Page # 003

نئی حکومت نے جو "نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹادو" کی پالیسی اپناتے ہوئے افغانیوں کی تاریخی حمیّت، غیرت، بہادری، آزادی عزتِ نفس، اسلامی شعائر وغیرہ کے ساتھ ساتھ پرانی کرنسی پر بھی خطِ تنسیخ کھینچ کر نئی کرنسی رائج کردی، جس میں ایک افغانی پرانی کرنسی کے ہزار کے نوٹ کے برابر ہے۔ ملک میں اس سے جو ابتری پھیلی ہوگی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس وقت بھی تمام کا تمام کاروبار اور لین دین امریکی ڈالروں میں ہوتا ہے۔ غیر سرکاری جتنے بھی ادارے، این جی اوز وغیرہ ہیں سب اپنے کارکنوں کو تنخواہ ڈالر میں دیتے ہیں جبکہ سرکاری اہلکاروں کو جو لگی بندھی تنخواہ افغان کرنسی میں ملتی ہے اس میں دو دن کا خرچہ بھی نکالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہم نے پوچھا پھر یہ سرکاری ملازمین اس مہنگائی میں کیا کرتے ہیں؟ جواب ملا، خونِ جگر پیتے ہیں، لیکن اپنا نہیں عوام کا۔ جو بھی جائز یا ناجائز کام ہو اس کے لئے عوام کو پہلے سرکاری افسروں کے بچوں سے محبت و شفقت کا عملی اظہار کرنا پڑتا ہے۔

کابل جو کہ عرصے سے افغانستان کا نہایت الٹرا ماڈرن شہر رہا ہے، باقی ماندہ افغانستان کو ریپریزنٹ نہیں کرتا۔ کابل کے باسی زیادہ تر فارسی زبان اورنہایت نرم مزاج، تعلیم یافتہ، ماڈرن اور شائستہ ہیں۔ جبکہ افغانستان کے باقی تمام علاقے سخت پسماندہ، قبائلی اور اسلامی روایات کے پابند، کھیتی باڑی اور گلہ بانی کرتی عوام اور ان پر راج کرتے قبائلی سرداروں پر مشتمل ہے۔ کابل شہر کے باشندے اپنی تقلید پسندی میں کافی مشہور ہیں۔ کہتے ہیں کہ چند دہائی پہلے کابل کو ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ یورپی ممالک میں جیسے ہی کسی نئے فیشن کی لہر آتی، اس کے اگلے ہی دن اہلِ کابل اسے اپنا لیتے تھے۔ کچھ سال پہلے بھی جب ہم کابل آئے تھے تو ان دنوں فلم ٹائی ٹینک کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا۔ کابل میں ٹائی ٹینک ببل گم، ٹائی ٹینک ٹافی، بازارِ ٹائی ٹینک، اور ٹائی ٹینک ریستوران جیسے نام عام ہوگئے تھے۔ یہاں تک سنا ہے کہ جمعہ کے دن خطبے میں ایک امام صاحب نے بھی ٹائی ٹینک کی منظر کشی کی اور فرمایا کہ لوگو! برے اعمال سے باز آجاؤ ورنہ ٹائی ٹینک کی طرح غرق ہوجاؤ گے۔ ہم اگر ان کے سامعین میں شامل ہوتے تو ضرور بعد ازوعظ ان کے گوش گزار کرتے کہ حضرت آپ تو چپھے رستم نکلے۔ آپ تو اپنے ہی بھائی بند ہیں۔ چلیں اس دفعہ جو نئی بلاک بسٹر فلم آئی ہے، وہ عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں عبرت حاصل ہوگی اور آپ کو اگلے جمعہ کے خطبے کیلئے مواد مل جائے گا۔

خیر جی، اس دفعہ ہم کابل آئے تو ہمسایہ ملک کی فلم " تیرے نام" کا دھوم دھڑکا تھا۔ ہر دوسرے نوجوان نے اپنے بال تیرے نام کے ہیرو کے سٹائل میں بڑھا رکھے تھے۔ یہاں تک سنا ہے کہ ایک نوجوان نے ہیئر ڈریسر سے تیرے نام طرز پر بال بنوانے کی فرمائش کی، بال بن گئے تو نہایت شوق سے آئینے میں دیکھا، آدھے سر پر ہریالی اور لہلہاتے کھیت تھے جبکہ آدھا سر سیم و تھور زدہ بنجر زمین کی مثل تھا۔ اپنی ہئیت کزائی دیکھ کر روہانسا ہوا اور پوچھا، " حجام خان! یہ کیا کیا؟" حجام صاحب بھی غالباً ستم ظریف تھے، کہنے لگے،" یہ آدھا انٹرول سے پہلے کا سٹائل ہے، اور آدھا انٹرول کے بعد کا، جس میں ہیرو گنجا ہوتا ہے۔
کابل اب پرانا کابل نہیں رہا تھا۔ کہیں سٹی سنٹر بن رہا تھا۔ تو کہیں امریکن یونیورسٹی۔ اٹالین، چائینیز، پاکستانی، انڈین، فرنچ ہر قسم کے ریستوران بن گئے اور بن رہے تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے پوچھا کہ کہاں کھانا پسند کروگے؟ ہم نے کہا " پاکستانی کھانے تو ہم کھاتے رہتے ہیں، چائینیز سے صرفِ نظر۔۔ فرنچ اورا ٹالین کھانے شاید ہماری جیب اور پیٹ دونوں پر بھاری پڑیں، لہٰذا ہمیں انڈین ریستوران لے جاؤ۔" اپنے انتخاب کو ہم نے اس وقت داد اور دوربین نگاہوں کو شاباش دی، جب سولہ سنگھار سے لیس، ساڑھی میں ملبوس ایک خاتون نے ہمیں خوش آمدید کہا، اور بطور میزبان میز تک ہماری رہنمائی کی۔ ہمیں بھی یک لخت ہندوستان کے ساتھ اپنے سفارتی، تجارتی، ثقافتی اور علاقائی تعلقات یاد آگئے۔ اسلامیات کے درسی مضمون کا پڑھا ہوا ایک باب" ہمسایوں کے ایک دوسرے پر حقوق" یک دم ذہن میں روشن ہوگیا۔ ہم نے اشارتاً و کنایتاً ان خاتون سے کہہ بھی دیا کہ بی بی! آؤ دونوں ملکوں کے تجدیدِ تعلقات میں اپنا کردار ادا کریں۔ ویسے بھی اتنی ساری قدریں مشترک ہیں ہم میں، دونوں ہی آریائی قوم سے ہیں، بت پرست آپ بھی ہو اور شاعری کی حد تک ہم بھی کبھی کبھی کرلیتے ہیں بشرطیکہ آپ بت سے مراد مٹی اور پتھر کی مورتی کی بجائے بتِ طناز، بتِ کافر وغیرہ لیں۔ ہم شاید اور بھی کچھ کہتے اور اپنے خیالات کا بہتر طریقے سے اظہار کرلیتے کہ اتنے میں میز پر کھانا لگ گیا۔ چونکہ ہماری بھوک چمک رہی تھی اس لئے
؎ دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا---تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے

کے مصداق دلفریب کھانے نے ان کی یاد سے بیگانہ کردیا۔ افغانستان میں بارود کو سستا پاکر غالباً باورچی نے کھانے میں مصالحے کی جگہ بارود کی بوری ڈال دی تھی۔ سخت دھواں دھار قسم کی مرچوں کی دھونی۔ شیفتہ صاحب کا جو حال عشق و محبت نے کیا تھا، وہی حال ہمارا مرچوں نے کیا۔

؎ شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
ہر لقمے کو ایک گلاس پانی کی مدد سے حلق کے نیچے دھکیلتے- یہاں تک کہ دس لقمے لینے کے بعد ہمارا پیٹ مٹکے کی طرح ہوگیا۔ کراچی کے بوٹ بیسن کے کھانوں کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہاں بھی ہمارا ایسا ہی حال ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر بطور سویٹ ڈش ہم نے ان مہارانی سے کچھ دیر کلام کیا اور پھر باہر کی راہ لی۔

کابل میں اپنے کام نبٹا کر ہم قابلِ دید مقامات دیکھنے نکلے تو پتہ چلا کہ فی الحال تو سارے مقامات نا قابلِ دید ہیں، بلکہ قابلِ عبرت ہیں۔ بیس سالہ خانہ جنگی نے ہر قابلِ ذکر مقام کو کھنڈر بنادیا ہے۔ پورے کابل شہر میں ہمیں ایسی کوئی عمارت نظر نہ آئی جس میں گولیوں کے سوراخ نہ ہو۔ اس خانہ جنگی کے پسِ منظر میں افغانستان کی مختصر تاریخ بیان کرتا چلوں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ موجودہ افغانستان کی بنیاد احمد شاہ ابدالی نے 1749ء میں رکھی۔ ۔ ابدالی کے بعد اس کے بیٹے تخت پر بیٹھتے رہے۔ 1838 میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا۔ 16000 افراد پر مشتمل برٹش آرمی مارچ کرتی ہوئی کابل پہنچی تو افغان قبائل نے ان پر دھاوا بول دیا۔ اور پوری فوج کا قتلِ عام کرکے صرف ایک زخمی ڈاکٹر ویلیم برائڈن شکست کی خبر پہنچانے کیلئے واپس انڈیا جانےدیا۔