ دراز سے داخلی اور خارجی حکمرانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ایک وجہ تو خود کابل کا محل وقوع، اس کی آب و ہوا اور دیگر عوامل۔ دوسری وجہ اس کا بر صغیر پر حملہ آور ہونے کیلئے بہترین بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہے۔ یہ سٹریٹیجک اہمیت اسے درۂِ خیبر کے قریب واقع ہونے پر ملی۔ کابل کو بنیادی اہمیت 1504 ء سے حاصل ہوئی جب خاندانِ مغلیہ کے بانی ظہیرالدین بابر نے اسے اپنا دارالخلافہ قرار دیا۔ اگرچہ یہ حیثیت 1520ء میں دہلی منتقل ہوئی تاہم شہرِ کابل مغلیہ حکومت کا اہم مرکز رہا۔۔ 1747ء میں افغانستان کے پہلے امیر احمد شاہ ابدالی نے اسے اور جنوبی صوبے قندھار کو بیک وقت افغانستان کے دارالخلافے بنا دئیے۔ ان کی وفات کے بعد قندھار کی بطور دارالحکومت حیثیت ختم اور کابل کو تن تنہا مرکزی اہمیت حاصل ہوگئی۔ اسی کابل سے گزر کر سلطان شہاب الدین غوری، سلطان محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ بقول شخصےان حملہ آوروں کے ایک لحاظ سے پاک و ہند کے باشندے اس لیے بھی مشکور ہیں کہ اگر غوری صاحب نہ ہوتے تو پاکستان اپنے میزائل کا کیا نام رکھتا۔ غزنوی صاحب نہ ہوتے تو علامہ صاحب کو محمود و ایاز قسم کی مثالیں پیش کرنے میں دِقت پیش آتی۔ احمد شاہ ابدالی نہ ہوتے تو پانی پت کی مشہورلڑائیاں نہ ہوتیں اور مطالعہ پاکستان کا درسی مضمون تشنہ رہ جاتا۔ نادر شاہ نہ ہوتا تو ہمارے ذخیرہ الفاظ میں نادرشاہی حکم، قہرِ نادری، نادری حکومت اور نادر موقع جیسے نادر و نایاب الفاظ کا ذخیرہ نہ ہوتا۔

بہر حال اس عزیز از جان شہر کے آغاز ہی میں امریکی فوج کا بیس کیمپ دیکھ کر یوں لگا جیسے دل کو کسی نے مُٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ بکتر بند گاڑیاں دندناتی ہوئی کیمپ میں آ جارہی تھیں۔ یہ گاڑیاں سڑک پر خواہ کتنی ہی سست رفتاری سے کیوں نہ جارہی ہوں مجال ہے جو کوئی مقامی گاڑی ان سے آگے نکلنے کی جرأت کرے۔ جب بھی یہ گشت کے لئے نکلتی ہیں تو ان کے پیچھے فاصلہ دے کر، سینکڑوں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ بے بسی، بے چارگی اور " بے" کے سابقے والے سارے الفاظ ملا کر جو مرکب کیفیت بنتی ہے، وہی ہم پر طاری تھی۔ صد حیف، صد حیف۔۔
ہمارے میزبانوں نے روایتی قہوے سے ہماری تواضع کی جو کہ سفر کی تھکن دور کرنے کا ذریعہ بنی۔ یہ اچھا ہوا کہ ان کی رہائش کابل کے وسط ہی میں تھی، جس سے ہمیں اپنے کام نپٹانے میں آسانی ہوئی۔ کابل میں رہائشی عمارات اور مکانوں کا کال پڑا ہوا تھا۔ کرایے اتنے بلند کہ یقین کیجئے لندن اور واشنگٹن میں بھی شاید نہ ہوں۔ ایک عام چار کمروں والے مکان کا کرایہ اوسطاً پانچ سے دس ہزار ڈالر ماہانہ تھا اور ہے۔ اسی وجہ سے کابل کے اکثر رہائشی مضافات کی طرف نکل گئے ہیں اور اپنے مکانات این جی اوز اور غیرملکی سفارت کاروں کو کرایے پر اٹھا دئیے ہیں۔ اس ہوشربا مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ شہرِ کابل پر طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں، عالمی اداروں، این جی اوز اور دیگر تجارتی کمپنیوں نے یلغار کی ہے۔ سب ڈالر چھنکاتے ہوئے کابل کے چھوٹے سے شہر میں گھس آئے ہیں۔ نتیجتاً اشیائے ضروری و غیر ضروری کی قیمتیں ایک دم ساتویں آسمان سے گپ شپ لگانے لگی ہیں۔ دونوں کی گفتگو اتنی طویل ہوگئی ہے کہ مشکل ہی سے ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ اس پر مستزاد افغان کرنسی کی تبدیلی۔ طالبان حکومت کے خاتمے تک افغان کرنسی اتنی گر چکی تھی کہ ایک پاکستانی روپیہ برابر تھا ایک ہزار افغانی کے۔ روٹی خریدنے کے لئے نانبائی کی دکان پر نوٹوں سے بھری بوری لے جانی پڑتی تھی۔