Page # 004

ڈاکٹر ویلیم بائڈن زخمی اور شکست خوردہ واپس جاتے ہوئے

تقریباً ایک صدی بعد تاریخ نے اپنے آپ کو پھر دہرایا لیکن اس دفعہ کردار بدلا ہواتھا۔ یعنی 1979ء میں سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا اور افغان قبائل نے پھر، 15 لاکھ شہیدوں کی قربانی دے کر، سویت یونین کو عبرت ناک شکست کھانے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر مجبور کردیا۔ روسی انخلاء کے بعد کئی سال تک افغانستان خانہ جنگی کا شکار رہا۔ اس خانہ جنگی اور امن و امان کے خلاف دینی مدارس کے طلباء، طالبان تحریک کی شکل میں، نکلے ۔تقریباً چھ سال تک طالبان پورے افغانستان پر قابض رہے، انہوں نے امارت اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور اسلامی شرعی نظام قائم کیا۔
2002ء میں 9/11 کے بہانے امریکہ بہادر نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا۔ اور یوں افغانستان میں ایک دفعہ پھر طاغوتی طاقتوں کے خلاف جہاد کا سلسلہ چل پڑا اور ان شاءاللہ، اللہ جی کی مدد اور نصرت شامل حال رہی تو امید ہے کہ سویت یونین کی طرح امریکہ بھی اپنے زخم چاٹتا ہوا اس سرزمین سے نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔

؎افغان باقی، کہسار باقی
الحکم للہ، الملک للہ
یہ تھی افغانستان کی مختصر تاریخ۔ تو جناب ہم کہہ رہے تھے کہ قابلِ دید مقامات دیکھنے کیلئے نکلے تو مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر ہر عمارت کھنڈر بنی نظر آرہی تھی۔ کابل کے مشہور پارک " زرنگار" گئے تو وہاں الو بول رہے تھے۔ زرنگار پارک سے " شہدائے صالحین" نامی قبرستان گئے جو صوبہ لوگر اور کابل کے درمیان واقع ہے۔ یہاں پر چند صحابہ کرام کی قبور مبارک ہیں، جن میں سے حضرت تمیم انصار کا نام اس وقت ذہن میں ہے۔ افغانستان کے پشتون قبائل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جب صحابہ کرام اسلام کی دعوت لے کر آئے تو یہاں کے قبائلی سرداروں نے " لویہ جرگہ" بلایا، مشورہ کیا اور سب نے باہم اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور یوں تمام پشتون قوم ایک ساتھ ہی مشرف بہ اسلام ہوئی۔ برسبیلِ تذکرہ سابق صدر کے کرتوت دیکھ کر تو دل چاہ رہا ہے کہ لغت میں " مشرف بہ اسلام" کی درمیانی " بہ" کو " بے" سے تبدیل کیا جائے۔
اگلے دن ہم صوبہ لوگر روانہ ہوئے جو کہ کابل سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ وہاں اپنے آبائی گاؤں گئے۔ دادا جان کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔ ان کی قبر مبارک کے کتبے پر کندہ شعر

؎ درماتمِ تُو ہر پیر و جوان چشم تری داشت
اولاد کند فخر کہ چون تُو پدری داشت
(ترجمہ: تیرے ماتم میں ہر بوڑھے اور جوان کی آنکھیں نم ہیں۔۔۔۔۔ تجھ جیسے باپ کی اولاد کہلانے پر تیری نسل فخر کرتی ہے)

پڑھ کر ہمیشہ کی طرح ہمیں ان پر فخر اور اپنی ناخلفی پر شرمندگی ہوئی۔ ننگِ اسلاف کے معنی ہمیں اپنے آپ کو دیکھ کر صحیح معنوں میں سمجھ آئے۔ ان کے مزار، مزار کے احاطے میں تعمیر ہونے والی مسجد اور دارالحفاظ کا جائزہ لیا اور واپس کابل کی طرف گامزن ہوئے۔

(تصویر نمبر 3)
دادا جان مرحوم کا زیر تعمیر مزار

کابل میں چند دن گزار کر ہم نے شہرِ بہزاد ہرات جانے کی ٹھانی۔ لوگوں نے ہرچند ڈرایا دھمکایا کہ کیا کرتے ہو، ہرات جانے کیلئے آریانہ ائیرلائن سے سفر کرنا پڑے گا جس میں لوگ کفن بردوش جاتے ہیں بلکہ اس میں سفر کرنے سے پہلے باقاعدہ وصیت نامہ تحریر کرتے ہیں۔ ہم نے حسبِ سابق حضرتِ دل سے مشورہ مانگا کہ کیا کریں، اپنی رائے دیجئے اور صاحب نے کہا، جاؤ بابا ضرور جاؤ۔ ہرات نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔ پھر ہرات نہیں جاؤ گے تو سفرنامہ کیسے لکھو گے۔ ابھی تو بس دو تین صفحوں کے برابر ہی مواد اکٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنی زنبیل اٹھائی، ٹکٹ کٹائی اور ایران کی سرحد کے قریب واقع صوبے ہرات روانہ ہوئے لوگ ویسے ہی ڈرا رہے تھے۔ نہایت آرام سے سفر کٹا۔ کیا ہوا، گر ہمارے ہوائی میزبان خواتین کی بجائے حضرات تھے، اور کیا ہوا جو ہمیں کھانے کے بجائے صرف جوس اور بسکٹ پر ٹرخایا گیا۔ بس جہاز ڈگمگایا نہیں، ہمارے لیے یہی بہت تھا۔ اس پہ مستزاد یہ کہ دورانِ سفر ہمارے ارد گرد بیٹھے چند غیر ملکی ڈاکٹروں کی ٹیم سے بھی سلام دعا ہوئی۔ انہی میں ایک چندِ آفتاب چندِ ماہتاب قسم کی قاتل نرس بھی تھی۔ جو کہ ہمیں یقین ہے کہ اپنی مسکراہٹ سے کچھ افراد کو اگر صحتیاب کرتی ہوں گی تو ساتھ میں بہتوں کو عارضۂ قلب میں بھی مبتلا کرتی ہوں گی۔

ہرات ائیر پورٹ پر جہاز اترا تو ہم نے سکھ کا سانس لیا۔ ائیرپورٹ کا لفظ استعمال کرنے پر ہم دبئی، لاہور، کراچی یہاں تک کہ اسلام آباد اور پشاور کے ائیرپورٹس سے بھی سخت شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔ ایک چٹیل میدان ، اور ایک طرف بنے دو کمروں پر مشتمل بوسیدہ عمارت کو ائیرپورٹ کا نام دیا گیا تھا۔ فارسی اور پشتو میں ائیرپورٹ کو " میدانِ ہوائی" کہتے ہیں۔ یہ ائیرپورٹ سچ مچ کا میدانِ ہوائی تھا یعنی صرف ہوا تھی اور میدان تھا۔ نہ کوئی کاؤنٹر، نہ کنوئیر بیلٹ، نہ سامان لے جانے والی گاڑی، نہ ہی کچھ اور۔ لیکن قارئین ائیر پورٹ کوآپ ہرات کا نظر بٹو سمجھ لیں کیونکہ ائیرپورٹ کے بالکل برعکس باقی شہر نہایت صاف ستھرا، جدید خطوط پہ آراستہ، کشادہ اورسر سبز ہے۔ سڑکیں ہموار اور دو رویّہ ہیں، حسین عمارات، پلازے، تاریخی مساجد اور محلات، جدید مارکیٹیں۔ یقین ہی نہ ہوتا تھا کہ یہ شہر جنگ زدہ افغانستان کا ایک حصہ ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہرات کے اندر خانہ جنگی نہیں ہوئی تھی اور افغان جہاد کے شروع سے لے کر اب تک یہاں ایک ہی قومیت اور قبیلے کا کنٹرول رہا ہے۔ ہرات چونکہ ایران کی سرحد کے قریب ہے اس لیے یہاں کی زبان اور معاشرت پر ایرانیت کی چھاپ ہے۔ ہرات ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی خلافت کا حصہ بنا۔ تیمور لنگ نے 1381ء میں اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ تب سے یہ شہر علوم و فنون کا مرکز بنا آرہا ہے۔ یہاں اکثریت فارسی زبان افغانوں کی ہے۔ ہرات کے مشہور تاریخی آثار میں اس کی فصیل، دروازے، مساجد اور مقابر کے گنبد و مینار اور مشہورِ عالم جامع مسجد ہرات ہے۔

بلخ اور غزنی کی طرح ہرات بھی علماء، صوفیاء اور بزرگان دین کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ امام فخرالدین رازی، پیرِ ہرات خواجہ عبداللہ انصاری، امام جامی، شیخ یحیٰی بن عمار سجستانی المعروف بہ خواجہ صاحب غلتان اور کئی دیگر اکابر شیوخ اسی شہر کے سپوت ہیں اور ان کی آرام گاہیں اب بھی مرجع خلائق ہیں۔ پیرِ ہرات خواجہ عبداللہ انصاری، جو کہ نہایت بلند پایہ صوفی، شاعر، مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام گزرے ہیں، کا ذکر ہم نے زیادہ تر اپنے ایرانی دوستوں سے سنا تھا۔ ان کی تصنیف کردہ کتب آج بھی ایران کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔ خصوصاً ان کی تفسیر " کشف الاسرار"، جس میں انہوں نے قرآنِ کریم کی ہر آیت کا ترجمہ، پھر سلیس تفسیر اور پھر تصوف کے نقطۂِ نظر سے اس کی تشریح کی ہے۔ ان کا ایک مقولہ بھی بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں
"بدی را بدی کردن سگساری است، نیکی را نیکی کردن خرخاری است، بدی را نیکی کردن کار خواجہ عبداللہ انصاری است"
(ترجمہ: بدی کے جواب میں بدی کرنا کتوں کا کام ہے، نیکی کے جواب میں نیکی کرنا گدھوں کا کام ہے، بدی کے جواب میں نیکی کرنا خواجہ عبداللہ انصاری کا کام ہے )"

(تصویر نمبر—4)
خواجہ صاحب کا مزار

ان کے مزار پر فاتحہ خوانی کرتے ہوئے دل کی کیفیت گداز ہوگئی۔ ان کی ایک زندہ کرامت تو پستہ کا وہ صدیوں پرانا درخت ہے جو ان کے مزار سے مس کرتا ہوا اوپر چڑھا ہے۔ اس درخت کی جڑیں کب کی سوکھ گئی ہیں، درخت کا نچلا حصہ اتنا بوسیدہ ہوچکا ہے کہ چونے کی دیوار اور لوہے کے تاروں سے اسے سہارا دیا گیا ہے۔ لیکن درخت کا اوپری حصہ ہرا بھرا، تروتازہ اور شاداب ہے۔ مزار کے قریب ہی ایک حجرے میں فرزنداِن ہرات، اپنے وقت کے عظیم سنگ تراش، استاد شمس الدین اور عظیم مصور بہزاد کا مشترکہ شاہکار " سنگِ ہفت قلم" رکھا ہوا ہے۔ اس پتھر کی سل کے نقش و نگار اور آرائش و زیبائش پر سات سال صرف ہوئے۔ شومئی قسمت کہ اس حجرے کا دروازہ اس وقت بند تھا اور ہم یہ شاہکار دیکھنے سے محروم رہے۔ جس طرح کنجوس سیٹھ گھی کے بند ڈبے پر روٹی پھیر کر اپنے بچوں کو اپنے تئیں مرغن غذا کھلاتا تھا اسی طرح ہم نے بھی کمرے کے بند دروازے پر ہاتھ پھیرا اور تصویر اتاری۔
مزار کے احاطے میں ہی ہمارے ساتھیوں نے کہا کہ آؤ یہاں ایک کونے میں چنگیز خان کی بیگم کی قبر ہے، وہ تمہیں دکھائیں۔ چنگیز خان کا نام سنتے ہی ہم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ ہر چند ہم نے کہا کہ پھر دیکھ لیں گے۔ اب دیر ہورہی ہے، چلو واپس چلتے ہیں، مگر وہ نہ مانے۔ دور ہی سے ہم نے ڈرتے ڈرتے قبر کی طرف دیکھا اور الٹے قدموں واپس ہولئے ۔
سو جناب! ہرات میں چند دن قیام کے بعد ہم نے واپسی کا ارادہ کیا۔ ائیر لائن سے رجوع کیا تو کہنے لگے کہ صاحب ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ مہمان، یہاں آتا اپنی مرضی سے ہے اور جاتا ہماری مرضی سے۔ اور ہماری مرضی نہیں کہ کل جائیں۔ کیونکہ کابل کی آب و ہوا ٹھیک نہیں اور پرسوں ہماری فلائٹ نہیں، سو آپ اگلے دن پوچھ لیجئے گا۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ یا اللہ خیر۔ شاید اسی لئے لوگ منع کر رہے تھے۔ خیر ہم نے پاکستان فون کھڑکایا۔ اپنے ایک کلاس فیلو سے اپنی پراکسی لگنے، یعنی کلاس میں ہماری حاضری لگنے کے متبادل نظام، کی تسلّی بخش خبر سنی۔ انہیں چند دن اور ڈٹے رہنے کی تاکید کی۔ یہ اضافی دن ہم نے ہرات کے مضافات میں واقع باغات میں شہتوت ٹونگتے اور لسی پیتے گزارے۔ ہرات کے دامنِ کوہ " تختِ سفر" کا بھی چکر لگایا۔
روانگی کے دن ائیرپورٹ پہنچے تو ایک جمِ غفیر جہاز کی راہ تک رہا تھا۔ جہاز کی سیٹوں کے مقابلے میں مسافر دوگنا لگ رہے تھے۔ کوئی ترتیب نہیں تھی۔ ائر پورٹ کے دروازے پر ہونق سا منہ لیے ایک فرنگی نے " ایکسکیوزمی" کہہ کر راستہ روکا، ہم جواباً، " او۔کے یو آر ایکسکیوزڈ" کہہ کر جانے لگے تو کہنے لگا،" اجی بات تو سنیں! مجھے انتہائی ضروری کام سے کابل جانا ہے لیکن ٹکٹ نہیں ملا۔ آپ کو پچاس ڈالر میں یہ ٹکٹ پڑا ہے، اگر آپ یہ مجھے عنایت کردیں تو میں آپ کو سو ڈالر بمعہ ایک تھینک یو کے دوں گا۔" ہمیں طیش آگیا کہ ظالم ہر کسی کو ڈالر میں تولتے ہیں۔ جی میں آیا کہ خیرات کے طور پردوسو ڈالر اس کے ہاتھ پر رکھ کر اسے شرمندہ کروں۔ لیکن اپنے بٹوے پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تو جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اپنی مالی حالت کا اندازہ ہوا تو یک لخت اس کی پیشکش، پُرکشش لگنے لگی، لیکن اللہ بھلا کرے اپنے علامہ صاحب کا کہ پھر ہمیں ان کے چند اشعار یاد آگئے۔ اور اپنی خودی اور انانیت کو بہ مشکل بلند کرتے ہوئے ہم " نو تھینکس اینڈ سوری" کہتے ہوئے آگے بڑھے۔
سفر کے دوران پائلٹ نے خراب موسم کا کہہ کر جب سیٹ بیلٹ باندھنے کو کہا اور جہاز نے ایک دو پٹخنیاں کھائیں تو ہمیں اپنے شعری ذوق پر افسوس ہونے لگا کہ نہ ہم اقبال کو پڑھتے اور نہ ہماری خودی ہمیں انکار پر مائل کرتی۔ اچھا بھلا سودا تھا، بچت بھی ہوجاتی اور اس جان لیوا سفر سے بھی جان چھوٹ جاتی۔ خدا خدا کرکے جہاز کابل ائیرپورٹ پر اترا تو خواتین مسافروں نے رونا دھونا اور چیخنا بند کردیا۔ ہم بھی لرزتے، کانپتے، کپکپاتے، ہلدی جیسی رنگت لیے باہر نکلے۔ افغانستان کی ائیر لائینز میں پھر سفر کرنے سے توبہ کی۔ افغانستان میں اس وقت تک زیادہ تر وہی جہاز تھے جنہیں باقی ممالک میں ایکسپائرڈ قرار دے کر گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔
افغانستان کے بس چار صوبوں کابل، ہرات، جلال آباد، قندھار اورغالباً مزارشریف میں ہوائی اڈے موجود ہیں۔ انہیں چند شہروں میں بظاہرتھوڑا بہت ترقیاتی کام ہورہا ہے۔ سڑکوں کی تھوڑی بہت تعمیر ہورہی ہے۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول کھل رہے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں از سرنو ترتیب پارہی ہیں۔ کاروبارِ زندگی معمول پر آتا جارہا ہے۔ لیکن یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ یہ سارے ترقیاتی کام اس امداد اور فنڈ کا عشر عشیر بھی نہیں جو کہ عالمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے افغان حکومت اور این جی اوز کو مل رہی ہیں۔ افغان عوام کی بہبود کا نعرہ لگا کر سالانہ کروڑوں ڈالرز ہتھیا لینے والی یہ این۔ جی ۔اوز بڑا تیر بھی ماریں تو بس یہی کہ کسی گاؤں میں کنواں کھدوا دیا۔ یا دو کمروں پر مشتمل اسکول اور کلینک تعمیر کروادیا۔ اور اسی کنویں اور کلینک کے نام پر وہ اتنا فنڈ اکٹھا کرتی ہیں جس سے کوئی چھوٹا موٹا ڈیم یا ہسپتال تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ ان این۔ جی اوز کے غیر ملکی ڈائریکٹرز کی تنخواہیں ماہانہ 15 سے بیس ہزار ڈالرز تک ہیں۔ علیٰ ہذا لقیاس ہر صاحب اختیار دونوں ہاتھوں سے آج کل وہاں دولت بٹورنے میں مصروف ہے۔

کابل پہنچے تو پتہ چلا کہ چونکہ کابل۔ طورخم شاہراہ پر کام ہورہا ہے اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک دن طورخم سے آنے والی ٹریفک کیلئے سڑک کھلی، اور کابل سے جانے والوں کے لئے بند رہے گی اور دوسرے دن اس کے الٹ ہوگا۔ جس دوپہر کو ہم کابل پہنچے اس دن کابل سے جانے والی گاڑیوں کی باری تھی۔ لہٰذا کل کا دن ضائع کرنا مناسب خیال نہ کرتے ہوئے ہم شام کو ہی نکل پڑے۔ رات گئے جلال آباد پہنچے۔ جلال آباد کے مشہور " سپین غر" ہوٹل میں رات گزارنے کے لیے گئے۔ اس ہوٹل میں طالبان دور میں ہم نے غالباً دوسو پاکستانی روپے دے کر اس کے سوئیٹ روم میں رات گزاری تھی۔ اب کاؤنٹر پر جاکر کمرے کے چارجز کا پوچھا، کہنے لگا دوسو ڈالر۔ ہم نے کہا غالباً آپ ہمارا مطلب نہیں سمجھے، ہم کمرہ خریدنے کا نہیں، بس رات گزارنے کا خرچہ پوچھ رہے ہیں۔ کہا "جی جی کرایہ ہی بتایا ہے ہم نے"۔ ہم خاموشی سے کان لپیٹے باہر نکلے اور مسافر خانے کا پوچھا، آرام سے زمین پر بچھی دری پر لیٹ گئے۔ رات گزاری اور صبح سویرے کٹھی میٹھی یادوں کے ساتھ طورخم پار کرکے پاکستان میں یہ دعا کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ خدا کرے افغانستان میں پائیدار امن کا قیام عمل میں آئے۔ امید تو تھی لیکن ساتھ ساتھ دھڑکا بھی تھا۔ پورے ملک میں ایک اضطراری کیفیت پھیلی ہوئی ہے۔ لوگوں کو لاشعوری طور پر احساس ہے کہ افغان عوام اپنے مزاج سے مجبور ہوکر زیادہ عرصے تک غیرملکی قوتوں کے زیرِ نگوں نہیں رہے گی۔ جلد یا بدیر اس سے چھٹکارا پانے کیلئے سارے افغانی متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ابھی تو ایک مخصوص طبقہ ہی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے لیکن لگ رہا تھا کہ جلد ہی سب یک آواز ہوجائیں گے۔ یعنی پھر ملک جنگ کے دہانے پرجائے گا۔ پھر خون کی ندیاں بہیں گی۔ شاید لاکھوں شہداء کا لہو بھی ابھی تک افغانستان کی سنگلاخ زمین کو سیراب نہیں کرسکا، اس کی تشنگی ابھی تک باقی ہے۔
؎ تجھ کو کتنوں کا لہو چاہئے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں
ہم تو مجبورِ وفا ہیں، مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے؟
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہمان ہیں گھڑی بھر کے ہمارا کیا ہے
http://www.mediafire.com/imgbnc.php/58764f0f1fbbf8a53c411b7b01d617696g…

http://www.mediafire.com/imgbnc.php/f3d66c59399c4c5975c709b1fa6417ba5g…

http://www.mediafire.com/imgbnc.php/ed4fd2aa2b5a520f44baa82d19f986526g…

http://www.mediafire.com/imgbnc.php/6cd2ede0d5e568d9aabf41c269a6e6066g…