Page # 003

پھر کتنے ہی دن خاموشی سے گزر گئے۔ اس نے دوستوں سے ملنا بھی کم کردیا تھا۔ جب سب بار بار اس سے پوچھتے تھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ ۔ ۔ تم ٹھیک طرح بات کیوں نہیں کررہیں یا تم پہلے کی طرح ہنستی نہیں ہو تو نشاط کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ پہلے کی طرح رہے مگر کبھی کبھی بے بس ہوجاتی تھی۔ آج بھی مائرہ نے اسے ہاسپٹل سےگھر کے لیے نکلتے دیکھا تو باہر ہی روک لیا تھا۔
"آخر تم کس سے بھاگ رہی ہو نشاط؟" مائرہ نے جھنجھلا کر پوچھا تھا۔
"موت سے۔" نشاط نے ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
"اللہ نہ کرے۔ سوچ سمجھ کر بولا کرو۔"اس کے سرزنش کرنے پر نشاط نے آسمان سے نظریں ہٹا کر مائرہ کی طرف دیکھا ۔
"سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے مائرہ۔ مجھے لگتا ہے میں اس ڈوبتے سوچ کی طرح ہوں۔ جو ڈوبنا نہیں چاہتا مگر رات کے اندھیرے اس پر غالب آجاتے ہیں۔ میں ڈوبنے سے پہلے روشنی کرنا چاہتی ہوں مگر مجھے ہر طرف اندھیرے نظر آرہے ہیں۔ میں ایسے مرنا نہیں چاہتی۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا تھا پھر۔ ۔ ۔ پھر یہ موت کیوں نظر آرہی ہے؟ میں واقعی موت سے بھاگ رہی ہوں۔ میں اتنا تیز بھاگنا چاہتی ہوں کہ موت مجھ سے بہت پیچھے رہ جائے۔ تمہیں پتا ہے مائرہ میں پوری پوری رات جاگتی ہوں۔ پلکیں جھپکائے بغیر ۔ ۔ مجھے لگتا ہے موت میرے تعاقب میں ہے۔ ۔ ۔مجھے لگتا ہے وہ گھات لگائے بیٹھی ہے۔ اگر میں نے آنکھیں بندکیں یا اپنی رفتار کم کی تو موت مجھے اپنے پنجوں میں جکڑ لے گی۔ ۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتی مائرہ۔ " اس کے بے بسی سے کہنے پر مائرہ نے نظریں چرالی تھیں۔ مستقل اپنے آپ سے لڑتے لڑتے وہ تھک گئی تھی۔ اس لیے کچھ دن پہلے عشارب کی حمایت کرنے پر نشاط مائرہ کو سب بتاتی چلی گئی تھی۔ پہلے تو مائرہ کے لیے یقین کرنا ہی مشکل تھا۔ پھر عشارب سے پوچھنے پر بھی نشاط کے بارے میں یہی پتا چلا تو وہ اپنی دوست کی تکلیف اور بچھڑجانے کے خوف سے بہت پریشان ہوگئی تھی۔
"تمہیں کچھ نہیں ہوگا نشاط۔ اِن شاءاللہ۔ دیکھو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کی زندگی کا نہیں پتا تم اس نا امیدی اور خوف سے باہر نکل آؤ اور بھائی کی بات مان لو۔ اگر تم ہی کمزور پڑ گئیں تو آنٹی اور انکل کا کیا ہوگا؟" مائرہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
"اسی لیے تو میں انہیں بتانا نہیں چاہتی۔" نشاط نے ساتھ رکھی فائل اٹھائی اور دونوں پارکننگ کی طرف بڑھ گئی تھیں۔
* - - - * - - -*
بکھرنے سے پہلے
جو کچھ پل بچے ہیں
ان میں
زندگی کی سب
بکھرتی خوشیاں سمولیں
مہکتے سپنے سجالیں
اندھیروں میں
جو پھیلے ہیں اب
کچھ پل کو اجالے کرلیں
بجھتے دیئے جلالیں
زیست میں
جو بے رنگ ہے اب
بہت سے رنگ بھرلیں
ہم کھل کے جی لیں
ان لمحوں میں
کچھ دیر کو سہی
آنسو چھپاکر، مسکرالیں
بکھرنے سے پہلے
نشاط اس تھوڑے سے عرصے میں وہ سب کرلینا چاہتی تھی جس کے اس نے خواب دیکھےتھے۔ یہ حقیقت تو اس نے تسلیم کرلی تھی کہ اس کے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔ اب یہ اس پر تھا کہ اس وقت کو روتے ہوئے ضائع کردیا جائے یا ان چند ماہ میں پوری زندگی جی لی جائے اور وہ ہمیشہ سے Optimistic
رہی تھی۔ ہر بات کا مثبت رخ دیکھنے کی عادی۔ اسی عادت نے اسے سنبھلنے میں کافی مدد دی تھی۔ اپنی ای میلز چیک کرتے ہوئے اسے ایک نیا خیال آیا۔ مما پاپا سے اجازت لینا تھوڑا مشکل تھا مگر وہ جانتی تھی وہ دونوں مان جائیں گے۔ کچھ دن پہلے ہیٹی میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے ڈاکٹرز کی ٹیم ہیٹی جارہی تھی۔ وہ بھی اس بارے میں سوچ رہی تھی مگر آج آنے والی ای میل اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے تھی اور جانے والوں میں عشارب بخاری اور مما کی دوست عالیہ آنٹی کا نام دیکھ کر نشاط نے فوراً دیئے گئے نمبر پر کال کرکے کنفرم کیا تھا کہ ان کے پاس ابھی جگہ ہے یا نہیں۔ تھوڑی دیر میں کنفرم کرکے بتانے کا کہہ کر وہ مما ، پاپاکے روم میں پہنچ گئی تھی۔ پاپا آفس جانے کی تیاری کررہے رہے تھے ۔
"پاپا عالیہ آنٹی اور عشارب اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ ہیٹی جارہے ہیں۔ ابھی ان لوگوں کو مزید ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔ پاپا میں بھی چلی جاؤں؟ " اس نے امید بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ کچھ دیر سوچ میں پڑگئے۔
"مگر بیٹا وہاں آفٹر شاکس آرہے ہیں۔ ابھی جانا محفوظ نہیں ہے۔" مما اسے صاف منع بھی نہی کرنا چاہتی تھیں مگر اجازت دیتے ڈر بھی رہی تھیں۔
"مما پلیز! ایسے تو کوئی بھی کہیں بھی سیف نہیں ہے۔ اور وہاں اتنے لوگ جارہے ہیں تو پھر میں کیوں نہیں جاسکتی؟ پہلے آپ نے اکیلے جانے کی وجہ سے منع کیا تھا مگر اب تو عالیہ آنٹی اور عشارب بھی ساتھ ہوں گے۔ پلیز مما ! جانے دیں نا۔ اور پاپا جب پاکستان میں زلزلہ آیا تھا آپ نے مجھے تب بھی نہیں جانے دیا تھا کہ چھوٹی ہو۔ اب تو میں چھوٹی نہیں ہوں نا۔ اس لیے پلیز جانے دیں۔" نشاط نے منتیں شروع کردیں تو توقیر صاحب مسکرادیئے تھے۔
"اچھا چلو ٹھیک ہے۔ کتنے دن کے لیے جانا ہے؟" انہوں نے اجازت دیتے ہوئے پوچھا تو جہاں نشاط خوشی سے ان کے گلے لگ گئی وہیں مہرین بیگم نے ناراضگی سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
"میں ابھی کال کرکے ساری ڈیٹیلز لیتی ہوں۔" وہ پاپا کے بعد مما کو پیار کرتی باہر نکل گئی تھی۔
"آپ دیکھ تو رہے ہیں وہ اتنے دنوں سے کتنی اپ سیٹ ہے ۔ صحت بھی ٹھیک نہیں۔ پھر بھی جانے کی اجازت دے دی۔" نشاط کے کمرے سے نکلتے ہی مہرین بیگم بولی تھیں۔
"یہی سوچ کر جانے کی اجازت دی ہے۔ اچھا ہے وہ اس فیز سے تو نکلے گی۔ تم نے دیکھا وہ کتنے دن بعد بالکل پہلے کی طرح مسکرائی ہے۔ ورنہ تو اتنی چپ چپ رہتی ہے۔ مسکراتی بھی ہے تو اس کی آنکھوں میں اتنی اداسی ہوتی ہے کہ میرا دل کٹتا ہے۔ اب آپ اسے ڈانٹنے نہ بیٹھ جائیے گا۔" توقیر صاحب کی بات پر وہ چپ ہوگئی تھیں۔ آج کتنے دنوں بعد نشاط کھل کر مسکرائی تھی اور وہ دونوں نشاط کی خوشی میں خوش تھے۔
* - - * - - *
ابھی وہ اپنی ساری انفارمیشن اور جانے کا کنفرم کرکے عشارب کو کال کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ عشارب کی کال آگئی تھی۔
"تم نے اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ جانے کے لیے رجسٹر کیا ہے؟" سلام دعا کے بعد اس نے سب سے پہلے یہی بات پوچھی تھی۔
"ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے اور آپ کو پتا بھی چل گیا۔" نشاط کو حیرت ہوئی تھی۔
"محترمہ فارورڈ ای میلز میں میرا ای میل ایڈریس بھی تھا۔ مگر یہ بتاؤ آنٹی انکل سے پوچھ لیا؟"
"جی پوچھ کر ہی ای میل کی ہے۔ عالیہ آنٹی اور آپ کی وجہ سےاجازت ملی ہے۔" نشاط کی آواز سے ہی اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کتنی ایکسائٹڈ ہے۔
"مگر نشاط۔ ۔ ۔ دو ہفتے کے لیے جانا ہے اور تمہاری طبیعت۔ ۔ " عشارب نے کہنے کی کوشش کی مگر نشاط نے بیچ میں ہی بات کاٹ دی تھی۔
"پلیز عشارب میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔ میں اس وقت بہت خوش ہوں۔ مجھے وہ سب یاد دلا کر یہ احساس نہ دلائیں کہ میں مرنے والی ہوں۔ کیا میں ایک طرف بیٹھ کر موت کا انتظار شروع کردوں؟ میں اس ڈگری کے ساتھ بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔ مگر میرے پاس وقت ختم ہوتا جارہا ہے۔ اب اگر اللہ کی طرف سے ایک موقع مل رہا ہے تو میں اسے گنوانا نہیں چاہتی۔" نشاط کے لہجے سے چھلکتی اداسی نے عشارب کو چپ ہوجانے پر مجبور کردیا تھا۔
"اوکے ٹھیک ہے پھر فرائڈے کو ملاقات ہوتی ہے۔ " فون رکھنے کے بعد بھی عشارب کتنی دیر خاموش بیٹھا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں وہی ہنستی مسکراتی نشاط آگئی تھی جو پچھلے کچھ ماہ سے بالکل خاموش رہنے لگی تھی۔ بولتی بھی تھی تو اس کے لہجے میں کھنک نہیں ہوتی تھی۔عشارب نے ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ اس کی اولین خواہش کو بچالے۔
* - - - *- - - *
پہلےپلین پھر بس میں آٹھ گھنٹے کے سفر نے ان لوگوں کو بری طرح تھکادیا تھا مگر
Port-au-Prince
پہنچتے ہی ان لوگوں نے یو این ٹیم سے رابطہ کیا۔قریبی پارک میں اپنا فیلڈ ہاسپٹل سیٹ اپ کیا تھا اور قریب ہی اپنے رہنے کے لیے ٹینٹس لگالیے تھے۔ عالیہ آنٹی نے مستقل نشاط کو اپنے ساتھ ہی رکھا تھا۔ پہلے دن ہی ان لوگوں نے کافی زخمی لوگوں کی سرجریز کی تھیں ۔ نشاط کو ٹھیک طرح یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے کتنے لوگوں کو فرسٹ ایڈ دی تھی۔ رات کے دو بجے تک وہ بالکل نڈھال ہوچکی تھی جب عشارب وہیں آگیا تھا۔ وہ عالیہ آنٹی اور دیگر سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ پورا دن سرجریز کرنے میں مصروف رہا تھا۔ جبکہ نشاط نے کچھ اور ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر باقی مریضوں کو ٹریٹمنٹ دی تھی۔ بے حد تھک جانے کے باوجود جب ایک کے بعد ایک مریض آکر ان کے سامنے کھڑا ہوجاتا تو ان لوگوں سے منع ہی نہیں کیا جارہا تھا۔ عشارب نے ایک دو دفعہ اسے سونے کو کہا مگر پھر وہ خود بھی اس کی مدد کرنے لگا تھا۔ لائن لگا کر کھڑے لوگوں کے چہرے سے ہی ان کی تکلیف کا اندازہ ہورہا تھا۔ تو پھر وہ کیسے انہیں کل آنے کا کہہ دیتے۔ صبح چار بجے کے قریب لوگوں کا رش کم ہوا تو وہ اپنے ٹینٹ کے پاس رکھی کرسی پر آکر بیٹھ گئی تھی۔ اپنے سیل فون پر ای میلز چیک کیں تو لائن سے مما، پاپا، مائرہ اور کافی لوگوں نے خیریت پوچھنے کے لیے اور اپنا خیال رکھنے کی تلقین کی تھی۔ وہ سب کی محبتوں پر مسکرا اٹھی تھی۔
"سونا نہیں ہے؟" وہ سب کو رپلائے کرنے میں لگی تھی جب عشارب اور عالیہ آنٹی بھی وہیں آگئے تھے۔
"بس ذرا ای میلز چیک کررہی تھی۔" نشاط نے اپنا فون رکھتے ہوئے بتایا۔
"میں تو سونے جارہی ہوں۔ تھکن سے برا حال ہوگیا ہے۔" عالیہ آنٹی وہاں بیٹھنے کے بجائے ٹینٹ میں سونے چلی گئی تھیں۔ عشارب نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے دوسری پر پاؤں رکھ لیے تھےاور آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔
"آپ کو سونا نہیں ہے؟" نشاط نے اس سے پوچھا تھا۔
"سو جاؤں گا۔ ابھی موڈ نہیں ہورہا۔" اس نےہنوز آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"کتنا دکھ ہورہا ہے نا ان سب کو دیکھ کر؟ پتا نہیں آج میں نے کتنے بچوں کو ٹریٹ کیا ہے۔ کسی نے اپنی ماں کو ملبے تلے دبتے دیکھا تھا تو کسی نے ماں باپ دونوں کھودیئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کی تو پوری فیملی ہی زلزلے کی نظر ہوچکی ہیں۔ اور ایک بچی تو آنکھیں بند کیےمستقل یہی چیخے جارہی تھی کہ میری ماں کو بچالو اس پر دیوار گرگئی ہے۔ وہ اس شاک سے نہیں نکلی تھی کہ وہ سب کچھ ہوچکا ہے۔" نشاط نے بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں بے شمار ستارے جگمگا رہے تھے۔زمین پر تباہی تھی اور آسمان ہمیشہ کی طرح بالکل پرسکون تھا۔ نشاط نےسامنے گری ہوئی عمارت کی طرف دیکھا جہاں سے پورا دن ملبے تلے دب جانے والے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جاتی رہی تھی۔ لوگ رات دن اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ انہیں اب بھی ان کے بچ جانے کی امید تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوتی جارہی تھی۔ کوئی لاش نکلتی تھی تو کتنے ہی لوگ اس کے گرد جمع ہوجاتے تھے۔
"ہاں۔ ان لوگوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اب ان لوگوں میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کے کچھ سیکنڈز میں کتنے ہی لوگوں کی زندگی ختم ہوجائے گی۔ ہم دنیا میں مگن ہوکر موت کو بالکل فراموش کردیتے ہیں۔ موت تو کسی کو بھی کسی بھی پل آسکتی ہے۔ اور ہم کتنے ناشکرے ہیں نا؟ اللہ ہمیں ذرا سی آزمائش میں ڈالےہم فوراً ہمت ہار دیتے ہیں اور اللہ سے شکوے شروع۔" اس نے آسمان سے نظریں ہٹا کر نشاط کی طرف دیکھا۔اس نے ایک جھر جھری سی لی تھی۔
"یہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں؟" اس نے عشارب کی طرف ایک ناراض نظر ڈالی۔
"جو بھی سمجھ لو۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ کسی کی بھی زندگی کا کچھ نہیں پتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جو وقت دیا ہے اسے ہنسی خوشی گزارنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اگر کوئی محبت سے ہاتھ بڑھائے تو اس کا ہاتھ تھام لینا چاہیے۔" عشارب نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور نشاط کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
"میں سونے جارہی ہوں۔" اس سے پہلے کے عشارب مزید کچھ کہتا وہ اپنے ٹینٹ کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اور وہ خاموشی سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
* - - * - - - *
اگلے کچھ دن بہت مصروفیت میں گزرے تھے۔ کچھ ڈاکٹرز فیلڈ ہاسپٹل میں میجر سرجریز کرتے تھے اور کچھ زلزلہ زدگان کے لیے لگائے گئے کیمپس میں چلے جاتے تھے۔ وہاں کے لوگ صرف زخمی ہی نہیں تھے، بلکہ کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بھی کافی پریشان تھا۔ گو کہ یو این اور باقی بہت سی اورگینائزیشنز پہنچ چکی تھیں مگر تمام لوگوں تک ضرورت کی اشیاء اب تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔ لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ لینے کافی دور جانا پڑرہا تھا اور لے بھی آئیں تو ان کو پکانے کے لیے چن چیزوں کی ضرورت تھی وہ زیادہ تر لوگوں کے پاس نہیں تھیں۔ لوگ بھوک سے پریشان تھے اور وہ لوگ دل ہی دل میں یو این کی بد نظمی پر کڑ ھ رہے تھے۔ ایک جگہ سے گزرتے نشاط بے ساختہ رک گئی تھی۔ یہ شاید کوئی سپرمارکیٹ تھی جہاں پر کچھ بچے پتھر اور مٹی ہٹا ہٹاکر کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ اس کوشش میں ان کے ہاتھ بھی زخمی ہورہے تھے مگر شاید پیٹ بھرنے کے لیے انسان کچھ بھی کرسکتا ہے۔ کچھ بچے کین فوڈ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے تو وہاں لوٹ مار مچ گئی۔ اس نے لوگوں کو کھانے پر اس بری طرح سے لڑتےکبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں کو لڑتے دیکھ کر آرمی نے ان کو وہاں سے ہٹادیا تھا۔ نشاط نے دکھ سے ان بچوں کی طرف دیکھا جو پتا نہیں کب سے بھوکے پھر رہے تھے۔ ایک بچہ اس کے قریب سے گزرا تو نشاط نے اپنے بیگ سے ایک اینرجی بار نکال کر اسے پکڑادی۔ یہ وہ لنچ کے لیے اپنے ساتھ لائی تھی مگر بچوں کو اس حال میں دیکھ کر اس سے کھایا ہی نہیں جاتا۔ وہ لوگ اب دوسرے کیمپ کی طرف بڑھ گئے تھے۔ دوپہر میں تھوڑی دیر کا بریک لینے کے لیے ان لوگوں نے بیٹھنے کے لیے آس پاس نظر دوڑائی مگر کہیں جگہ نہ ملنے پر وہ ایک طرف کھڑے ہوگئے تھے۔ نشاط کو اپنے فون پر لگے دیکھ کر عشارب نے اسے ٹوکا تھا۔
"کچھ کھالو نشاط پھر شام تک موقع نہیں ملے گا۔ ابھی کافی ایریا رہتا ہے۔" نشاط کوسمجھ نہیں آیا وہ کھائے کیا۔ اپنے لیے لائی گئی انرجی بار وہ پہلے ہی ایک بچے کو پکڑاچکی تھی۔
"یہ لو۔ اپنی تو تم پہلے ہی دے چکی ہو" اسے تذبذب کا شکار دیکھ کر عشارب نے اپنے پاس سے ایک انرجی بار اسے پکڑائی تھی۔
"آپ پیشنٹس دیکھ رہے ہیں یا میری جاسوسی کررہے ہیں؟" نشاط کو اس پر حیرت ہوئی تھی۔
"عالیہ آنٹی نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ بچی کا خیال رکھنا۔ تو نظر تو رکھنی پڑتی ہے۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ اسے گھور کر رہ گئی تھی۔
پھر رات تک وہ لوگ انہی کیمپس میں لوگوں کو ٹریٹ کرتے رہے تھے۔ واپس اپنے ٹینٹس کے پاس پہنچے تو پورے دن چلتے رہنے سے تھکن سے چور ہوگئے تھے۔ مگر نیند دونوں کو نہیں آرہی تھی اس لیے باہر کرسیوں پر ہی بیٹھ گئے۔ آج عالیہ آنٹی بھی وہیں بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ پر کام کررہی تھیں۔
"بہت تھکے ہوئے لگ رہےہو دونوں۔ جاؤ ریسٹ کرو یہاں بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔" انہوں نے انہیں وہیں بیٹھتے دیکھ کر کہا تھا۔
"نیند نہیں آئے گی آنٹی۔ کل بھی میں نے اتنی کوشش کی سو جاؤں مگر جب آنکھیں بند کرتی تھی وہ سارے تکلیف دہ مناظر آنکھوں میں گھوم جاتے تھے۔ " نشاط نے پانی پیتے ہوئے کہا۔
"ہاں مگر آرام بھی ضروری ہے۔ میں بھی بس ای میلز چیک کررہی تھی سونے جارہی ہوں۔" وہ اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھ کر چلی گئی تھیں مگر نشاط کو گھبراہٹ ہورہی تھی۔ پورے دن لوگوں کو اتنی تکلیف میں دیکھ کر اسے بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ وہ کتنی ناشکری ہے۔ ان لوگوں کی تکلیف تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اپنے اتنی محبت کرنے والے رشتوں کو اپنے سامنے ملبے تلے دبتے دیکھنا کتنا تکلیف دہ تھا۔
"جاؤ سوجاؤ۔ مستقل جاگنے سے طبیعت خراب ہوگی۔" عشارب نے اسے وہیں جمے دیکھ کر کہا۔
"دل نہیں چاہ رہا۔" اس نے اپنا پاؤں دباتے ہوئے کہا تھا۔ پورا دن چل چل کر پاؤوں میں شدید درد ہورہا تھا۔
"باتیں کرنے کا دل چاہ رہا ہے؟" عشارب نے اسے چھیڑا تھا۔
"ہاں بالکل۔ مگر مائرہ سے۔" اس نے کہتے ہوئے مائرہ کا نمبر ڈائل کیا تھا مگر اس وقت سگنلز نہیں آرہے تھے اس لیے دو تین دفعہ کوشش کرنے کے بعد اکتا کر سیل فون رکھ دیا ۔
"اب تو مائرہ کے بھائی کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ " عشارب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ بہت ٹینس لگ رہی تھی اور عشارب چاہ رہا تھا کہ اس کا دھیان بٹادے۔
"ہم دو دن بعد جارہے ہیں نا؟ کچھ وقت اور نہیں رک سکتے عشارب؟" نشاط نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہم جائیں گے تو دوسری ٹیم آئے گی۔ ویسے بھی دو ہفتے میں ہی بری طرح تھک چکے ہیں کچھ ہفتوں کا بریک لے کر اگر دوبارہ موقع ملا تو پھر آسکتے ہیں۔" اس نے سنجیدگی سے بتایا تھا مگر نشاط نے کوئی جواب نہیں دیا۔
"تمہیں ان لوگوں کو اس حالت میں دیکھ کر افسوس ہورہا ہے نا؟ سوچو ان لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے پھر بھی جینے پر مجبور ہیں۔ ان کے کتنے پیارے رشتے ان سے چھن گئے ہیں پھر بھی انہیں کوئی دلاسہ دینے والا نہیں۔ اور ہم ذرا ذرا سی بات پر اپنے آپ کو اکیلا نہ ہوتے ہوئے بھی اکیلا کرلیتے ہیں۔" نشاط کے خاموش رہنے پر وہی دوبارہ بولا تھا۔
"آپ مجھے سمجھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیجیئے گا۔" نشاط نے تپ کر کہا تھا مگر وہ ہنس دیا۔
"اسی لیے تو ساتھ لایا تھا تاکہ تم بھی دیکھو لوگ کس طرح ہنستی مسکراتی زندگی سے موت کے منہ میں اتر گئے۔ کسی کی زندگی کا کچھ نہیں پتا۔ یہ میں تم سے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں مگر تم صرف اس پراگنوسس میں اٹک گئی ہو۔ اللہ تعالٰی پر یقین ہی نہیں ہے۔" عشارب ایک دفعہ پھر اسے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا۔
"ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے اللہ تعالٰی پر یقین ہے مگر سامنے کی بات کو جھٹلا کر اپنے آپ کو اور دوسروں کو جھوٹی تسلیاں نہیں دے سکتی۔" نشاط کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔
"مگر اس بات کا تو یقین کرو گی نا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے اتنی جلدی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔" اسے رونے کی تیاری کرتے دیکھ کر عشارب نرم پڑ گیا تھا۔
"میں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ مگر اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں خوشی خوشی آپ سے شادی کرلوں گی تو ایسا بھی نہیں ہوسکتا۔ ایک بکھرتے ہوئے انسان میں اتنی ہمت تو ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپائے رکھے مگر چہرے پر جھوٹی مسکراہٹیں سجانا بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔" نشاط کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
"اور اگر کوئی اس بکھرتے ہوئے انسان کو سمیٹنے کو تیار ہو تب؟ کیا اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے؟" عشارب نے اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑاتے ہوئے کہا۔
"کس بات پر اعتبار کروں؟ آپ کیا کرلیں گے؟ آپ مان کیوں نہیں رہے میرے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔ اب اس حقیقت سے نظریں چرانے سے سب ٹھیک نہیں ہوجائے گا۔" وہ چڑ گئی تھی۔
" مجھے اپنی دعاؤں پر پورا یقین ہے۔ دعاؤں سے سب بدل سکتا ہے۔ دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔ صرف میری اس بات کا اعتبار کرلو کے میں تمہیں بکھرنے نہیں دوں گا۔" عشارب کے لہجے میں اتنی سچائی تھی کہ نشاط کا بے ساختہ یقین کرنے کو دل چاہا، مگر وہ کیا کرتی وہ اتنے اچھے شخص کو اپنی وجہ سےدکھ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
* -- - * - - - *